بیک وقت پانچ کرکٹرز کی صلاحیتوں کے مالک سر گیری سوبرز جو کسی بھی کپتان کا خواب تھے

89 برس کی عمر میں وفات پانے والے سر گارفیلڈ سوبرز کا شمار بجا طور پر 20ویں صدی کے پانچ عظیم ترین کرکٹرز میں کیا جاتا تھا۔ انھیں کرکٹ کی تاریخ کے بہترین آل راؤنڈرز میں سے ایک، بلکہ بلاشبہ سب سے بہترین آل راؤنڈر کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔
سر گیری سوبرز
BBC Sport

89 برس کی عمر میں وفات پانے والے سر گارفیلڈ سوبرز کا شمار بجا طور پر 20ویں صدی کے پانچ عظیم ترین کرکٹرز میں کیا جاتا تھا۔ انھیں کرکٹ کی تاریخ کے بہترین آل راؤنڈرز میں سے ایک، بلکہ بلاشبہ سب سے بہترین آل راؤنڈر کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔

دو دہائیوں پر محیط ان کے ٹیسٹ کریئر کی بدولت بارباڈوس کے قومی ہیرو سوبرز کو ویسٹ انڈیز میں ایک لیجنڈ کی حیثیت حاصل تھی اور ریٹائرمنٹ کے فوراً بعد انھیں نائٹ کا اعزاز دیا گیا۔

تاہم انگلینڈ میں بھی انھیں بڑی محبت اور احترام سے یاد کیا جائے گا، جہاں انھوں نے کاؤنٹی ٹیم ناٹنگھم شائر کی نمائندگی کی۔ اسی ٹیم کی جانب سے کھیلتے ہوئے انھوں نے اس وقت ریکارڈ بک میں اپنا نام درج کروایا جب وہ پیشہ ورانہ کرکٹ میں ایک اوور میں چھ چھکے لگانے والے پہلے بلے باز بنے۔

جس دور میں سوبرز نے کرکٹ کی دنیا میں قدم رکھا اس وقت کوچز اپنے کھلاڑیوں کھیل کے پہلو میں مہارت رکھنے والے ’ملٹی ڈائمنشنل‘ کرکٹر بننے پر زور نہیں دیتے تھے تاہم اس کے باوجود سوبرز ایک آل راؤنڈر کی بہترین مثال تھے۔

مڈل آرڈر میں بیٹنگ کرنے والے سوبرز نہ صرف ایک جارح مزاج بلے باز تھے بلکہ وہ تین مختلف انداز میں باؤلنگ کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے تھے۔ اس کے علاوہ وہ شاندار فیلڈر اور قریبی پوزیشنز پر بہترین کیچ لینے والے کھلاڑی بھی تھے۔

حقیقت یہ ہے کہ وہ اکثر نئی گیند کے ساتھ بائیں ہاتھ سے فاسٹ میڈیم باؤلنگ کا آغاز کرتے اور پھر جب گیند کچھ پرانی ہو جاتی تو وہ بائیں ہاتھ سے آرتھو ڈوکس سپن یا بائیں ہاتھ کی رسٹ سپن باؤلنگ بھی کرتے تھے۔ ان کی بیٹنگ اور فیلڈنگ کی مہارتوں کو بھی شامل کر لیا جائے تو وہ کسی بھی کپتان کے لیے ایک مثالی کھلاڑی تھے، ایک ایسا کھلاڑی جو بیک وقت پانچ کرکٹرز کی صلاحیتیں سمیٹے تھا۔

بارباڈوس سے عالمی سطح تک کا سفر

گیری سوبرز
Getty Images
بارباڈوس کے کینسنگٹن اوول گراؤنڈ میں نصب سر گیری سوبرز کا مجسمہ۔

گارفیلڈ سینٹ اوبرن سوبرز 28 جولائی 1936 کو بارباڈوس کے شہر برج ٹاؤن میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد مرچنٹ نیوی میں تھے۔ وہ صرف پانچ برس کے تھے جب دوسری عالمی جنگ کے دوران ان کے والد مارے گئے۔ اس کے بعد ان کی والدہ تھیلما نے اپنے چھ بچوں کی پرورش کی۔ پیدائش کے وقت سوبرز کے دونوں ہاتھ میں ایک ایک اضافی انگلی تھی جنھیں بچپن میں ہی ہٹا دیا گیا۔

