پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے درمیان مشترکہ دفاع کے ’مکہ معاہدے‘ میں مصر کی عدم شمولیت مصری اور علاقائی ذرائع ابلاغ میں زیرِ بحث ہے۔ تاہم اب تک خود مصر نے سرکاری طور پر اس سے متعلق کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے مشترکہ دفاع کے ’مکہ معاہدے‘ میں مصر کی عدم شمولیت متعلقہ عالمی ذرائع ابلاغ میں زیرِ بحث ہے۔
جب چھ اگست کو پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے سعودی عرب کا دورہ کیا، تو ترکی نے نہ صرف صدر رجب طیب اردوغان کے دورے کو خفیہ رکھا بلکہ یہ بات بھی ظاہر نہیں کی کہ وہ سعودی عرب اور پاکستان کے دفاعی معاہدے میں شامل ہونے جا رہا ہے۔
اس معاہدے میں کسی مخصوص عسکری ذمہ داری کی تفصیلات تو بیان نہیں کی گئی ہیں لیکن اِس میں نیٹو کے آرٹیکل پانچ کی طرز پر اجتماعی دفاع کی شق شامل ہے، جس کے تحت کسی ایک رُکن ملک پر حملے کو سب پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
تینوں ممالک کے حکام نے کہا ہے کہ یہ اتحاد کسی ایک ملک کے خلاف نہیں اور یہ کہ اِس میں مزید ممالک بھی شامل ہو سکتے ہیں۔
اسی پیشرفت کے بعد یہ معاملہ زیرِ بحث ہے کہ اطلاعات کے باوجود مصر ’مکہ معاہدے‘ میں شامل کیوں نہ ہو سکا۔بعض مصری مبصرین نے اس پر سوال بھی اٹھایا ہے۔
ترکی کے وزیر خارجہ خاقان فیدان نے اس بارے میں کہا تھا کہ ’مصر تمام معاملات میں ہمارا فطری شراکت دار ہے اور میرا ماننا ہے کہ اگلے مرحلے میں مصر بھی اس اتحاد میں شامل ہو جائے گا۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ اس میں کچھ تکنیکی معاملات حائل ہیں، جب یہ حل ہو جائیں گے تو ایسی کوئی وجہ نہیں کہ مصر اس کا حصہ نہ بنے۔
اب تک خود مصر نے سرکاری طور پر ’مکہ معاہدے‘ سے متعلق کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا ہے۔
مصر کی مکہ معاہدے میں عدم شمولیت زیرِ بحث
7 اگست کو مکہ میں ہونے والے اس دفاعی معاہدے کو خطے کی سیاسی صورتحال کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہےسات اگست کو مصر کے سرکاری ٹی وی چینل ’القاہرہ نیوز‘ نے مکہ معاہدے کو نمایاں کوریج دی تھی۔ جبکہ بعض مصری تجزیہ کاروں نے سوال اٹھایا کہ مصر اس اتحاد کا حصہ کیوں نہیں بنا۔
مصر کے سابق معاون وزیر خارجہ معصوم مرزوق کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ مکہ معاہدے سے مصر کی غیر موجودگی وضاحت طلب ہے، خصوصاً اس لیے کہ مصر نے ایک اہم مشاورتی اجلاس میں شرکت کی تھی جس میں مصر، سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے نمائندے شریک ہوئے تھے۔
اُن کا کہنا تھا کہ یہ اجلاس چاروں ممالک کے درمیان سیاسی اور سکیورٹی مشاورت کے پہلے سے موجود راستے کی عکاسی کرتا تھا۔
واضح رہے کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے بعد پاکستان، مصر، سعودی عرب اور ترکی کے تعلقات میں وسعت دیکھنے میں آئی تھی۔ مارچ 2026 میں چاروں ممالک کے وزرائے خارجہ بھی اسلام آباد میں جمع ہوئے تھے۔
جبکہ مصر اور ترکی نے سنہ 2023 میں سفارتی تعلقات کی بحالی کے بعد دفاعی تعاون میں نمایاں توسیع کی ہے۔ سنہ 2013 میں مصر کے صدر محمد مرسی کو معزول کیے جانے کے بعد لگ بھگ 10 سال تک دونوں ملکوں کے بیچ تعلقات تناؤ کا شکار تھے۔
معصوم مرزوق کے مطابق ان چار ریاستوں کے درمیان مکالمے کا ایک فریم ورک پہلے ہی تشکیل پانا شروع ہو گیا تھا، لہٰذا مکہ معاہدے پر دستخط کے وقت مصر کی غیر موجودگی ’ایسے سوالات اٹھاتی ہے جن کے واضح جوابات درکار ہیں۔‘
عرب میڈیا میں ایسی خبریں بھی شائع ہوئی ہیں جو مصر کی مبینہ ہچکچاہٹ کی وجہ بیان کرتی ہیں۔
جیسے قطری میڈیا کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب قاہرہ کو قائل کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہا تھا، تاہم قاہرہ یمن کے حوثیوں اور ایران کے ساتھ محاذ آرائی سے گریز کرنا چاہتا ہے۔
