صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ نیتن یاہو کی جانب سے غزہ امن منصوبہ مسترد کیے جانے کے اعلان پر جلد اپنا جواب دیں گے۔ اگرچہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے غزہ میں حماس کو غیر مسلح کرنے کے لیے بورڈ آف پیس کے نئے منصوبے کو دوٹوک انداز میں مسترد کر دیا ہے تاہم امکان ہے کہ یہ حتمی بات نہیں ہو گی۔
مبصرین کا خیال ہے کہ وائٹ ہاؤس نیتن یاہو کا موقف سمجھتا ہے اور فی الحال انھیں ’رعایت‘ دے رہا ہےاگرچہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے غزہ میں حماس کو غیر مسلح کرنے کے لیے بورڈ آف پیس کے نئے منصوبے کو دوٹوک انداز میں مسترد کر دیا ہے، تاہم امکان ہے کہ اُن کی یہ بات حتمی تصور نہیں ہو گی۔
اطلاعات کے مطابق وائٹ ہاؤس نیتن یاہو کے بیان سے ’پریشان نہیں‘ اور اس بیان کو اسرائیل میں عام انتخابات میں متوقع سخت مقابلے سے قبل انتخابی مہم کی بیان بازی سمجھتا ہے۔
اسرائیلی صحافی باراک راوِد نے ایک سینیئر امریکی اہلکار کے حوالے سے کہا ہے کہ ’ہم نیتن یاہو کی سیاسی ضروریات کو سمجھتے ہیں۔‘
وہ مزید کہتے ہیں کہ ’ہمیں اس سے کوئی مسئلہ نہیں، جب تک وہ وہی کرتے رہیں جو ہم (امریکہ) اُن سے کہہ رہے ہیں، خاص طور پر غزہ میں حملوں کو محدود رکھنے کے حوالے سے۔‘
حالیہ دنوں میں غزہ پر اسرائیلی حملوں میں بظاہر وقفہ دیکھا گیا ہے اور یہی وہ بات تھی جس کا حماس نے امریکی حمایت یافتہ 15 نکاتی روڈ میپ پر اتفاق کرتے وقت مطالبہ کیا تھا۔
ایک اور اشارہ بھی مل رہا ہے کہ اسرائیل غزہ کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے تیار ہے۔ اس سلسلے میں بین الاقوامی استحکام فورس (آئی ایس ایف) کی تعیناتی کی تیاری کی جا رہی ہے۔
یہ فورس بین الاقوامی فوجیوں پر مشتمل ہے اور منصوبہ یہ ہے کہ وہ علاقے کی سکیورٹی کے لیے ایک نئی فلسطینی پولیس فورس کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔
اسرائیلی سرکاری ریڈیو کان نیوز کے مطابق جنوبی غزہ میں رفح کے کھنڈرات کے درمیان آئی ایس ایف کے پہلے اڈے کی متوقع تعمیر اس ماہ کے آخر میں شروع ہونے والی ہے جس سے بالآخر غزہ کی تعمیرِ نو کا آغاز ممکن ہو سکے گا۔
جولائی میں کئی ماہ کے مشکل مذاکرات کے بعد ٹرمپ نے اسرائیل کی غزہ میں جنگ ختم کرنے کے اپنے منصوبے پر عملدرآمد میں ایک ’بڑے سنگِ میل‘ کا اعلان کیا تھا۔
اپنے سوشل پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ بورڈ آف پیس نے علاقے میں حماس اور دیگر فلسطینی مسلح گروہوں کے مکمل غیر مسلح کرنے کے لیے ایک معاہدہ طے کر لیا ہے۔
اس معاہدے پر مرحلہ وار عمل ہونا ہے جس کے تحت تمام ہتھیار غیر فعال کر کے غزہ میں ایک نئی فلسطینی انتظامیہ کے سپرد کیے جائیں گے جو بورڈ آف پیس کو رپورٹ کرے گی۔ جبکہ اسرائیلی افواج غزہ کے اس 60 فیصد سے زیادہ حصے سے واپس چلی جائیں گی جس پر اِس وقت اُس کا کنٹرول ہے۔
