محمد باقر خرازی: طاقتور حلقوں کے قریب سمجھی جانے والی متنازع شخصیت، جن کے دعوؤں کی تردید خامنہ ای کو کرنا پڑی

ایک متنازع روحانی شخصیت اور طاقتور حلقوں کے قریب سمجھے جانے والے محمد باقر خرازی اپنے وسیع خاندانی روابط، غیر معمولی وعدوں اور دعوؤں کے باعث متعدد بار خبروں کی زینت بن چکے ہیں۔ یہاں تک کہ رہبرِ اعلیٰ کے دفتر کی جانب سے اُن کے بیانات پر تردید بھی انھیں مکمل طور پر پس منظر میں دھکیلنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔

اسلامی جمہوریہ ایران میں اقتدار کے حاشیوں پر ہمیشہ ایسے افراد کی موجودگی دیکھی جاتی رہی ہے جنھیں ’اندرونی حلقوں کے مشکلات پیدا کرنے والے عناصر‘ کہا جا سکتا ہے۔ یہ لوگ نہ تو کسی سرکاری عہدے پر فائز ہوتے ہیں اور نہ ہی اُن کی کوئی رسمی حیثیت ہوتی ہے، مگر اقتدار کے مرکز سے اُن کی قربت اِس قدر ہوتی ہے کہ اُن کی باتوں کو مکمل طور پر نظر انداز کرنا ممکن نہیں رہتا۔

خاندانی تعلقات، مذہبی حیثیت یا کسی نسبتاً چھوٹی تنظیم سے وابستگی ایسے افراد کو یہ موقع فراہم کرتی ہے کہ وہ پردے کے پیچھے ہونے والے فیصلوں کی خبریں سامنے لائیں، اعلیٰ سرکاری حکام پر الزامات عائد کریں یا انھیں دھمکیاں دیں، اور ایسے بیانات جاری کریں جو اقتدار کے اعلیٰ ترین حلقوں میں ردعمل اور تردید کا سبب بنیں۔

اِس کے باوجود ایسے افراد اقتدار کے محفوظ دائرے میں رہتے ہیں اور کچھ عرصے بعد کسی نئے دعوے کے ساتھ دوبارہ منظر عام پر آ جاتے ہیں۔

محمد باقر خرازی میں اِن خصوصیات میں سے بہت سی خصوصیات پائی جاتی ہیں جو اُوپر بیان کی گئی ہیں۔

وہ ایک مذہبی شخصیت ہیں جن کے پاس کوئی سرکاری منصب نہیں ہے۔ وہ ’حزب اللہ ایران‘ نامی ایک تنظیم کے سیکریٹری جنرل ہیں، تاہم ایرانی سیاست میں اس تنظیم کی حقیقی اہمیت اور حیثیت واضح نہیں ہے۔

اِس کے علاوہ اُن کا تعلق ایسے خاندان سے ہے جس کے روابط دینی مدارس، سفارتی حلقوں اور خامنہ ای کے خاندان سے جڑے ہوئے ہیں۔

محمد باقر خرازی اِسی پس منظر اور حیثیت کے سہارے ایسے ’راز‘ افشا کرتے ہیں جن کے اظہار پر ایران جیسے ملک میں کسی اور شخص کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

حال ہی میں انھوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان 27 یا 28 بار استعفیٰ دے چکے ہیں یا ایسا کرنے کی دھمکی دے چکے ہیں۔ اُن کے بقول، رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای نے مسعود پزشکیان کے اس طرز عمل پر تحریری جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر وہ (پزشکیان) دوبارہ استعفیٰ دیتے ہیں تو وہ اِس سے اتفاق کر لیں گے، یعنی ایرانی صدر کا استعفیٰ قبول کر لیں گے۔

محمد باقر خرازی نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ محمد باقر ذوالقدر کو سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری کے عہدے سے ہٹایا جا رہا ہے اور اُن کی جگہ محسن رضائی کو تعینات کیا جائے گا (اُن کا یہ دعویٰ سچ ثابت ہوا ہے اور مجتبیٰ خامنہ ای نے حال ہی میں محسن رضائی کی تقرری کی منظوری دی ہے۔)