سکول کے زمانے میں کئی کھیلوں میں نمایاں کارکردگی دکھانے کے بعد انھیں نوعمری ہی میں مقامی کلب کرکٹ میں شامل کر لیا گیا۔ 16 برس کی عمر میں انھوں نے اپنے آبائی شہر کے کینسنگٹن اوول میں انڈیا سے آنے والی ٹیم کے خلاف فرسٹ کلاس کرکٹ میں ڈیبیو کیا۔ یہ وہی میدان تھا جس کے پویلین کو بعد میں ان کے نام سے منسوب کیا گیا۔

بارباڈوس کی اس ٹیم میں ویسٹ انڈیز کرکٹ کے کئی بڑے ستارے شامل تھے۔ سوبرز کو نویں نمبر پر بیٹنگ اور سپن باؤلنگ کی ذمہ داری دی گئی۔ وہ اس ٹیم میں موجود آٹھ موجودہ یا مستقبل کے ٹیسٹ کرکٹرز میں شامل تھے، جن میں سے چار کو بعد میں نائٹ کا اعزاز ملا۔ انھوں نے پہلی اننگز میں چار اور دوسری اننگز میں تین وکٹیں حاصل کیں۔

اور صرف مزید ایک فرسٹ کلاس میچ اور 14 ماہ بعد محض 17 برس کی عمر میں گیری سوبرز کو ٹیسٹ ڈیبیو کا موقع مل گیا۔ 1954 کے آغاز میں جمیکا میں انگلینڈ کے خلاف سیریز کے آخری ٹیسٹ سے قبل ویسٹ انڈیز کے بائیں ہاتھ کے سپنر الف ویلنٹائن بیمار پڑ گئے جس کے باعث سوبرز کو ٹیم میں شامل کر لیا گیا۔ وہاں بھی انھوں نے اپنے پہلے ٹیسٹ میچ میں چار وکٹیں حاصل کیں۔

اگرچہ ویسٹ انڈیز کے مشہور ’تھری ڈبلیوز‘ یعنی کلائیڈ والکاٹ، ایورٹن ویکس اور فرینک وورل مڈل آرڈر میں اپنی جگہ مستحکم کر چکے تھے، لیکن جب 1955 میں آسٹریلیا نے ویسٹ انڈیز کا دورہ کیا تو سوبرز کو اپنے اگلے ٹیسٹ میچ میں چھٹے نمبر پر بیٹنگ کے لیے بھیجا گیا، اور انھوں نے جلد ہی اپنی صلاحیتوں کی جھلک دکھانی شروع کر دی۔

دوسرے ٹیسٹ میں 47 رنز بنانے کے بعد چوتھے ٹیسٹ میں انھیں ہنگامی طور پر اوپننگ کرنے کا کہا گیا، جہاں انھوں نے آسٹریلیا کے عظیم آل راؤنڈر کیتھ ملر کی پہلی تین گیندوں پر مسلسل تین چوکے لگائے۔

1957 میں سوبرز نے پہلی مرتبہ انگلینڈ کا دورہ کیا۔ تب تک وہ پانچ ٹیسٹ میچوں میں صرف ایک نصف سنچری ہی بنا سکے تھے۔ تاہم انھوں نے ٹرینٹ برج کے میدان میں اپنی مستقبل کی کاؤنٹی ٹیم ناٹنگھم شائر کے خلاف ناقابلِ شکست 219 رنز کی شاندار اننگز کھیل کر سب کو متاثر کر دیا۔

جمیکا میں پاکستان کے خلاف ریکارڈ شکن اننگ

اگرچہ سوبرز کی صلاحیتوں پر سب کو ہی یقین تھا تاہم انھیں ٹیسٹ کریئر میں اپنی پہلی سنچری بنانے کے لیے چار برس انتظار کرنا پڑا۔ تاہم جب انھوں نے اپنے 17ویں ٹیسٹ میں سنچری سکور کی تو ایسا کرتے ہوئے سوبرز نے ریکارڈز ہی توڑ ڈالے۔

