’نظام ڈھے گیا ہے‘ سے ’شہباز شریف پانچ سال پورے کریں گے‘ تک: محسن نقوی کے بیانات کا مطلب کیا ہے؟

تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے ’شہباز شریف پانچ سال پورے کریں گے‘ جیسے بیان سے قیاس آرائیاں ختم نہیں ہوں گی بلکہ اب یہ بحث بھی شروع ہو جائے گی کہ کہیں نہ کہیں حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان توقعات کا فرق موجود ہے اور شہباز شریف کا اپنی مدت پوری کرنا ایک سیاسی معجزہ ہو گا۔
Mohsin Naqvi and Shehbaz Sharif
Getty Images

لگ بھگ ایک ہفتہ قبل، گذشتہ جمعرات کو، پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے جب اسلام آباد میں ایک معاشی سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے یہ جملہ ادا کیا کہ ’موجودہ نظام ڈھے چکا ہے‘ تو ملک کے سیاسی منظر نامے میں اچانک جیسے بھونچال سا آ گیا۔

اسٹیبلشمنٹ سے قریب سمجھے جانے والے با اختیار وزیر کے منھ سے اس نظام پر تنقید سننے والے صحافیوں نے، جس نظام کا وہ خود حصہ ہیں، اس بیان کی تشریح کچھ یوں کی کہ غالبا اسلام آباد میں اقتدار کے ایوانوں میں سب اچھا نہیں رہا اور ایک وفاقی وزیر کی جانب سے خود اپنی ہی حکومت کو چارج شیٹ کرتے ہوئے نئے صوبوں کے قیام کا مطالبہ کسی مخصوص وجہ سے کیا گیا ہے۔

اس تشریح پر اگلے ہی دن اس وقت مہر ثبت ہوئی جب پاکستان کی فوج کے ترجمان ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بلوچستان میں شدت پسندی کے موضع پر ایک طویل پریس کانفرنس کے دوران ملک میں ’گڈ گورننس‘ کے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان کو بہتر انتظامی نظام کی جانب بڑھنا ہو گا اور اس حوالے سے ضروری اصلاحات پر غور کیا جانا چاہیے۔

پاکستان کی سیاسی تارِیخ کے اوراق میں کسی بھی حکومت کے زوال سے قبل فوج اور وزرائے اعظم کے تعلقات پر نظر رکھنے والوں کے لیے یہ بھی ایک اور اشارہ تھا۔ جلد ہی صحافتی حلقوں میں یہ چہ مگوئیاں عام ہونا شروع ہوئیں کہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ’ایک پیج‘ قصہ پارینہ ہو چکا ہے۔ چند صحافیوں نے اس حوالے سے ڈیڈ لائن کا تذکرہ بھی کیا۔ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے حکومت سے خود ہی مستعفی ہونے کا مطالبہ بھی ہوا۔

ایسے میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی جماعت تحریک انصاف کی جانب سے گذشتہ رات اپنے سربراہ کی اسیری کے تین سال مکمل ہونے پر وزیر اعلی خِیبرپختونخوا کی جانب سے جب یہ اعلان ہوا کہ ستمبر کے اواخر میں اسلام آباد کی جانب مارچ ہو گا تو اسے مبصرین اور تجزیہ کاروں نے موجودہ سیاسی منظرنامے کا تسلسل قرار دیا۔

لیکن اسی دوران محسن نقوی کی جانب سے صرف دو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اچانک ایک اور بیان بھی سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے یہ نوید سنائی کہ موجودہ حکومت پانچ سال پورے کرے گی۔ اس دوران انھوں نے خواجہ آصف کی جانب سے کی جانے والی تنقید کا جواب بھی دیا اور وزیراعظم کے حوالے سے بھی چند باتیں کیں۔

لیکن کیا ان کا یہ بیان افواہوں اور چہ مگوئیوں کو ختم کرنے کے لیے کافی ہے؟ اور کیا اس بیان کے پس پردہ مفاہمت کی کوئی کوشش چھپی ہے یا ان کے پہلے بیان کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا؟ ان سوالوں کے جواب سے قبل یہ جانتے ہیں کہ محسن نقوی نے کیا کہا ہے۔