باقر خرازی نے مزید کہا تھا کہ وزیر خارجہ عباس عراقچی کو آگاہ کر دیا گیا ہے کہ انھیں اب مذاکرات میں مداخلت کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔

ایرانی صدر کے دفتر نے مسعود پزشکیان کے استعفے سے متعلق باقر خرازی کے بیانات کو ’سراسر جھوٹ اور لغویات‘ قرار دیا ہے، جبکہ ایران کے رہبر اعلیٰ کے دفتر نے بھی مجتبیٰ خامنہ ای سے منسوب خرازی کے بیان کی تردید کی ہے۔

خرازی کے بیان اور اُس پر تردیدوں کے ذریعے سامنے والا یہ تنازع کوئی نیا واقعہ نہیں بلکہ ایک طویل سلسلے کی تازہ کڑی ہے۔

اس طویل سلسلے میں ایران سے الگ ہو جانے والے علاقوں کی واپسی کے وعدوں، ایک ہزار تومان کے برابر ڈالر ہونے کے دعوؤں، حکومت کو ’تباہ‘ کرنے کی دھمکیوں، ایٹم بم بنانے کی تجاویز اور یہاں تک کہ امریکہ کے ساحل پر سونامی پیدا کرنے کے لیے جوہری ہتھیار استعمال کرنے جیسے بیانات شامل رہے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ محمد باقر خرازی کون ہیں، اور ایسے متنازع اور غیر معمولی بیانات کے باوجود وہ اب بھی حکومتی حلقوں کے حوالے سے اپنی بات کس طرح پیش کرنے کے قابل ہیں؟

محمد باقر خرازی کون ہیں؟

محمد باقر خرازی 21 جولائی 1961 کو ایران کے ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے تھے۔

ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ’اِرنا‘ کے مطابق اُن کی پیدائش تہران میں ہوئی، تاہم اُن کی پرورش قُم میں ہوئی۔ اُن کے والد، محسن خرازی، حوزۂ علمیہ قُم کے سینئر اساتذہ میں شمار ہوتے تھے اور مجلس خبرگانِ رہبری کے دوسرے سے چوتھے ادوار میں تہران کے نمائندے بھی رہے۔

محمد باقر خرازی کی نوجوانی، تعلیم اور دیگر معاملات سے متعلق بیشتر معلومات دو باہم مربوط ذرائع سے حاصل ہوتی ہیں: ایک اُن کی ذاتی ویب سائٹ پر اُن کے ایک شاگرد کی جانب سے لکھی گئی اُن کی سوانح عمری، اور دوسری مارچ 2023 میں ارنا کی جانب سے شائع کیا گیا ایک تعارفی پروفائل، جو مجلس خبرگان کے انتخابات کے لیے اُن کی امیدواری کے موقع پر سامنے آیا تھا۔

اُن کی سرکاری ویب سائٹ پر شائع شدہ سوانح عمری کے مطابق محمد باقر خرازی نوعمری ہی سے شاہِ ایران کے خلاف سرگرمیوں میں شریک رہے۔

ارنا نے سنہ 2023 میں مجلس خبرگان کے انتخابات کے لیے اُن کی امیدواری کے موقع پر لکھا کہ انھوں نے اپنے بھائی محمد صادق خرازی کے ہمراہ اسلامی انقلاب سے قبل ہونے والے مظاہروں میں حصہ لیا تھا اور کم عمری میں اسی سلسلے میں گرفتار بھی ہوئے تھے۔

اِسی رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ اُسی دور میں انھوں نے قُم شہر کے جمکران پہاڑی علاقوں میں ’حزب اللہ کا پہلا مزاحمتی سیل‘ قائم کر کے حزب اللہ سے وابستہ قوتوں کو تربیت فراہم کی۔

ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد محمد باقر خرازی نے اپنے سکول کی تعلیم مکمل کی اور حوزۂ علمیہ قُم میں داخل ہو گئے۔ اُن کی سوانح حیات کے مطابق انھوں نے فقہ اور اصول کی تعلیم اپنے والد اور دیگر حوزوی اساتذہ سے حاصل کی۔