جمیکا کے سبینا پارک میں پاکستان کے خلاف تیسرے نمبر پر بیٹنگ کے لیے آنے والے سوبرز نے کونراڈ ہنٹ کے ساتھ دوسری وکٹ کے لیے 446 رنز کی شراکت قائم کی۔ ہنٹ 260 رنز بنا کر رن آؤٹ ہوئے، لیکن یکم مارچ 1958 کو ویسٹ انڈیز کی اننگز ڈکلیئر ہونے تک 21 برس کے سوبرز 365 رنز پر ناٹ آؤٹ تھے۔

اس اننگز کے ساتھ انھوں نے انگلینڈ کے لین ہٹن کا 1938 میں بنایا گیا 364 رنز کا ٹیسٹ ریکارڈ توڑ دیا۔ سوبرز کا یہ ریکارڈ 1994 تک برقرار رہا۔ تاہم یہ ان کی شاندار بیٹنگ فارم کے ایک ایسے دور کا آغاز تھا جس میں انھوں نے اپنے اگلے پانچ ٹیسٹ میچوں میں مزید پانچ سنچریاں سکور کیں۔ اسی دوران ان کی سیم باؤلنگ میں بھی بہتری آئی اور وہ 1960 کی دہائی کے نمایاں ترین آل راؤنڈر بن گئے۔

ہر کوئی سوبرز کو ٹیم میں رکھنا چاہتا تھا۔ 1958 سے 1962 تک انھوں نے انگلینڈ میں سینٹرل لنکاشائر لیگ کی ٹیم ریڈکلف کی نمائندگی کی، جبکہ 1964 سے 1967 کے درمیان نارتھ سٹافورڈشائر اینڈ ساؤتھ چیشائر لیگ میں نورٹن کی جانب سے کھیلے۔ دوسری جانب 61-1960 میں آسٹریلیا کے خلاف ان کی شاندار کارکردگی کی بدولت انھیں شیفیلڈ شیلڈ میں ساؤتھ آسٹریلیا کی نمائندگی کی دعوت بھی ملی، جہاں انھوں نے اگلے تین سیزن کھیلے۔

تاہم ریڈکلف میں ان کے دور کے ساتھ ایک المناک واقعہ بھی جڑا ہوا ہے۔ سوبرز سٹافورڈشائر میں گاڑی چلا رہے تھے جب ان کی کار سامنے سے آنے والے ایک مویشی بردار ٹرک سے ٹکرا گئی۔ اس حادثے کے نتیجے میں کار کی پچھلی نشست پر سوئے ہوئے ان کے ویسٹ انڈیز ٹیم کے ساتھی کولی سمتھ کو ریڑھ کی ہڈی میں شدید چوٹ لگی۔ ان کی تین روز بعد ان کی وفات ہو گئی۔ بعد ازاں سوبرز کو لاپرواہ ڈرائیونگ کا قصوروار قرار دیا گیا اور ان پر جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔

ویسٹ انڈیز کے کپتان اور ناٹنگھم شائر کے ہیرو

گیری سوبرز
Getty Images

فرینک وورل ویسٹ انڈیز کے پہلے سیاہ فام کپتان تھے۔ اور جب انھوں نے 1965 میں ریٹائرمنٹ لی تو 28 سالہ سوبرز کو ان کی جگہ ٹیم کی قیادت سوپی گئی۔

1966 کے موسمِ گرما میں جب انگلینڈ فٹبال ورلڈ کپ جیتنے کا جشن منا رہا تھا، سوبرز کی قیادت میں ویسٹ انڈیز نے انگلینڈ کو چار ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں 3-1 سے شکست دی۔ سوبرز کی ٹیم نے دو میچز تو ایک اننگز سے جیتے۔ سوبرز نے خود بھی اس سیریز میں 722 رنز بنائے، تین سنچریاں سکور کیں اور 20 وکٹیں حاصل کیں۔

بعد ازاں، جنوبی افریقہ کو اس وقت کی نسل پرستانہ اپارتھائیڈ پالیسی کے باعث عالمی کھیلوں سے الگ تھلگ کر دیا گیا تو انگلینڈ اور آسٹریلیا کے خلاف جنوبی افریقہ کے مجوزہ دوروں کی جگہ کھیلی جانے والی ریسٹ آف دی ورلڈ الیون کی قیادت کے لیے سوبرز کو منتخب کیا گیا۔

