جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے یہ اعلان ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب 27 جولائی سے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں انتخابات کا مرحلہ وار آغاز ہو رہا ہے۔ پہلے مرحلے میں میر پور ڈویژن میں 13 نشستوں پر انتخابات ہوں گے۔

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں حکومت کے ساتھ مذاکرات ناکام ہونے کے بعد کالعدم جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے 27 جولائی کو مظفر آباد کی طرف لانگ مارچ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے یہ اعلان ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب 27 جولائی سے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں انتخابات کا مرحلہ وار آغاز ہو رہا ہے۔ پہلے مرحلے میں میر پور ڈویژن میں 13 نشستوں پر انتخابات ہوں گے۔
کالعدم جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی کور کمیٹی کے رُکن عابد شاہین نے بی بی سی کو بتایا کہ پہلے مرحلے میں سنیچر کو میرپور سے ان کی تنظیم کے حامی افراد لانگ مارچ کرتے ہوئے راولا کوٹ میں دریک کے مقام پر پہنچیں گے۔ اس کے بعد 27 جولائی کو راولا کوٹ سے مظفر آباد کی جانب لانگ مارچ ہو گا۔
سنیچر کو مقامی صحافی تنویر عباسی نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ڈھڈیال میں لانگ مارچ میں لوگ بہت ہی کم ہیں اور لوگ اپنی مدد آپ کے تحت ہی راولاکوٹ جا رہے ہیں، جبکہ عابد شاہین نے دعویٰ کیا کہ سینکڑوں افراد راولاکوٹ میں دریک کے مقام پر پہنچرہے ہیں۔
عابد شاہین سے جب سوال پوچھا گیا کہ ان کی تنظیم لانگ مارچ کر کے انتخابات ملتوی کروانے سے متعلق کسی سیاسی جماعت یا اعلیٰ شخصیت کا آلہ تو نہیں بن رہی، توعابد شاہین کا کہنا تھا کہ ان کی تنظیم اور ان کے حامیوں کو الیکشن میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ اس سال مئی میں جب پاکستانی حکومت کے ساتھ مذاکرات ہوئے تھے تو اس دوران ان کی تنظیم انتخابات میں حصہ لینے پر متفق ہو گئی تھی، لیکن بعد میں اس طرح کے حالات پیدا کیے گئے کہ ان کی تنظیم انتخابی عمل کا حصہ نہیں بن سکی۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے کشمیری مہاجرین کی 12 نشستوں کے خاتمے سے متعلق اپنے مطالبے کے حق میں کشمیر بھر میں نو جون سے احتجاج اور لانگ مارچ شروع کر رکھا ہے۔ ہزاروں کارکنان راولا کوٹ کے علاقوں دریک عید گاہ اور آزاد پتن کے قریب موجود ہیں۔
اس احتجاج کے دوران اب تک 40 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ ان میں سے 34 افراد مظاہرین جبکہ چھ پولیس اور نیم فوجی اہلکار تھے۔
انتخابات سے قبل احتجاج ختم کروانے کے لیے حکومت نے ایک بار پھر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ساتھ مذاکرات شروع کیے تھے جو فی الحال بے نتیجہ رہے ہیں۔
حکومت کی جانب سے مذاکرات کرنے والے افراد کے نام ظاہر نہیں کیے گئے جبکہ مذاکرات میں شامل حکومتی ٹیم کے ایک رُکن نے بھی بی بی سی سے گفتگو میں اپنا نام مخفی رکھنے کی درخواست کی ہے۔
مذاکرات میں ڈیڈ لاک کیوں ہوا؟
عابد شاہین نے مذاکرات کی ناکامی کی ذمہ داری حکومت پر عائد کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ حکومت ان کے مطالبات کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی اور اس معاملے میں لیت و لعل سے کام لے رہی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ دریک کے مقام پر جاری دھرنے میں خواتین اور بچے موجود ہیں، تاہم 27 جولائی کو جب وہاں سے مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ شروع ہوگا تو اس میں خواتین اور بچوں کو شامل نہیں کیا جائے گا۔