ارنا کے مطابق باقر خرازی نے حوزوی تعلیم کے دوسرے سال میں ’در راہِ حق‘ ادارے کے تعلیمی شعبے میں شمولیت اختیار کی، جس کے بعد انھوں نے ’امام خمینی تعلیمی و تحقیقی ادارے‘ میں فلسفہ اور معاشیات کی تعلیم حاصل کی۔

اُن کی سرکاری سوانح کے مطابق بعد ازاں محمد باقر خرازی مزید تعلیم کے لیے کینیڈا گئے، جہاں انھوں نے ’مغربی دنیا کے نئے فلسفوں کا مطالعہ کیا۔‘

ارنا نے ایک مقام پر اُن کی تعلیمی قابلیت ’فنانس اور بینکاری میں ماسٹرز‘ جبکہ دوسرے مقام پر ’معاشیات میں ماسٹرز‘ درج کی ہے۔

بعد ازاں وہ طویل عرصے تک قرارگاہِ کربلا کے سیاسی دفتر کے سربراہ بھی رہے۔

جنگ کے خاتمے کے بعد محمد باقر خرازی کی سرگرمیوں کا مرکز تدریس، تعلیمی اداروں کا قیام اور اپنی سیاسی تنظیم کی تشکیل و تنظیم بن گیا۔ وہ ’مدرسہ اجتہادیہ محسنیہ‘، ’مؤسسہ ثقافتی و ہنری امام حسن عسکری‘ اور ملک کے مختلف حصوں میں قائم ’مجتمع مدارس امام ہادی‘ کے بانی اور منتظم ہیں۔

محمد باقر خرازی اپنی علمی سرگرمیوں کو روایتی حوزوی تعلیم سے کہیں زیادہ وسیع قرار دیتے ہیں۔ اُن کی ویب سائٹ پر ان کے منصوبوں، دروس اور تصنیفات کی ایک طویل فہرست موجود ہے، جس میں ’ریاضیاتِ ولائی‘ اور ’طبیعیاتِ ولائی‘ جیسے غیر روایتی موضوعات سے لے کر ’فقہِ اطلاعات اور جاسوسی‘ پر مشتمل کئی جلدوں کے مجموعے شامل ہیں۔

ان منصوبوں کا مشترکہ پہلو یہ ہے کہ اُن میں ’ولایت‘ کے تصور کو فقہ اور سیاست سے آگے بڑھا کر علومِ انسانی، طب اور حتیٰ کہ بنیادی سائنسی علوم تک وسعت دی گئی ہے۔

محمد باقر خرازی کا نام 1990 کی دہائی کے اوائل سے ’حزب اللہ ایران‘ اور اسی نام کے ایک اخبار کے ساتھ منسلک رہا ہے۔ یہ تنظیم معروف گروپ ’انصار حزب اللہ‘ سے مختلف ہے، جبکہ محمد باقر خرازی کو اس تنظیم کا سیکریٹری جنرل اور اس کے اخبار کا مدیرِ متعارف کرایا جاتا ہے۔

اس تنظیم کی قانونی حیثیت مکمل طور پر واضح نہیں، تاہم ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ’حزب اللہ ایران‘ کے سیکریٹری جنرل کا عہدہ گذشتہ تین دہائیوں سے زیادہ عرصے سے محمد باقر خرازی کو ایک مستقل سیاسی شناخت اور اظہارِ رائے کا پلیٹ فارم فراہم کر رہا ہے۔

سنہ 2023 میں ایرانی کونسل نے صوبہ کرمان سے مجلس خبرگان کے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے محمد باقر خرازی کی اہلیت کی توثیق کی تھی، تاہم وہ صوبے کی تین نشستوں میں سے کوئی ایک نشست اپنے نام کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔

اس سے تقریباً دس سال قبل انھوں نے سنہ 2013 کے صدارتی انتخابات میں ’دولتِ صالحین‘ (نیکوکاروں کی حکومت) کے نعرے کے تحت امیدوار کے طور پر رجسٹریشن کرائی تھی، لیکن کونسل کی جانب سے اُن کی اہلیت مسترد کر دی گئی تھی۔

خمینی اور خامنہ ای خاندانوں سے تعلقات

محمد باقر خرازی کبھی ایرانی حکومت میں کسی اعلیٰ سرکاری عہدے پر فائز نہیں رہے، تاہم اُن کے خاندان کے افراد حوزۂ علمیہ، سفارتی شعبے اور اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلیٰ قیادت کے حلقوں سمیت مختلف بااثر شعبوں میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔

یہی پسِ منظر اُن کے بیانات کو، حتیٰ کہ ایسے مواقع پر بھی جب وہ اپنے دعوؤں کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کرتے، ایک عام مذہبی یا سیاسی کارکن کی نسبت کہیں زیادہ توجہ دلانے کا سبب بنتا ہے۔

ان کے بھائی محمد صادق خرازی کئی برس تک ایرانی وزارتِ خارجہ میں خدمات سرانجام دیتے رہے ہیں۔ وہ فرانس میں ایران کے سفیر بھی رہے اور بعد میں اصلاح پسند جماعت ’ندائے ایرانیان‘ کے بانی بنے۔

اُن کے چچا کمال خرازی بھی محمد خاتمی کے دورِ حکومت میں وزیرِ خارجہ رہے۔ بعد ازاں سنہ 2006 میں انھیں سٹریٹجک کونسل برائے خارجہ تعلقات کا سربراہ مقرر کیا گیا، جو علی خامنہ ای کے حکم پر قائم کردہ ایک ادارہ تھا۔

وہ فروردین میں ہونے والے ایک اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاک ہونے تک اس منصب پر فائز رہے۔

صادق اور کمال خرازی کا سیاسی انداز اور لہجہ، محمد باقر خرازی کے نسبتاً سخت اور غیر روایتی مؤقف سے نمایاں طور پر مختلف رہا ہے۔

خرازی خاندان کا خامنہ ای خاندان سے تعلق محمد باقر خرازی کی بہن سوسن خرازی کے ذریعے قائم ہوتا ہے۔

سوسن خرازی کی شادی مسعود خامنہ ای سے ہوئی ہے، جو علی خامنہ ای کے تیسرے نمبر کے بیٹے اور موجودہ رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کے چھوٹے بھائی ہیں۔

اس طرح محمد باقر خرازی، مسعود خامنہ ای کے بہنوئی ہیں۔ مسعود خامنہ ای عوامی منظرنامے میں شاذ و نادر ہی دکھائی دیتے ہیں اور مختلف رپورٹس کے مطابق وہ اپنے والد کے آثار کے تحفظ و اشاعت سے متعلق دفتر کی ذمہ داریوں سے وابستہ رہے ہیں۔

خاندانی تعلقات کا یہ دائرہ صرف خامنہ ای خاندان تک محدود نہیں۔

صادق خرازی کے ایک بیٹے کی شادی محمد رضا خاتمی اور زہرہ اشراقی کی صاحبزادی سے ہوئی تھی۔ اس رشتے کے ذریعے خرازی خاندان ایک جانب سابق صدر محمد خاتمی کے خاندان سے اور دوسری جانب روح اللہ خمینی کی نسل سے بھی جڑ جاتا ہے۔

یہ خاندانی روابط کسی حد تک اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ ایرانی حکومت کے اندرونی معاملات سے متعلق محمد باقر خرازی کے دعوے کیوں غیر معمولی توجہ حاصل کرتے ہیں۔

حال ہی میں باقر خرازی نے دعویٰ کیا کہ وہ تقریباً چالیس برس سے مجتبیٰ خامنہ ای کے دوست ہیں اور متعدد نجی ملاقاتوں میں بھی شریک رہے ہیں۔

اس تناظر میں محمد باقر خرازی محض ایک مذہبی شخصیت یا سیاسی کارکن نہیں بلکہ ایسے فرد کے طور پر سامنے آتے ہیں جو اگرچہ رسمی اقتدار کے ڈھانچے کا حصہ نہیں، لیکن خاندانی اور ذاتی تعلقات کے ذریعے ایران کے بااثر ترین سیاسی اور مذہبی حلقوں تک رسائی رکھتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اُن کے بیانات، خواہ ان کی بعد میں تردید ہی کیوں نہ کر دی جائے، ایرانی سیاسی منظرنامے میں بحث و مباحثے کا موضوع بن جاتے ہیں۔

