پتّے کی پتھری بننے کی اہم وجوہات میں صفرا میں کولیسٹرول کی مقدار زیادہ ہونا، پتّے کا مکمل طور پر خالی نہ ہونا، بلی روبن کی ضرورت سے زیادہ پیداوار اور پتّے میں انفیکشن یا سوزش ہونا ہیں۔
پتّے کی پتھری نظامِ ہضم کا ایک عام مسئلہ ہے’میرے پیٹ کے دائیں جانب اچانک شدید درد شروع ہو گیا۔ پہلے مجھے لگا شاید گیس ہے۔ دوا لینے کے باوجود درد کم نہ ہوا۔ آخرکار جب ٹیسٹ کروائے گئے تو معلوم ہوا کہ میرے پتے کے اندر پتھری موجود ہے۔‘
پتّے کی پتھری دنیا بھر میں نظامِ ہضم سے متعلق ایک عام بیماری ہے اور بہت سے لوگوں کو ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اس بیماری میں مبتلا بہت سے لوگوں کو برسوں تک کوئی علامت محسوس نہیں ہوتی، لیکن بعض افراد میں یہ شدید درد، انفیکشن، یرقان اور سوزش جیسی سنگین پیچیدگیوں کا باعث بن سکتی ہے۔
اگر اس کی بروقت تشخیص اور مناسب علاج کیا جائے تو اسے مکمل طور پر ٹھیک کرنا ممکن ہے۔
پتّہ جگر کے نیچے موجود ایک چھوٹا، تھیلی نما عضو ہےپِتّے میں کرسٹلز
پتّہ جگر کے نیچے موجود ایک چھوٹا سا تھیلی نما عضو ہوتا ہے۔ اس کی لمبائی عام طور پر سات سے 10 سینٹی میٹر تک ہوتی ہے۔
اس کا بنیادی کام جگر میں روزانہ بننے والے صفرا (بائل) کو عارضی طور پر ذخیرہ کرنا ہے۔ پتّے میں موجود صفرا (بائل) بنیادی طور پر تین اجزا پر مشتمل ہوتا ہے، جن میں کولیسٹرول، بائل سالٹس اور بلی روبن شامل ہوتے ہیں۔
جب ان تینوں اجزا کا توازن بگڑ جاتا ہے تو چھوٹے چھوٹے کرسٹل بننا شروع ہو جاتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ کرسٹل بڑے ہو کر پتھری کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔
پتّے کی پتھری بننے کی اہم وجوہات میں صفرا میں کولیسٹرول کی مقدار زیادہ ہونا، پتّے کا مکمل طور پر خالی نہ ہونا، بلی روبن کی ضرورت سے زیادہ پیداوار اور پتّے میں انفیکشن یا سوزش ہونا ہیں۔
انڈیا میں پتّے کی پتھری ایک بڑھتا ہوا طبی مسئلہ بن رہی ہے (علامتی تصویر)پتے کی پتھری کی اقسام
پتے کی پتھریوں کی اقسام کی بات کی جائے تو ان میس سب سے عام کولیسٹرول کے سبب بنے والی پتھری ہے۔ تقریباً 80 فیصد کیسز میں اسی قسم کی پتھری بنتی ہے۔
دوسری قسم پگمنٹ پتھری ہے۔ یہ پتھری خون میں بلی روبن کی مقدار بڑھ جانے کی وجہ سے بنتی ہے۔ عموماً جگر کی بیماریوں یا خون سے متعلق بعض مخصوص بیماریوں کے باعث اس قسم کی پتھری بن سکتی ہے۔
جبکہ تیسری اقسام کو مخلوط پتھری کہا جاتا ہے اور یہ کولیسٹرول، کیلشیم اور بلی روبن کے امتزاج سے بنتی ہے۔
کن افراد کو زیادہ خطرہ ہے
ڈاکٹر اس خطرے کو سمجھنے کے لیے عموماً ’فائیو ایف فارمولے‘ کا ذکر کرتے ہیں۔
ان کے مطابق کے مطابق خواتین میں پتّے کی پتھری مردوں کے مقابلے میں زیادہ پائی جاتی ہے۔ اسی طرح 40 سال سے زیادہ عمر کے افراد میں اس بیماری کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