دوسری جانب کالعدم تنظیم کے نمائندہ وفد کے ساتھ مذاکرات کرنے والی حکومتی ٹیم کے ایک رکن نے بی بی سی کو بتایا کہ مذاکرات کے دوران ایکشن کمیٹی کے نمائندے اس بات پر اصرار کر رہے تھے کہ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ فوری طور پر واپس لیا جائے۔
انھوں نے کہا کہ تنظیم کے وفد کو بتایا گیا کہ حکومت چھ ماہ تک اس کے طرزِ عمل کا جائزہ لے گی، جس کے بعد اسے کالعدم تنظیموں کی فہرست سے نکالنے کے بارے میں فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔
ان کے مطابق تنظیم کا دوسرا بڑا مطالبہ یہ تھا کہ اس کے کارکنوں کے خلاف قتل، اقدامِ قتل اور انسدادِ دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج مقدمات فوری طور پر واپس لیے جائیں۔ تاہم حکومتی نمائندوں نے واضح کیا کہ ایسا کرنا حکومت کے لیے ممکن نہیں اور ان مقدمات کا فیصلہ عدالتیں ہی کریں گی۔
مذاکرات میں شامل شخصیت کا کہنا تھا کہ تنظیم کے نمائندہ وفد کو یقین دہانی کرائی گئی کہ جن افراد کے خلاف مقدمات درج ہیں، ان کی عدالتوں تک رسائی کے معاملے میں حکومت نرم رویہ اختیار کر سکتی ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ تنظیم سے وابستہ جن افراد کو خدشۂ نقص امن کے تحت نظر بند کیا گیا ہے، ان کی مشروط رہائی اس صورت میں ممکن ہو سکتی ہے جب جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پہلے اپنا احتجاج ختم کرنے کا اعلان کرے۔
میر پور میں انٹرنیٹ سروس کی جزوی بحالی، مظفر آباد میں معطل
بی بی سی کے شہزاد ملک کے مطابق پہلے مرحلے میں میر پور میں انتخابات کے پیشِ نظر انٹرنیٹ سروس کھول دی گئی ہے، تاہم موبائل انٹرنیٹ کی رفتار کم ہے۔
دوسری جانب مظفر آباد اور پونچھ ڈویژن میں انٹرنیٹ سروسز معطل ہیں۔ مظفر آباد میں موبائل سروس بحال ہے۔
ادھر میرپور پولیس کے ڈی آئی جی کامران کا کہنا ہے کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے پولیس مکمل طور پر متحرک ہے۔ اس کے علاوہ فرنٹیئر کور (ایف سی) کے اہلکار بھی مختلف علاقوں میں تعینات کر دیے گئے ہیں۔
میرپور ڈویژن میں انتخابی مہم آج رات بارہ بجے ختم ہو جائے گی۔
پاکستان مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں انتخابی جلسوں سے خطاب کیا ہے۔ تاہم جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے ان انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کر رکھا ہے۔
پاکستان تحریکِ انصاف نے بھی گذشتہ ماہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا۔
احتجاج کے بیچ انتخابات
خیال رہے کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں انتخابات کا مرحلہ وار آغاز 27 جولائی سے ہو رہا ہے اور یہ عمل 10 اگست کو مکمل ہو گا۔
پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے چیف الیکشن کمشنر مصطفی مغل کے مطابق سب سے پہلے میرپور ڈویژن میں پولنگ 27 جولائی کو ہو گی۔ اس کے بعد مظفر آباد اور مہاجرین کی 12 مخصوص نشستوں پر پولنگ دو اگست کو ہو گی جبکہ پونچھ ڈویژن میں پولنگ 10 اگست کو ہو گی۔
ان کا کہنا تھا کہ جس طرح انتخات مرحلہ اور ہو رہے ہیں اس طرح ان انتخابات کے نتائج بھی روایتی انداز کے بجائے مرحلہ وار ہی جاری کیے جائیں گے۔