کرپٹو کرنسی ایکسچینج اور خرازی خاندان

خرازی خاندان کا نام حالیہ برسوں میں نوبیٹکس کرپٹو کرنسی ایکسچینج کے معاملے میں بھی خبروں کی زینت بنا رہا ہے۔

جون 2026 میں امریکی محکمۂ خزانہ نے اس ایکسچینج کے ساتھ ساتھ اُس کے متعدد سربراہوں اور منتظمین پر پابندیاں عائد کی تھیں۔ سرکاری پابندیوں کی فہرست میں ’سید محمد علی آقا میر محمد علی‘ اور ’سید محمد آقا میر محمد علی‘ کے نام شامل تھے، جن کے دیگر نام بالترتیب ’علی خرازی‘ اور ’محمد خرازی‘ درج کیے گئے تھے۔

امریکی محکمۂ خزانہ نے ان دونوں افراد کو نوبیٹکس کے سربراہوں اور خرازی خاندان کے ارکان کے طور پر متعارف کرواتے ہوئے کہا کہ یہ خاندان اسلامی جمہوریہ ایران کے رہبر اعلیٰ کے قریبی حلقوں سے تعلق رکھتا ہے۔

اِس سے قبل خبر رساں ادارے ’روئٹرز‘ نے اپنی ایک خصوصی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ مذکورہ دونوں افراد محمد باقر خرازی کے صاحبزادے ہیں۔ تاہم امریکی محکمۂ خزانہ کے بیان میں محمد باقر خرازی کا نام براہِ راست نہیں لیا گیا تھا۔

امریکی محکمۂ خزانہ نے نوبیٹکس پر الزام عائد کیا کہ اس نے ایران پر عائد بین الاقوامی پابندیوں سے بچنے میں مدد فراہم کی، پاسدارانِ انقلاب سے متعلق لین دین میں سہولت کاری کی، اور ایران کے مرکزی بینک کو کرپٹو کرنسی کی صورت میں کروڑوں ڈالر تک رسائی حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا۔

پابندیوں کے ردعمل میں نوبیٹکس نے اپنے سرکاری مؤقف میں کہا کہ کمپنی ان پابندیوں کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے اور اس معاملے کو قانونی ذرائع کے ذریعے آگے بڑھایا جائے گا۔ تاہم کمپنی کے بیان میں امریکی محکمۂ خزانہ کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات یا نوبیٹکس کے سربراہان کے خرازی خاندان سے مبینہ تعلقات کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔

اس طرح نوبیٹکس کا معاملہ محمد باقر خرازی اور اُن کے خاندان کے گرد موجود سیاسی اور معاشی اثر و رسوخ سے متعلق بحث میں ایک نئی جہت کا اضافہ کرتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب خرازی خاندان کے مختلف ارکان کے ایرانی اقتدار، سفارتکاری اور مذہبی حلقوں سے روابط پہلے ہی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔

وعدے، دعوے اور دھمکیاں

سنہ 2013 کے صدارتی انتخابات کے لیے رجسٹریشن محمد باقر خرازی کی جانب سے ایران میں اقتدار کے رسمی ڈھانچے میں داخل ہونے کی سب سے سنجیدہ کوشش سمجھی جاتی ہے۔

انھوں نے اپنی سیاسی مہم کا ہدف ’دولتِ صالحین‘ (نیکوکاروں کی حکومت) کے قیام کو قرار دیا اور ’فارسِ اسلامی‘ کا نعرہ اختیار کیا۔ اُن کے مطابق اس نعرے میں لفظ ’فارس‘ دراصل چار الفاظ، یعنی ’پیشرفت، صلح، رفاہ اور سلامتی‘ کے ابتدائی حروف سے تشکیل دیا گیا تھا۔

خرازی کے انتخابی وعدے اُس وقت خاصی توجہ کا مرکز بنے تھے۔ انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ایک سال کے اندر امریکی ڈالر کی قیمت، جو اس وقت تقریباً 3,500 تومان تھی، کم کرکے ایک ہزار تومان تک لائی جائے گی۔

انھوں نے یہ وعدہ بھی کیا کہ اپنی صدارت کے ابتدائی چند ماہ کے اندر ایران پر عائد پابندیاں ختم کروا دی جائیں گی اور ملک کی کرنسی ریال اور تومان کو تبدیل کر دیں گے۔

