وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی شاہراہِ دستور پر وزیرِ اعظم بے نظیر بھٹو اپنی لِیموزین میں راولپنڈی کی جانب رواں تھیں جب اُن کے ساتھپچھلی نشست پر بیٹھے وزیرِ اطلاعات جاوید جبار نے انھیں اطلاع دی کہ فوج کے ایک حاضر سروس افسر کے مطابق صدر غلام اسحاق خان جلد ہی اُن کی حکومت برطرف کرنے والے ہیں۔

یہ جولائی 1990 کا تیسرا ہفتہ تھا۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی شاہراہِ دستور پر وزیرِ اعظم بے نظیر بھٹو اپنی لِیموزین میں راولپنڈی کی جانب رواں تھیں جب اُن کے ساتھپچھلی نشست پر بیٹھے وزیرِ اطلاعات جاوید جبار نے انھیں اطلاع دی کہ فوج کے ایک حاضر سروس افسر کے مطابق صدر غلام اسحاق خان جلد ہی اُن کی حکومت برطرف کرنے والے ہیں۔
انتخابات میں اپنی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی کامیابی کے بعد دسمبر 1988 میں وزیرِ اعظم بننے والی بے نظیر بھٹو کے اقتدار کی پانچ سالہ مقررہ مدت کے 20، 19 ماہ ہی گزرے تھے۔
اپنی سیاسی یادداشت ’بٹ ،پرائم منسٹر۔۔۔‘ میں جاوید جبار نے لکھا ہے کہ برطرفی کی ایسی افواہیں پہلے بھی گردش کرتی رہی تھیں۔
’مگر اس بار اطلاع ایک حاضر سروس فوجی افسر کی طرف سے تھی، جس نے اپنے دیرینہدوست اور میرے ایکقریبی عزیز نجیب ظفر سے خاص طور پر کہا تھا کہ اِسے (اطلاع) مجھ تک پہنچایا جائے۔ اِسی لیے میں نے وزیرِ اعظم سے یہ ہنگامی ملاقاتکی تھی۔‘
’میرے ذہن میں آیا کہ یا تو یہ پیپلز پارٹی کی حکومت کو قبل از وقت استعفے پر مجبور کرنے کی سازش ہے، یا بے نظیر بھٹو کو صدر اور آرمی چیف کے سامنے پسپائیپر آمادہ کرنے کی کوشش۔ تاہم اطلاع دینے والا افسر اسے (اطلاع کو) انتہائی سنجیدگی سے لیے جانے کا خواہاں تھا، اس لیے اسے نظر اندازبھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔‘
جاوید جبار لکھتے ہیں کہ انھوں نے یہ تمام پہلو وزیرِ اعظم کے سامنے بھی رکھے۔
’بے نظیر بھٹو نے میری بات خاموشی سے سُنی، پھر ہلکی سی مسکراہٹ اور اعتماد بھرے انداز میں سر ہلاتے ہوئے کہا: یہ افواہیں ہمیں مایوس کرنے کے لیے پھیلائی جا رہی ہیں۔ ایسا نہیں ہو گا، جاوید۔‘
’انھوں نے کہا کہ صدر غلام اسحاق خان اور آرمی چیف کے ساتھ اپنی حالیہ ملاقاتوں، نیز دیگر ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کی روشنی میں انھیں یہ اطلاعقابلِ اعتبار نہیں لگتی۔‘
زبانی اطلاع پر تو بے نظیر بھٹو نے بظاہر اعتبار نہ کیا، مگر یہ ابتدائی اطلاع ملنے کے لگ بھگ دو ہفتے بعد انھوں نے تب بھی اِس پر یقین نہ کیا جب چھاگست 1990 کی صبح انگریزی روزنامے ’دی نیشن‘ کے صفحۂ اول کی سُرخی انھیں خبردار کر رہی تھی کہ اُن کی حکومت برطرف ہونے والی ہے۔
