’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ‘ اہم کیوں ہے اور یہ اسرائیل اور ایران سمیت خطے کے لیے کیا معنی رکھتا ہے؟

سعودی عرب، پاکستان اور ترکی نے ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘ پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے تحت ان تینوں ممالک میں سے ’کسی ایک ملک پر مسلح حملہ، سب پر حملہ تصور کیا جائے گا۔‘ بی بی سی نے تجزیہ کاروں سے بات کر کے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ یہ معاہدہ اِن تینوں ممالک سمیت خطے کے لیے کیا معنی رکھتا ہے۔

سعودی عرب، پاکستان اور ترکی نے ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘ پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے تحت ان تینوں ممالک میں سے ’کسی ایک ملک پر مسلح حملہ، سب پر حملہ تصور کیا جائے گا۔‘

اس ضمن میں جاری ہونے والے ایک مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف، ترک صدر رجب طیب اردغان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے جمعہ کی دوپہر مکہ میں مشترکہ دفاعی سمٹ میں شرکت کے بعد اس معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

اعلامیے کے مطابق اس معاہدے کا مقصد کسی بھی جارحانہ اقدام کے خلاف اجتماعی دفاع کو مضبوط بنانا ہے، اور اس میں یہ طے کیا گیا ہے کہ ’تینوں ریاستوں میں سے کسی ایک کے خلاف ہونے والا کوئی بھی مسلح حملہ سب کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔‘

مزید کہا گیا ہے کہ یہ معاہدہ تینوں ریاستوں کے درمیان دفاعی تعاون کے تمام پہلوؤں کو فروغ دینے اور انھیں مضبوط بنانے سے متعلق ہے۔

اگرچہ اس معاہدے کی مکمل تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئی ہیں تاہم پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق اس معاہدے کا مقصد جارحیت کے کسی بھی اقدام کے خلاف اجتماعی دفاعی صلاحیت (ڈیٹرنس) کو مضبوط بنانا اور دفاعی شعبے میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔

دفترِ خارجہ کے مطابق اس معاہدے پر دستخط کرنے کی باقاعدہ تقریب سے قبل تینوں ممالک کے رہنماؤں نے مشترکہ دفاعی سمٹ میں شرکت کی، جس میں تینوں ممالک کے مابین روابط اور مشترکہ مفادات کا جائزہ لیا گیا۔

بیان کے مطابق تینوں ممالک کے دیرینہ تاریخی تعلقات اور مشترکہ سٹریٹجک مفادات اور طویل عرصے جاری دفاعی تعاون کی بنیاد پر تینوں رہنماؤں نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔

’یہ معاہدہ ایک محفوظ اور خوشحال مستقبل کے حصول کی خاطر اپنی اجتماعی سلامتی کو مزید مستحکم کرنے اور خطے اور اس سے باہر امن ،سلامتی اور استحکام کو فروغ دینے کے لیے تینوں ممالک کے مشترکہ عزم کا مظہر ہے۔‘

واضح رہے کہ پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر پاکستانی وفد کے ہمراہ جمعرات کو سعودی عرب پہنچے تھے جبکہ ترک صدر رجب طیب اردوغان معاہدے پر دستخط کے لیے جمعہ کی صبح سعودی عرب پہنچے ہیں۔

اس معاہدے کے حوالے سے خبریں اور قیاس آرائیاں کافی عرصے سے جاری تھیں اور رواں برس جنوری میں ترک وزیر خارجہ خاقان فیدان نے کہا تھا کہ پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون سے متعلق بات چیت جاری ہے۔

فیدان نے اس وقت کہا تھا کہ صدر اردوغان کی ’یہ سوچ ہے کہ ایک وسیع اور جامع پلیٹ فارم کی بنیاد رکھی جائے۔‘