Shehbaz sharif with Army Chief
Getty Images

محسن نقوی نے کیا کہا؟

گذشتہ روز وزارتِ داخلہ کی عمارت سے نکلتے ہوئے چند صحافیوں کے ساتھ بات چیت میں حکومت کے مستقبل کے متعلق ایک سوال کے جواب میں محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ’یہ حکومت پانچ سال پورے کرے گی، شہباز شریف پانچ سال بطورِ وزیراعظم اپنا ٹائم پورا کریں گے۔‘

جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ آپ کی پرفارمنس پر سوال اٹھ رہے ہیں تو محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ’میں نے پرفارمنس پر وزیراعظم کو جواب دینا ہے اور میں نے وزیراعظم سے صرف یہ درخواست کرنی ہے کہ تھرڈ پارٹی سے جانچ پڑتال کروائیں، تمام وزارتوں کی پرفارمنس کی ان سے جانچ کروائیں اور نتیجہ عوام کے سامنے رکھیں تاکہ سب کو پتا ہو کہ کون سی وزارت کتنا پرفارم کر رہی ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میرا خیال ہے میری حاضری 70 فیصد کے قریب ہے۔‘

یاد رہے وفاقی وزیرِ داخلہ کے ’نظام ڈھے چکا ہے‘ والے بیان کے بعد انھیں حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے قائدین کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایکس پر پیغام میں محسن نقوی کو پارلیمان اور کابینہ کا فورم استعمال کرنے کا مشورہ دیا تھا اور طنزاً لکھا تھا کہ ’سسٹم میں تبدیلی کا آغاز اپنی وزارت سے کریں۔‘

جس کے بعد ایسی خبریں بھی آئیں کہ مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے پارٹی کی سینیئر قیادت کو ہدایت کی ہے کہ محسن نقوی کا نظام تباہ ہونے کا بیان نظر انداز کیا جائے۔

وزیر اعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور اور سیاسی جماعت مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثنا اللہ نے نجی چینل پر گفتگو کے دوران اس بات کی تصدیق کی کہ پارٹی قائد نواز شریف نے اپنی جماعت کی قیادت کو محسن نقوی کا بیان نظر انداز کرنے کا کہا ہے۔

گذشتہ روز محسن نقوی سے یہ بھی پوچھا گیا کہ ’نظام ڈھے چکا ہے‘ والے بیان کے بعد کہا جا رہا ہے کہ آپ نے حکومت کو چارج شیٹ کر دیا ہے، وزیرِ داخلہ کا کہنا تھا کہ ’میں اپنی بات پر قائم ہوں کہ نظام تباہ ہو چکا ہے لیکن میں نے 80 سالہ نظام کے تباہ ہونے کی بات کی ہے۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ 80 سال سے نظام تباہ ہے کیونکہ اگر ٹھیک چل رہا ہوتا تو ہم کہاں سے کہاں پہنچ جاتے۔ میں نے حکومت کو چارج شیٹ نہیں میں تو خود حکومت کا حصہ ہوں، خود کو تو چارج شیٹ نہیں کروں گا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’آپ کے پاس وزیراعظم ہیں جو 14-16 گھنٹے کام کرتے ہیں اور اگر یہ چیزیں بہتر ہو جائیں تو ایک ہزار گنا بہتر نتیجہ سامنے آئے گا۔‘

محسن نقوی نے کہا کہ ’ان حالات میں بھی آپ دیکھیں ایف بی آر نے ریونیو کتنا بڑھا لیا ہے، ہم جنگ جیت گئے اور دیکھیں سفارتی لحاظ سے کہاں سے کہاں پہنچ چکے ہیں اور اتنی ریفارمز ہو گئی ہیں۔ میں آج بھی سمجھتا ہوں کہ اگر وزیراعظم کو سسٹم ٹھیک مل جاتا تو وہ ملک کو 100 گنا تیزی سے آگے لیجاتے۔‘

محسن نقوی نے کہا کہ ’لوگوں کی بڑی خواہش ہے کہ کسی طریقے سے میرے اور وزیراعظم کے تعلقات خراب ہو جائیں لیکن ایسا نہیں ہو گا۔‘

اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے ایکس پر لکھا کہ ’محسن نقوی بھی بات کر کے پھنس گئے ہیں اور اب انھیں سمجھ نہیں آ رہا مؤقف ہے کیا، نظام ڈھے چکا ہے لیکن انھوں نے وزیر بھی رہنا ہے اور پانچ سال بھی پورے کرنے ہیں۔۔ شھباز شریف بڑے اچھے ہیں لیکن بس حکومت نہیں چل رہی۔‘ فواد نے لکھا کہ ’آپ نے بات کی ہے تو اس پر قائم تو رہیں۔‘

وفاقی وزیرِ داخلہ سے یہ بھی سوال کیا گیا کہ آپ پر یہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ ’آپ نے تیس سال کا سفر تین سال میں طے کر لیا ہے‘، محسن نقوی نے اس کا جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے محض اتنا کہا کہ ’اللہ تعالیٰ انھیں خوش رکھے۔‘

PMLN
Getty Images

’شہباز شریف کا مدت پوری کرنا ایک سیاسی معجزہ ہو گا‘

صحافی اور تجزیہ کار ماجد نظامی وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے حالیہ بیان کو ایک روایتی سیاسی بیان قرار دیتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں گذشتہ دو سے ڈھائی دہائیوں کے دوران اس نوعیت کے کئی بیانات سامنے آتے رہے ہیں، تاہم عملی صورتحال مختلف رہی ہے۔

بی بی سی نیوز اردو سے بات کرتے ہوئے ماجد نظامی نے کہا کہ ’عمران خان کے دورِ حکومت میں، جب تحریک انصاف اقتدار میں آ چکی تھی یا حکومت میں آنے کی کوشش کر رہی تھی، اس وقت بھی حکومتی حلقوں کی جانب سے اسی نوعیت کے دعوے کیے جاتے رہے۔ ڈاکٹر ظفراللہ جمالی اور شوکت عزیز سمیت دیگر وزرائے اعظم کے ادوار میں بھی ایسے بیانات سننے کو ملتے رہے ہیں۔‘

انھوں نے سابق صدر اور آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کے دور میں دیے جانے والے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت بھی یہ دعوے کیے جاتے تھے کہ ’ہم انھیں دس مرتبہ وردی میں منتخب کروائیں گے‘۔

ماجد نظامی کے مطابق ’پاکستان کی سیاسی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو گذشتہ 25 برسوں کے دوران کسی بھی اسمبلی کے اندر ایک بھی وزیراعظم اپنی آئینی مدت مکمل نہیں کر سکا۔ وہ شوکت عزیز اور ظفراللہ جمالی کے بعد یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف، پھر نواز شریف اور شاہد خاقان عباسی کے ادوار کی مثالیں دیتے ہیں۔۔۔ اس کے بعد عمران خان اور شہباز شریف ایک ہی پارلیمانی دور میں وزارتِ عظمیٰ پر فائز رہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’اگر پاکستان کی سیاسی تاریخ اور اس پس منظر کے ساتھ اس بیان کو پرکھا جائے تو شہباز شریف کا اپنی مدت پوری کرنا ایک سیاسی معجزہ ہو گا۔‘

صحافی عارفہ نور بھی ماجد نظامی سے اتفاق کرتی ہوئے کہتی ہیں کہ محسن نقوی صاحب کے اس بیان سے قیاس آرائیاں ختم نہیں ہوں گی۔

بی بی سی نیوز اردو سے بات کرتے ہوئے عارفہ نور کہتی ہیں کہ ’انتخابات کے بعد سے حکومت کے حوالے سے قیاس آرائیاں کبھی ختم نہیں ہوئیں جس کی کئی وجوہات ہیں۔ چاہے وہ انتخابات کا طریقہ کار ہو، یا اس کے بعد بننے والی ایک غیر مستحکم حکومت، جس میں کئی اتحادی شامل ہیں۔ اور یہ بھی بہت واضح ہے کہ ان اتحادیوں کو اکٹھا کون لے کر آیا ہے۔‘

وہ سمجھتی ہیں کہ ’اس کی ایک اور وجہ معاشی صورتحال بھی ہے۔ ان کے خیال میں یہ تمام عوامل اس صورتحال کی وجہ ہیں۔‘

