’فلیش میرج‘ کے نام پر ہونے والے فراڈ دراصل چین میں ایک ایسے آبادیاتی بحران کی طرف اشارہ ہے جو کئی دہائیوں سے پروان چڑھ رہا ہے۔
وانگ اور ان کی سابقہ اہلیہ کی شادی کے فوراً بعد لی گئی تصویر37 سالہ وانگ ژوانگ تقریباً امید ہی چھوڑ بیٹھے تھے کہ ان کی کبھی شادی ہو سکے گی۔ لیکن پھر ان کو رشتہ کروانے والی ایجنسیوں کے دلکش اشتہارات نظر آئے۔
ان اشتہارات میں وعدہ کیا گیا تھا کہ انھیں ایسے تعلق پر برسوں ضائع نہیں کرنے پڑیں گے جس کا کوئی مستقبل نہ ہو۔ انھیں ایک شرمیلی اور وفادار خاتون سے ملوانے کی پیشکش کی گئی۔
وانگ کہتے ہیں کہ رشتہ کروانے والوں نے انھیں بتایا کہ گوئیژو کی لڑکیاں کفایت شعار ہوتی ہیں۔
’انھوں نے مجھ سے کہا کہ وہ گھر چلانے میں ماہر ہوتی ہیں، گھریلو کام کاج کر سکتی ہیں، اور ان کے خاندان بہت غریب ہوتے ہیں، اس لیے شادی کے بعد وہ آپ کے خاندان میں رچ بس جاتی ہیں اور آپ کے ساتھ زندگی گزارتی ہیں۔‘
اس کے بعد وانگ اپنے جیون ساتھی کی تلاش میں چین کے جنوب مغربی صوبے گوئیژو کے شہر گوئیانگ پہنچ گئے۔
انھیں لگا کہ ان کی تلاش ختم ہو گئی ہے جب ان کا رشتہ ایک ایسی خاتون سے طے ہوا جو بظاہر ان کی تمام توقعات پر پوری اترتی تھیں۔ شادی سے قبل دونوں کی صرف چند مرتبہ ملاقات ہوئی۔
اور جتنی جلدی ان کی شادی ہوئی، تقریباً اتنی ہی تیزی سے وہ ختم بھی ہو گئی۔
وانگ اپنا سر ہلاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’میرے پورے خاندان کی زندگی برباد ہو گئی ہے۔‘
اس واقعے کو ایک سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن وہ اب تک اس صدمے سے باہر نہیں آ سکے کہ ان کی اہلیہ نے انھیں جو کچھ بتایا تھا وہ سب جھوٹ تھا۔
جن سے وانگ کی شادی ہوئی وہ خاتون ایک سابق کیریوکے ہوسٹس تھیں، ان کی تین مرتبہ شادی ہو چکی تھی اور ان کے تین بچے تھے۔ اس کے لیے علاوہ ایک سنگین جنسی طور پر منتقل ہونے والی بیماری میں مبتلا تھیں اور بھاری قرض تلے دبی ہوئی تھیں۔
انھوں نے وانگ سے اپنی عمر کے متعلق بھی جھوٹ بولا تھا۔
وانگ اب طلاق کے لیے قانونی جدوجہد کر رہے ہیں اور اپنی پرانی زندگی کی طرف واپس نہیں جا سکتے، کم از کم اس وقت تک نہیں جب تک وہ اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی کا کچھ حصہ واپس حاصل نہ کر لیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ممکنہ رشتوں سے تعارف کروائے جانے کے چند گھنٹوں کے اندر ہی انھوں نے ایجنسی کو یہ رقم ادا کر دی تھی۔
’میرے والدین مجھے قصوروار ٹھہراتے ہیں۔ مجھے بےخوابی اور اضطراب کا سامنا ہے۔ میں اپنے کام پر توجہ نہیں دے پاتا۔‘

وانگ کی کہانی چین کے ایک ایسے آبادیاتی بحران کی جانب اشارہ ہے جو کئی دہائیوں سے جنم لے رہا تھا۔