حماس کے سینیئر رہنماؤں نے تصدیق کی کہ انھوں نے نئے فریم ورک سے اتفاق کیا ہے۔ لیکن اس شرط کے ساتھ کہ اسرائیل بھی اس پر عمل کرے گا۔ اسے تنازع میں ایک بڑی ممکنہ پیش رفت کے طور پر دیکھا گیا۔ برطانیہ نے اس کا خیرمقدم کیا جبکہ یورپی یونین نے اسے ’اہم قدم‘ قرار دیا۔
تاہم ایک ہفتے سے زیادہ عرصے تک اسرائیل نے اس پر اپنا باضابطہ جواب نہیں دیا۔
ایک اسرائیلی ترجمان نے صرف اتنا کہا کہ یہ منصوبہ ’اسرائیل کے موقف کی عکاسی نہیں کرتا۔‘ حکومت کے ایک انتہائی دائیں بازو کے رُکن اتمار بن گویر نے ایکس پر لکھا کہ یہ معاہدہ ’ناقابلِ قبول‘ ہے۔
بتدریج اسرائیل کے مرکزی دھارے کے حزب اختلاف کے سیاستدانوں نے بھی اس پر شکوک کا اظہار کرنا شروع کر دیا ہے۔ انھوں نے سوال اٹھایا کہ آیا تمام چھوٹے ہتھیار غیر فعال کیے جائیں گے اور یہ کہ منصوبے پر عملدرآمد کی ترتیب کیا ہو گی۔
نیتن یاہو کے بیان پر ٹرمپ کا ردعمل
اتوار کو نیتن یاہو نے اپنی کابینہ سے کہا کہ ’میں یہاں واضح کرنا چاہتا ہوں: اسرائیل 15 نکاتی دستاویز کو قبول نہیں کرتا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’آئی ڈی ایف (اسرائیل ڈیفنس فورسز) اس وقت تک کسی انخلا پر عمل نہیں کرے گی جب تک حماس غیر مسلح نہیں ہو جاتی۔ اور جب میں حماس کو غیر مسلح کرنے کی بات کرتا ہوں تو اس کا مطلب بھاری ہتھیار، ہلکے ہتھیار، تمام ہتھیار۔ اور ہم حقیقی طور پر غیر مسلح ہونے کی بات کر رہے ہیں، نہ کہ فرضی غیر مسلح ہونے کی۔‘
اسی بیان میں اسرائیلی وزیرِ اعظم نے صدر ٹرمپ کو ’وائٹ ہاؤس میں ہمارے سب سے عظیم دوست‘ قرار دیا۔ لیکن انھوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل جانتا ہے کہ ناقابلِ قبول خیالات کے خلاف ’مضبوطی سے کیسے کھڑا رہنا ہے۔‘
اس کے جواب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ اسرائیلی وزیر اعظم کے اس بیان کا ’جلد جواب دیں گے۔‘
وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وہ ’نیتن یاہو کے موقف پر اپنا ردِعمل سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری کریں گے۔‘
انھوں نے کہا ’میں اپنا جواب وہاں پوسٹ کروں گا۔ میرے پاس ایک جواب ہے، ایک اچھا جواب اور میں اسے وہاں شائع کر دوں گا۔‘
ٹرمپ نے مزید کہا کہ ان کے اور نیتن یاہو کے درمیان تعلقات ’اب بھی بہت اچھے ہیں۔‘
دونوں رہنماؤں پر انتخابات کا دباؤ
اسرائیل میں اس حوالے سے وسیع پیمانے پر شکوک پائے جاتے ہیں کہ آیا حماس واقعی اپنی ذمہ داریوں پر عمل کرے گی۔