کرسٹینا لیمب اپنی کتاب ’ویٹنگ فار اللہ: پاکستان سٹرگل فار ڈیموکریسی‘ میں لکھتی ہیں کہ یہ بےنظیر کی سیاسی تنہائی کی ایک جھلک تھی کہ وزیرِاعظم سیکریٹریٹ کا فوجی محاصرہ ہونے تک بھی وہ یقین کرنے کو تیار نہ تھیں کہ انھیں اقتدار سے ہٹایا جا سکتا ہے۔
’دی نیشن‘ کے مدیر عارف نظامی، جنھوں نے یہ خصوصی خبر شائع کی تھی، نے اُسی سال ستمبر میں لاہور میں کرسٹینا لیمب کو بتایا تھا کہ اُس صبح (جس روز دی نیشن میں خبر شائع ہوئی) انھیں وزیرِ اعظم ہاؤس سے فون آیا۔
’پارلیمانی امور کے وزیر طارق رحیملائن پر تھے۔ انھوں نے خبر کے ذرائع پوچھے اور الزام لگایا کہ اخبار ملٹریانٹیلیجنس کی فراہم کردہ معلومات شائع کر رہا ہے۔‘
اُدھر بے نظیر بھٹو نے اپنے قریبی معاون ہیپی منِوالا کو امریکی سفیر اور صدر غلام اسحاق خان سے ملنے بھیجا۔
’صدر نے انھیں یقین دلایا کہ وہ کوئی ’غیر معمولی‘ قدم اٹھانے والے نہیں ہیں۔ اس یقین دہانی کے بعد بے نظیر نے خبر کو بے بنیاد سمجھا اور اپنی معمول کی سرگرمیوں میں مصروف رہیں۔‘
’وہ شہزادی ڈیانا کے مجوزہ دورۂ پاکستان اور عالمی چلڈرن سمٹ میں اپنی تقریر کی تیاری کرتی رہیں، جبکہ صبح کا بڑا حصہ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت میں گزرا۔‘
دو دسمبر 1988: بےنظیر بھٹو اپنی پہلی وزارتِ عظمیٰ کا حلف لے رہی ہیںالبتہ طارق رحیم مطمئن نہ تھے۔
’انھوں نے پانچ اگست کے روز صدر کے دفتر کو پارلیمنٹ کا اجلاس آٹھ اگست کو بلانے کی سمری بھیجی تھی، مگر وہ بار بار وعدوں کے باوجود واپس نہ آئی۔ پہلے کہا گیا کہ ساڑھے نو بجے مل جائے گی، پھر گیارہ بجے، لیکن دوپہر دو بجے واضح جواب ملا کہ فائل واپس نہیں کی جائے گی۔‘
طارق رحیم نے برہمی سے کہا کہ ’آپ جو بھی کر رہے ہیں، تاریخ آپ کو معاف نہیں کرے گی۔‘
’شام چار بجے تک فوجی گاڑیاں سیکریٹریٹ کے اطراف دکھائی دینے لگیں۔‘
ملتان کے ایک صحافی رضی الدین رضی نے بی بی سی کو بتایا کہ چھ اگست 1990 کو صدر غلام اسحاق خان نے بے نظیر بھٹو کی پہلی حکومت کے خاتمے کے احکامات شام پانچ بجے جاری کیے۔
’لیکن ملتان کے اخبارات کو اسمبلی توڑے جانے اور بے نظیر حکومت کے خاتمے کے بارے میں نوابزادہ نصراللہ خان کا بیان سہ پہر کو ہی موصول ہو گیا تھا۔‘
’نوابزادہ نصر اللہ خان اُس روز ملتان میں تھے اور انھیں یہ خبر اُس وقت کے قومی اسمبلی کے سپیکر قومی اسمبلی معراج خالد نے دی تھی جنھیں صبح ہی سے معلوم تھا کہ آج حکومت ختم کی جا رہی ہے اور اسمبلیاںتوڑی جا رہی ہیں۔‘
کرسٹینا لیمب کے مطابق اگر بے نظیر بھٹو کو اصل صورتحال کا جلد اندازہ ہو جاتا تو وہ خود اسمبلیاں تحلیل کر کے نئے انتخابات کا اعلان کر سکتی تھیں، جس سے انھیں برسرِ اقتدار ہونے کا فائدہ ملتا اور انتخابی عمل پر زیادہ کنٹرول رہتا۔