خارجہ پالیسی کے حوالے سے بھی انھوں نے غیر معمولی دعوے کیے۔

اُن کا کہنا تھا کہ گذشتہ دو صدیوں کے دوران ایران سے جدا ہونے والے تمام علاقوں کو ’بغیر ایک قطرہ خون بہائے‘ واپس ایران کا حصہ بنایا جائے گا۔ ان علاقوں میں انھوں نے تاجکستان، آرمینیا اور جمہوریہ آذربائیجان کا بھی ذکر کیا تھا۔

خرازی کے یہ بیانات، جو اُن کی باضابطہ انتخابی رجسٹریشن سے کئی ماہ قبل سامنے آئے تھے، تاجکستان کی حکومت کے ردعمل کا باعث بنے۔ تاجک وزارت خارجہ نے ان ریمارکس کو تاجکستان کی خودمختاری اور آزادی کی خلاف ورزی اور ایک آزاد ریاست کے داخلی معاملات میں مداخلت قرار دیتے ہوئے ان کی سخت الفاظ میں مذمت کی تھی۔

تاہم صدارتی انتخابات کے دوران گارڈین کونسل نے محمد باقر خرازی کی اہلیت کی توثیق نہیں کی اور اُن کا نام حتمی امیدواروں کی فہرست میں شامل نہیں کیا گیا۔

اس کے بعد کے برسوں میں بھی محمد باقر خرازی ایسے خیالات اور تجاویز پیش کرتے رہے جو روایتی سیاسی پالیسیوں کے بجائے غیر معمولی دعوؤں اور دھمکیوں سے زیادہ مشابہت رکھتے تھے۔

ایک ویڈیو بیان میں انھوں نے کہا کہ ملک کو بچانے کا ’واحد راستہ‘ ایٹم بم تیار کرنا اور اسے بحرِ اوقیانوس میں دھماکے سے اڑانا ہے، جس کے نتیجے میں اُن کے بقول ایک ایسی سونامی پیدا ہو گی جو امریکہ کے ساحلوں تک پہنچ جائے گی۔

ایک اور ویڈیو میں انھوں نے امریکا کے اندر نسلی کشیدگی کو ہوا دینے کی بات کی۔ اُن کا کہنا تھا کہ سیاہ فام اور سفید فام آبادی کے درمیان تنازع کو بڑھا کر اور مختلف ریاستوں کے درمیان اختلافات پیدا کر کے امریکہ میں خانہ جنگی کی فضا پیدا کی جا سکتی ہے۔

یہ بیانات محمد باقر خرازی کی سیاسی شخصیت کے اُس پہلو کی عکاسی کرتے ہیں جس میں وہ خود کو محض ایک مذہبی یا سیاسی کارکن کے طور پر نہیں بلکہ ایسے فرد کے طور پر پیش کرتے ہیں جو ایرانی سیاست، خارجہ امور اور سکیورٹی پالیسی سے متعلق انتہائی غیر روایتی اور اکثر متنازع خیالات کا اظہار کرنے سے گریز نہیں کرتے۔

اگرچہ اُن کے متعدد دعوے اور تجاویز شدید تنقید اور تردید کا سامنا کر چکے ہیں، تاہم وہ بدستور ایرانی سیاسی منظرنامے میں ایک غیر معمولی اور متنازع آواز کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔

ایک بار پھر زیر بحث

محمد باقر خرازی کے حالیہ بیانات نے ایک بار پھر انھیں سرخیوں میں لا کھڑا کیا ہے۔

انھوں نے صدر مسعود پزشکیان کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اُن کی حکومت ’اپنی مدت کے اختتام تک نہیں پہنچ سکے گی۔‘

باقر خرازی نے اپنی تنظیم کے ارکان سے مطالبہ کیا کہ ہر شہر میں 530 افراد کو منظم کیا جائے تاکہ مجموعی طور پر 2 لاکھ 50 ہزار افراد پر مشتمل ایسی قوت تیار کی جا سکے جو ہمہ دم تیار ہو۔خرازی کے بقول، صرف ایک اطلاع کافی ہو گی کہ یہ افراد تہران پہنچ کر ’کام تمام کر دیں۔‘