اس کے بعد جنوری میں ہی پاکستان کے وزیرِ مملکت برائے دفاعی پیداوار رضا حیات ہراج نے تصدیق کی تھی کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے مابین ایک سال کے مذاکرات کے بعد دفاعی معاہدے کا مسودہ تیار ہو گیا ہے۔

تاہم انھوں نے واضح کیا تھا کہ یہ معاہدہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان پہلے سے موجود سکیورٹی معاہدے سے الگ ہو گا۔

یاد رہے گذشتہ برس ستمبر میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاملات میں تعاون اور سلامتی سے متعلق ’باہمی دفاع کا سٹریٹجک معاہدہ‘ ہوا تھا جس میں طے پایا تھا کہ کسی ایک ملک کے خلاف بیرونی جارحیت کو دونوں ملکوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔

پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے مابین یہ معاہدہ ایسے وقت میں طے پایا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں سکیورٹی اور سفارتی توازن تیزی سے بدل رہا ہے اور نئے اتحاد تشکیل پا رہے ہیں۔

پاکستان حالیہ عرصے میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی سفارتی کوششوں میں شامل رہا ہے، جبکہ ترکی غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی سطح پر سرگرم کردار ادا کرتا رہا ہے۔

اس مجوزہ معاہدے کو اس تناظر میں بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے کہ پاکستان مسلم دنیا کی واحد جوہری ہتھیاروں سے لیس ریاست ہے۔

یہ معاہدہ کتنا اہم ہے؟

اس حوالے سے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تینوں ممالک کے مابین ہونے والا یہ معاہدہ اہم ضرور ہے لیکن یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس کے بعد سب کچھ بدل جائے گا۔

ترک اخبار ’ڈیلی صباح‘ سے وابستہ صحافی مہمت چلیک کہتے ہیں کہ یہ اتحاد عالمی سطح پر گذشتہ ایک دہائی میں پیش آنے والے واقعات کا نتیجہ ہے۔

بی بی سی نیوز اُردو سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ یوکرین، روس جنگ، مشرقِ وسطیٰ کے بحران نے کئی ممالک کے لیے سکیورٹی چیلنجز بڑھا دیے ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ خاص طور پر رواں برس 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے نے بہت کچھ بدل کر رکھ دیا ہے اور اب بعض ممالک کو سکیورٹی کی ضمانت چاہیے۔

مہمت کہتے ہیں کہ سعودی عرب کی بات کریں تو اُسے 28 فروری کے بعد وہ سکیورٹی تحفظ نہیں ملا جس کی اسے اُمید تھی۔

’اسی طرح پاکستان کی بات کریں تو جوہری طاقت ہونے کے باوجود یہ بھی چاہتا ہے کہ انڈیا کے خلاف معاملات میں ممالک اس کے پیچھے کھڑے ہوں۔‘

اُن کے بقول اسی طرح ترکی بھی ایسے ہمسائیوں میں گھرا ہوا ہے، جہاں سکیورٹی مسائل ہیں۔ لہذا اسے بھی اپنی سکیورٹی کو مزید مستحکم کرنے کے لیے مزید وسائل اور فوجی تعاون کی ضرورت ہے۔

مہمت کہتے ہیں کہ ترکی یہ بھی چاہتا ہے کہ اسرائیل اور ایران کے ایسے اقدامات جن کا اندازہ لگانا مشکل ہے، اس کے مقابلے میں ایک سکیورٹی میکنزم موجود ہو تاکہ ان ممالک کی جانب سے پیدا کیے گئے عدم استحکام سے خود کو محفوظ رکھجا سکے۔

’یہ ایک بہت تاریخی اور اہم موقع ہے۔ نیتو کی دوسری سب سے مضوط فوج، جوہری صلاحیت کا حامل پاکستان، معاشی قوت اور بڑا بھائی سمجھے جانے والے سعودی عرب کے رہنماؤں کا جمعے کے روز مکہ میں جمع ہونا بہت اہم ہے۔‘