تاہم 1970 میں انھیں کیریبین میں اس وقت تنقید کا سامنا کرنا پڑا جب انھوں نے اس وقت کے روڈیشیا (موجودہ زمبابوے) میں ایک ڈبل وکٹ مقابلے میں شرکت کی۔ روڈیشیا اس وقت سفید فام اقلیت کی حکومت کے زیرِ انتظام تھا، اور سوبرز کے اس فیصلے کو سیاسی طور پر غیر حساس قرار دیا گیا۔ انھوں نے اپنے اس فیصلے پر بعد میں معذرت بھی کی۔

میدان میں تاہم ان کا کوئی مقابلہ نہ تھا۔ 1972 میں میلبرن میں آسٹریلیا کے خلاف ریسٹ آف دی ورلڈ کی جانب سے کھیلتے ہوئے انھوں نے ڈبل سنچری سکور۔ سر ڈونلڈ بریڈمین جیسے عظیم بلے باز نے سوبرز کی اس اننگ کے بارت میں کہا تھا کہ یہ ’شاید آسٹریلیا میں دیکھی جانے والی بیٹنگ کی سب سے شاندار نمائش تھی۔‘

اس وقت تک سوبرز مشرقی مڈلینڈز میں بھی ہیرو کا درجہ حاصل کر چکے تھے، جہاں وہ ناٹنگھم شائر کے کپتان کے طور پر شامل ہوئے تھے۔ غیر ملکی کھلاڑیوں کے لیے رہائشی اہلیت کی شرط ختم ہونے کے بعد کاؤنٹی کلبوں کے درمیان عالمی ستاروں کو اپنی طرف راغب کرنے کی دوڑ شروع ہو چکی تھی۔ بیری رچرڈز اور گریگ چیپل جیسے بڑے نام 1968 کے سیزن کے لیے انگلش کاؤنٹی کرکٹ میں آئے، اور ناٹنگھم شائر سوبرز کو اپنی ٹیم میں شامل کرنے میں کامیاب رہی۔

وہ 1974 تک ٹرینٹ برج میں شائقین کو اپنے کھیل سے محظوظ کرتے رہے، لیکن ناٹنگھم شائر کے لیے کھیلتے ہوئے پہلے ہی سیزن میں وہ لمحہ آیا جس نے انھیں ہمیشہ کے لیے کرکٹ کی تاریخ میں امر کر دیا۔

گیری
Getty Images

چھ گیندوں پر چھ چکے اور ’غلط‘ گیند کی نیلامی

31 اگست 1968 کو سوانزی میں ناٹنگھم شائر کے لیے کھیلتے ہوئے سوبرز تیزی سے رنز بنانا چاہتے تھے تاکہ ٹیم اننگز ڈکلیئر کر سکے۔ انھوں نے گلیمورگن کے فاسٹ باؤلر میلکم نیش کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا، جو اس میچ میں بائیں ہاتھ سے سپن باؤلنگ کی مشق کر رہے تھے۔

اتفاق سے بی بی سی ویلز کی ایک کیمرا ٹیم نے فلم بندی روکنے کی ہدایت پر عمل نہیں کیا، اور اسی وجہ سے وہ تاریخی لمحہ ہمیشہ کے لیے کیمرے میں محفوظ ہو گیا جب سوبرز نے لگاتار چھ گیندوں پر چھ چھکے لگائے۔

پانچویں گیند پر راجر ڈیوس لانگ آف پر سوبرز کا کیچ پکڑنے میں کامیاب تو ہو گئے لیکن اس کوشش کے دوران وہ باؤنڈری لائن سے باہر جا گرے، جس کے باعث امپائر نے چھ رنز کا اشارہ دیا۔

چھٹی گیند بھی سوبرز نے میدان سے باہر پہنچا دی اور یوں انھوں نے ایک اور عالمی ریکارڈ قائم کر دیا۔ ان کے بعد فرسٹ کلاس کرکٹ میں یہ کارنامہ صرف ایک مرتبہ، 1985 میں روی شاستری، دہرا سکے۔ تاہم محدود اوورز کی کرکٹ میں کارنامہ کئی بار دیکھنے میں آیا ہے۔

