جمعے کو اسلام آباد میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اب سات روز کے بجائے روزانہ کی بنیاد پر تیل کی قیمتوں کا تعین کرے گی اور اس فیصلے کے ذریعے حکومت تیل کی قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کرنے جا رہی ہے۔

پاکستان کی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا سات روز کے بجائے روزانہ کی بنیاد پر تعین کا اعلان کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ یہ فیصلہ ’تکلیف دہ‘ ضرور ہو گا لیکن ریاست کو مضبوط رکھنے کے لیے یہ لازم تھا۔
جمعے کو اسلام آباد میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اب سات روز کے بجائے روزانہ کی بنیاد پر تیل کی قیمتوں کا تعین کرے گی اور اس فیصلے کے ذریعے حکومت تیل کی قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کرنے جا رہی ہے۔
علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ اوگرا روزانہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کر کے اسے اپنی ویب سائٹ پر شائع کرے گی۔
اُن کا کہنا تھا کہ روزانہ کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں جو بھی اُتار چڑھاؤ ہو گا وہ فوری طور پر عوام کو منتقل کر دیا جائے گا۔
علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ حالیہ چند روز کے دوران مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کی وجہ سے تیل کی قیمتیں دوبارہ بڑھنا شروع ہو گئی ہیں۔ خاص طور پر ڈیزل کی قیمت میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔
خیال رہے کہ کچھ برس پہلے تک پاکستان کی حکومت ماہانہ کی بنیاد پر تیل کی قیمتوں کا تعین کرتی تھی، اس کے بعد ہ عمل 15 روز اور پھر سات روز پر منتقل کر دیا گیا اور اب حکومت نے روزانہ پیٹرول کی قیمتوں کے تعین کا اعلان کیا ہے۔
یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے کہ جب حالیہ عرصے میں حکومت پر یہ تنقید بھی ہو رہی تھی کہ وہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے اثرات عوام تک منتقل نہیں کر رہی اور زیادہ لیویز وصول کی جا رہی ہے۔
’لوگ خود جان سکیں گے کہ قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں‘
علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم اور کابینہ نے اس فیصلے کی منظوری دے دی ہے اور اس کا مقصد یہ ہے کہ ہم کس طرح پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے نظام میں شفافیت لا سکتے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کا مقصد یہ ہے کہ لوگ خود سمجھ سکیں کہ کیوں قیمتوں کا بڑھانا ناگزیر ہے۔
’ریاست کو کسی خطرے میں لائے بغیر اوگرا کو اب سے یہ ذمہ داری دی گئی ہے کہ روزانہ کی بنا پر قیمتوں کا بین الاقوامی منڈی کے لحاظ سے فیصلہ کرے اور قیمت ویب سائٹ پر شائع کرے۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ اوگرا کو یہ ذمہ داری بھی سونپی گئی ہے کہ جو قیمتیں ہمیں پیٹرول پمپوں پر نظر آتی ہیں، ان کا تعین کس طرح کیا جاتا ہے، عوام کو یہ بتایا جائے تاکہ لوگوں کے شکوک و شبہات ختم ہو سکیں۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ پہلے یہ ہوتا تھا کہ سات روز کے دوران عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کے اُتار چڑھاؤ کو ایک ہفتے بعد یکمشت عوام تک منتقل کر دیا جاتا تھا۔
اُن کے بقول یہ گلہ کیا جاتا تھا کہ اگر تیل کی قیمت کم ہوئی ہے تو فوری طور پر اسے عوام تک منتقل کیا جائے اور اس کا ایک ہی طریقہ ہے کہ اس نظام کو روزانہ کی بنیادوں پر لایا جائے۔
’روزانہ کی بنیاد پر جتنا اُتار چڑھاؤ ہو وہ روزانہ کی بنیاد پر منتقل کر دیا جائے۔ حکومت کو احساس ہے کہ یہ آسان نہیں ہے، تیل کی قیمت جب بڑھتی ہے تو اس فوری اثر آتا ہے۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ کسی پیٹرول پمپ یا آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو ذخیرہ اندوزی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

