مساجد اور قرآن پاک کی شہادت کے بعد نیپال میں تباہ کن سیلاب: قدرتی آفت یا عبرت ناک اشارہ؟

image

نیپال میں شدید سیلاب کی صورت میں ہولناک آفت 26 اگست 2026ء کی صبح پیش آئی تھی، جس کے اثرات 28 اگست تک شدت کے ساتھ برقرار رہے۔ بلند پہاڑی سلسوں سے آنے والے اس ریلے میں پانی عام سطح سے کم از کم 230 فٹ اوپر تک بلند ہو گیا تھا، جب کہ نشیبی علاقوں میں محض 30 منٹ کے اندر پانی کی سطح 30 فٹ تک بڑھ گئی تھی اور سیلابی ریلے کی رفتار بعض مقامات پر 93 میل فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی۔

اس آفت کے نتیجے میں نیپال میں مرنے والوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کرچکی ہے اور مختلف سرکاری و بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق نیپال میں اب تک 900 سے زائد سے لے کر 1,100 تک اموات کی تصدیق ہوچکی ہے۔ اس حادثے میں ہزاروں افراد لاپتہ ہوئے، جن میں نیپالی شہریوں کے علاوہ بڑی تعداد میں غیر ملکی سیاح بھی شامل ہیں اور سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب بھی 4,000 سے زائد افراد لاپتہ ہیں جن کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

ابتدائی اندازوں کے مطابق نیپال کو اس آفت کی وجہ سے 200 ارب نیپالی روپے سے زائد یعنی 1.3 ارب امریکی ڈالر سے زیادہ کا معاشی اور بنیادی ڈھانچے کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اس سیلاب نے تریشولی اور لے کھولا ندی کے ارد گرد کے درجنوں دیہات، سڑکیں، پل، اور ہائیڈرو پاور پراجیکٹس کو مکمل طور پر ملبے کا ڈھیر بنا دیا ہے، جس کی وجہ سے ہزاروں گھر تباہ اور لاکھوں افراد کو فوری امداد کی ضرورت ہے۔

یاد رہے کہ ایک ماہ قبل نیپال میں مساجد اور قران پاک کو شہید کیا گیا اور مسلمانوں کا خونِ ناحق بہایا گیا اور مئی 2024 میں بھارت کے صوبے مدھیہ پردیش کے ضلع دھار میں تاریخی کمال مولا مسجد کے حوالے سے ایک انتہائی افسوسناک اور کشیدہ واقعہ پیش آیا۔

اطلاعات کے مطابق جب مسلمان اس تاریخی مسجد میں جمعہ کی نماز ادا کر رہے تھے اور خطبہ سن رہے تھے، اسی دوران عدالت کی جانب سے ایک فیصلہ سامنے آیا جس میں مسلم فریق کے دعوے کو رد کرتے ہوئے ہندو فریق کو وہاں پوجا کرنے کی اجازت دے دی گئی اور نماز پر پابندی عائد کردی گئی۔

مسلم حلقوں میں اس فیصلے پر شدید بے چینی اور غم و غصہ پایا جا رہا ہے کیونکہ یہ تاریخی مقام گزشتہ 700 سال سے مسجد کے طور پر استعمال ہو رہا تھا اور وہاں باقاعدگی سے نماز ادا کی جاتی رہی ہے۔

اس صورتحال پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے جمعیت علماء ہند کے صدر مولانا محمود مدنی نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور اعلان کیا ہے کہ اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی جائے گی۔

اس کے علاوہ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر بیرسٹر اسد الدین اویسی نے بھی اس پر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے یاد دلایا کہ 1904 کے ڈسٹرکٹ گزٹ اور ایکٹ کے سیکشن 4 اور 13 کے علاوہ 1935 کے قوانین کے تحت مسلم کمیونٹی کو یہ جگہ دی گئی تھی اور قانون کے مطابق کسی بھی عبادت گاہ کی بنیادی نوعیت کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔

ان واقعات کے بعد اس المناک سانحے کو عوامی حلقے عذاب الٰہی قرار دے رہے ہیں جبکہ کچھ اسے کلائمیٹ چینج کا شاخسانہ بتا رہے ہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US