150 سے زائد ورکشاپس میں پاکستان بھر سے آنے والی جیپوں کی کایا پلٹ، 50 سال سے اس فن سے وابستہ 73 سالہ پرویز اختر نے ہنر اگلی نسل کو منتقل کردیا
راولپنڈی سٹی صدر روڈ پر نالہ لئی کے قریب واقع تقریباً ایک کلومیٹر طویل جیپ ماڈفیکیشن مارکیٹ آج بھی اپنی منفرد شناخت برقرار رکھے ہوئے ہے، جہاں 150 سے زائد ورکشاپس میں پاکستان بھر سے لائی جانے والی پرانی جیپوں کو شوقین افراد کی پسند اور ضرورت کے مطابق نئی شکل دی جاتی ہے۔
مارکیٹ کی تقریباً ہر ورکشاپ کے باہر 10 سے 15 جیپیں ماڈفیکیشن کے مراحل سے گزر رہی ہوتی ہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جیپوں کے شوقین افراد میں اس منفرد فن کا رجحان کس قدر بڑھ رہا ہے۔
کلاسک جیپوں خصوصاً سی جے فائیو اور ولیز جیپوں کے شوقین افراد کے لیے سٹی صدر کی یہ مارکیٹ ایک خاص مقام رکھتی ہے۔ یہاں آنے والی پرانی جیپوں کے انجن، سسپینشن، باڈی، ٹائر، الیکٹریکل سسٹم اور دیگر حصوں کو صارف کی فراہم کردہ ڈرائنگ اور ڈیزائن کے مطابق تبدیل کیا جاتا ہے، جس کے بعد ایک پرانی جیپ ایک منفرد اور جدید آف روڈ گاڑی میں تبدیل ہوجاتی ہے۔
اسی فن سے گزشتہ 50 برس سے وابستہ 73 سالہ ملک پرویز اختر اس ہنر کو اپنے دادا اور والد سے سیکھنے کے بعد اب اپنی اگلی نسل کو منتقل کرچکے ہیں۔ پرویز اختر نے بتایا کہ انہیں جیپوں کی ماڈفیکیشن کرتے ہوئے نصف صدی گزر چکی ہے اور آج بھی وہ اپنے کام سے نہ صرف مطمئن بلکہ خوش ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ان کے بیٹے نے کالج کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد کمپیوٹر کورسز بھی کیے، تاہم بالآخر وہ اپنے آبائی پیشے کی طرف واپس آگیا اور اب جیپ ماڈفیکیشن کا کام کررہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صرف ایک کاروبار نہیں بلکہ ان کے خاندان کا ہنر اور ورثہ ہے جسے وہ اگلی نسل تک منتقل کررہے ہیں۔
ملک پرویز اختر کے مطابق ماڈفیکیشن کے لیے آنے والی جیپ کی ابتدائی مارکیٹ ویلیو عموماً تقریباً 20 لاکھ روپے ہوتی ہے، جبکہ اس کی ماڈفیکیشن پر تقریباً 30 لاکھ روپے تک خرچ آجاتا ہے، جس کے بعد تیار ہونے والی جیپ کی مجموعی مالیت 50 لاکھ روپے سے زائد تک پہنچ سکتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ایک جیپ کو مکمل طور پر تیار کرنے میں تقریباً تین سے چار ماہ لگ جاتے ہیں۔ صارف کی جانب سے جیپ کا ڈیزائن فراہم کیا جاتا ہے اور ورکشاپ میں موجود ماہر کاریگر اسی ڈیزائن کے مطابق گاڑی کی تیاری شروع کرتے ہیں۔
پرویز اختر کا کہنا تھا کہ اس کام سے صرف جیپ ماڈفیکیشن کرنے والے مکینک ہی وابستہ نہیں بلکہ ڈینٹر، پینٹر، الیکٹریشن، ٹائر تبدیل کرنے والے اور دیگر مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے کم از کم سات طرح کے ہنرمندوں کا روزگار بھی اس صنعت سے جڑا ہوا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بہت سے شوقین افراد نئی جیپ خریدنے کے بجائے مختلف سرکاری محکموں سے نیلام ہونے والی پرانی جیپیں خریدتے ہیں اور انہیں سٹی صدر کی مارکیٹ میں لاکر اپنی پسند کے مطابق ماڈفائی کرواتے ہیں۔ ان کے بقول پرانی جیپ کو نئے انداز میں تیار کروانے کا رجحان خصوصاً نوجوانوں میں زیادہ پایا جاتا ہے۔
پرویز اختر نے بتایا کہ ان کے زیادہ تر صارفین پہاڑی علاقوں اور آف روڈ سفر کے شوقین ہیں۔ ایسے افراد سیاحت کے لیے اپنی جیپوں کو مضبوط اور دشوار گزار راستوں کے لیے موزوں بنواتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جاپانی ساختہ جیپوں اور ان کے پرزہ جات کی مارکیٹ میں طلب زیادہ ہے کیونکہ ان کا سامان نسبتاً آسانی سے دستیاب ہوجاتا ہے اور ان کا میٹریل بھی مضبوط سمجھا جاتا ہے۔ آف روڈ جیپوں میں استعمال ہونے والے بڑے اور چوڑے ٹائر بھی شوقین افراد کی خصوصی ترجیح ہیں۔ ان کے مطابق بعض بڑے ٹائر بھارت میں تیار ہوتے ہیں اور دبئی کے راستے پاکستان پہنچتے ہیں۔
73 سالہ پرویز اختر نے اپنے کام سے وابستگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی زندگی کے اس فن اور روزگار سے انتہائی مطمئن ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر انہیں زندگی میں نئی جیپ خریدنے کا موقع بھی ملے تو وہ نئی گاڑی خریدنے کے بجائے پرانی جیپ لے کر اسے اپنی پسند کے مطابق ماڈفائی کروانا اور اس پر سفر کرنا پسند کریں گے۔
انہوں نے نوجوانوں اور جیپ کے شوقین افراد کو مشورہ دیا کہ جب بھی جیپ ماڈفائی کروانے آئیں تو اپنی پسند کا ڈیزائن یا ڈرائنگ ساتھ لے کر آئیں، تاکہ اسی کے مطابق گاڑی تیار کی جاسکے۔
پرویز اختر کا کہنا تھا کہ وہ اپنے کام سے مطمئن ہیں اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے پوری زندگی ایمانداری سے محنت کی۔ ان کے مطابق ایمانداری اور محنت سے کیا جانے والا کام اللہ تعالیٰ ضرور بابرکت بناتا ہے۔
سٹی صدر روڈ کی یہ ایک کلومیٹر طویل مارکیٹ نہ صرف پرانی جیپوں کو نئی زندگی دینے کا مرکز ہے بلکہ راولپنڈی میں ایک ایسے روایتی ہنر کی بھی عکاسی کرتی ہے جو تین نسلوں سے منتقل ہوتے ہوئے آج جدید ٹیکنالوجی، نئے ڈیزائن اور نوجوانوں کے بڑھتے ہوئے شوق کے ساتھ زندہ ہے۔