محسن نقوی اور فوج کے ترجمان کے بیانات: کیا نئے صوبے پاکستان کے مسائل کا حل ہیں؟

پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام سے متعلق بحث نئی نہیں ہے اور ماضی میں اسی مطالبے کی بنیاد پر عوامی تحریکیں بھی چلتی رہی ہیں۔ وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی اور پاکستانی فوج کے ترجمان کے نئے صوبے بنانے سے متعلق حالیہ بیانات اور بحث نے ان سوال کو جنم دیا ہے کہ کیا نئے صوبے بننے سے پاکستان کے مسائل حل ہو جائیں گے؟
کراچی، مظاہرہ
Getty Images
سنہ 2023 میں کراچی میں تاجروں کی جانب سے مہنگائی اور بیروزگاری کے خلاف کیا جانے والا مظاہرہ (فائل فوٹو)

’موجودہ نظام ڈھے چکا ہے، اِس نظام کے ساتھ آگے نہیں چلا جا سکتا، اور اگر وزیراعظم روزانہ 14 سے 18 گھنٹے بھی کام کریں تو یہ محض فائر فائٹنگ ہے، اس سے بنیادی تبدیلی نہیں آئے گی۔‘

پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی جانب سے نظام ڈھے جانے اور ملکی مسائل کے حل کے لیے نئے صوبوں کے قیام اور پھر پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کی جانب سے نئے صوبوں سے متعلق تجویز کی بلواسطہ تائید کا معاملہ اب بھی پاکستان کے سیاسی حلقوں میں زیرِ بحث ہے۔

پاکستان کی حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کی جانب سے اس معاملے پر باضابطہ طور پر کوئی مؤقف سامنے نہیں آیا ہے، لیکن وفاقی وزرا بشمول خواجہ آصف اور رانا ثنا اللہ محسن نقوی پر تنقید کرتے ہوئے اُنھیں نظام میں تبدیلی کا آغاز اپنی وزارت سے کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ جب پاکستان میں نئے صوبے بنانے کی بحث شروع ہوئی ہے، لیکن ایسے وقت میں جب موجودہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے تعلقات کو مثالی قرار دینے کے دعوے کیے جاتے رہے ہیں، وزیرِ داخلہ اور فوج کے ترجمان کے نئے صوبوں سے متعلق بیانات نے ان سوالات کو جنم دیا ہے کہ کیا نئے صوبے بننے سے پاکستان کے مسائل حل ہو جائیں گے؟ اگر ملک میں گورننس کے مسائل ہیں تو اس کا ذمہ دار کون ہے؟ اور اسٹیبلشمنٹ کا نام نئے صوبوں کے قیام سے کیوں جوڑا جاتا ہے؟

اس معاملے پر بی بی سی اُردو نے سیاسی رہنماؤں اور ماہرین سے بات کی ہے۔

لیکن اس سے پہلے جان لیتے ہیں کہ محسن نقوی اور پھر اگلے ہی روز پاکستان فوج کے ترجمان نے کہا کیا تھا اور وفاقی وزرا نے اس پر کیا ردِعمل دیا تھا۔

محسن نقوی کا بیان اور خواجہ آصف کا جواب

جمعرات کو اسلام آباد میں معاشی سمٹ سے خطاب میں محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ’جس نظام کے اندر ہم رہ رہے ہیں یہ کولیپس کر چکا ہے (ڈھے چکا ہے)۔‘ ساتھ ہی انھوں نے مسائل کے حل کے لیے پاکستان میں نئے صوبے بنانے کا مشورہ دیا۔

ان کا کہنا تھا ’انتظامی یونٹس یا صوبے، اس کو جو مرضی نام دے لیں، اس کو عوام کی سطح پر لے کر جانا پڑے گا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت جب اپنا بجٹ بناتی ہے تو خسارے کا بناتی ہے۔ ’اس میں یہ بات کی جاتی ہے کہ اس سال کتنا قرضہ لینا ہے، تو کیا یہ ہمارا فرض نہیں ہے کہ اس کو ٹھیک کیا جائے۔‘

محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ملک کا قرض ہر سال بڑھتا جا رہا ہے اور ’جب تک اس نظام کو ری سیٹ نہیں کیا جائے گا‘ تب تک مسائل حل نہیں ہوں گے۔

اس بیان کے اگلے ہی روز پاکستانی فوج کے ترجمان نے پریس کانفرنس کے دوران ملک میں ’گُڈ گورننس‘ سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان کو بہتر انتظامی نظام کی جانب بڑھنا ہو گا اور اس حوالے سے ضروری اصلاحات پر غور کیا جانا چاہیے۔

محسن نقوی کے اس بیان پر یکم اگست کو وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایکس پر اپنے پیغام میں اس مقصد کے لیے انھیں (محسن نقوی) پارلیمان اور کابینہ کا فورم استعمال کرنے کا مشورہ دیا اور طنزاً لکھا کہ ’سسٹم میں تبدیلی کا آغاز اپنی وزارت سے کریں۔‘