برسوں تک چین کی کمیونسٹ حکومت نے ملک میں ’ون چائلڈ پالیسی‘ نافذ کر رکھی تھی۔ اس کے تحت شادہ شدہ جوڑوں کو صرف ایک بچہ پیدا کرنے کی اجازت تھی۔ بالآخر جنوری 2016 میں اس پالیسی کو تبدیل کر دیا گیا، لیکن اس وقت تک اس پالیسی اور بیٹوں کو ترجیح دینے کے رجحان کے نتیجے میں ملک میں خواتین کی تعداد میں کمی اور مردوں و خواتین کے درمیان نمایاں عدم توازن پیدا ہو چکا تھا۔
آج چین میں خواتین کے مقابلے میں مردوں کی تعداد تقریباً تین کروڑ زیادہ ہے۔ یہ تعداد برطانیہ کی پوری مرد آبادی یا آسٹریلیا کی کل آبادی سے بھی زیادہ ہے۔
اس صورتحال میں چھوٹے شہروں یا دور دراز دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے وانگ جیسے مردوں کے لیے شریکِ حیات کی تلاش انتہائی مشکل ہو گئی ہے۔ ان علاقوں میں خواتین کے پاس زیادہ آپشنز ہیں کیونکہ انھیں معلوم ہے کہ ان کی مانگ زیادہ ہے۔
وانگ کہتے ہیں کہ ان کے شہر میں مردوں کے لیے معیار بہت بلند ہیں۔ ’آپ کے پاس گاڑی ہونی چاہیے، اپنا گھر ہونا چاہیے اور اگر آپ کے خاندان کا کوئی کاروبار بھی ہو تو بہتر ہے۔‘
بہت سے خاندان دلہن کے بدلے بڑی رقم کا بھی مطالبہ کرتے ہیں۔ چین میں یہ ایک پرانی روایت ہے جس کے تحت دولہے کا خاندان دلہن کے خاندان کو رقم ادا کرتا ہے۔ چین کے بعض ایسے علاقے جہاں مردوں کی تعداد خواتین سے کہیں زیادہ ہے وہاں یہ روایت ایک بھاری مالی بوجھ کی صورت اختیار کر چکی ہے۔
اسی لیے گوئیژو میں قائم رشتہ کروانے والی ایجنسیوں کی کشش بڑھ رہی ہے، جو ایک ہی جگہ اور کم وقت میں اس مسئلے کا حل پیش کرنے کا دعویٰ کرتی ہیں۔ ایسی شادیوں کو بعض اوقات ’فلیش میرج‘ کہا جاتا ہے۔
چین میں رشتہ کروانے والی ایجنسیاں کوئی نئی چیز نہیں۔ تاہم ایسا لگتا ہے کہ ان میں سے بہت سی ایجنسیاں ایسے مردوں کو نشانہ بنا رہی ہیں جو بڑھتی عمر کے ساتھ شریکِ حیات تلاش کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ حال ہی میں سرکاری ذرائع ابلاغ نے خبر دی کہ اس صنعت میں ’تیزی سے اضافہ‘ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں ’غیر قانونی سرگرمیوں اور افراتفری‘ نے جنم لیا ہے۔

چین بھر میں اس نوعیت کے فراڈ کے اصل حجم کا اندازہ لگانا مشکل ہے، لیکن یہ مسئلہ اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ اب چینی حکام بھی اس پر توجہ دینے لگے ہیں۔
جنوری 2024 سے مارچ 2025 کے دوران پراسیکیوٹرز نے رشتہ کروانے کی صنعت سے متعلق جرائم کے سلسلے میں ایک ہزار 546 افراد کے خلاف مقدمات نمٹائے۔
رواں ماہ پانچ مختلف سرکاری اداروں نے مشترکہ طور پر ملک گیر سطح پر رشتہ کروانے کی صنعت کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا ہے کیونکہ یہ مسئلہ ’عوامی سطح پر وسیع تشویش‘ کا باعث بن رہا تھا۔