2021 میں پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں عمران خان کی پاکستان تحریکِ انصاف نے واضح اکثریت حاصل کی تھی۔ تاہم 2022 میں پارلیمان میں تحریکِ عدم اعتماد کے ذریعے یہ حکومت ختم ہو گئی اور تب سے یہ خطہ چار برسوں میں چار وزرائے اعظم دیکھ چکا ہے۔
12 نشستوں کا تنازع ہے کیا؟
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی 53 رکنی اسمبلی میں ان 12 نشستوں کی حیثیت طویل عرصے سے ایک متنازع مسئلہ رہی ہے۔
کشمیر اسمبلی میں 33 ارکان براہِ راست منتخب ہو کر آتے ہیں جبکہ خواتین و دیگر طبقات کے لیے آٹھ مخصوص نشستیں بھی ہیں۔
بے گھر کشمیریوں کے لیے مختص نشستوں کی بنیاد 1970 کی دہائی میں متعارف کروائی گئی تاکہ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والے وہ لوگ، جو اس امید پر پاکستان میں آباد ہوئے تھے کہ خطے کے دیرینہ تنازع کے حل کے بعد وہ اپنے گھروں کو واپس جا سکیں گے، اس علاقے کے انتظام و انصرام کے حوالے سے اپنی آواز پہنچا سکیں۔
لیکن جن لوگوں کے لیے یہ نشستیں مخصوص ہیں، ان میں سے بہت سے افراد دراصل پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں نہیں رہتے، جس کا مطلب یہ ہے کہ مقامی لوگ مؤثر طور پر ان نشستوں پر انتخاب لڑنے سے محروم ہیں۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے ان مخصوص نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کا مؤقف ہے کہ یہ مقامی نمائندگی کو کمزور کرتی ہیں اور قانون ساز اسمبلی کی تمام نشستیں اُن لوگوں کے لیے ہونی چاہییں جو واقعی اس خطے میں رہتے ہیں۔
تاہم حکام کا کہنا ہے کہ ریزرویشن ضروری ہے۔ حکام یہ عہد بھی کر چکے ہیں کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں انتخابات ہر صورت ہوں گے۔
گرفتاریاں اور کریک ڈاؤن
گذشتہ ماہ سے جاری احتجاج کے دوران سکیورٹی اہلکاروں اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ بھی جاری رہا ہے، جبکہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دیے جانے کے بعد اس کے خلاف کریک ڈاؤن میں بھی تیزی آئی تھی۔
گذشتہ ماہ احتجاج شروع ہونے کے کچھ روز بعد سکیورٹی اہلکاروں نے کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنما شوکت نواز میر کو گرفتار کر لیا تھا۔

احتجاجی تحریک کے تناظر میں حکومت کشمیر نے عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اس کے بعض مرکزی رہنماؤں کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کیا تھا۔ محکمہ داخلہ کی جانب سے چار سرگرم رہنماؤں کی گرفتاری میں مدد فراہم کرنے والوں کے لیے فی کس ایک کروڑ روپے انعام کا اعلان بھی کیا گیا تھا۔
سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق انعامی فہرست میں شوکت نواز میر، عمر نذیر کشمیری، خواجہ مہران ارشد اور سردار امان خان شامل ہیں۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت نے کالعدم قرار دی گئی جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے 150 سے زائد رہنماؤں اور اہم کارکنوں کے نام انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ چار میں بھی ڈال دیے تھے۔
انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ چار جسے فورتھ شیڈول بھی کہا جاتا ہے، میں شامل افراد کے شناختی کارڈ اور بینک اکاؤنٹس بلاک کر دیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے زیر استعمال پاسپورٹ کو بھی سٹاپ لسٹ میں ڈال دیا جاتا ہے۔ اس قانون کے تحت کوئی بھی شخص انتظامیہ کی پیشگی اجازت کے بغیر اپنا علاقہ نہیں چھوڑ سکتا۔