حماس طویل عرصے سے ’مسلح جدوجہد‘ کو اپنے بنیادی اصول کے طور پر دیکھتی ہے اور اسے فلسطینی زمینوں پر اسرائیلی قبضے کا جائز جواب قرار دیتی ہے۔ حالیہ مہینوں میں ایسے اشارے ملے تھے کہ وہ غزہ میں اپنی اتھارٹی دوبارہ مضبوط کر رہی ہے۔
اسرائیلی تجزیہ کار اور یروشلم کی سابق نائب میئر فلور حسن نہوم نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ ’اسرائیل یقیناً کسی ایسی جگہ سے پسپائی پر کبھی رضامند نہیں ہو سکتا جہاں وہ دہشت گرد گروہ اب بھی موجود ہو، اور اب بھی پٹی پر حکمرانی کر رہا ہو۔ یہیں سے اس نے ہولوکاسٹ کے بعد سب سے بڑے قتلِ عام کا سبب بننے والے حملے کیے تھے۔‘
انھوں نے زور دیا کہ سات اکتوبر 2023 کو حماس کی قیادت میں ہونے والے مہلک حملوں سے پیدا ہونے والے ’اسرائیلی عوام کے صدمے‘ کو کم نہیں سمجھنا چاہیے۔ ان کے بقول انھی حملوں نے غزہ کی تباہ کن جنگ کو بھڑکا دیا تھا۔
نیتن یاہو کے لیے کسی بھی ممکنہ رعایت کا وقت سیاسی طور پر نہایت حساس ہو گا۔
وہ 27 اکتوبر کو ہونے والے آئندہ عام انتخابات میں ایک مشکل مقابلے کا سامنا کر رہے ہیں۔
یہ سات اکتوبر کے حملے کے بعد اسرائیل کے پہلے انتخابات ہوں گے اور تین برس گزر جانے کے باوجود نیتن یاہو وہ مقصد حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں جس کا انھوں نے وعدہ کیا تھا، یعنی ’حماس کے خلاف مکمل فتح۔‘
سابق امریکی سفارتکار اور مشرقِ وسطیٰ کے تجربہ کار مذاکرات کار ایرن ڈیوڈ ملر نے کہا کہ اسرائیلی رہنما اپنی سیاسی زندگی کے ’سب سے اہم انتخابات‘ کا سامنا کر رہے ہیں۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’وہ اپنے حامیوں کو مطمئن رکھنے اور صدر ٹرمپ کو ناراض یا خود سے دور نہ کرنے کے درمیان ایک نہایت باریک لکیر پر چل رہے ہیں۔‘
فی الحال ان کے خیال میں وائٹ ہاؤس صورتحال کو سمجھتا ہے اور نیتن یاہو کو ’رعایت‘ دے رہا ہے۔
ملر نے مزید کہا کہ ’یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ آپ کو کسی نئی اسرائیلی حکومت کے آنے سے پہلے کوئی سنجیدہ پیش رفت دیکھنے کو ملے گی۔‘
اس دوران بورڈ آف پیس اپنے منصوبے کے بارے میں اسرائیلی عوام کو یقین دلانے کی کوشش کر رہا ہے۔
غزہ کے ہائی کمشنر نکولے ملادینوف، جنھوں نے حماس کے ساتھ کئی ماہ تک جاری رہنے والے مذاکرات کی قیادت کی تھی، نے منصوبے کو نیتن یاہو کی جانب سے باضابطہ طور پر مسترد کیے جانے کے چند گھنٹے بعد اسرائیل کے چینل 12 کو ایک انٹرویو دیا۔
انھوں نے کہا کہ ’اس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ غزہ دوبارہ کبھی اسرائیلی سلامتی کے لیے خطرہ نہ بنے اور جو کچھ پہلے 7 اکتوبر کو ہوا تھا، وہ دوبارہ کبھی نہ ہو۔‘
انھوں نے کہا کہ معاہدے میں ’مرحلہ وار طریقہ کار‘ شامل ہے، یعنی ’اگر ہتھیاروں کو غیر فعال کیے جانے کی تصدیق ہو جاتی ہے، اگر انھیں گروہوں سے لے کر محفوظ رکھا جاتا ہے اور بالآخر ناقابلِ استعمال بنا دیا جاتا ہے تو پھر اسرائیل غزہ سے انخلا کرتا ہے۔‘
