پاکستان فلار ملز ایسوسی ایشن کے مرکزی چیئرمین بدرالدین کاکڑ نے عبدالجنید عزیز، چوہدری محمد یوسف اور عنصر جاوید کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے سال کے وسط میں گندم کی بھرپور پیداوار کے دعوؤں کے باوجود مارکیٹ میں اس کی عدم دستیابی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے ملک میں گندم کے موجودہ بحران کا ذمے دار پنجاب حکومت اور بطور وزیر اعلیٰ مریم نواز کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب ملک کی 70 فیصد گندم پیدا کرتا ہے اور یہ گندم پورے پاکستان کی ہے، لیکن مریم نواز نے پنجاب کی گندم روک رکھی ہے۔
آئین کے آرٹیکل 151 کے تحت ملک بھر میں آزاد تجارت کی مکمل اجازت ہے، لیکن پنجاب حکومت نے غیر دستاویزی مانیٹرنگ کے نام پر متعدد مقامات پر چیک پوسٹیں قائم کر کے گندم کی بین الصوبائی ترسیل میں شدید رکاوٹیں پیدا کر رکھی ہیں۔ خیبر پختونخوا کی سالانہ گندم کی پیداوار 15 لاکھ میٹرک ٹن جبکہ کھپت 55 لاکھ میٹرک ٹن ہے۔ گزشتہ دو سال سے پنجاب کی جانب سے عائد پابندیوں کے سبب خیبر پختونخوا کے عوام مہنگا آٹا خریدنے پر مجبور ہیں، اور وہاں گندم اور آٹے کی دستیابی پنجاب کی چیک پوسٹوں پر بھاری معاوضہ ادا کرنے کے بعد ہی ممکن ہوتی ہے۔
پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ جب 15 مارچ کو سندھ کی فصل آئی تو اس کی نقل و حمل پر کوئی پابندی نہیں تھی، جس کے باعث دوسرے صوبوں نے سندھ سے ایک لاکھ ٹن گندم خریدی جو پنجاب اور بلوچستان بھی گئی۔ اس کے برعکس پنجاب نے دو سال سے گندم کی نقل و حمل پر پابندی لگا رکھی ہے، جبکہ دو سال سے پنجاب میں 14 روپے سے زیادہ میں روٹی فروخت نہیں ہونے دی گئی۔ اب ایسی خبریں بھی گردش کر رہی ہیں کہ پنجاب حکومت ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ذریعے گندم درآمد کرے گی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر کاشت بڑھی ہے اور پیداوار بڑھانے کے دعوے کیے جا رہے ہیں تو جولائی کے مہینے میں گندم کی قلت کیسے پیدا ہو گئی؟ جبکہ نگران حکومت کے دور میں ضرورت سے زیادہ گندم منگوائی گئی تھی۔
رہنماؤں نے واضح کیا کہ حکومت اور عالمی اداروں کے پیداواری اعداد و شمار میں واضح فرق ہے۔ فی من گندم کی پیداواری لاگت 3200 روپے تھی، اور موسمی حالات، کھاد اور بجلی کی قیمتوں کے باعث ہماری فی ایکڑ پیداوار دنیا کے مقابلے میں پہلے ہی کم ہے۔ پنجاب حکومت کی جانب سے گندم کی خریداری پر عائد پابندیوں نے کسانوں اور فلور ملز انڈسٹری کو بدحال کر دیا ہے، جس کی وجہ سے مارکیٹ میں گندم کا اجراء انتہائی کم ہے اور ملک میں 20 سے 25 لاکھ میٹرک ٹن کا شارٹ فال موجود ہے۔
پنجاب کی وزیر اطلاعات نے علی الاعلان کہہ رکھا ہے کہ وہ پنجاب کو دیگر صوبوں پر فوقیت دیں گے، جو کہ وفاقی اکائیوں کے درمیان تشویشناک رویہ ہے اور اس سے ملک میں قیمتوں اور سپلائی چین سے متعلق انارکی کی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ وفاقی وزارتِ غذائی تحفظ کا کام ہے کہ وہ اس سنگین معاملے پر فوری غور کرے۔
اس موقع پر سابق چیئرمین سندھ فلار ملز ایسوسی ایشن چوہدری محمد یوسف نے کہا کہ حکومت گندم کو ڈی ریگولیٹ کرنے میں مکمل ناکام ہو چکی ہے۔ انہوں نے انتباہ کیا کہ اگر پورے ملک میں گندم کی فری موومنٹ (آزادانہ نقل و حمل) کی اجازت نہ دی گئی، تو اگلے دس دن بعد ملک بھر میں گندم اور آٹا دستیاب نہیں ہوگا۔