وفاقی وزراء عطاء اللہ تارڑ اور علی پرویز ملک نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ نظام میں شفافیت لانے کے لیے اب پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین اوگرا کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر کیا جائے گا اور حکومت پٹرولیم سیکٹر کو بتدریج ڈی ریگولیشن کی طرف لے جا رہی ہے۔
وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے بتایا کہ عالمی منڈی میں ڈیزل کی قیمت 110 سے بڑھ کر 140 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے اور علاقائی کشیدگی کے باوجود حکومت نے عوام کو 130 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مقامی سطح پر تیل و گیس کی دریافت کے لیے ترک پٹرولیم کا جہاز اکتوبر میں پاکستان آئے گا، جبکہ ریفائنریز کی اپ گریڈیشن اور آئی ایم ایف کے ساتھ سرکلر ڈیٹ پر بھی پیش رفت جاری ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ عالمی سطح پر تیل کی قلت کے دوران حکومت نے بروقت کارگو منگوا کر اضافی ذخائر کو یقینی بنایا اور ترقیاتی اخراجات کم کر کے پٹرولیم لیوی میں اضافہ نہیں ہونے دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت کارروائیاں جاری ہیں اور حکومت کا اگلا ہدف ملک میں الیکٹرک گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کا فروغ ہے۔