تاہم محمد باقر خرازی کا سب سے زیادہ توجہ حاصل کرنے والا دعویٰ صدر مسعود پزشکیان کے مبینہ طور پر بار بار استعفیٰ دینے کی پیشکش اور اس پر مجتبیٰ خامنہ ای کے سخت ردعمل سے متعلق تھا۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے رہبر کے دفتر نے، خرازی کا نام لیے بغیر، صدر کے خط کے بارے میں رہبر کے ردعمل سے متعلق دعوے کو ’جھوٹا اور خلافِ حقیقت‘ قرار دیا۔ رہبر اعلیٰ کے دفتر نے کہا کہ اس نوعیت کے مواد کی اشاعت معاشرے میں ’اختلاف اور تفرقہ‘ پیدا کرتی ہے اور ’ایرانی قوم کے بدخواہوں اور دشمنوں کے مقاصد کی تشہیر‘ کا باعث بنتی ہے۔

دوسری جانب، مسعود پزشکیان نے بھی اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر وہ کبھی عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کریں گے تو اس کا باضابطہ اعلان کریں گے۔ انھوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ ’میں استعفیٰ نہیں دوں گا، میں ڈٹا رہوں گا۔‘

مجتبیٰ خامنہ ای کے دفتر کی اس واضح تردید کے باوجود محمد باقر خرازی اپنے دعوے سے مکمل طور پر پیچھے نہیں ہٹے۔ اُن کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’شہید رہبر اور موجودہ رہبرِ معظم کے احترام میں‘ رہبر کے دفتر کی تردید کو ’جس طرح بھی صادر ہوئی ہے‘ قبول کیا جاتا ہے۔

اس بیان میں ایک فقہی اصطلاح استعمال کی گئی جس کا مفہوم یہ تھا کہ تردید کو اس کے جاری ہونے کے وقت اور موجودہ حالات کے تناظر میں معتبر تصور کیا جا رہا ہے۔

بعد ازاں خرازی نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ یہ تردید آئندہ ’اہم تبدیلیوں‘ کے بعد بھی برقرار رہے گی، جو بظاہر رہبر کے دفتر میں ممکنہ تبدیلیوں کی جانب اشارہ سمجھی گئی۔

ایرانی ذرائع ابلاغ نے اس مبہم اور دو معنی رکھنے والے ردعمل کو ’عجیب‘ قرار دیا۔

مبصرین کے مطابق، خرازی کا جواب معاملے کو ختم کرنے کے بجائے خود ایک نیا دعویٰ بن گیا۔ کیونکہ اس سے اسلامی جمہوریہ ایران کے رہبر کے دفتر میں ممکنہ مستقبل کی تبدیلیوں سے متعلق قیاس آرائیوں کو تقویت ملی ہے۔

باقر خرازی کے اس مؤقف پر متعدد سرکاری عہدیداروں اور سیاسی شخصیات نے شدید ناراضی کا اظہار کیا، جبکہ ان کے خلاف قانونی کارروائی اور مقدمہ چلانے کے مطالبات بھی زور پکڑنے لگے۔

تاہم یہ پورا واقعہ دراصل محمد باقر خرازی اور اسلامی جمہوریہ کے اقتدار اور خاندانی نیٹ ورک سے وابستہ دیگر ایسے ’اندرونی مگر مسائل پیدا کرنے والے‘ افراد کی سیاست اور طرزِ عمل کا خلاصہ سمجھا جاتا ہے۔

یہ وہ شخصیات ہیں جو اقتدار کے رسمی ڈھانچے کا حصہ نہ ہونے کے باوجود اس کے بااثر حلقوں سے اتنی قربت رکھتی ہیں کہ بعض اوقات اسلامی جمہوریہ کے رہبر کے دفتر جیسے حساس ادارے کو بھی، جو عمومی طور پر عوامی مباحث میں براہِ راست مداخلت نہیں کرتا، کُھل کر تردید اور ردعمل دینے پر مجبور کر دیتی ہیں۔

اور ایسے افراد کو کم از کم اس کی کوئی بڑی سیاسی یا قانونی قیمت ادا نہیں کرنی پڑتی۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US