سوبرز اور نیش برسوں تک دوست رہے، اور جب 2019 میں نیش کی وفات ہوئی تو سوبرز انھیں خراجِ عقیدت پیش کرنے والوں میں نمایاں تھے۔

تاہم اس مشہور واقعے کے ساتھ ایک دلچسپ تنازع بھی جڑا ہوا ہے۔ وہ گیند، یا کم از کم وہ گیند جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ اس پر چھ چھکے لگائے گئے تھے اور جس کی سوبرز نے بھی تصدیق کی تھی، کرسٹیز کی نیلامی میں 26 ہزار 400 پاؤنڈ میں فروخت ہوئی۔

مگر صحافی گراہم لائیڈ کی طویل تحقیق، اور بعد میں شائع ہونے والی ایک کتاب، میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ نیلامی میں دراصل کسی دوسری کمپنی کی ’غلط‘ گیند فروخت ہوئی تھی اور یہ وہ اصل گیند نہیں تھی جس پر چھ چھکے لگائے گئے تھے۔ تاہم نیلام گھر کے منتظمین نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ نیلامی میں کسی قسم کی غلطی نہیں ہوئی تھی۔

گیری
BBC

ریٹائرمنٹ اور اعزازات

سوبرز کے بعد روہن کنہائی نے ویسٹ انڈیز کی کپتانی سنبھالی، تاہم سوبرز نے اپنے جانشین کی قیادت میں انگلینڈ کے خلاف مزید دو ٹیسٹ سیریز کھیلے۔ انھوں نے 1974 کے کاؤنٹی سیزن کے اختتام پر فرسٹ کلاس کرکٹ کو خیرباد کہا۔

سوبرز کا کریئر محدود اوورز کی کرکٹ کے عروج سے پہلے کا تھا، حالانکہ یہ ایک ایسا فارمیٹ ہے جس میں وہ غالباً انھیں غیر معمولی کامیابی حاصل ہو سکتی تھی۔ انھوں نے 1973 میں اپنے واحد ایک روزہ بین الاقوامی میچ میں شرکت کی، لیکن وہ اس میں بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہو گئے۔

اس کے باوجود ان کا ٹیسٹ ریکارڈ ثابت کرتا ہے کہ وہ کرکٹ کی تاریخ کے عظیم ترین آل راؤنڈرز میں سے ایک ہیں۔ انھوں نے 20 برس کے دوران 57.78 کی اوسط سے 8,032 ٹیسٹ رنز بنائے جن میں 26 سنچریاں شامل تھیں، جبکہ 235 وکٹیں بھی حاصل کیں۔ ان کے یہ اعداد و شمار ان سے پہلے اور بعد میں آنے والے تقریباً تمام عظیم آل راؤنڈرز کے مقابلے میں نمایاں ہیں۔ شاید صرف جنوبی افریقہ کے جیک کیلس وہ واحد کرکٹر ہیں جنھیں اس اعزاز کا دعوے دار سمجھا جا سکتا جو سوبرز کو ایک اور کرکٹ لیجنڈ رچی بینوڈ نےدیا تھا: دنیائے کرکٹ کا عظیم ترین آل راؤنڈر۔ تاہم یہ یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ جیک کیلس نے سوبرز سے کہیں زیادہ میچوں میں شرکت کی ہے۔

کیا سوبرز کی کوئی کمزوری بھی تھی؟ سوبرز کو گھڑ دوڑ پر شرط لگانے کا شوق تھا۔ 1968 میں انھیں اس وقت تنقید کا سامنا کرنا پڑا جب ٹرینیڈاڈ میں انگلینڈ کے خلاف بطور کپتان انھوں نے ایک جارحانہ فیصلہ لیتے ہوئے اننگ ڈکلیئر کر دی جس کے بعد مہمان ٹیم نے ہدف حاصل کر لیا۔ ناقدین کے مطابق اس فیصلے میں ان کے جوکھم لینے والے مزاج کی جھلک نظر آئی۔