ملادینوف نے کہا کہ کوئی بھی چیز ’اعتماد‘ کی بنیاد پر نہیں بلکہ ’تصدیق‘ کی بنیاد پر قائم کی جا رہی ہے۔
اس کے بعد حماس نے اشارہ دیا ہے کہ وہ اب بھی منصوبے پر پابند ہے۔ اس نے ثالثوں اور بورڈ آف پیس سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کو طے شدہ شرائط پر عمل کرنے کے لیے آمادہ کریں۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم نے تصدیق کی ہے کہ امریکیوں کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔
دوسری جانب واشنگٹن کی جانب سے شدید دباؤ میں اضافے کا امکان ہے۔
ٹرمپ کو بھی اس سال ایک اہم انتخاب کا سامنا ہے، یعنی نومبر میں امریکی کانگریس کے وسط مدتی انتخابات۔ ان کی ریپبلکن پارٹی کو بھاری نقصانات کے خدشات لاحق ہیں۔ ادھر پیٹرول اور اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے جس کی ایک وجہ ایران میں واشنگٹن کی پانچ ماہ طویل اور غیر مقبول جنگ بھی ہے۔
امریکی صدر کی اپنی مقبولیت کی شرح بھی نمایاں طور پر گر چکی ہے اور ممکن ہے کہ وہ غزہ کے لیے اپنے امن منصوبے میں مثبت پیش رفت کا مطالبہ کریں تاکہ خارجہ پالیسی میں ایک انتہائی ضروری کامیابی حاصل کی جا سکے۔
مذاکرات میں شامل فلسطینی حکام کا خیال ہے کہ حماس کی نئی قیادت حماس کی تاریخ کے سب سے نتیجہ خیز سیاسی فیصلے کے لیے تیار تھیحماس کی رضامندی حاصل کرنے والا یہ منصوبہ ہے کیا؟
کئی ماہ کے طویل مذاکرات کے بعد حماس نے غزہ میں غیرمسلح ہونے کے ’بورڈ آف پیس‘ کے منصوبے کو قبول کیا تھا۔
اس منصوبے کے تحت حماس کے پاس موجود بھاری ہتھیار اور ذخیرے کی نگرانی فلسطینیوں کے سپرد کرنے کی تجویز ہے۔ اس سے قبل اس معاملے پر حماس کے مسلسل انکار کو اس منصوبے کی راہ میں بڑی رکاوٹ قرار دیا جا رہا تھا۔
یہ اقدام حماس کی جانب سے قیادت کے انتخابات کے فوراً بعد سامنے آیا ہے جس میں غزہ میں مقیم رہنما خلیل الحیہ کو تحریک کا سربراہ بنایا گیا تھا۔
مذاکرات میں شامل فلسطینی حکام کا خیال ہے کہ حماس کی نئی قیادت حماس کی تاریخ کے سب سے نتیجہ خیز سیاسی فیصلے کے لیے تیار تھی۔
حماس کے ایک سینیئر اہلکار اور تحریک کی مذاکراتی ٹیم کے رکن نے بی بی سی کو بتایا کہ مذاکرات ’طویل اور انتہائی مشکل‘ تھے۔
حماس نے اس کے پاس موجود ہتھیار اسرائیل کے حوالے کرنے کے بجائے فلسطینیوں کی نگرانی میں ’ہتھیاروں کو ذخیرہ کرنے‘ کے الفاظ پر اصرار کیا تھا۔
یہ فیصلہ کرنا ابھی قبل از وقت ہے کہ آیا معاہدہ مکمل طور پر نافذ ہوگا یا تمام فریقین اپنے وعدوں کا احترام کریں گے۔
لیکن اگر یہ برقرار رہتا ہے، تو یہ تقریباً تین سال تک جاری رہنے والی جنگ کے خاتمے اور وسیع تر سیاسی عمل کے لیے راہیں کھولنے کی طرف پہلا قابل اعتبار قدم ثابت ہو سکتا ہے۔
