خواجہ آصف کے بیان پر پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی اسمبلی میں مذمتی قرارداد پیش، راولاکوٹ اور میرپور میں تناؤ برقرار

پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے رُکن قانون ساز اسمبلی سردار محمد یعقوب خان کی جانب سے جمع کروائی گئی قرارداد میں وفاقی وزرا، خاص طور پر خواجہ آصف، کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وزیرِ اعظم پاکستان شہباز شریف کو اس کا نوٹس لینا چاہیے۔
خواجہ آصف
Getty Images

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں جہاں راولاکوٹ شہر میں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بیچ پُرتشدد تصادم کے بعد کشیدگی برقرار ہے تو وہیں دارالحکومت مظفرآباد میں موجود قانون ساز اسمبلی میں خواجہ آصف سمیت پاکستان کے بعض وفاقی وزرا کے بیانات کے خلاف ایک مذمتی قراردار پیش کی گئی ہے۔

بدھ کی شب کشمیر اسمبلی کے اجلاس میں پیش کی گئی قرارداد پر ووٹنگ آج متوقع ہے۔

کشمیر میں پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے رُکن قانون ساز اسمبلی سردار محمد یعقوب خان کی جانب سے جمع کروائی گئی اس قرارداد میں پاکستان کے وفاقی وزرا کے کشمیر میں بدامنی سے متعلق بیانات کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وزیرِ اعظم پاکستان شہباز شریف کو اس کا نوٹس لینا چاہیے۔

اس قرارداد میں یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ بدامنی کے واقعات پر کمیشن کے قیام تک راولاکوٹ میں کسی بھی کارروائی کو روکا جائے۔‘

قرارداد کے متن میں لکھا ہے کہ ’موجودہ حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ ریاست میں مزید جانی نقصان سے بچا جائے۔‘

واضح رہے کہ پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے منگل کو اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں احتجاج کرنے والوں کو ’پاکستان دشمن‘ قرار دیا تھا۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’جس طرح ہم انڈیا کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں، ان لوگوں کو بھی ہم اپنے دُشمنوں کی صف میں ہی دیکھتے ہیں اور یہ لوگ بھی پاکستان دُشمن ہیں۔‘

اس پر قانون ساز اسمبلی میں پیش کی گئی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ خواجہ آصف نے راولاکوٹ کے لوگوں کو ’کشمیری ماننے سے ہی انکار کر دیا ہے۔۔۔۔ وفاقی وزرا کے غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔‘

دریں اثنا جمعرات کو راولاکوٹ میں حکام کے مطابق مظاہرین کی جانب سے تاحال اپنا لانگ مارچ دوبارہ شروع نہیں کیا گیا ہے لیکن شہر میں کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ جبکہ میرپور میں بازار دوسرے روز بھی بند ہیں اور مظفر آباد میں 50 روز کی بندش کے بعد انٹرنیٹ سروسز بحال کی گئی ہیں۔

راولاکوٹ میں دوبارہ فائرنگ کی اطلاعات، میرپور میں بازار بند

راولاکوٹ میں حالات بدستور کشیدہ ہیں اور ضلعی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعرات کی صبح عوامی ایکشن کمیٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے درمیان ایک بار پھر فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے۔

خیال رہے کہ پیر کی شب سے شروع ہونے والے پُرتشدد واقعات کے بعد جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے دعویٰ کیا تھا کہ راولاکوٹ اور میرپور میں سکیورٹی اہلکاروں کی فائرنگ سے اس کے 17 کارکنان ہلاک ہوئے ہیں۔ دوسری طرف مقامی انتظامیہ کے مطابق دو روز کے دوران مسلح تصادم میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ایک اہلکار ہلاک جبکہ چار زخمی ہوئے ہیں۔ بی بی سی ہلاکتوں اور زخمیوں کے حوالے سے دونوں طرف سے جاری کردہ متضاد اعداد و شمار کی تصدیق نہیں کر سکا ہے۔

ضلعی انتظامیہ کے اہلکار کے مطابق بدھ کی شام فائرنگ کا سلسلہ رُک گیا تھا، جو جمعرات کی صبح دوبارہ شروع ہوا جبکہ ان کے بقول عوامی ایکشن کمیٹی نے تاحال مظفر آباد کی جانب اپنا لانگ مارچ دوبارہ شروع نہیں کیا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ بس ٹرمینل اور پتن کے مقام پر مظاہرین کو پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔

دوسری جانب میر پور میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے کارکنان کی ہلاکت کے خلاف مارکیٹیں آج بھی بند ہیں۔ میرپور میں کشمیر اور دیگر شہروں کو جانے والی پبلک ٹرانسپورٹ ایک دن کے وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔

مظفر آباد میں بدھ کی رات کو 50 روز بعد انٹرنیٹ سروس بحال کر دی گئی ہے۔ گذشتہ ہفتوں کے دوران خطے کے کئی علاقوں میں شہریوں کو انٹرنیٹ سروسز تک رسائی میں دشواری کا سامنا رہا ہے۔

یاد رہے کہ مظفر آباد ڈویژن میں کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کا دوسرا مرحلہ دو اگست سے شروع ہو گا۔

Kasmir protest
AFP via Getty Images
فائل فوٹو

بدھ کے روز جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی کور کمیٹی کے رکن عابد شاہین نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی معلومات کے مطابق پیر اور منگل کو صرف راولاکوٹ میں دریک کے مقام پر فائرنگ کے نتیجے میں ان کے 11 کارکنان ہلاک ہوئےجبکہ میرپور میں منگل کو پولیس کی فائرنگ سے چھ افراد مارے گئے تھے۔

اس کے برعکس ضلعی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے دعویٰ کیا تھا کہ مظاہرین کی فائرنگ سے ایک رینجرز اہلکار ہلاک جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے چار اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ انھوں نے عوامی ایکشن کمیٹی کی طرف سے پیش کیے گئے ہلاکتوں کے اعداد و شمار کی تصدیق نہیں کی تھی مگر کہا تھا کہ ضلعی انتظامیہ کو موصول اطلاعات کے مطابق دریک کے نزدیک قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جوابی فائرنگ کے نتیجے میں کچھ ہلاکتیں ہوئی ہیں جبکہ متعدد زخمی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ متعدد زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہے۔

یاد رہے کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی کور کمیٹی کے رکن عابد شاہین نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ مظاہرین اپنے مقصد کے حصول تک مظفر آباد کی جانب لانگ مارچ جاری رکھیں گے۔

کشمیر اور پاکستان کے حکام کا کیا موقف ہے؟

منگل کے روز ایکس پر اپنے بیان میں پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیر اعظم فیصل ممتاز راٹھور کا دعویٰ ہے کہ مظاہرین نے خطے میں اسمبلی انتخابات کے دوران ’مظفر آباد کی طرف مارچ کا سازشی منصوبہ بنایا جس کا مقصد بڑے پیمانے پر بے امنی پھیلانا تھا۔‘

ان کا الزام ہے کہ مظاہرین ’جدید اسلحے سے لیس ہیں‘ اور وہ ’سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنا رہے ہیں۔‘

گذشتہ روز پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے سیکریٹری اطلاعات محمد راشد حنیف اور ترجمان کشمیر پولیس ڈی آئی جی عرفان مسعود کاشفی نے ایک نیوز کانفرنس کے دوران دعویٰ کیا تھا کہ مظاہرین کے علاوہ بڑی تعداد میں ’عسکریت پسند‘ بھی اس صورتحال میں ملوث ہیں اور ’ریاست ان کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔‘

kashmir situation
AFP via Getty Images

پاکستان کے بعض وفاقی وزرا بھی اس بدامنی پر اپنی رائے دے چکے ہیں۔

منگل کے روز پاکستان کے وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے دعویٰ کیا کہ بعض عناصر ’پُرتشدد کارروائیوں کے ذریعے صورتحال خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی حکومت اور انتظامیہ پہلے ہی عوام کو اس بات سے آگاہ کر چکی ہے کہ ’وہ ایسے پُرتشدد گروہوں سے دور رہیں۔‘

وزیرِ اطلاعات نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ عناصر ایک مخصوص ایجنڈے کے تحت کام کر رہے ہیں اور کشمیر کاز کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ ’ایسے عناصر ماضی میں اپنے مقاصد میں کامیاب ہوئے ہیں اور نہ آئندہ کامیاب ہوں گے۔‘

جیوز نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان کے سیاسی امور کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ’جو لوگ احتجاج کر رہے ہیں، یہ اسی طرح کی تنظیموں کے لوگ ہیں، ان کے پاس اسلحہ ہے، ان کا کوئی سیاسی مطالبہ نہیں ہے۔‘

انھوں نے دعویٰ کیا کہ مظاہرین عام شہریوں کو ’شیلڈ بنا کر کھیل کھیلنا چاہتے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جو ایکشن لیا یا ایکشن لیں گے، اس کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہے۔‘

انڈیا کا پاکستان پر کشمیر میں ’انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں‘ کا الزام

گذشتہ روز انڈیا کے دفترِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں ہونے والے انتخابات پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں موجودہ انتخابی عمل محض ایک نمائشی مشق ہے، جس کا مقصد پاکستان کے ’غیر قانونی قبضے‘ اور خطے میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر پردہ ڈالنا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ 'جیسا کہ انڈیا پہلے بھی واضح کر چکا ہے، پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں جاری عوامی احتجاج، جن کی تازہ تصاویر بھی سامنے آ چکی ہیں، دراصل وہاں کے عوام کے معاشی استحصال، بنیادی حقوق سے محرومی اور انتظامی جبر کا براہِ راست نتیجہ ہیں۔'

