پاکستان کے شمالی علاقے میں واقع دُنیا کی 12 ویں بلند ترین چوٹی براڈ پیک پر برفانی تودہ گرنے کے بعد معروف نیپالی کوہ پیما نرمل پرجا سمیت لاپتہ ہونے والے 10 کوہ پیماؤں کی تلاش کے لیے کارروائی جاری ہے اور حکام کا کہنا ہے کہ اب تک کم از کم تین کوہ پیماؤں کی نشاندہی کر لی گئی ہے۔
معروف نیپالی کوہ پیما نرمل پرجا کا شمار دُنیا کے بڑے کوہ پیماؤں میں ہوتا ہےپاکستان کے شمالی علاقے میں واقع دُنیا کی 12 ویں بلند ترین چوٹی براڈ پیک پر برفانی تودہ گرنے کے بعد معروف نیپالی کوہ پیما نرمل پرجا سمیت لاپتہ ہونے والے 10 کوہ پیماؤں کی تلاش کے لیے کارروائی جاری ہے اور حکام کا کہنا ہے کہ اب تک کم از کم تین کوہ پیماؤں کے ٹریکرز کی نشاندہی کر لی گئی ہے۔
براڈ پیک کو کوہ پیمائی کی مہمات کے لیے مشکل ترین پہاڑوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے اور یہاں برفانی تودہ گرنے کا واقعہ جمعرات کی دوپہر پیش آیا تھا اور اس کے بعد قراقرم کے پہاڑی سلسلے میں واقع 8047 میٹر بلند چوٹی سر کرنے کی کوشش کرنے والے کوہ پیماؤں کے ساتھ رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔
کوہ پیماؤں کے اس گروپ میں نرمل پرجا اور ان کے پانچ نیپالی ساتھیوں کے علاوہ پاکستانی کوہ پیما سہیل سخی، ایک امریکی، ایک چینی اور ایک عمانی شہری شامل ہیں۔
الپائن کلب آف پاکستان کے مطابق امدادی ٹیموں کو چار کوہ پیماؤں کی لوکیشن معلوم ہو گئی ہے، تاہم اُن کے زندہ یا مردہ ہونے کی تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔
پاکستان کے الپائن کلب کے جنرل سیکرٹری ایاز شگری کے مطابق، قراقرم کے پہاڑوں میں لاپتہ ہونے والے 10 کوہ پیماؤں کی تلاش اور بچاؤ کے آپریشن میں چار افراد کے ٹریکرز کی جگہ کا علم ہو چکا ہے تاہم وہ یہ نہیں بتا سکتے کہ وہ لوگ مردہ ہیں یا زندہ۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جن کوہ پیماؤں کی نشاندہی ہوئی ہے ان تک پہنچنے کی کوشش ہو رہی ہے لیکن جب سے ٹریکرز کی نشاندہی ہوئی ہے ان میں کسی قسم کی کوئی حرکت نہیں دیکھی گئی۔
ادھر پاکستانی حکام نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ تین کوہ پیماؤں کے ٹریکرز کی نشان دہی ہوئی ہے جو تقریباً چھسے سات ہزار میٹرز کی بلندی پر موجود ہیں۔
ادھر نیپالی اخبار 'کانتی پور' کی ایک رپورٹ کے مطابق نرمل پرجا کی ٹریکنگ ڈیوائس میں حرکت دکھائی دے رہی ہے۔ نرمل پرجا کے کاروباری شراکت دار منگما گیابو شیرپا نے اخبار کو بتایا کہ ٹریکنگ سسٹم میں ڈیوائس کی پوزیشن تبدیل ہو رہی ہے۔

تلاش اور بچاؤ کی کارروائی جاری
الپائن کلب آف پاکستان کے حکام نے بی بی سی کی کیرولین ڈیوس کو بتایا کہ لاپتہ کوہ پیماؤں کی تلاش اور بچاؤ کی کارروائی جاری ہے۔
ایاز شگری کے مطابق فی الحال ڈرونز اور زمینی ٹیم ریسکیو آپریشن میں شریک ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جن کوہ پیماؤں کی نشاندہی ہوئی ہے ان کے مقام تک پہنچنے کے لیے اندازاً چار گھنٹے تک چڑھائی کرنا ہوگی۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ جمعے کی شام تک صورتحال مزید واضح ہو جائے گی۔
ایاز شگری کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستانی فوج کے دو ہیلی کاپٹرز اس وقت کے ٹو بیس کیمپ پر پہنچ چکے ہیں اور جلد ریسکیو مشن کا حصہ بنیں گے۔
الپائن کلب کے مطابق ان ہیلی کاپٹرز میں امدادی کارکن اور اضافی خصوصی سازو سامان بھی موجود ہے۔
نرمل پرجا کون ہیں؟
