کیا پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے اپنے کھلاڑیوں کو این او سی (این او سی) جاری کرنے کے لیے 25,000 ڈالر فیس طلب کرنے کے بظاہر ایک نئے پالیسی فیصلے کی وجہ سے اس سال امریکا کی میجر لیگ کرکٹ (ایم ایل سی) میں صرف ایک صفِ اول کے پاکستانی کھلاڑی حارث رؤف ہی شرکت کر پائے ہیں؟
اس سال کی ایم ایل سی میں صرف حارث رؤف کو سان فرانسسکو یونیکورنز نے سائن کیا، حالانکہ ماضی میں متعدد پاکستانی کھلاڑیوں کو ایم ایل سی فرینچائزز کی جانب سے سائن کیا جاتا رہا ہے۔
ایم ایل سی فرینچائز کے ایک ذریعے نے انکشاف کیا ہے کہ پی سی بی نے لیگ کے لیے اپنے کھلاڑیوں کو این او سی جاری کرنے کے عوض ایم ایل سی فرینچائزز سے 25,000 ڈالر فیس لینے کی ایک نئی پالیسی نافذ کی ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس نئی پالیسی کے نفاذ کی نہ تو تردید کی ہے اور نہ ہی تصدیق، لیکن بظاہر جب ایک فرینچائز نے اس فیس کے سلسلے میں پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی سے رابطہ کیا تو ان کا جواب تھا کہ یہ فیس وصول کرنا پی سی بی کا حق ہے اور یہ آمدنی کا ایک ذریعہ ہے۔
فرینچائز کے ذریعے کا کہنا تھا کہ اس نئی پالیسی کی وجہ سے فرینچائزز ایم ایل سی میں پاکستانی کھلاڑیوں کو سائن کرنے سے کتراتی رہیں کیونکہ اس کا مطلب ان کے بجٹ میں اضافہ تھا۔
پاکستانی کھلاڑیوں کو غیر ملکی لیگز میں جا کر حصہ لینے کے لیے عام طور پر اپنے بورڈ سے این او سی حاصل کرنا پڑتا ہے، اور حال ہی میں فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی کو کیریبین اور انگلینڈ کے ٹیسٹ دوروں سے ڈراپ کیے جانے کے بعد لنکا پریمیئر لیگ میں حصہ لینے کے لیے این او سی دیا گیا تھا۔
اگرچہ پی سی بی کا کہنا ہے کہ اس کی پالیسی ایک سینٹرل کنٹریکٹ یافتہ کھلاڑی کو سال میں دو لیگز کھیلنے کی اجازت دیتی ہے، لیکن ٹی 20 لیگز کے حوالے سے اس پالیسی میں اب بھی واضح پن (clarity) کی کمی ہے۔