’حکومت کے بعض وزرا انھیں طنزاً ’ایلس اِن بلنڈر لینڈ‘ کہتے تھے۔ جیسے جیسے حکومت مشکلات میں گِھرتی گئی، بے نظیر نے اپنے گرد ایسے وفادار افراد کا حلقہ بنا لیا جو اختلافِ رائے سے گریز کرتے تھے۔ وہ آخر وقت تک (کرسٹینا لیمب کے ساتھ انٹرویو میں) یہ کہتی رہیں کہ ’عوام کی واحد رہنما میں ہی ہوں۔‘
فوج پر الزام اور تردید
12 دسمبر 1989: جنرل مرزا اسلم بیگ فوجی مشق ’ضربِ مومن‘ کا مشاہدہ کرتے ہوئے، دائیں جانب جنرل حمید گُل بھی موجود ہیںبرطرفی کے ایک روز بعد، نیویارک ٹائمز کی نامہ نگار باربرا کراسیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے بے نظیر بھٹو نے اپنی حکومت کی برطرفی کو ’نیم فوجی مداخلت‘ قرار دیا۔
اُن کا کہنا تھا کہ اس کارروائی کی منصوبہ بندی طویل عرصے سے کی جا رہی تھی۔
وزیرِ اعظم ہاؤس میں دیے گئے اس انٹرویو میں، کراچی روانہ ہونے سے قبل بے نظیر بھٹو نے کہا کہ اُن کے، اُن کے خاندان، ساتھیوں اور پاکستان پیپلز پارٹی کے خلاف پورا مقدمہ فوج نے تیار کیا، حتیٰ کہ حکومت کی برطرفی اور قومی اسمبلی کی تحلیل کا حکم بھی، جو صدر غلام اسحاق خان نے پڑھ کر سُنایا، فوج ہی نے مرتب کیا تھا۔
لیکن تب آرمی چیف جنرل اسلم بیگ کے مطابق ایسا نہیں تھا۔
اپنی یادداشتوں میں، جنھیں ریٹائرڈ کرنل اشفاق حسین نے ’کمپلشنز آف پاور‘ کے عنوان تلے ترتیب دیا ہے، جنرل بیگنے بتایا کہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ خوشگوار تھا اور اُن کے درمیان باہمی احترام کا رشتہ قائم تھا۔
’اُن کے حلف اٹھانے سے پہلے میں نے انھیں اپنی رہائش گاہ پر مدعو کیا اور اُن سے تین گزارشات کیں: اگر فوج کے بارے میں کوئی شکایت ہو تو مجھے بتائیں میں اس کا ازالہ کروں گا، جنرل ضیا الحق کے خاندان سے نرمی برتیں اور جب صدر کے انتخاب کا وقت آئے تو غلام اسحاق خان کو مدنظر رکھیں۔‘
’بے نظیر بھٹو نے اِن مشوروں سے اتفاق کیا اور انھیں سنجیدگی سے لیا۔‘
اپنی یادداشتوں میں جنرل اسلم بیگ بتاتے ہیں کہ شاید بے نظیر بھٹو انھیں چیف آف آرمی سٹاف کے منصب سے ہٹا کر چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی بنانے پر غور کر رہی تھیں، جبکہ ایک کور کمانڈر آرمی چیف بننے کے خواہشمند تھے۔ وزیرِ اعظم کے چند قریبی افراد بھی اس کوشش میں شریک تھے۔
’اِس اطلاع پر میں نے فارمیشن کمانڈرز کانفرنس بُلا کر واضح کیا کہ اگر کوئی افسر ایسی سرگرمیوں میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف سخت تادیبی کارروائی ہو گی۔ جس کور کمانڈر کا نام زیرِ غور تھا، وہ بھی اجلاس میں موجود تھا اور غالباً اس نے یہ بات وزیرِ اعظم تک پہنچا دی۔‘
’بعد میں بے نظیر بھٹو نے مجھے لکھے گئے ایک خط میں تسلیم کیا کہ وہ واقعی مجھے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی اور کسی دوسرے افسر کو آرمی چیف مقرر کرنا چاہتی تھیں، لیکن اپنے ساتھیوں سے مشاورت کے بعد انھوں نے یہ ارادہ ترک کر دیا، یہ ان کی فراخ دلی تھی۔‘