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان کے 13 میں سے 12 نکات پر عملدرآمد محسن نقوی کی وزارت نے کرنا ہے۔ ’فوج شہادتیں اور قربانیاں دے رہی ہے، لیکن ملک میں سکیورٹی سے جڑے نازک معاملات وزارتِ داخلہ کے تحت آتے ہیں۔‘

مسلم لیگ ن کی جانب سے ایکس پر ری ٹویٹ کیے گئے اِس پیغام میں مزید کہا گیا کہ محسن نقوی ’اس نظام کے انتہائی طاقتور عہدوں پر ساڑھے تین سال سے فائز ہیں، اگر وہ چاہتے تو نظام کی تبدیلی کی بات یا پیش رفت اس عرصے میں کر سکتے تھے۔ چلیں دیر آید درست آید!‘

دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو نے نئے صوبوں کی مخالفت کرتے ہوئے وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے استعفے کا بھی مطالبہ کیا۔

تو کیا نئے صوبوں سے ملک کے مسائل حل ہو جائیں گے؟

صوبہ ہزارہ تحریک
BBC
پاکستان میں نئے صوبوں کا مطالبہ نیا نہیں، سنہ 2013 میں تحریک صوبہ ہزارہ کے دوران پولیس سے ہونے والے جھڑپوں میں کئی مظاہرین ہلاک ہوئے تھے (فائل فوٹو)

محسن نقوی اور پاکستان فوج کے ترجمان اور پھر حکومتی وزرا کے بیانات پر ماہرین کا کہنا ہے کہ بظاہر اسٹیبلشمنٹ اب سنجیدگی سے یہ چاہتی ہے کہ ملک میں مزید انتظامی یونٹس بنیں۔

پاکستان میں پارلیمان کی کارکردگی پر نظر رکھنے والی تنظیم پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈویلپمنٹ اینڈ ٹرانسپرنسی (پلڈاٹ) کے سربراہ احمد بلال محبوب کہتے ہیں کہ اور بھی بہت سی چیزیں ہیں، جنھیں ٹھیک کر کے گورننس بہتر کی جا سکتی ہے۔

بی بی سی نیوز اُردو سے گفتگو کرتے ہوئے احمد بلال محبوب کا کہنا ہے کہ نئے صوبوں کا قیام تو بہت مشکل اور تقریباً ناممکن حل ہے۔

اُن کا کہنا ہے کہ مقامی حکومتوں کے نظام کو بااختیار بنا کر اور وہاں زیادہ وسائل خرچ کرنے سے بھی گورننس بہتر ہو سکتی ہے۔ ’لہذا زیادہ صوبے نہ ہونا، بہتر گورننس کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہے۔‘

سینئیر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ بھی احمد بلال محبوب سے اتفاق کرتے ہیں، اُن کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ڈویژنز کی سطح پر اختیارات کی منتقلی زیادہ بہتر حل ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ یہ ایسا نظام ہونا چاہیے جس کے اپنے مالی مشیر ہوں اور یہ روایتی بیورو کریسی سے ہٹ کر ہو۔

’ہمیں امریکہ اور برطانیہ کی طرز کے مقامی حکومتوں کی نظام کی جانب بڑھنا ہو گا، ہمیں لوکل بیورو کریسی بنانی پڑے گی جس کے اپنے مقامی فرائض ہوں، تب جا کر پورا سسٹم کارآمد ہو سکتا ہے۔‘

سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ آئین کا آرٹیکل 140 اے ہر صوبائی حکومت کا پابند کرتا ہے کہ وہ مقامی حکومتوں کا نظام تشکیل دیں۔

’یہ تھرڈ ٹیئر آف گورنمنٹ ہے اور اِس وقت اس کا وجود ہی نہیں ہے، صوبائی حکومتیں ہی سارا فنڈ ہڑپ کر جاتی ہیں۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ ’موجودہ صوبوں میں آپ کا واسطہ کچھ خاندانوں سے ہے۔ اگر آپ نئے صوبے بنائیں گے تو نئے سٹیک ہولڈرز سامنے آئیں گے اور اُن کے اپنے مفادات ہوں گے۔ لہذا یہ کوئی اتنا سادہ معاملہ نہیں ہے، یہ (نئے صوبے) گُڈ گورننس کی ضمانت نہیں ہے۔‘

پاکستان میں نئے صوبوں یا نئے انتظامی یونٹس کا معاملہ اسٹیبلشمنٹ سے کیوں جوڑا جاتا ہے؟

اس سوال پر احمد بلال محبوب کا کہنا تھا کہ ماضی میں کچھ مواقع ایسے آئے تھے جب صوبے بڑے منصوبوں کی راہ میں رکاوٹ بنے، جس کی سب سے بڑی اور معروف مثال کالا باغ ڈیم کی ہے اور حالیہ مثال چولستان کینال منصوبہ ہے، جس پر پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے کُھل کر مخالفت کی تھی۔

