ایرانی آئل ٹینکرز نے کراچی کا رخ کیوں کیا؟ نئی رپورٹ میں اہم دعویٰ

image

امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران دو ایرانی آئل ٹینکرز کے کراچی بندرگاہ کی جانب رخ کرنے کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔

صحافی منصور علی خان نے اپنے وی لاگ میں بلومبرگ کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ مذکورہ دونوں جہاز ممکنہ امریکی کارروائی سے بچنے کے لیے عارضی طور پر محفوظ مقام کی تلاش میں ہیں۔

رپورٹ کے مطابق دونوں آئل ٹینکرز، جو مجموعی طور پر تقریباً 10 لاکھ بیرل خام تیل لے جا رہے تھے نے اچانک اپنا راستہ تبدیل کرتے ہوئے اپنی اگلی منزل پاکستان ظاہر کی۔ مبصرین کے مطابق اس پیش رفت سے یہ تاثر ملتا ہے کہ جہاز کھلے سمندر میں سفر جاری رکھنے کے بجائے صورتحال واضح ہونے تک کسی محفوظ بندرگاہ کے قریب انتظار کرنا چاہتے ہیں۔

جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے عالمی پلیٹ فارم کے مطابق ان ٹینکرز کا پاکستان میں خام تیل اتارنے کا امکان نہیں، کیونکہ ایسا کرنے کی صورت میں پاکستان کو امریکی پابندیوں کے خطرے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ماضی میں بھی بعض ایرانی بحری جہاز مختلف حالات کے باعث پاکستانی بندرگاہوں کے قریب قیام کر چکے ہیں اس لیے اسے مکمل طور پر غیرمعمولی واقعہ نہیں سمجھا جا رہا۔

دوسری جانب سینئر تجزیہ کار جاوید چوہدری نے اپنے ایک پوڈکاسٹ میں کہا کہ موجودہ حالات میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرانے کے لیے کوئی مؤثر ثالث دکھائی نہیں دے رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان اور ایران کے تعلقات بھی پہلے جیسے نہیں رہے اور دونوں ممالک کے درمیان بعض سفارتی معاملات نے فاصلہ پیدا کیا ہے۔

جاوید چوہدری کے مطابق ایران کے اندر بھی سیاسی اور عسکری حلقوں کے درمیان طاقت کے توازن سے متعلق اہم تبدیلیاں زیر بحث ہیں جن کے اثرات نہ صرف ایران بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر بھی پڑ سکتے ہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US