’صدر اور وزیرِ اعظم کے اختلافات‘
صدر غلام اسحاق خان میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئےالبتہ جنرل بیگ کی اِسی کتاب میں ’صدر اور وزیرِ اعظم کے اختلافات‘ کے ذیلی عنوان کے تحت یہ لکھا ملتا ہے کہ ’1990کے آغاز میں صدر غلام اسحاق خان نے ایک غیر رسمی نوٹ کے ذریعے مجھے آگاہ کیا کہ اُن کے اور وزیرِ اعظم بے نظیر بھٹو کے درمیان بعض ریاستی معاملات پر اختلافات پیدا ہو گئے ہیں۔‘
’میں نے یہ معاملہ کور کمانڈرز کانفرنس میں رکھا۔ تمام کمانڈرز کی متفقہ رائے تھی کہ صدر کو تحمل سے کام لینا چاہیے، وزیرِ اعظم کو اپنی غلطیاں درست کرنے کا موقع دینا چاہیے اور ضرورت پڑنے پر اُن کی رہنمائی کرنی چاہیے۔‘
’لیکن دونوں کے درمیان مؤثر رابطہ نہ ہو سکا، اختلافات بڑھتے گئے اور بالآخر صدر نے آئین کی دفعہ 58(2)(ب) کے تحت چھ اگست 1990 کو حکومت برطرف کر دی اور 90 روز میں انتخابات کا اعلان کر دیا۔‘
تاہم جنرل بیگ کے مطابق بے نظیر بھٹو یہ سمجھتی تھیں کہ وہ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی اور بعد ازاں اُن کی حکومت کی برطرفی میں شریک رہے، حالانکہ اُن کے بقول وہ بھٹو کی پھانسی کے مخالف تھے اور اِسی وجہ سے انھیں کمان سے ہٹا دیا گیا تھا۔
وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ بے نظیر بھٹو کا یہ تاثر بھی غلط تھا کہ صدر غلام اسحاق خان نے اُن کی حکومت اُن کے دباؤ پر برطرف کی۔
سابق سفارتکار اور سابق مشیرِ قومی سلامتی اقبال اخوند کی رائے جنرل بیگ سے مختلف ہے۔
اپنی کتاب ’ٹرائل اینڈ ایرر: دی ایڈونٹ اینڈ ایکلپس آف بے نظیر بھٹو‘ میں اخوندلکھتے ہیں کہ ’معلوم ہوتا ہے کہ جنرل اسلم بیگ نے حکومت کی برطرفی سے تقریباً چھ ماہ پہلے ہی بے نظیر کو اقتدار سے ہٹانے کا فیصلہ کر لیا تھا اور اُن کا خیال تھا کہ اس طرح سندھ کے حالات چند ہفتوں میں درست کیے جا سکیں گے۔‘
مصنف کے مطابق اس پوری کارروائی کے اصل معمار صدر غلام اسحاق خان تھے، جنھیں بے نظیر بھٹو نے اپنی حکومت کی برطرفی کے خلاف سپریم کورٹ میں پیش ہوتے ہوئے ’بدنیتی، تعصب اور سو نیت (بدنیتی)‘ کا حامل قرار دیا۔
اُن کا مؤقف تھا کہ صدر نے ابتدا ہی سے ان کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کیں اور انھیں حکومت بنانے کی دعوت بھی اس وقت دی جب اُن کی اکثریت ختم کرنے کی تمام کوششیں ناکام ہو گئیں۔
بے نظیر نے عدالت میں بتایا کہ صدر نے اُن سے کہا تھا کہ سوویت افواج کے افغانستان سے انخلا تک یعقوب خان کو مزید تین ماہ وزیرِ خارجہ رہنے دیا جائے۔ بعد میں انھیں احساس ہوا کہ ’وہ تین ماہ یعقوب خان کے لیے نہیں بلکہ میرے لیے تھے، مجھے تین ماہ بعد ہی گھر بھیجنے کی منصوبہ بندی ہو چکی تھی۔‘
