جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جے پی ایم سی) میں “ماں رہے سلامت (Safe Motherhood)” کے عنوان سے منعقد ہونے والی چوتھی بین الاقوامی فیملی پلاننگ سمٹ کا باقاعدہ آغاز ہوگیا۔
سمٹ کا موضوع نوجوان، فیملی پلاننگ اور ڈیجیٹل جدت ہے، جس کا مقصد زچگی کی صحت کا فروغ، خاندانی منصوبہ بندی سے متعلق آگاہی میں اضافہ، اور تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے چیلنجز سے جدید اور شواہد پر مبنی حکمت عملی کے ذریعے نمٹنا ہے۔ افتتاحی اجلاس میں وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے کہا کہ حکومت سندھ صحت کے شعبے میں قانون سازی اور عملی اصلاحات متعارف کرانے میں ملک بھر میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح ہر شہری کو معیاری، محفوظ اور بروقت طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔
وزیر صحت نے بار بار ہونے والے سیزرین آپریشنز (C-Sections) کے باعث بڑھتی ہوئی شرحِ اموات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ تیسرے سیزیرین آپریشن کے بعد ٹیوبل لائگیشن (Tubal Ligation) پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے تاکہ ماؤں کی صحت کو لاحق خطرات میں کمی لائی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ خصوصاً دور دراز علاقوں میں رہنے والی خواتین کو بروقت طبی سہولیات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے، جس کے پیش نظر حکومت سندھ برتھ اسٹیشن سینٹرز قائم کر رہی ہے تاکہ پسماندہ علاقوں کی خواتین کو محفوظ اور معیاری زچگی کی سہولیات بروقت فراہم کی جا سکیں۔
ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے کہا کہ حکومت سندھ صوبے بھر میں ایچ آئی وی کی روک تھام اور ابتدائی تشخیص کو مزید مؤثر بنانے کے لیے جامع اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایچ آئی وی اسکریننگ کے عمل کو تیز کیا گیا ہے، جبکہ مزید جامع امراضِ کنٹرول (CDC) سینٹرز فعال کیے جا رہے ہیں تاکہ ٹیسٹنگ کے دائرہ کار کو وسعت دی جا سکے، جلد تشخیص ممکن ہو اور مریضوں کو بروقت علاج کی سہولت فراہم کی جاسکے۔
سرکاری اسپتالوں کو درپیش چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے وزیر صحت نے کہا کہ حکومت نے حال ہی میں مزید ڈاکٹروں اور طبی عملے کی بھرتی کی ہے، جبکہ مزید تقرریوں کا عمل بھی جاری ہے تاکہ صحت کے نظام کو مضبوط بنایا جا سکے اور سرکاری اسپتالوں میں طبی خدمات کے معیار کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
میڈیا کے کردار پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے ذمہ دارانہ صحافت کو سراہتے ہوئے کہا کہ تعمیری میڈیا رپورٹنگ اسپتالوں میں موجود خامیوں کی نشاندہی کرتی ہے اور صحت کی خدمات کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ قواعد و ضوابط کے تحت اسپتالوں کے اندر میڈیا کے داخلے کی اجازت نہیں، تاہم ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور نامزد فوکل پرسنز میڈیا کے سوالات کے جوابات اسپتال کے باہر یا مخصوص جگہ پر فراہم کریں گے تاکہ مریضوں کی دیکھ بھال کا عمل متاثر نہ ہو۔
وزیر صحت سندھ نے اس امید کا اظہار کیا کہ چوتھی بین الاقوامی فیملی پلاننگ سمٹ خاندانی منصوبہ بندی کے فروغ، زچگی کی صحت میں بہتری، نوجوانوں کی مؤثر شمولیت اور صحت کے شعبے میں ڈیجیٹل جدت کے فروغ کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم ثابت ہوگی، جو بالآخر ایک مضبوط اور مستحکم صحت کے نظام کے قیام میں معاون بنے گی۔
سمٹ سے پی ایس آئی پاکستان کی کنٹری ڈائریکٹر عائشہ لغاری، محمد ارشد چوہان، ڈاکٹر الفرید ظفر، پی پی ایچ آئی سندھ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جاوید جگیرانی، ڈاکٹر طالب لاشاری سمیت دیگر ممتاز مقررین نے بھی خطاب کیا.