گذشتہ برس ستمبر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس منصوبے کے اعلان کے بعد اسے وائٹ ہاؤس کی آفیشل ویب سائٹ پر شیئر کیا گیا تھا۔
اس میں کہا گیا تھا کہ غزہ دہشت گردی سے پاک علاقہ ہو گا اور یہ اپنے پڑوسیوں کے لیے خطرہ نہیں ہو گا۔ غزہ کو اس کے شہریوں کے لیے دوبارہ تعمیر کیا جائے گا، جو پہلے ہی بہت زیادہ نقصان اٹھا چکے ہیں۔
امن منصوبے کے تحت اگر دونوں فریق، اسرائیل اور حماس، اس تجویز پر راضی ہو جاتے ہیں تو جنگ فوراً ختم ہو جائے گی۔ اسرائیلی فورسز یرغمالیوں کی رہائی کی تیاری کے لیے طے شدہ لائن پر واپس چلی جائیں گی۔ اس دوران، تمام فوجی کارروائیاں، بشمول فضائی اور توپخانے سے بمباری روک دی جائے گی، اور مکمل انخلا کی شرائط کے مکمل ہونے تک ہر طرح کی عسکری کارروائیاں روک دی جائیں گی۔
اس معاہدے کی منظوری کے بعد فوری طور پر غزہ کے لیے مکمل امداد بھیجی جائے گی۔ امداد کی مقدار کم از کم 19 جنوری 2025 میں ہونے والے انسانی امداد کے معاہدے کے مطابق ہو گی، جس میں بنیادی ڈھانچے کی بحالی (پانی، بجلی، سیوریج)، ہسپتالوں اور بیکریوں کی بحالی، اور ملبہ ہٹانے اور سڑکیں کھولنے کے لیے ضروری مشینری کا غزہ داخلہ شامل ہے۔
غزہ کی پٹی میں امداد کا داخلہ اور تقسیم دونوں فریقوں، اسرائیل اور حماس، کی مداخلت کے بغیر اقوام متحدہ اور اس کی ایجنسیوں، اور ہلال احمر کے علاوہ دیگر بین الاقوامی اداروں کے ذریعے ہو گی۔
اس کے علاوہ کسی ایسی تنظیم کو بھی امدادی کارروائیوں کی اجازت نہ ہو گی جو کسی بھی فریق کے ساتھ کسی بھی طرح سے وابستہ ہو۔ رفح کراسنگ کو دونوں سمتوں میں کھولنا 19 جنوری 2025 کے معاہدے کے تحت نافذ کردہ اسی طریقہ کار سے مشروط ہو گا۔
غزہ میں ایک ٹیکنوکریٹک، غیر سیاسی فلسطینی کمیٹی کی عارضی عبوری حکومت قائم کی جائے گی، جو غزہ میں عوامی خدمات اور بلدیاتی ادارے چلانے کی ذمہ دار ہو گی۔ یہ کمیٹی اہل فلسطینیوں اور بین الاقوامی ماہرین پر مشتمل ہو گی۔
اس کمیٹی کی نگرانی ایک نیا بین الاقوامی عبوری ادارہ 'بورڈ آف پیس' کرے گا، جس کی سربراہی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے۔ اس بورڈ میں برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر بھی شامل ہوں گے جبکہ دیگر اراکین اور سربراہان مملکت کا اعلان بھی کیا جائے گا۔
یہ ادارہ غزہ کی تعمیر نو کے لیے فریم ورک کا تعین کرے گا اور اس وقت تک فنڈز کو سنبھالے گا جب تک کہ فلسطینی اتھارٹی غزہ کا مؤثر طریقے سے کنٹرول سنبھال نہیں لیتی اور اپنا اصلاحاتی پروگرام مکمل نہیں کر لیتی جیسا کہ صدر ٹرمپ کے 2020 کے امن منصوبے اور سعودی فرانسیسی منصوبے جیسی مختلف تجاویز میں بیان کیا گیا ہے۔