احمد بلال محبوب کا کہنا تھا کہ یہ وہ معاملات ہیں جن پر ’فیصلہ سازوں‘ کو احساس ہو رہا ہے کہ اس طرح تو کوئی بھی معاملہ آگے نہیں بڑھ سکے گا اور طاقتور صوبہ وفاق کے کسی بھی فیصلے کو ایک طرح سے ’ویٹو‘ کر دے گا۔

احمد بلال محبوب سمجھتے ہیں کہ اس سارے معاملے کی مخاطب پاکستان پیپلز پارٹی ہے۔ اُن کے بقول ’یہ بات نواز شریف یا شہباز شریف کی طرف سے بھی ہو سکتی تھی، لیکن محسن نقوی کے ذریعے یہ بات کہلوانا معاملے کی سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔‘

خیال رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کی انتظامی بنیادوں پر تقسیم سے شروع سے ہی مخالف رہی ہے۔ لیکن دوسری جانب سنہ 2012 میں پنجاب اسمبلی نے متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی تھی جسے میں مزید صوبے بنانے کی بات کی گئی تھی۔

نو مئی 2012 کو پنجاب اسمبلی نے بہاولپور صوبہ کی بحالی اور جنوبی پنجاب صوبے کی تشکیل کی دو الگ الگ قراردادیں منظور کی گئی تھیں، ان قراردادوں میں وفاق سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ صوبوں کی بحالی و قیام کے لیے فوری اقدامات کریں۔

سینئر صحافی اور تجزیہ کار سلمان غنی کہتے ہیں کہ بظاہر اسٹیبلشمنٹ اس مرتبہ نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے سنجیدہ ہے۔

بی بی سی نیوز اُردو سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ اگر حکومت یا سیاسی جماعتوں نے اس معاملے پر کوئی راستہ نہ نکالا تو بہت کچھ نوشتہ دیوار ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ آج بھی وزیرِ اعظم شہباز شریف اسٹیبلشمنٹ اور سیاستدانوں کے درمیان ایک پُل کا کردار ادا کر رہے ہیں، ان کی ذمہ داری زیادہ ہے، سب اُن کی طرف دیکھ رہے ہیں، لیکن وہ نواز شریف کی طرف دیکھ رہے ہیں۔

سلمان غنی نے محسن نقوی اور ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیانات کے بعد لاہور میں نواز شریف، شہباز شریف اور اسحاق ڈار کی ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اُن کی اطلاع کے مطابق نواز شریف نے پارٹی رہنماؤں کو نئے صوبوں کے معاملے میں گیند پیپلز پارٹی کی کورٹ میں ڈالنے کی ہدایت کی ہے۔

اُنھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ آئندہ دو سے تین ماہ کے دوران نئے صوبوں کے معاملے پر ریفرنڈم کروانے کی بھی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ بی بی سی نے اس دعوے پر وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا تارڑ سے رابطہ کیا، تاہم اُن کی جانب سے تاحال کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

سلمان غنی کہتے ہیں کہ اگر ملک میں ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کا نظام موجود ہوتا تو شاید نئے صوبوں کی بات نہ ہوتی۔

’مسئلہ یہ ہے کہ بلدیاتی نظام صوبائی حکومتوں کو ہضم نہیں ہوتا، صوبے مرکز سے تو وسائل اور اختیارات لیتے ہیں، لیکن نیچے اضلاع کو اختیارات دینے کو تیار نہیں ہیں۔‘

سلمان غنی کہتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کا نام نئے صوبوں سے اس لیے جڑا نظر آتا ہے، کیونکہ وہ خود کو ریاست کی ذمہ دار سمجھتی ہے۔ ان کے مطابق بظاہر اس وقت اسٹیبلشمنٹ کو ایسا لگتا ہے کہ دُنیا میں پاکستانی کی پذیرائی ہو رہی ہے، لیکن اندرونی محاذ پر بے چینی اور مایوسی ہے اور شاید اس لیے وہ کسی حل کی طرف بڑھنا چاہتی ہے۔

احمد بلال محبوب کہتے ہیں کہ اُنھیں لگتا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر کوئی نئی آئینی ترمیم بھی آ سکتی ہے۔

لیکن اُن کے بقول ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ اگر سیاسی جماعتیں نئے صوبوں پر متفق نہیں ہوتیں تو پھر کوئی درمیانی راستہ نکالنے پر بھی اتفاق ہو سکتا ہے۔

اُن کے بقول یہ بھی ہو سکتا ہے کہ این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کا شیئر کم کرنے کی تجویز ہو یا آرٹیکل 140 اے کو مزید وسعت دے کر مقامی حکومتوں کے نظام کا ایک مکمل چیپٹر آئین کا حصہ بنایا جائے۔

سلمان غنی کہتے ہیں کہ مسلم لیگ ن صوبوں پر کسی جذباتی فیصلے کے بجائے مزید وقت لے اور بحث کو وسعت دینے پر زور دے گی۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US