کالعدم قرار دی گئی جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے راولاکوٹ سے مظفر آباد کی جانب بدھ کو جس لانگ مارچ کا اعلان کیا گیا تھا وہ تاحال شروع نہیں ہوا ہے اور کمیٹی کے ایک رکن کے مطابق اس تاخیر کی وجہ مذاکراتی عمل ہے جس کے نتیجے کی بنیاد پر ہی آگے کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں بھی سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیںکالعدم قرار دی گئی جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے راولاکوٹ سے مظفر آباد کی جانب بدھ کو جس لانگ مارچ کا اعلان کیا گیا تھا وہ تاحال شروع نہیں ہوا ہے اور کمیٹی کے ایک رکن کے مطابق اس تاخیر کی وجہ مذاکراتی عمل ہے جس کے نتیجے کی بنیاد پر ہی آگے کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔
عوامی ایکشن کمیٹی کی کور کمیٹی کے رکن عابد شاہین نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ’اعلی سطح کے مذاکرات‘ کا سلسلہ اس وقت جاری ہے۔
تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ احتجاج ختم کرنے کے لیے یہ مذاکرات کس سطح پر ہو رہے ہیں نہ ہی حکومت کی جانب سے اس بارے میں کوئی معلومات دی گئی ہیں۔
عابد شاہینکا مزید کہنا تھا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے اگلے لائحۂ عمل کا اعلان ان مذاکرات کے نتیجے پر منحصر ہے۔
ادھرپونچھ کے کمشنر کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کمشنر پونچھ کے حوالے سے سوشل میڈیا پرمذاکرات کی کامیابی کے حوالہ سےخبر زیر گردش ھے ، جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں اور کمشنر ایسے کسی مذاکراتی عمل کا حصہ نہیں ہیں۔
عوامی ایکشن کمیٹی نے بدھ کی دوپہرراولاکوٹ سے مظفر آباد کے لیے مارچ شروع کرنے کا اعلان کیا تھا اور حکام کے مطابق اس تناظر میں رینجرز، پولیس اور ایف سی کے چار ہزار اہلکار پہلے ہی کشمیر پہنچ چکے ہیں۔
کمشنر پونچھ ڈویژن سردار وحید خان کا کہنا ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے لانگ مارچ کو راولاکوٹ سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ شہر کو سِیل کر دیا گیا ہے اور رینجرز سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار وہاں تعینات ہیں۔
وحید خان کے مطابق مظاہرین پگڈنڈیوں سے گزر کر ہی مظفرآباد جا سکتے ہیں اس کے علاوہ ان کے پاس اور کوئی راستہ نہیں ہے۔
ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس وقت راولاکوٹ میں دریک کے مقام پر مظاہرین کی تعداد ایک ہزار سے پندرہ سو کے درمیان ہے جبکہ عوامی ایکشن کمیٹی کی کورکمیٹی کے رکن عابد شاہین نے بدھ کی صبح بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ دریک میں جاری دھرنے میں 40 ہزار کے قریب افراد پہنچ چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مزید لوگ بھی دھرنے کےمقام پر پہنچ رہے ہیں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
حکام نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے روالاکوٹ میں داخلے پر غیراعلانیہ پابندی عائد کی ہوئی ہے جس کے وجہ سے شہر کی صورتحال اور دھرنے کے شرکا کی تعداد کے بارے میں دعووں کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد کے مناظرجموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی جن مطالبات کی منظوری کے لیے لانگ مارچ کر رہی ہے ان میںپاکستان میں مقیم مہاجرینِ کشمیر کے لیے مختص اسمبلی نشستوں اور حکمران اشرافیہ کی مراعات کے خاتمے، وزرا اور سیاسی تقرریوں میں کمی اور سرکاری وسائل کے کفایتی استعمال جیسے معاملات شامل ہیں۔
لانگ مارچ کی منزل قرار دیے جانے والے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں بدھ کو حالات معمول پر ہیں تاہم پولیس، رینجرز اور ایف سی کے اہلکار شہر میں گشت کر رہے ہیں۔
شہر میں دکانیں اور کاروباری مراکز کھلے ہیں تاہم لوئر اور سینٹرل پلیٹ میں زیادہ تر دکانیں بند ہیں۔ بینک اور پیڑول پمپس بھی کھلے ہیں تاہم بینکوں کی اے ٹی ایمز کے باہر رقم نکلوانے والوں کی قابل ذکر تعداد موجود ہے۔
منگل کو مزید دس ہلاکتیں
پونچھ ڈویژن کے کمشنر سردار وحید خان نے بی بی سی کو بتایا کہ منگل کے روز راولاکوٹ اور سدنوتی کے مقام پر دو مختلف واقعات میں ہلاک ہونے والوں میں آٹھ شہریوں کے علاوہ رینجرز اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی پولیس کا ایک، ایک اہلکار بھی شامل ہے.