اس فیصلے سے عوام کو فائدہ ہو گا یا نقصان؟
پاکستان میں پیٹرولیئم مصنوعات تیار کرنے والی ریفائنری سنرجیکو کے وائس چیئرمین اسامہ قریشی نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ عوام کے لیے اس فیصلے کا فائدہ یہ ہو گا کہ جو 15، 15 روز کے بعد بڑے پرائس شاک آتے تھے، اب وہ روزانہ کی بنیاد پر جذب ہو جائیں گے، یعنی دو، تین یا چار روپے قیمت اوپر نیچے جایا کرے گی۔
حکومت کا کہنا ہے کہ یہ پیٹرول مصنوعات کو ڈی ریگولرآئز کرنے کی جانب ایک قدم ہے۔ اس پر اسامہ قریشی کا خیال ہے کہ اگر قیمتیں ڈی ریگولرائز کر دی گئیں تو صارفین کے پاس یہ چوائس ہو گی اور کمپنیوں کے درمیان مقابلہ بڑھے گا۔
وہ کہتے ہیں کہ باقی دنیا میں بھی یہی رجحان ہے کہ مختلف پیٹرول پمپس پر قیمتوں میں فرق ہوتا ہے، کیونکہ مصنوعات کی قیمتوں کا تعین حکومت نہیں کرتی۔
اسامہ قریشی نے کہا کہ جنگ کے دوران عالمی منڈیوں میں قیمتوں میں بہت زیادہ اتار چڑھاؤ تھا تو اس وقت ہر ایک، دو ہفتوں کے بعد ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑے پیمانے پر رد و بدل ہو رہا تھا۔ اور اس وقت حکومت کو بھی قیمتوں پر ہفتہ وار نظر ثانی کرنا پڑتی تھی۔
وہ کہتے ہیں کہ جب قیمتوں کا اعلان روزانہ کی بنیاد پر ہو گا تو اتار چڑھاؤ اتنا بڑا نہیں ہو گا جو معمولات زندگی کو متاثر کرے۔
تاہم انھوں نے واضح کیا کہ پیٹرولیم مصنوعات پر عائد کردہ لیویز اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے منافع کی شرح پر اب بھی حکومت کا اختیار ہو گا۔
پیٹرول پمپ ڈیلرز کا کیا موقف ہے؟
مگر پاکستان میں پیٹرول پمپ ڈیلرز اس اقدام سے خوش دکھائی نہیں دے رہے۔
پاکستان پیٹرولیم ریٹیلر ایسوسی ایشن کی ایگزیکٹو کمیٹی کے رُکن یاسر گلزار کہتے ہیں کہ پیٹرولیئم ڈیلرز فی الحال ویسے ہی کمیشن مارجن میں کمی سے پریشان ہیں جو کہ ایک لیٹر پر ساڑھے چھ سے سات روپے ہے۔ ’اب جب قیمتیں روزانہ کی بنیاد پر تبدیل ہوں گی تو پمپ کا کاروبار نقصان میں ہی جائے گا۔‘
ان کی رائے میں اس پر عملدرآمد میں کئی چیلنجز درپیش ہوں گی، مثلاً اگر ایک پمپ کی یومیہ فروخت پانچ ہزار لیٹر ہے تو اسے 10 ہزار لیٹر کا سٹاک رکھنا پڑتا ہے اور ایسے میں اگر قیمت میں معمولی کمی بھی آتی ہے تو اسے نقصان ہو گا۔
وہ مزید بتاتے ہیں کہ فی الحال کمپنی آپریٹڈ پمپس کی حالت بہتر ہے کیونکہ وہاں آئل مارکیٹنگ کمپنی، ڈیلر اور ریفائنری ان کی اپنی ہوتی ہے۔ تاہم ان کے بقول اس ماحول میں ڈیلر ’سروائیو نہیں کر سکتا۔‘
وہ یہ مثال بھی دیتے ہیں کہ پیٹرول کی منتقلی چونکہ بذریعہ سڑک ہوتی ہے اور اسے کراچی سے کہیں پہنچنے میں کم از کم تین دن درکار ہوتے ہیں تو اس کی قیمت کو روزانہ کی بنیاد پر طے کرنا مشکل ہو گا۔
انھوں نے کہا کہ ڈی ریگولرآئزیشن سے متعلق اس اقدام سے قبل بھی ڈیلرز ایسوسی ایشن نے ہڑتال کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی اور اب جلد آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔

سوشل میڈیا پر ردِعمل
یہ معاملہ سوشل میڈیا پر بھی زیرِ بحث ہے اور صارفین اس پر مختلف آرا کا اظہار کر رہے ہیں۔
صحافی احتشام کیانی نے ایکس پر لکھا کہ قیمتوں میں روزانہ کی تبدیلی عوام، ٹرانسپورٹرز، صنعت کاروں اور کاروباری برادری کے لیے غیر یقینی صورتحال پیدا کر سکتی ہے۔ اس سے کرایوں، اشیائے خوردونوش اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتیں بھی مسلسل متاثر ہوں گی، جس سے مہنگائی کا دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔
علی نامی صارف نے لکھا کہ پوری دنیا میں یہی رائج طریقہ ہے کہ انٹرنیشنل مارکیٹ کے ساتھ اتار چڑھاؤ فوری ہو۔ اگر نیت میں کھوٹ نہ ہوئی تو اس سے لوگوں کو فائدہ ہو گا۔
ایک اور صارف نے لکھا کہ شروع میں پیٹرول کی قیمتوں میں مہینے میں ایک بار اضافہ ہوتا تھا، پھر یہ سلسلہ ہر پندرہ دن بعد کا ہو گیا، اس کے بعد ہر آٹھ دن بعد، اور اب پیٹرول کی قیمتوں میں روزانہ اضافے کا اعلان کر دیا ہے۔