ریٹائرمنٹ کے ایک سال سے بھی کم عرصے بعد 1975 سوبرز کو نائٹ کا خطاب دیا گیا۔ ملکہ الزبتھ دوم نے بارباڈوس کے شاہی دورے کے دوران انھیں یہ اعزاز عطا کیا۔

انھیں ملنے والے دیگر اعزازات میں بارباڈوس کی پارلیمان کی جانب سے سرکاری طور پر قومی ہیرو قرار دیا جانا بھی شامل تھا۔ اس کے علاوہ انھیں آفیسر آف آرڈر آف آسٹریلیا کے خطاب سے بھی نوازا گیا۔ انھوں نے پروڈنس کربی سے شادی کے بعد آسٹریلوی شہریت بھی حاصل کر لی تھی۔ بعد میں دونوں کی طلاق ہو گئی۔ ان کے دو بیٹے تھے جبکہ انھوں نے ایک بیٹی کو گود بھی لیا تھا۔

گیری سوبرز
Getty Images

سوبرز نے 1980 کی دہائی کے آغاز میں سری لنکا کی کوچنگ بھی کی۔ یہ وہ وقت تھا جب سری لنکا کی ٹیم ٹیسٹ کرکٹ میں اپنے ابتدائی قدم جما رہی تھی۔ اس کے علاوہ انھیں گالف سے بھی گہری دلچسپی تھی۔

1986 میں ان کے نام سے منسوب ایک سالانہ بین الاقوامی سکول کرکٹ ٹورنامنٹ شروع کیا گیا۔ اس ٹورنامنٹ میں شرکت کرنے والے ٹرینیڈاڈ کے ایک نوجوان کھلاڑی برائن چارلس لارا نے بعد میں 18 اپریل 1994 کو سوبرز کا ٹیسٹ بیٹنگ ریکارڈ توڑا۔

جب انٹیگوا ریکریشن گراؤنڈ میں لارا نے سوبرز کے 365 رنز کے ریکارڈ کو عبور کیا، تو شائقین کے ساتھ ساتھ سر گارفیلڈ خود بھی میدان میں آئے اور نئے ریکارڈ ہولڈر سے مصافحہ کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی روز صبح چھ بجے وہ لارا کے ساتھ گالف کھیل چکے تھے۔

جب کرکٹ میں بائبل کا درجہ رکھنے والی میگزین وزڈن نے 20ویں صدی کے پانچ عظیم ترین کرکٹرز کا انتخاب کیا تو پینل نے متفقہ طور پر سر ڈونلڈ بریڈمین کو فہرست میں پہلے نمبر پر شامل کیا۔ سوبرز 100 میں سے 90 ووٹ حاصل کر کے دوسرے نمبر پر رہے۔ ان کے بعد سر جیک ہوبز (30 ووٹ)، شین وارن (27 ووٹ) اور سر ویوین رچرڈز (25 ووٹ) کا نمبر تھا۔

زندگی کے بعد کے برسوں میں بھی انھیں کئی بڑے اعزازات سے نوازا گیا۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے سال کے بہترین کرکٹر کے لیے اپنے عالمی ایوارڈ کو ان کے نام سے منسوب کیا۔ 2007 میں جب ویسٹ انڈیز میں پہلی مرتبہ کرکٹ ورلڈ کپ کا انعقاد ہوا تو اس ٹورنامنٹ کا افتتاح بھی سوبرز نے کیا۔ وہ آئی سی سی ہال آف فیم میں شامل کیے جانے والے ابتدائی کھلاڑیوں میں بھی شامل تھے۔

بارباڈوس آنے والے کرکٹ شائقین آج بھی کینسنگٹن اوول کے باہر نصب ان کے مجسمے کے ساتھ تصویر بنوانے کے لیے قطاروں میں کھڑے ہوتے ہیں۔ یہ وہی جزیرہ ہے جس کی سوبرز نے ایک کامیاب سفیر کے طور پر دنیا بھر میں نمائندگی کی۔ اب دنیا بھر کے کرکٹ شائقین ایک ایسی عظیم شخصیت کی وفات پر سوگوار ہیں جسے کھیل کی تاریخ کے حقیقی عظیم ترین کھلاڑیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US