ایک مقدمے میں مبینہ طور پر ایک رشتہ کروانے والی ایجنسی نے کیریوکے بار میں کام کرنے والی خواتین کو استعمال کرتے ہوئے 128 افراد سے 25 لاکھ یوآن (تقریباً تین لاکھ 71 ہزار ڈالر) سے زیادہ رقم ہتھیائی۔
بیجنگ جنشی لا فرم کے نانجنگ دفتر سے وابستہ فان بِنگھے نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے خیال میں حکومت فلیش میرج فراڈ کی روک تھام کے لیے اس صنعت سے متعلق مخصوص ضوابط متعارف کروا سکتی ہے۔
اگرچہ گوئیانگ بڑی تیزی سے ’فلیش میرج‘ کا مرکز بنتا جا رہا ہے لیکن یہ جگہ کہیں سے بھی کوئی رومانوی تعلقات کا مرکز نہیں لگتی۔
رشتہ کروانے والی ایجنسیوں کے دفاتر ایک تجارتی مرکز کے اوپر واقع عمارتوں میں قائم ہیں، جہاں نیچے دکاندار پھل فروخت کرتے ہیں اور ملازمین رائس نوڈلز کے ٹیک اوے آرڈرز لینے کے لیے قطاروں میں کھڑے نظر آتے ہیں۔
تاہم وانگ کو یقین تھا کہ وہ ان ایجنسیوں پر بھروسہ کر سکتے ہیں کیونکہ کمپنی نے انھیں بتایا تھا کہ ممکنہ شریکِ حیات کا مکمل پس منظر جانچا جاتا ہے اور اگر وہ کسی دھوکے کا شکار ہوئے تو انھیں معاوضہ بھی دیا جائے گا۔
چنانچہ انھوں نے مطلوبہ رقم ادا کر دی اور پھر ممکنہ رشتوں سے تعارف کا سلسلہ شروع ہوا۔

کئی روز جاری رہنے والے اس سلسلے کے دوران ایجنسی کے عملے کی نگرانی میں وانگ سات مختلف خواتین سے ’بلائنڈ ڈیٹ‘ کمروں میں ملے۔ وہ خواتین سے ان کے آبائی علاقوں کے بارے میں پوچھتے، آیا وہ پہلے شادی کر چکی ہیں اور کیا ان کے بچے ہیں۔
آٹھویں خاتون سے ملاقات کے بعد وانگ کا دل ان پر آ گیا۔
وہ ایسی خاتون کی تلاش میں تھے جس کی پہلے شادی نہ ہوئی ہو، جس کے بچے نہ ہوں اور جو عمر میں ان سے کچھ کم ہو۔
وہ یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں ’وہ بہت سادہ لباس پہنتی تھی۔ دیکھنے میں کافی شرمیلی اور دیانت دار دکھائی دیتی تھی۔‘
دونوں کی چار یا پانچ مرتبہ ملاقات ہوئی، لیکن ان کی یہ ملاقاتیں آٹھ سے دس منٹ تک کے لیے ہوتی تھیں۔
وانگ کا کہنا ہے کہ انھیں سختی سے ہدایت دی گئی تھی کہ وہ فون نمبر یا رابطے کی کوئی تفصیل ایک دوسرے شیئر نہ کریں بصورت دیگر ان پر جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
دو یا تین دن بعد وانگ نے فیصلہ کر لیا کہ یہی وہ خاتون ہیں جن سے وہ شادی کرنا چاہتے ہیں، اور انھوں نے دلہن کے بدلے ایک بڑی رقم ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی۔
وہ کہتے ہیں ’میں نے تین لاکھ یوآن (تقریباً 44 ہزار ڈالر) سے زیادہ خرچ کیے۔‘
اپنی بات ثابت کرنے کے لیے وہ اپنے ہاتھ میں موجود عدالتی دستاویزات کا ایک پلندہ بھی دکھاتے ہیں۔
ان کے مطابق اگر شادی کی تقریب اور دیگر اخراجات کو بھی شامل کیا جائے تو انھوں نے تقریباً چار سے پانچ لاکھ یوآن خرچ کیے تھے۔
