’قائد اعظم اور اُن کے اہلخانہ کو ملک بدر نہ کیا جائے‘: پشاور ہائیکورٹ کا نوشہرہ کے رہائشی کی درخواست پر فیصلہ

قائد اعظم اور اُن کے اہلخانہ نے پٹیشن میں موقف اختیار کیا کہ وہ پاکستان کے قانون پسند شہری ہیں اور متعلقہ حکام کی جانب سے شناختی کارڈ بلاک کیے جانے جیسے ’غیر قانونی، غیر آئینی اور من مانے اقدام‘ سے شدید متاثر ہوئے ہیں۔
پشاور ہائیکورٹ
BBC

صوبہ خیبر پختونخوا میں پشاور ہائیکورٹ نے ضلع نوشہرہ کے علاقے اکوڑہ خٹک سے تعلق رکھنے والے ایک رہائشی قائدِ اعظم، اُن کی اہلیہ اور چھ بچوں کو ملک بدر نہ کرنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے نادرا کو ہدایت دی ہے کہ وہ اِن افراد کی شناختی دستاویزات کی تصدیق کریں اور اگلے 30 روز کے اندر عدالت کے سامنے اپنی رپورٹ پیش کریں۔

نادرا کی جانب سے اکوڑہ خٹک کے رہائشی قائدِ اعظم اور اُن کے اہلخانہ کے پاکستانی شناختی کارڈ بلاک کیے جانے کا معاملہ اُس وقت منظرِ عام پر آیا جب اس متاثرہ خاندان کی جانب سے پشاور ہائی کورٹ میں ایک پیٹیشن داخل کروائی گئی، جس میں اس خاندان کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ نادرا نے بغیر کسی تصدیق یا تحقیقاتی عمل کے درخواست گزار کا شناختی کارڈ بلاک کر دیا گیا ہے۔

گذشتہ روز اس پٹیشن پر سماعت جسٹس وقار احمد اور جسٹس انعام اللہ پر مشتمل دو رُکنی بینچ نے کی تھی۔ دورانِ سماعت درخواست گزاروں کے وکیل سیف اللہ محب کاکاخیل نے بتایا کہ اُن کے مؤکل قائد اعظم ایک کاروباری شخصیت ہیں، جن کا پاکستان اور دبئی میں کاروبار ہے۔

عدالت کو مزید بتایا گیا کہ درخواست گزار باقاعدگی سے حکومت پاکستان کو ٹیکس ادا کرتے ہیں، اور اُن کے خاندان کے دیگر افراد کے پاس بھی پاکستان شناختی کارڈ اور پاسپورٹ ہیں۔

اس موقع پر نادرا کے ڈائریکٹر لیگل شاہد عمران نے اس معاملے پر عدالت کو ایک رپورٹ جمع کروائی اور بتایا کہ درخواست گزاروں کے شناختی کارڈ مشکوک ہونے کی بنیاد پر بلاک کیے گئے تھے۔

نادرا کو مؤقف ہے کہ درخواست گزار بارہا نوٹسز کے باوجود اپنی مطلوبہ شناختی دستاویزات کی تصدیق نہیں کروا پائے ہیں۔

قائد اعظم اور اُن کے اہلخانہ کا کیا مؤقف ہے؟

PHC
Getty Images

پشاور ہائیکورٹ میں یہ درخواست قائد اعظم، اُن کی اہلیہ اور چھ بچوں کی جانب سے جمع کروائی گئی تھی۔

پٹیشن میں اِن درخواست گزاروں نے نادرا، وزارتِ داخلہ اور دیگر حکومتی اداروں کو فریق بناتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اُن کے شناختی کارڈ ’کسی باضابطہ انکوائری یا قانونی عمل‘ کے بلاک کر دیے گئے ہیں۔

قائد اعظم اور اُن کے اہلخانہ نے پٹیشن میں موقف اختیار کیا کہ وہ پاکستان کے قانون پسند شہری ہیں اور متعلقہ حکام کی جانب سے شناختی کارڈ بلاک کیے جانے جیسے ’غیر قانونی، غیر آئینی اور من مانے اقدام‘ سے شدید متاثر ہوئے ہیں۔

درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا کہ اُن کے کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ کسی قانونی جواز، مناسب قانونی کارروائی یا معقول وجہ کے بغیر بلاک کر دیے گئے ہیں۔

درخواست گزار قائد اعظم کی پٹیشن کے مطابق اُن کے چھ بچے اپنی روزمرہ ضروریات، تعلیم، علاج معالجہ اور دیگر اخراجات کے لیے اُن پر اور اُن کی اہلیہ پر ہی انحصار کرتے ہیں مگر شناختی کارڈ بلاک ہو جانے کے بعد انھیں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

قائد اعظم نے اپنی پٹیشن میں مؤقف اختیار کیا کہ اُن کی اہلیہ اُن کی فرسٹ کزن ہیں اور اہلیہ کے والد اُن کے سُسر ہونے کے ساتھ ساتھ اُن کے چچا بھی ہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ متعلقہ اداروں کو اُن کے فیملی ٹری (خاندانی شجرہ) کے حوالے سے غلط فہمی اور ابہام پیدا ہوا ہو۔

درخواست گزاروں نے اپنی پٹیشن کے ہمراہ اپنے پیدائشی رجسٹریشن سرٹیفیکیٹس، ازداواجی فیملی رجسٹریشن سرٹیفیکیٹ، دو بچوں کے شناختی کارڈ اور دیگر بچوں کے فارم ب بھی منسلک کیے ہیں۔

پٹیشن میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ درخواست گزار قائد اعظم کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ اپنے درست خاندانی شجرے میں تبدیلی کرتے ہوئے اپنے حقیقی والد کی جگہ اپنے چچا اور سسر کے نام کو بطور والد درج کریں۔

درخواست گزار کے مطابق شناختی کارڈز کی بندش کے باعث انھیں روزمرہ زندگی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، جن میں بینکاری لین دین، علاج معالجہ، تعلیمی امور، موبائل سم کا اجرا، سفر، ملازمت کے حصول اور عوامی خدمات تک رسائی بھی شامل ہے۔

درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ انھوں نے متعدد بار متعلقہ حکام سے رجوع کر کے شناختی کارڈز بحال کرنے اور غلط فہمی دور کرنے کی درخواست کی، تاہم انھوں نے کوئی قانونی ریلیف فراہم نہیں کیا۔

پٹیشن میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ درخواست گزاروں کے قومی شناختی کارڈ بلاک کرنے کے اقدام کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دے اور شناختی کارڈ بحال کیے جائیں۔

بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے درخواست گزاروں کے وکیل سیف اللہ محب کاکاخیل نے بتایا کہ قائدِ اعظم اس وقت پاکستان میں نہیں ہیں۔

وکیل کا کہنا تھا کہ ان کے مؤکل ایک بڑی کاروباری شخصیت ہیں، جو الیکٹرک گاڑیاں بنانے سمیت دیگر تجارتی سرگرمیوں کا بھی حصہ ہیں اور موجودہ صورتحال اُن کے لیے پریشان کُن ہے اور اسی لیے عدالت سے رجوع کیا گیا ہے۔

عدالت کا کیا کہنا ہے؟

اس درخواست پر سماعت کے بعد عدالت نے حکم جاری کیا ہے کہ درخواست گزار نادرا کے ریجنل ویریفکیشن بورڈ کے سامنے 11 اگست تک پیش ہوں۔

تحریری حکمنامے میں نادرا حکام کو کہا گیا ہے کہ وہ تمام تصدیقی کارروائی مکمل کریں اور 30 روز کے اندر عدالت میں اپنی رپورٹ جمع کرائیں۔

تحریری حکمنامے میں مزید کہا گیا ہے کہ 14 ستمبر کو اس معاملے پر دوبارہ سماعت ہو گی اور اس سے قبل درخواست گزار اور ان کے خاندان کو ملک بدر نہ کیا جائے۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US