پاکستان کے سابق سفارتکار عمران علی کہتے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ کے حالات اور اسرائیل کے عزائم کے تناظر میں یہ معاہدہ بہت اہم ہے۔

بی بی سی نیوز اُردو سے گفتگو کرتے ہوئے عمران علی کا کہنا تھا کہ اسرائِیل کے سابق وزیرِ اعظم نے کچھ ماہ پہلے کہا تھا کہ اسرائیل کا اصل دُشمن وہ ’سُنی الائنس‘ ہے جو پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے مابین طے پا رہا ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے فروری میں کہا تھا کہ خطے میں ایک نیا محور ابھر رہا ہے جس میں ترکی، قطر، اخوان المسلمین اور ایٹمی ہتھیاروں سے لیس پاکستان شامل ہیں۔

یروشلم میں امریکی یہودی تنظیموں کے صدور کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نفتالی بینیٹ نے کہا تھا کہ یہ اتحاد اسرائیل کے خلاف دشمنی کو ہوا دے رہا ہے اور سعودی عرب پر اثر انداز ہونے کی کوششیں بھی کی جا رہی ہیں۔

پاکستان کے دفتر خارجہ نے سابق اسرائیلی وزیراعظم کے پاکستان سے متعلق بیان کو قیاس آرائی قرار دیا تھا۔

عمران علی کہتے ہیں کہ فی الحال تو نہیں لیکن مستقبل میں امریکہ بتدریج مشرقِ وسطیٰ سے نکلنے پر غور کر رہا ہے، اور بظاہر یہ تینوں ممالک ایک مضبوط اتحاد بنا کر اس کے متبادل کے طور پر یہاں اپنا اثر و رسوخ بڑھانا چاہتے ہیں۔

سابق سفارتکار جاوید حفیظ بھی سفارتکار عمران علی سے اتفاق کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ اور بالخصوص غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے، یہ اتحاد اس حوالے سے مسلمان ممالک کا فطری ردِعمل ہے۔

بی بی سی نیوز اُردو سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ یہ تینوں ممالک بہت اہم ہیں۔ ترکی کی دفاعی صلاحیت بہت مضبوط ہے، پاکستان مسلم دُںیا کی واحد جوہری طاقت ہے جبکہ سعودی عرب کے پاس دولت ہے۔

جاوید حفیظ کہتے ہیں کہ اس معاہدے کا مقام اور اس کی ٹائمنگ بھی بہت اہم ہے۔

جاوید حفیظ کہتے ہیں کہ آگے چل کر اس معاہدے میں مصر اور قطر بھی شامل ہو سکتے ہیں اور ہو سکتا ہے کہ کچھ برسوں بعد ایران بھی اس میں شامل ہو جائے۔

اُن کے بقول مکہ میں اس معاہدے پر دستخط کے ذریعے بظاہر یہ پیغام دینا مقصود ہو گا کہ کسی کو بھی خطے میں جارحیت اور مسلمانوں کے مقدس مقامات کی طرف آنکھ اُٹھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

عمران علی کے بقول سعودی عرب ترکی کے جدید دفاعی نظام اور پاکستان کی میزائل اور جوہری ٹیکنالوجی کو اسرائیل اور ایران کے خلاف ایک ’حفاظتی شیلڈ‘ سمجھتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ پاکستان ایران کے معاملے میں سفارتی سطح پر ایک ’تنی ہوئی رسی‘ پر چل رہا ہے۔ اس معاہدے کے بعد ایران کو یہ یقینی دہانی کروانی چاہیے کہ یہ اتحاد ایران کے خلاف نہیں ہے۔

’اگر ایران نے اس اتحاد کو اپنا دُشمن سمجھا تو پھر اس اتحاد کے مقاصد حاصل نہیں ہو سکیں گے۔‘