سدنوتی کی ضلعی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ساڑھے چار سو کے قریب رینجرز کے اہلکار ایک قافلے کی صورت میں راولاکوٹ آ رہے تھے کہ بلوچ بیٹھک کے قریب کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکنوں نے قافلے کا راستہ روک کر ان پر پتھراؤ شروع کر دیا۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ مظاہرین کی جانب سے قافلے پر فائرنگ بھی کی گئی اور جوابی فائرنگ کے نتیجے میں سات مظاہرین ہلاک ہو گئے جبکہ ایک پولیس اہلکار بھی مارا گیا۔
ضلعی انتظامیہ کے اہلکار کے مطابق مظاہرین اس واقعے میں ہلاک ہونے والے افراد کی لاشیں اپنے ساتھ لے گئے جبکہ فائرنگ کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تصادم کا دوسرا واقعہ راولاکوٹ میں پیش آیا جہاں حکام کے مطابق راستہ کھلوانے کے لیے جب قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے کارروائی کی تو مظاہرین کی جانب سے فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں رینجرز کا ایک اہلکار ہلاک جبکہ جوابی فائرنگ میں کالعدم تنظیم کا ایک کارکن بھی مارا گیا۔
اس سے قبل پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی پولیس نے بتایا تھا کہ راولاکوٹ میں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مسلح افراد کی جانب سے فائرنگ کے دو علیحدہ علیحدہ واقعات میں رینجرز اور پولیس کے ایک، ایک اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔
پولیس نے ہلاک ہونے والے افراد کی شناخت رینجرز کے نائک امتیاز علی اور پولیس کانسٹیبل عاقب کے ناموں سے کی تھی۔

پولیس نے یہ بھی دعوی کیا ہے کہ 'گذشتہ ہفتے عوامی حمایت حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد کالعدم تنظیم نے پیر کی صبح نیو بس ٹرمینل کے قریب اندھا دھند فائرنگ کی تاکہ اس کا الزام سکیورٹی فورسز پر عائد کیا جا سکے۔'
جبکہ کشمیر پولیس کی ایک دوسری پریس ریلیز کے مطابق بیٹھک بلوچ کے مقام پر 'مسلح جتھوں کی بلا اشتعال فائرنگ' سے ایک پولیس کانسٹیبل کی ہلاکت ہوئی ہے جبکہ آٹھ پولیس اہلکار، ایف سی کا ایک اہلکار اور محکمۂ پی ڈبلیو ڈی کے دو ملازمین بھی زخمی ہوئے ہیں۔
بی بی سی اردو ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا ہے۔ اگرچہ کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے اس معاملے پر تاحال کوئی مؤقف سامنے نہیں آیا ہے، تاہم سوشل میڈیا پر اس تنظیم سے منسلک ایک اکاؤنٹ نے رینجرز اہلکار کی ہلاکت کے الزام کی تردید کی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر موجود ایک پوسٹ میں کمیٹی کا کہنا تھا کہ 'ایک ویڈیو سوشل میڈیا اور پاکستانی میڈیا پر گردش کر رہی ہے، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ چند افراد کے ہاتھوں میں گنیں ہیں۔ ہم سب اسی علاقے سے تعلق رکھتے ہیں یہ لوگ عوام کو بے وقوف بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔'
'اگر ہم نے گن اٹھانی ہوتی تو آج تک اپنے نہتے بھائیوں کی اتنی لاشیں نہ اٹھانی پڑتیں۔'
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق منگل کے روز ہونے والی ہلاکتوں کے بعد پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کئی ہفتوں سے جاری مظاہروں اور حکومتی کریک ڈاؤن میں اب تک پانچ پولیس اہلکاروں سمیت مجموعی طور پر 28 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
یہ لانگ مارچ کیوں ہو رہا ہے اور ایکشن کمیٹی کے مطالبات کیا ہیں؟

ایکشن کمیٹی کا مؤقف ہے کہ ان نشستوں اور ترقیاتی فنڈز کی ریاست سے باہر منتقلی سے مقامی وسائل پر بوجھ پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ حکومت کے ساتھ ہونے والے معاہدوں کے تحت کارکنوں کے خلاف مقدمات ختم کرنے، کریکٹر سرٹیفکیٹس کے اجرا میں رکاوٹیں دور کرنے اور پاکستان رینجرز کی تعیناتی کی مخالفت بھی ان کے مطالبات میں شامل ہے۔