نرمل ڈھولگیری کے قریب پیدا ہوئے۔ یہ دنیا کا ساتواں بلند پہاڑ ہے لیکن نرمل نیپال میں چتیوان ضلع کے میدانی علاقوں میں پلے بڑھے۔ نرمل 18 سال کی عمر میں برٹش آرمی بریگیڈ کی گورکھا رجمنٹ میں شامل ہوئے۔
سنہ 2018 میں نرمل نے اپنی فوج کی نوکری چھوڑ دی اور اگلے سال بہت سے ریکارڈ توڑ ڈالے۔ چھ ماہ اور چھ دن میں نرمل نے 8000 میٹر اونچائی کے تمام پہاڑوں کو سر کیا۔ سابقہ ریکارڈ آٹھ سال پرانا تھا جو جنوبی کوریا سے تعلق رکھنے والے کم چانگ ہو کے نام تھا۔
اس کے بعد ہی نرمل نے ایک ٹیم تیار کی اور K2 کی تیاری شروع کر دی۔ جب پوری دنیا کورونا وائرس کے خلاف جنگ لڑ رہی تھی، نرمل اور ان کی ٹیم آسمان کو اپنا ہدف بنا رہی تھی۔
2021 کے آغاز میں نیپالیوں کی اس ٹیم نے تاریخ رقم کر دی۔ نرمل کے والد انڈین فوج کی گورکھا رجمنٹ میں تھے۔ نرمل کا کہنا ہے کہ ان کے والد 22 سال انڈین گورکھا رجمنٹ میں رہے لیکن نرمل چھ سال کی عمر میں پہلی بار انڈیا آئے۔
نرمل پرجا 2019 میں دنیا کے آٹھ ہزار میٹر سے بلند تمام 14 پہاڑوں کو محض چھ ماہ سے کچھ زائد عرصے میں سر کرنے کے لیے جانے جاتے ہیں۔ اس سے قبل ان 14 چوٹیوں کو سر کرنے کا ریکارڈ سات سال اور 10 ماہ کا تھا۔
ان کی ویب سائٹ کے مطابق، یہ 14 چوٹیاں ایک ایسے ’ڈیتھ زون‘ (موت کے علاقے) کی نمائندگی کرتی تھیں جہاں انسانی زندگی کا وجود ممکن نہیں تھا۔
دنیا کی کئی بلند ترین چوٹیوں کو تیز ترین وقت میں سر کرنے پر ان کے نام چھ گنیز ورلڈ ریکارڈز بھی درج ہیں۔
نیپال میں پیدا ہونے والے پرجا 2003 میں برطانوی فوج میں شامل ہوئے اور 2009 میں رائل میرین بنے۔
ان کے کوہ پیمائی کے سفر کا آغاز تب ہوا جب وہ 2012 میں ایورسٹ بیس کیمپ تک پیدل گئے اور طے شدہ منصوبے کے مطابق واپس آنے کے بجائے اُنھوں نے پورا پہاڑ سر کرنے کا فیصلہ کیا۔
’براڈ پیک‘ ابتدائی منصوبے کا حصہ نہیں تھا
پاکستان کے سفر سے قبل پرجا کا کہنا تھا کہ ’براڈ پیک‘ ابتدائی منصوبے کا حصہ نہیں تھا۔
مہم پر روانہ ہونے سے قبل پیر کو ’ایکس‘ پر اپنی پوسٹ میں پرجا کا کہنا تھا کہ شروع میں ان کا براڈ پیک سر کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔
اُن کا کہنا تھا کہ ابتدا میں منصوبہ صرف جی ٹو سر کرنے کا تھا۔ لیکن پاکستان روانہ ہونے سے عین قبل انھیں احساس ہوا کہ اگر وہ وہاں قیام کے دوران اسے بھی سر کر لیتے ہیں تو ’آٹھ ہزار میٹر سے بلند تمام 14 پہاڑوں کو دو بار (بغیر آکسیجن کے) سر کرنے والے تاریخ کے پہلے شخص‘ بننے کے لیے انھیں صرف ایک اور پہاڑ سر کرنا باقی رہ جائے گا۔
آٹھ ہزار میٹر سے بلند پہاڑ سے مراد وہ پہاڑ ہے جس کی بلندی سطح سمندر سے آٹھ ہزار میٹر سے زیادہ ہو۔ دُنیا بھر میں ایسے پہاڑوں کی تعداد صرف 14 ہے۔
ایکس پرپرجا نے لکھا تھا کہ ’اے براڈ پیک میں تجھ حسے صرف اُوپر جانے اور بحفاظت واپس آنے کا طلبگار ہوں۔ میں کسی بھی پہاڑ کو معمولی یا یقینی نہیں سمجھتا۔‘
پاکستان میں واقع ’براڈ پیک‘ کو کوہ پیمائی کی مہمات کے لیے انتہائی مشکل پہاڑوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے اور یہ دنیا کی 12 ویں بلند ترین چوٹی ہے۔
اس کی بلندی 8047 میٹر ہے۔
براڈ پیک ان 14 ’ڈیتھ زون‘ (انتہائی خطرناک بلندی والی) چوٹیوں میں شامل ہے جنھیں نرمل پرجا نے 2019 میں چھ ماہ سے کچھ زائد عرصے میں سر کیا تھا۔
سنہ 2022 میں نیٹ فلکس کی ایک فلم اسی نام سے جاری کی گئی تھی جس میں اس پولش کوہ پیما کی کہانی بیان کی گئی تھی جس نے اس پہاڑ کی چوٹی کو موسمِ سرما میں پہلی بار سر کرنے کی کوشش کی تھی۔