عارفہ کے مطابق ’ہماری سیاسی تاریخ بھی یہی بتاتی ہے کہ بہت کم حکومتیں اپنی مدت مکمل کر سکی ہیں۔ اگر حکومت کی مدت کی بات کریں تو جب وزیراعظم تبدیل ہوتا ہے تو تکنیکی طور پر ایک طرح سے حکومت بھی ختم ہو جاتی ہے، کیونکہ نئے وزیراعظم کے ساتھ نئی حکومت تشکیل پاتی ہے۔‘

’اب تک کسی وزیراعظم اور اس کی کابینہ نے اپنی مکمل آئینی مدت پوری نہیں کی۔ لہذا یہ تاریخی پس منظر بھی موجود ہے اور 2024 کے بعد سے کچھ خاص وجوہات بھی سامنے آئی ہیں جن کی وجہ سے غیر یقینی کی صورتحال برقرار ہے۔‘

ان کا ماننا ہے کہ ’محسن نقوی کے بیان سے قیاس آرائیاں ختم نہیں ہوں گی بلکہ اب خاص طور پر یہ بحث بھی شروع ہو جائے گی کہ کہیں نہ کہیں حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان توقعات کا فرق موجود ہے۔‘

’محسن نقوی صاحب اگرچہ یہ کہہ رہے ہیں کہ حکومت اپنی مدت مکمل کرے گی، لیکن ساتھ ہی وہ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ نظام درست طریقے سے نہیں چل رہا۔ اگر نظام نہیں چل رہا تو ہماری سیاسی تاریخ کے مطابق اس کی ذمہ داری بالآخر سیاسی حکومت پر ہی عائد ہوتی ہے۔‘

Parliment building
Getty Images

مفاہمت یا مجبوری؟

اس سوال پر کہ آیا وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے حالیہ بیان کے پیچھے کوئی مفاہمت کی کوشش کارفرما ہے، ماجد نظامی نے کہا کہ انھیں معاملہ محض مفاہمت کی کوشش سے زیادہ مسلم لیگ (ن) کی سیاسی مجبوری نظر آتا ہے۔

ماجد نظامی سمجھتے ہیں کہ ’مسلم لیگ (ن) اس وقت مزاحمت کی پوزیشن میں نہیں ہے اور ان میں اتنی سکت نہیں ہے کہ وہ اس جاری مہم کے خلاف مضبوط انداز میں آواز بلند کر سکیں۔‘

انھوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کو کئی سیاسی مسائل کا سامنا ہے، جن میں 2024 کے انتخابات کی صورتحال بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ اس سے قبل ’ووٹ کو عزت دو‘ کی مہم جس انداز میں اچانک ختم ہوئی، اس کے بعد پارٹی دوبارہ اسی بیانیے کے ساتھ عوام کے پاس نہیں جا سکی۔

ماجد نظامی کے مطابق اگر مسلم لیگ (ن) اس وقت مزاحمت کا راستہ اختیار کرتی ہے تو ایک طرف اسے حکومت سے محروم ہونے کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے، جبکہ دوسری جانب پنجاب میں بھی، جو اس کا مضبوط سیاسی مرکز سمجھا جاتا ہے، اس کی حکومت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’مسلم لیگ (ن) موجودہ حالات میں اپوزیشن میں جانا برداشت نہیں کر سکتی، کیونکہ پہلے ہی ایک طاقتور اپوزیشن تحریک انصاف موجود ہے۔‘ ماجد سمجھتے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) کے لیے اپوزیشن میں جا کر مزاحمت کرنا اس لیے بھی مشکل ہوگا کہ عوام ان کی مزاحمت پر یقین نہیں کریں گے اور ان کا اقتدار بھی ان کے ہاتھ سے جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ بعض لوگ موجودہ صورتحال کو نواز شریف کی مدبرانہ اور تجربہ کار سیاست سے جوڑ رہے ہیں، تاہم وہ اس رائے سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کے خیال میں ’مسلم لیگ (ن) کے پاس اس وقت مزاحمت کا آپشن ہی موجود نہیں ہے اور وہ سر جھکا کر اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے آنے والی تمام ہدایات کو تسلیم کرے گی۔‘