پاکستانی اپوزیشن رہنماؤں کی طرف سے اظہار تشویش، بلاول کا کمیشن کا مطالبہ

قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کے قائد اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں جموں و کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج کے خلاف طاقت کے استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے عوام کو ان مظالم کے خلاف کشمیریوں کا ساتھ دینا چاہیے۔

کوئٹہ میں منگل کی شام ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے دعویٰ کیا کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان اور مولانا فضل الرحمان نے وہاں حالات کی بہتری کے لیے کردار ادا کرنے کی کوشش کی لیکن ان کو جانے نہیں دیا گیا۔

انھوں نے کہا کہ کشمیری عوام پر مبینہ مظالم کو روکنے کے لیے پاکستانی عوام کو ان کا بھرپور ساتھ دینا چاہیے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مظفرآباد کے قریبی علاقے تحصیل پٹیکہ میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے ’سچ اور مفاہمت کمیشن‘ قائم کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 'ان کی جماعت یہ نہیں کہتی کہ احتجاج کرنے والوں کے تمام مطالبات تسلیم کیے جائیں، تاہم مسئلے کا کوئی درمیانی راستہ ضرور نکالا جانا چاہیے تھا۔'

پی پی پی کے چیئرمین کے مطابق ’ان کے پاس ایک ایسا حل موجود تھا جس میں نہ ریاست کو پیچھے ہٹنا پڑتا اور نہ ہی کسی فریق کا مطالبہ فوری طور پر تسلیم کرنا پڑتا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اگر دونوں فریق اس کمیشن کو تسلیم کر لیتے تو احتجاج کرنے والوں سے کہا جا سکتا تھا کہ تحقیقات مکمل ہونے تک احتجاج مؤخر کر دیں۔' ان کے مطابق اس طرح کئی قیمتی جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔

انھوں نے کہا کہ ’اگر کسی کے خلاف کارروائی کرنی ہے تو قانون کے مطابق کی جائے، تاہم کسی کو سڑکوں پر اس طرح سزا نہیں دی جا سکتی۔‘

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی نے کشمیر کے الیکشن کا بائیکاٹ کیا تھا تو اس کا موقف تھا کہ پہلے ماحول بناؤ، فری اینڈ فیئر الیکشن ہوگا تو ملک آگے جائے گا۔

انھوں نے الزام لگایا کہ پی پی پی اور پاکستان مسلم لیگ نے سیاست کرتے ہوئے حالات کو اس نہج تک پہنچایا، اس وقت سیاست اور پوائنٹ سکورنگ نہیں کرنی چاہیے۔

’کشمیر کی موجودہ صورتِ حال بدانتظامی کی نمایاں مثال ہے‘

انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں جاری احتجاج اور اس دوران ہونے والی ہلاکتوں کی رپورٹس پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

ایک بیان میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جنوبی ایشیا کے لیے قائم مقام ڈائریکٹر ازابیل لاسی نے مطالبہ کیا کہ ’سکیورٹی فورسز کی جانب سے مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کی فوری، آزادانہ اور شفاف تحقیقات کا حکم دیا جائے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ جب تک پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں انٹرنیٹ اور موبائل فون سروسز کی بندش برقرار رہے گی، زمینی صورتِ حال کی ’مکمل اور آزادانہ تصدیق میں شدید رکاوٹ پیدا ہوتی رہے گی۔‘

’ہم پاکستانی حکام پر زور دیتے ہیں کہ وہ مواصلاتی سروسز فوری طور پر بحال کریں اور میڈیا اور آزاد مبصرین کو علاقے تک رسائی کی اجازت دیں۔‘

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے بھی پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے پہلے مرحلے کے دوران راولاکوٹ میں قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں کئی افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہونے کی اطلاعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ایچ آر سی پی کا کہنا ہے کہ امن و امان برقرار رکھنے کی ذمہ داری حکام پر عائد ہوتی ہے، ’تاہم یہ ذمہ داری کبھی بھی زندگی کے حق اور پُرامن اجتماع اور اظہارِ رائے کی آزادی کی قیمت پر پوری نہیں کی جانی چاہیے۔‘

کمیشن نے غیرجانبدارانہ اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

’ہم حکام پر یہ بھی زور دیتے ہیں کہ وہ مظاہروں سے نمٹنے میں تحمل کا مظاہرہ کریں۔‘

بعض سیاسی مبصرین کی رائے ہے کہ کشمیر میں پیدا ہونے والا بحران بدانتظامی کا نتیجہ ہے۔