زیادہ وزن یا موٹاپے کے شکار افراد بھی اس کے زیادہ خطرے سے دوچار ہوتے ہیں۔ بالغ اور جوان خواتین، یعنی وہ خواتین جو حاملہ ہو سکتی ہیں، ان میں بھی پتّے کی پتھری نسبتاً زیادہ دیکھی جاتی ہے۔
اس کے علاوہ مغربی ممالک میں گوری رنگت کے افراد میں بھی اس بیماری کی شرح زیادہ دیکھی گئی ہے۔
تاہم اس کے علاوہ دیگر وجوہات اور خطرے کے عوامل بھی موجود ہیں۔
ماہرین کے مطابق موٹاپا، ذیابیطس، خون میں کولیسٹرول کی بلند سطح، حمل اور ایسٹروجن ہارمون پر مشتمل بعض ادویات کا استعمال پتّے کی پتھری کے خطرے میں اضافہ کر سکتے ہیں۔
خاندان میں اس بیماری کی موجودگی، طویل عرصے تک فاقہ کرنا یا کھانا نہ کھانا، تیزی سے وزن کم ہونا، زیادہ چکنائی والی غذا اور کم فائبر والی خوراک بھی اس خطرے سے منسلک ہیں۔
اس کے علاوہ جگر کی بعض بیماریاں، ہیمولائٹک انیمیا اور عمر میں اضافے کے ساتھ بھی پتّے کی پتھری کا امکان بڑھ سکتا ہے۔
انڈیا میں پتّے کی پتھری ایک بڑھتا ہوا صحت کا مسئلہ بن رہی ہے۔ اندازوں کے مطابق پانچ سے 15 فیصد افراد کو اپنی زندگی میں کم از کم ایک مرتبہ پتّے کی پتھری سے متعلق کسی نہ کسی مسئلے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بیماری مردوں کے مقابلے میں خواتین میں دو سے تین گنا زیادہ پائی جاتی ہے، جبکہ 40 سال کی عمر کے بعد اس کا خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق حالیہ برسوں میں نوجوانوں میں بھی اس بیماری کے کیسز دیکھے جا رہے ہیں، جس کی بڑی وجوہات بڑھتا ہوا موٹاپا، جسمانی سرگرمیوں کی کمی اور فاسٹ فوڈ کا زیادہ استعمال ہیں۔
پتھری کی علامات کیا ہیں؟
زیادہ تر لوگوں میں پتّے کی پتھری کا پتا اتفاقاً الٹراساؤنڈ کے دوران چلتا ہے۔ علامات ظاہر ہونے پر مریض کو پیٹ کے دائیں جانب شدید درد محسوس ہو سکتا ہے۔
یہ درد بعض اوقات کندھے یا کمر تک بھی پھیل جاتا ہے۔ چکنائی والی غذا کھانے کے بعد درد بڑھ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ بے چینی، قے، بدہضمی، پیٹ پھولنے اور معدے میں گیس جمع ہونے کی شکایت بھی ہو سکتی ہے۔
اگر مریض کو بخار آئے، کپکپی محسوس ہو، یرقان ہو جائے، آنکھیں پیلی پڑ جائیں، پیشاب کا رنگ گہرا ہو جائے یا پاخانے کا رنگ سفید یا ہلکا ہو جائے تو اسے فوری طور پر ہسپتال جانا چاہیے۔
اسی طرح پیٹ میں شدید درد یا مسلسل قے آنا بھی ایسی علامات ہیں جن کی صورت میں فوری طبی امداد حاصل کرنا ضروری ہے۔
پتّے کی پتھری کی وجہ سے عموماً فوری طور پر کوئی علامات ظاہر نہیں ہوتیں اور اکثر اس کا پتا الٹراساؤنڈ کے ذریعے چلتا ہے (علامتی تصویر) پتھری کی تشخیص
پتّے کی پتھری کی تشخیص کے لیے سب سے زیادہ الٹراساؤنڈ ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔ یہ ایک سادہ، کم خرچ اور انتہائی مؤثر ٹیسٹ ہے۔