کمیٹی نے مفت اور معیاری تعلیم و علاج، ہسپتالوں میں ڈاکٹرز، عملے، ادویات اور تشخیصی سہولیات کی فراہمی، بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قیام، سرکاری ملازمتوں میں بعض کوٹہ سسٹمز کے خاتمے، آٹے اور گندم کے معیار کی بہتری، گرڈ اسٹیشنز اور قدرتی وسائل پر مقامی اختیار، منگلا ڈیم سے متعلق معاوضوں کی ادائیگی، ماحول دوست ہائیڈرو منصوبوں، کرپشن اور سفارشی کلچر کے خاتمے اور انتظامی اصلاحات کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
38 نکاتی فہرست میں نوجوانوں کے لیے بلاسود قرضے، روزگار یا بے روزگاری الاؤنس، ٹیکسوں میں رعایت، معذور افراد کے لیے ملازمتی کوٹہ، عدالتی و بلدیاتی اصلاحات، طلبہ یونین انتخابات، ایڈہاک تقرریوں کا خاتمہ، تاجروں کے تحفظ، کم از کم 50 ہزار روپے ماہانہ اجرت اور سینٹری ورکرز کو زمین کی الاٹمنٹ جیسے مطالبات بھی شامل ہیں۔
راولاکوٹ بس ٹرمینل اور بیٹھک بلوچ کے واقعات پر پولیس نے کیا کہا؟
بس ٹرمینل واقعے پر پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی پولیس کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک ویڈیو جاری کی گئی ہے۔ ویڈیو دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ اسے کسی ڈرون کے ذریعے بنایا گیا ہے۔
اس ویڈیو میں سات افراد کو دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ اسی ویڈیو میں سڑک پر ایک بکتربند گاڑی بھی دیکھی جا سکتی ہے، جس کے پاس سے دھواں اٹھتا ہوا بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ دھواں کسی دھماکے کے نتیجے میں پھیلا یا یہ کوئی گیس کا شیل تھا۔
دوسری جانب پولیس کا اس ویڈیو کے حوالے سے کہنا ہے کہ ’اس کارروائی کی فضائی نگرانی کے دوران نشاندہی کی گئی اور اس کی ویڈیو بھی موجود ہے، جس میں فائرنگ کے بعد جب پولیس اور دیگر سکیورٹی اہلکار صورتحال پر قابو پانے کے لیے آگے بڑھے تو ان پر فائرنگ کی گئی۔‘
’کالعدم جے اے اے سی کے مسلح افراد اور مشتعل مظاہرین نے سکیورٹی فورسز کو براہِ راست نشانہ بنایا۔‘
بیان میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’کالعدم جے اے اے سی کی جانب سے دھماکہ خیز مواد استعمال کیے جانے کی بھی تصدیق ہوئی ہے۔‘
پولیس کے بیان کے مطابق کے ’علاقے کو فوری طور پر مسلح مظاہرین سے خالی کرانا ضروری ہے کیونکہ مقامی آبادی کو اسلحے کے زور پر یرغمال بنا کر رکھا گیا ہے۔‘
دوسرے واقعے، جس میں پولیس کانسٹیبل کی ہلاکت ہوئی، کے بارے میں جاری کردہ پریس ریلیز میں پولیس نے کہا ہے کہ ’کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکنوں نے ٹولی/تتہ پانی شاہراہ کے مختلف مقامات پر ناکہ بندی کر کے آمدورفت معطل کر رکھی تھی جس کے باعث آمد و رفت متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ شہری مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔۔۔ روزمرہ استعمال کی اشیا کی ترسیل بھی متاثر ہو رہی تھی۔‘
پولیس نے مزید بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے منگل کو کلیئرنس آپریشن کا آغاز کیا جس دوران ’بیٹھک بلوچ مقام پر کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے مسلح جتھوں نے سکیورٹی اہلکاروں پر بلا اشتعال اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔‘
پولیس کا کہنا ہے کہ اس فائرنگ کے نتیجے میں کشمیر پولیس کے کانسٹیبل عاقب ہلاک جبکہ آٹھ پولیس اہلکار، ایف سی کا ایک اہلکار اور محکمۂ پی ڈبلیو ڈی کے دو ملازمین زخمی ہوئے ہیں۔
پولیس نے کہا ہے کہ ’کسی بھی اشتہاری یا مسلح گروہ کو شاہراہیں بند کر کے عوام کی زندگی مفلوج بنانے اور ریاستی رٹ کو چیلنج بنانے کی ہرگز ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔‘
بعد ازاں آئی جی کشمیر پولیس لیاقت علی ملک نے بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کو بتایا ہے کہ منگل کے روز ایک پولیس کانسٹیبل کی ہلاکت ہوئی ہے جبکہ ایک اہلکار کی حالت تشویش ناک ہے۔ ’ہمارے دیگر 10 اہلکار گولیاں لگنے سے معمولی زخمی ہوئے ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’مختلف مقدمات میں دو اشتہاری‘ فائرنگ کے واقعے میں ملوث تھے جن کی ہلاکت ہوئی ہے۔
آئی جی کشمیر پولیس کا کہنا تھا کہ ’ابھی بھی لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ پُرامن ہیں اور ان کے ساتھ مذاکرات ہونے چاہییں۔۔۔ یہ پُرامن نہیں ہیں، یہ جتھہ ہے۔‘