نیوز ویب سائٹ ’یوم 7‘ نے اس سے قبل ایک باخبر ذریعے کے حوالے سے کہا تھا کہ متعلقہ مصری حکام اتحاد میں شامل ہونے کے لیے ضروری طریقہ کار مکمل کرنے پر کام کر رہے ہیں جبکہ کسی بھی حتمی فیصلے سے قبل پارلیمانی منظوری حاصل کرنے کی اہمیت کو بھی مدنظر رکھا جا رہا ہے۔
برطانیہ میں قائم اور قطر کے مالی تعاون سے چلنے والی ویب سائٹ ’العربی الجدید‘ نے ایک باخبر مصری ذریعے کے حوالے سے بعدازاں کہا تھا کہ ’قاہرہ فی الحال دفاعی معاہدے میں شامل ہونے پر غور نہیں کر رہا ہے۔‘
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ مصر خلیجی ممالک کے ساتھ اپنے مشترکہ مفادات کو تسلیم کرتا ہے، تاہم قاہرہ کا خیال ہے کہ یہ نیا معاہدہ مصر کو یمن کے حوثیوں اور عراق میں ایران نواز دھڑوں کے خلاف براہِ راست محاذ آرائی میں لا کھڑا کر سکتا ہے۔
ذرائع نے یہ بھی کہا کہ قاہرہ کے بنیادی تحفظات میں سے ایک یمن اور بحیرہ احمر کی صورتحال ہے کیونکہ ایسے دفاعی اتحاد میں شمولیت مصر کو سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کسی بھی فوجی تصادم میں شامل کر سکتی ہے۔
کیا انڈیا بھی ایک وجہ ہو سکتی ہے؟
اندرانی باغچی کا ماننا ہے کہ مصر کے ’مکہ معاہدے‘ میں شامل نہ ہونے کی ایک وجہ انڈیا ہے، لیکن یہ ’سب سے آخری وجہ ہے‘’مکہ معاہدے‘ میں مصر کی عدم شمولیت کو انڈیا سمیت بعض دیگر ممالک سے بھی جوڑا گیا ہے۔
مصر کے آن لائن اخبار ’مدی مصر‘ کی رپورٹ کے مطابق ایک سابق عرب سفارتکار کا خیال ہے کہ مصر یونان اور قبرص کے ساتھ ترکی کے پیچیدہ تعلقات اور انڈیا کے ساتھ اقتصادی تعلقات کے تناظر میں اس معاہدے میں شامل ہونے سے گریزاں ہے۔
’مدی مصر‘ نے رپورٹ کیا کہ مصر نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان جاری کشیدگی میں کسی ایک فریق کا ساتھ دینے سے بھی گریز کیا تھا۔
’مڈل ایسٹ آئی‘ کی رپورٹ کے مطابق مصر ترکی، سعودی عرب اور پاکستان پر مشتمل ایک بلاک اور دوسری جانب اسرائیل، متحدہ عرب امارات اور انڈیا پر مشتمل دوسرے بلاک کے درمیان کسی ایک کا ساتھ دینے کا خواہشمند نہیں ہے۔
اس کے مطابق مصر خطے سے باہر کسی وسیع تر سٹریٹجک وژن کا حامل نہیں ہے اور نئی دہلی کے ساتھ تجارتی تعلقات کو مضبوط بنانے میں دلچسپی رکھتا ہے جبکہ وہ متحدہ عرب امارات کی مالی امداد پر بھی انحصار کرتا ہے۔
دہلی میں قائم تھنک ٹینک ’اننتہ سینٹر‘ کی چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) اندرانی باغچی کا کہنا ہے کہ مصر کے ’مکہ معاہدے‘ میں شامل نہ ہونے کی ایک وجہ انڈیا بھی ہے، لیکن یہ سب سے آخری وجہ ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ مصر کا اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ ہے اور یہ وہ پہلا عرب ملک تھا جس نے اسرائیل کو تسلیم کیا تھا۔ جبکہ مصر کے متحدہ عرب امارات کے ساتھ مضبوط تعلقات ہیں۔ ’مصر نے ایسے گروپ میں شامل ہونے سے گریز کیا ہے جس کا ایک رُکن ملک، یعنی پاکستان، اسرائیل کے وجود کو تسلیم نہیں کرتا اور انڈیا مخالف بھی ہے۔‘
اندرانی باغچی کہتی ہیں کہ اگر مصر مکہ معاہدے کا حصہ بن بھی جاتا تو ’اس سے انڈیا کے ساتھ تعلقات پر کوئی خاص اثر نہ پڑتا، لیکن اس سے کوئی اچھا پیغام بھی نہ جاتا۔‘
یاد رہے کہ مصر میں 700 سے زائد انڈین کمپنیاں رجسٹرڈ ہیں جن میں سے تقریباً 70 مختلف شعبوں میں کام کر رہی ہیں اور اُن کی مجموعی سرمایہ کاری 5.5 ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔ یہ کمپنیاں تقریباً 40 ہزار مصری شہریوں کو روزگار فراہم کرتی ہیں۔
مالی سال 26-2025 میں انڈیا اور مصر کے درمیان دو طرفہ تجارت کا حجم 6.5 ارب ڈالر رہا۔ مصر کو انڈیا کی اہم برآمدات میں پیٹرولیئم مصنوعات، انجینیئرنگ کا سامان، کیمیکلز، سوتی دھاگہ، گوشت اور ادویات شامل ہیں۔
مصر سے انڈیا کی اہم درآمدات میں پیٹرولیم مصنوعات، کیمیکلز، دھاتیں اور پھل شامل ہیں۔