چند برس بعد، جب بے نظیر دوبارہ اقتدار میں آئیں، تو انھوں نے مصنف کو بتایا کہ اُن کی معلومات کے مطابق امریکی نائب قومی سلامتی مشیر رابرٹ گیٹس نے جولائی 1990 کے دورۂ پاکستان کے دوران صدر غلام اسحاق خان کو اُن کی برطرفی کی منظوری دے دی تھی۔
تاہم مصنف لکھتے ہیں کہ وہ خود صدر اور رابرٹ گیٹس کی ملاقات میں موجود تھے اور وہاں بے نظیر حکومت کے مستقبل پر کوئی گفتگو نہیں ہوئی۔
اُن کے مطابق اسحاق خان کو اس اقدام کے لیے امریکی منظوری کی ضرورت نہیں تھی، اور اگر امریکہ واقعی حکومت کی تبدیلی چاہتا تو عبوری حکومت کے آتے ہی پاکستان کی امداد معطل نہ کرتا۔
دوسری جانب صدر غلام اسحاق خان نے کہا کہ اُن کا اقدام کسی فرد یا جماعت کے خلاف نہیں بلکہ جمہوریت کے مستقبل کے تحفظ کے لیے تھا۔
اُن کے بقول یہ فیصلہ انھوں نے ’پُرسکون، غیر جذباتی اور محتاط غور و فکر‘ اور ’طویل اور کربناک انتظار‘ کے بعد کیا۔
صدر غلام اسحاق خان کے مداح سمجھے جانے والے سابق بیوروکریٹ روئیداد خان نے اپنی یادداشتوں میں لکھا ہے کہ بے نظیر بھٹو کو اپنی حکومت پر آنے والے بحران کا بالکل اندازہ نہیں تھا اور وہ معمول کے مطابق سرکاری امور انجام دیتی رہیں۔
’جب افواہیں پھیلیں تو انھوں نے اپنے قریبی ساتھی ہیپی منوالا کو صدر سے حقیقت معلوم کرنے بھیجا۔ منوالا واپس آ کر یہ پیغام لائے کہ صدر کا آئین کے خلاف کوئی اقدام کرنے کا ارادہ نہیں۔‘
لیکن روئیداد خان یہ بھی لکھتے ہیں کہ جنرل اسلم بیگ کو پہلے ہی اعتماد میں لے لیا گیا تھا، اُن کی رضامندی حاصل کر لی گئی تھی اور آرمی چیف کے نمائندے کے طور پر ڈائریکٹر ملٹری انٹیلیجنس میجر جنرل اسد درانی کے ساتھ متعدد اجلاسوں میں تمام انتظامی اور عملی تفصیلات طے کی جا چکی تھیں۔
اگرچہ روئیداد خانلکھتے ہیں کہ اس کارروائی کو چھپانے یا دھوکہ دینے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی، لیکن وہ خود اعتراف کرتے ہیں کہ آخری دنوں میں انھیں مسلسل یہ خدشہ لاحق تھا کہ کہیں وزیرِ اعظم کوئی پیشگی قدم نہ اٹھا لیں۔
جیسے جیسے مقررہ دن قریب آتا گیا اور بے نظیر کی طرف سے کوئی ردعمل سامنے نہ آیا، اُن کی بے چینی بڑھتی گئی۔ انھیں اندیشہ تھا کہ اگر وزیرِ اعظم اچانک قوم سے خطاب کر کے اسمبلی توڑنے اور حکومت برطرف کرنے کی منصوبہ بندی کو بے نقاب کر دیں تو پوری کارروائی کا اچانک پن ختم ہو جائے گا۔
حکومت کی برطرفی کے بعد صدر کے لیے عبوری وزیرِ اعظم کا تقرر ضروری تھا۔
غلام مصطفیٰ جتوئی کئی برسوں سے ممکنہ وزیرِ اعظم کے طور پر زیرِ بحث تھے، یہاں تک کہ اخبارات انھیں ’منتظر وزیرِ اعظم‘ کہنے لگے تھے اور بالآخر اُن کی مختصرباری آ گئی۔
لیکن اخوند کے مطابق غلام اسحاق خان نے حکومت کے قواعدِ کار میں تبدیلی کر دی تاکہ تمام سرکاری فائلیں براہِ راست صدر کے پاس بھیجی جائیں۔
عدالتی فیصلہ