ایران کی جانب سے تاحال اس معاہدے پر کوئی باقاعدہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے تاہم ایرانی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے رکن ابراہیم رضائی نے ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’سعودیوں کو یہ جان لینا چاہیے کہ ترکی اور پاکستان کے ساتھ کاغذی معاہدے اُن کے لیے سلامتی کی ضمانت نہیں بن سکتے، بالکل اُسی طرح جیسے برسوں تک امریکہ کا یکطرفہ طور پر ساتھ دینے سے بھی انھیں سلامتی حاصل نہیں ہوئی۔‘

سفارتکار عمران علی کہتے ہیں کہ انڈیا نے گذشتہ برس مئی کی لڑائی میں ترکی کی جانب سے پاکستان کی حمایت پر ناراضی کا اظہار کیا تھا اور اب معاہدے پر تو اسے شدید اعتراض ہو گا۔

اُن کے بقول انڈین مبصرین گذشتہ دو ہفتے سے کہہ رہے تھے کہ یہ معاہدہ عملی شکل اختیار نہیں کرے گا کیونکہ اُن کا خیال تھا کہ ترکی باضابطہ طور پر اس معاہدے میں شامل نہیں ہو گا۔

Pakistan Saudi Arabia
Getty Images

ترکی کیسے اس معاہدے کو زیادہ مؤثر بنا سکتا ہے؟

ایک وقت تھا جب ترکی کا شمار دنیا میں اسلحے کے خریدار ملک کے طور پر ہوتا تھا لیکن اب ترکی کی دفاعی سازو سامان کی صنعت کی ترقی کے بعد ترکی اسلحے فروخت کرنے والے ملک کے طور پر نمایاں ہو رہا ہے۔

حالیہ چند برسوں کے دوران مختلف تنازعات کے دوران ترک ساختہ دفاعی سازوسامان نے ’گیم چینجر‘ کا کردار ادا کرتے ہوئے بین الاقوامی سطح پر کافی توجہ حاصل کی ہے۔

ترک ساختہ جنگی ڈرونز نے یوکرین، شام، لیبیا سمیت دیگر ممالک میں جاری تنازعات کے دوران اہم کردار ادا کیا ہے۔

ترک حکام کا کہنا ہے کہ وہ 80 فیصد اپنی دفاعی ضروریات مقامی طور پر پوری کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ترکی دنیا کے دیگر ممالک سے کم آسلحہ خریدتا ہے۔

ترکی سے تعلق رکھنے والی دفاعی سازوسامان بنانے والی پانچ کمپنیاں دنیا میں اسلحہ بنانے اور عسکری خدمات فراہم کرنے والی سو بہترین کمپنیوں کی فہرست میں شامل ہیں۔

سٹاک ہوم پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ (سپری) نے 2024 میں بہترین دفاعی سازو سامان اور عسکری خدمات فراہم کرنے والی سو کمپنیوں کی رینکنگ جاری کی ہے۔

آمدن کی بنیاد پر کی گئی اس رینکنگ یا درجہ بندی میں ترکی کی کمپنی ایسلیسن 52 ویں، بایکار 66 ویں اور ترکی کی ایرو سپیس انڈسٹریرز اس فہرست میں 75 ویں نمبر پر ہے۔

دی مشینری اینڈ کیمیکل انڈسٹری کارپوریشن اس درجہ بندی میں 93 ویں نمبر پر ہے۔

سپری کی اس تازہ ترین رینکنگ میں ترکی کی کپمنیوں کی شمولیت یہ ظاہر کرتی ہے کہ ترکی کی دفاعی صنعت وسیع ہو رہی ہے اور دنیا میں اسلحہ کی تجارت میں ترکی کا اثرروسوخ بڑھ رہا ہے۔

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان دفاعی شعبے میں خود کفالت سے عوامی رائے اپنے حق میں ہموار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

حکومتی میڈیا کا کہنا ہے کہ دفاعی شعبے کی ترقی بین الاقوامی سطح پر ترکی کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی عکاسی کرتی ہے۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US