وہ حالیہ دنوں میں سردار یوسف کی پریس کانفرنس، حذیفہ رحمان اور دیگر وزرا کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان سب میں یہی کہا جا رہا ہے کہ اس معاملے کو افہام و تفہیم سے حل کیا جائے گا اور وہ کہہ رہے ہیں کہ ہمیں محسن نقوی کے بیان کے انداز کی وجہ سے تکلیف ہوئی ہے، ورنہ ان کی باتیں درست ہیں۔

انھوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے اندر اس حوالے سے آہستہ آہستہ سامنے آنے والی آوازیں اس بات کا اشارہ ہیں کہ آنے والے دنوں میں پارٹی اس معاملے پر اسٹیبلشمنٹ کی پالیسی کے مطابق آگے بڑھے گی، کیونکہ اس وقت وہ ایسی پوزیشن میں نہیں کہ کھل کر اختلافی رائے کا اظہار کر سکے۔

mohsin naqvi
Getty Images

’محسن نقوی کا پہلا بیان محض ذاتی رائے نہیں بلکہ ایک واضح پیغام تھا‘

اس سوال پر کہ آیا پہلے بیان کو لوگوں نے غیر ضروری طور پر بڑھا چڑھا کر پیش کیا یا وہ واقعی ایک پیغام تھا، ماجد نظامی نے کہا کہ ان کے خیال میں وہ محض ذاتی رائے نہیں بلکہ ایک واضح پیغام تھا۔

ماجد نظامی کے مطابق پاکستان میں سیاسی پیغامات اسی انداز میں دیے جاتے ہیں اور انھیں سمجھنے کے لیے بیان دینے والے کی شخصیت، اس کے سیاسی پس منظر اور اس کے اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات کو مدنظر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’جس فورم پر یہ بیان دیا گیا، اس سے واضح تھا کہ یہ محض ذاتی رائے نہیں تھی بلکہ اس کے پیچھے ایک سیاسی پیغام موجود تھا۔‘

ماجد نظامی نے کہا کہ حالیہ پریس ٹاک اور صحافیوں سے گفتگو میں بھی محسن نقوی نے واضح کیا کہ وہ اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔

وہ گذشتہ روز محسن نقوی سے کیے گئے سوال کے ’آپ نے تیس سال کا سفر تین سال میں کیسے طے کر لیا‘، کے جواب کو ’معنی خیز‘ قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس پوری صورتحال سے آگاہ بھی ہیں اور اس پر جواب نہیں دینا چاہتے۔

ماجد نظامی کے مطابق ’یہ سمجھنا درست نہیں کہ یہ محض ایک ذاتی رائے تھی اور معاملہ ختم ہو گیا، کیونکہ اسٹیبلشمنٹ سے متعلق معاملات اور منصوبے اکثر اسی انداز میں سامنے لائے جاتے ہیں۔‘

عارفہ نور سمجھتی ہیں کہ ’پاکستان میں اس وقت میڈیا کی جو صورتحال ہے، اس میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان کے بیان کو خواہ مخواہ بہت زیادہ اہمیت دی گئی۔‘

ان کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر کئی دن سے گفتگو ہو رہی ہے اور یہ بحث ختم نہیں ہو رہی تو اس کا مطلب ہے کہ ’یہ گفتگو ہونی چاہیے اور اس گفتگو کو کوئی پسند کر رہا ہے، جس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ حکومت مزید کمزور نظر آئے گی۔‘

عارفہ کہتی ہیں کہ ’اس سے حکومت کی کمزوری کا تاثر پیدا ہوگا اور ہر وقت سوالات اٹھتے رہیں گے‘۔ اور اب لوگوں کے لیے یہ کہنا بہت مشکل ہوگا کہ سب کچھ ’ایک پیج‘ پر ہے، کیونکہ اب تنقید سامنے آئی ہے، اور یہ تنقید انھی لوگوں کی طرف سے آئی ہے جو پہلے کہہ رہے تھے کہ حکومت بہت اچھی کارکردگی دکھا رہی ہے۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US