آٹھ اگست 1990: اپنی پہلی حکومت کی برطرفی کے بعد بے نظیر بھٹو کراچی میں اپنے گھر میں واقع دفتر میںصدر غلام اسحاق خان نے چھ اگست 1990 کو قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیاں تحلیل اور بے نظیر بھٹو کی حکومت برطرف کرنے کا جواز ملک میں امن و امان برقرار رکھنے میں حکومتیناکامی، اقربا پروری اور بدعنوانی کو قرار دیا تھا۔
اخوند کے مطابق بے نظیر بھٹو نے اپنے خلاف لگائے گئے بیشتر الزامات کی تردید کی اور بعض کی وضاحت پیش کی۔ مثال کے طور پر انھوں نے تسلیم کیا کہ بعض صنعتی اجازت نامے اپنے رشتہ داروں اور قریبی افراد کو دیے، لیکن اُن کے بقول یہ ضیا الحق کے دور میں اُن پر ڈھائے گئے مظالم کے ازالے کے لیے تھا۔
’آخرکار سپریم کورٹ نے اپنے سابقہ نظائر کے بجائے اپنے رائج طرزِ عمل کی پیروی کرتے ہوئے بے نظیر بھٹو کی درخواست مسترد کر دی۔‘
عدالت نے قرار دیا کہ غلام اسحاق خان نے پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت برطرف کرتے ہوئے آئینی اختیارات کے مطابق درست اقدام کیا تھا۔
جاوید جبار لکھتے ہیں کہ اگست 1990 کے آخری ہفتے میں، حکومت کی برطرفی کے تقریباً تین ہفتے بعد، بے نظیر بھٹو نے بلاول ہاؤس کراچی میں پیپلز پارٹی کی مرکزی کمیٹی کا اجلاس طلب کیا، جس میں وہ بھی شریک تھے کیونکہ وہ ان کی کابینہ میں بیس ماہ تک وزیر رہ چکے تھے۔
اُن کے مطابق بے نظیر بھٹو نے اپنی ابتدائی گفتگو میں حکومت کی برطرفی کو صدرِ مملکت اور فوج کے بعض عہدیداروں کی سازش قرار دیا۔ جبار کے بقول اس مؤقف میں وزن ضرور تھا کیونکہ حکومت چھ اگست 1990 تک قومی اسمبلی میں اپنی اکثریت برقرار رکھے ہوئے تھی اور اپنے 20 ماہ کے دور میں متعدد اہم اقدامات بھی کر چکی تھی۔
جاوید جبار لکھتے ہیں کہ تقریباً 20 مقررین کے بعد انھیں اظہارِ خیال کا موقع ملا۔
انھوں نے کہا کہ ’وزیرِاعظم صاحبہ، ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہو گا کہ ہماری حکومت میں بعض افراد کی بدعنوانی ہماری برطرفی کی ایک بڑی وجہ بنی۔ اگرچہ الزامات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا، لیکن کرپشن نے ہماری کارکردگی اور عوامی تاثر دونوں کو نقصان پہنچایا۔‘
جاوید جبار لکھتے ہیں کہ انھیں توقع نہیں تھی کہ ان کی بات پر بے نظیر بھٹو کا ردِعمل اتنا شدید ہو گا۔
انھوں نے نہایت برہمی اور سخت لہجے میں، پیشانی پر بل ڈالے اور نظریں مجھ پر جمائے ہوئے کہا ’کرپشن؟ کرپشن! ہرگز نہیں، جاوید، کوئی کرپشن نہیں تھی۔‘
’یہ الزام سراسر من گھڑت ہے، محض ہمارے خلاف پروپیگنڈا ہے تاکہ ہمیں بدنام کیا جا سکے۔ کرپشن بھلا کہاں؟ مجھے ایک مثال دو، کوئی ثبوت دکھاؤ۔ ہمارے دشمنوں کی باتیں دہرانے کے بجائے حقیقت بیان کرو۔ کوئی کرپشن نہیں تھی۔‘
’ہماری حکومت صرف ایک سازش کے نتیجے میں برطرف کی گئی۔‘