جیسے سینیئر صحافی اور تجزیہ کار طلعت حسین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی ’موجودہ صورتِ حال بدانتظامی اور ناقص حکمرانی کی ایک نمایاں مثال ہے۔‘

انھوں نے ایکس پر لکھا کہ ’پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی سیاسی کشمکش اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے کی ایک غیر دانشمندانہ کوشش ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ اطلاعات تک رسائی پر پابندیوں نے بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ ’کبھی تصور نہیں کیا تھا کہ ایسے تشویش ناک حالات دیکھنے کو ملیں گے۔‘

سابق وفاقی وزیر اور تجزیہ کار مشاہد حسین سید کا کہنا تھا کہ ’غلط پالیسی، غلط حکمتِ عملی اور غلط سوچ کے باعث سنگین غلطیاں کی گئی ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ اس کے نتیجے میں نہ صرف عوامی حمایت اور اعتماد حاصل کرنے کی کوششوں کو نقصان پہنچا ہے بلکہ کشمیر کے مسئلہ پر بھی پاکستان کے بیانیے کو نقصان پہنچے گا۔

صحافی ضرار کھوڑو کا خیال ہے کہ یہ معاملہ ’بحران کی صورت اختیار کر چکا ہے‘ اور اس سے نمٹنے کے لیے ’غیر معمولی احتیاط کی ضرورت ہے، نہ کہ اس روایتی ریاستی ردِعمل کی جس سے لوگ پہلے ہی واقف ہیں۔‘

صحافی رضا رومی کہتے ہیں کہ اس بحران سے نکلنے کا واحد حل بات چیت اور مذاکرات ہیں۔ جبکہ انڈیا میں پاکستان کے سابق سفیر عبد الباسط کہتے ہیں کہ کشمیر کے انتخابات کو چند ماہ کے لیے مؤخر کر دینا چاہیے تھا۔ ’جو لوگ واقعی اس نعرے پر یقین رکھتے ہیں کہ ’ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے‘، ان کے لیے موجودہ صورتِ حال انتہائی تکلیف دہ ہے۔‘

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں احتجاج کیوں ہو رہے ہیں؟

kashmir
AFP via Getty Images

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر اسمبلی میں کشمیری مہاجرین کی 12 نشستوں کے خاتمے سے متعلق اپنے مطالبے کے حق میں کشمیر بھر میں نو جون سے احتجاج اور لانگ مارچ شروع کر رکھا ہے۔

کشمیر کی 53 رکنی اسمبلی میں ان 12 نشستوں کی حیثیت طویل عرصے سے ایک متنازع مسئلہ رہی ہے۔ کشمیر اسمبلی میں 33 ارکان براہِ راست منتخب ہو کر آتے ہیں جبکہ خواتین و دیگر طبقات کے لیے آٹھ مخصوص نشستیں بھی ہیں۔

بے گھر کشمیریوں کے لیے مختص نشستوں کی بنیاد 1970 کی دہائی میں متعارف کروائی گئی تاکہ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والے وہ لوگ، جو اس امید پر پاکستان میں آباد ہوئے تھے کہ خطے کے دیرینہ تنازع کے حل کے بعد وہ اپنے گھروں کو واپس جا سکیں گے، اس علاقے کے انتظام و انصرام کے حوالے سے اپنی آواز پہنچا سکیں۔

لیکن جن لوگوں کے لیے یہ نشستیں مخصوص ہیں، ان میں سے بہت سے افراد دراصل پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں نہیں رہتے، جس کا مطلب یہ ہے کہ مقامی لوگ مؤثر طور پر ان نشستوں پر انتخاب لڑنے سے محروم ہیں۔

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے ان مخصوص نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کا مؤقف ہے کہ یہ مقامی نمائندگی کو کمزور کرتی ہیں اور قانون ساز اسمبلی کی تمام نشستیں اُن لوگوں کے لیے ہونی چاہییں جو واقعی اس خطے میں رہتے ہیں۔

تاہم حکام کا کہنا ہے کہ ریزرویشن ضروری ہے۔ حکام یہ عہد بھی کر چکے ہیں کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں انتخابات ہر صورت ہوں گے۔

انتخابات سے قبل احتجاج ختم کروانے کے لیے حکومت نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ساتھ مذاکرات شروع کیے جو بے نتیجہ رہے جس کے بعد مظاہرین نے مظفرآباد پہنچنے کی کال دی تھی۔

کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے پہلے مرحلے میں پیر کو میرپور میں الیکشن ہوا ہے جبکہ دوسرے مرحلے میں مظفرآباد میں دو اگست کو جبکہ پونچھ ڈویژن میں 10 اگست کو پولنگ ہو گی۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US