تاہم ابتدائی تشخیص کے لیے خون کے ٹیسٹ بھی کیے جاتے ہیں، جن میں سی بی سی ، لیور فنکشن ٹیسٹ، سیرم بلی روبن اور جگر کے دیگر انزائمز شامل ہوتے ہیں۔
اگر صفرا کی نالی میں پتھری ہونے کا شبہ ہو تو سی ٹی سکین یا ایم آر سی پی کرایا جاتا ہے۔
ای آر سی پی نہ صرف پتھری کی نشاندہی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے بلکہ بعض صورتوں میں اس کے ذریعے پتھری نکالی بھی جا سکتی ہے۔
پتّے کی پتھری کا علاج کیسے کیا جاتا ہے؟
طبی ماہرین کے مطابق جن لوگوں کو پتّے کی پتھری تو ہو لیکن کوئی علامات ظاہر نہ ہوں، انھیں عموماً کسی علاج کی ضرورت نہیں پڑتی۔ ایسی صورت میں ڈاکٹر کی نگرانی اور باقاعدہ معائنہ کافی ہوتا ہے۔
تاہم اگر علامات برقرار رہیں یا مریض کو بار بار درد کی شکایت ہو تو سرجری ایک مؤثر علاج سمجھی جاتی ہے۔
اس مقصد کے لیے عام طور پر لیپروسکوپک کولی سسٹیکٹومی کی جاتی ہے، جسے اس وقت دنیا بھر میں معیاری علاج سمجھا جاتا ہے۔ اس عمل میں پتّے کو جراحی کے ذریعے نکال دیا جاتا ہے۔
لیپروسکوپک سرجری میں بڑا زخم لگانے کی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ چھوٹے چیروں کے ذریعے آپریشن کیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے درد نسبتاً کم ہوتا ہے اور خون بھی کم بہتا ہے۔
اس کے علاوہ مریض نسبتاً جلد صحت یاب ہو جاتا ہے اور عموماً ایک یا دو دن کے اندر ہسپتال سے گھر جا سکتا ہے۔
ہنگامی سرجری کب ضروری ہے؟
بعض صورتوں میں، پتھری کے لیے دوا دی جا سکتی ہے، لیکن یہ سب کے لیے موثر نہیں ہوتیپتّے کی پتھری بعض اوقات سنگین طبی مسائل کا باعث بن سکتی ہے۔ ان میں پتّے کی شدید سوزش، پتّے کے پھٹ جانے کا خطرہ، صفرا کی نالی میں رکاوٹ، لبلبے کی سوزش (پینکریاٹائٹس) اور انفیکشن شامل ہیں، جس میں ایمرجنسی کی صورتحال کے پیش نظر فوری سرجری کی جاتی ہے۔ ۔
کچھ مخصوص حالات میں پتّے کی پتھری کے علاج کے لیے ادویات استعمال کی جا سکتی ہیں، تاہم یہ طریقہ ہر مریض کے لیے مؤثر نہیں ہوتا۔
کولیسٹرول والی چھوٹی پتھری رکھنے والے بعض مریضوں کو ادویات سے فائدہ ہو سکتا ہے۔
تاہم علاج مکمل ہونے میں کئی ماہ، بلکہ بعض اوقات کئی سال بھی لگ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ پتھری دوبارہ بننے کا خطرہ بھی بہت زیادہ رہتا ہے۔ اسی لیے سرجری کو اس مسئلے کا مستقل حل سمجھا جاتا ہے۔
علاج میں تاخیر کی صورت میں کیا ہو سکتا ہے؟
اگر پتّے کی پتھری کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ مختلف پیچیدگیوں کا سبب بن سکتی ہے۔
اس کی وجہ سے پتّے میں شدید سوزش پیدا ہو سکتی ہے یا پتّے میں پیپ پڑ سکتی ہے۔ بعض صورتوں میں پتّے کے ٹشوز کو نقصان پہنچ سکتا ہے، جبکہ پتّہ پھٹ بھی سکتا ہے۔
پتھری صفرا کی نالی میں رکاوٹ پیدا کرے تو یرقان ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ صفرا کی نالی میں انفیکشن بھی ہو سکتا ہے۔
بعض مریضوں میں لبلبے کی سوزش (پینکریاٹائٹس) پیدا ہو سکتی ہے، جبکہ کچھ صورتوں میں آنتوں میں رکاوٹ بھی پیدا ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق پتّے کی پتھری کے مریضوں میں شاذ و نادر ہی سہی، لیکن پتّے کے کینسر کا خطرہ بھی موجود ہوتا ہے۔
کیا پتّے کی پتھری سے بچا جا سکتا ہے؟
صحت مند طرز زندگی کو اپنا کر پتھری کے خطرے کو نمایاں طور پر کم کیا جا سکتا ہےاگرچہ پتّے کی پتھری سے سو فیصد بچاؤ ممکن نہیں، تاہم چند احتیاطی تدابیر اختیار کر کے اس کے خطرے کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صحت مند وزن برقرار رکھنا اس سلسلے میں اہم ہے۔ موٹاپے سے بچنا چاہیے، تاہم وزن اچانک کم کرنے کی کوشش بھی نہیں کرنی چاہیے۔
ایسے طریقوں سے گریز کرنا چاہیے جن کے نتیجے میں ایک ماہ میں دو سے چار کلو گرام سے زیادہ وزن کم ہو جائے۔
روزانہ کم از کم 30 سے 45 منٹ ورزش کرنا بھی فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔
غذا میں پھل، سبزیاں، ثابت اناج اور فائبر سے بھرپور غذائیں شامل کرنی چاہییں تاکہ متوازن خوراک کو یقینی بنایا جا سکے۔
اس کے ساتھ فاسٹ فوڈ، تلی ہوئی اشیا، گھی، مکھن، ٹرانس فیٹس اور زیادہ چینی والی غذاؤں کا استعمال کم کرنا چاہیے۔
ہر روز مناسب مقدار میں پانی پینا بھی ضروری ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر کسی شخص کو ذیابیطس ہو تو اسے قابو میں رکھنے سے بھی پتّے کی پتھری کا خطرہ کم ہو سکتا ہے۔
پتّے کی پتھری سے متعلق عام غلط فہمیاں
اگر آپ کو پیٹ کے اوپری دائیں حصے میں بار بار درد محسوس ہوتا ہے تو خود علاج کرنے کے بجائے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا اور الٹراساؤنڈ سکین کروانا بہتر ہےایک عام غلط فہمی یہ ہے کہ پتّے کی پتھری ہونے کی صورت میں ہر مریض کو سرجری کروانا ضروری ہوتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں میں کوئی علامات ظاہر نہیں ہوتیں، انھیں عموماً سرجری کی ضرورت نہیں پڑتی۔ ایک اور غلط فہمی یہ ہے کہ آیورویدک یا گھریلو علاج سے پتھری کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اس دعوے کے حق میں کوئی سائنسی ثبوت موجود نہیں۔ ماہرین کے مطابق خود علاج کرنے کی کوشش بعض اوقات خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
بعض لوگ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ پتّہ نکلوانے کے بعد زندگی بھر ہاضمے کے مسائل رہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ زیادہ تر لوگ پتّہ نکلوانے کے بعد معمول کی زندگی گزارتے ہیں۔
نوٹ: مصنف ایک ڈاکٹر ہیں۔ اس مضمون کا مقصد طبی طریقۂ علاج اور بیماریوں کے بارے میں آگاہی فراہم کرنا ہے۔ صحت سے متعلق کوئی بھی فیصلہ صرف ڈاکٹر کے مشورے سے ہی کرنا چاہیے۔