یہ پورا عمل رشتہ کروانے والی ایجنسی نے پیشہ ورانہ انداز میں تصاویر کی صورت میں ریکارڈ کیا، جنھیں بعد میں ایجنسی کی جانب سے چینی سوشل میڈیا پر اپنی خدمات کی تشہیر کے لیے بھی استعمال کیا گیا۔
ایک ویڈیو میں وانگ اپنی اہلیہ کے ساتھ سرخ قالین پر ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے مسکراتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں جبکہ پس منظر میں رومانوی موسیقی بج رہی ہے۔
شادی کے چند ماہ بعد ہی ایسے افراد کی فون کالیں آنا شروع ہو گئیں جن کا دعویٰ تھا کہ وانگ کی اہلیہ نے ان سےقرض لے رکھے ہیں۔
اس کے بعد وانگ کو شک ہوا اور انھوں نے جاننے کی کوشش کی کہ ان کی بیوی نے ان سے اور کیا کچھ چھپا رکھا ہے۔ انھوں نے اپنی بیوی کا موبائل فون چیک کیا تو انھیں ان کی سابقہ زندگی، پیدائش کے سرٹیفکیٹ اور پرانی شادیوں سے متعلق دستاویزات کی تفصیلات مل گئیں۔
جب انھوں نے اپنی اہلیہ سے اس بارے میں پوچھا تو انھوں نے طلاق کی پیشکش کر دی، لیکن دلہن کے بدلے ادا کی جانے والی رقم واپس کرنے سے انکار کر دیا۔
وانگ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس ایجنسی کو تلاش کرنے کی کوشش کی جس نے ان کی شادی کروائی تھی، لیکن جب وہ دوبارہ اس کے دفتر پہنچے تو وہ دفتر بند تھا اور عملہ غائب ہو چکا تھا۔
وہ گوئیانگ میں اپنے کرائے کے فلیٹ سے اب سوشل میڈیا پر ویڈیوز بنا کر ڈالتے ہیں تاکہ دوسرے مردوں کو خبردار کر سکیں کہ ان معاملات میں ان کے ساتھ کیا کچھ غلط ہو سکتا ہے۔ ان کا فلیٹ اس مرکزی علاقے کے بالکل سامنے واقع ہے جہاں ایسی بیشتررشتہ کروانے والی ایجنسیاں قائم ہیں۔
گوئیانگ میں ایسی ایجنسی تلاش کرنا آسان نہیں جس کا عملہ بات کرنے پر آمادہ ہو۔ ایک ایجنسی کے مالک نے اپنے دفتر میں ہم سے بات کرنے پر رضامندی ظاہر کی، اگرچہ بعد میں ان کے کاروباری شراکت دار نے ہمیں وہاں سے جانے کے لیے کہا۔
دفتر کے اندر سرخ قالین پر مصنوعی پھولوں کی پتیاں بکھری ہوئی تھیں۔
ایجنسی کے مالک نے ہمیں بتایا کہ ہمارے پہنچنے سے صرف چند گھنٹے پہلے ایک جوڑے نے شادی کا عہد کیا کیا تھا۔
انھوں نے کہا ’چین میں فلیش میرج کی بہت بڑی مارکیٹ موجود ہے۔ یہ رجحان دراصل صرف گذشتہ دو یا تین برس کے دوران نمایاں طور پر سامنے آیا ہے۔‘
ایجنسیوں کا دعویٰ ہے کہ اس علاقے کے بہت سے خاندانوں نے ایک بچے کی پالیسی پر سختی سے عمل نہیں کیا، جس کے نتیجے میں یہاں خواتین کی تعداد نسبتاً زیادہ ہے۔
ایسی ہی ایک ایجنسی سے وابستہ شخص نے بی بی سی کو بتایا کہ اگر کسی خاندان میں دو یا تین بیٹیاں بھی ہوتیں تو وہ بیٹے کی خواہش میں مزید بچوں کی کوشش کرتے رہتے تھے۔
ان کا کہنا ہے کہ اب وہ ان خواتین کے رشتے وسطی چین کے صوبوں سے تعلق رکھنے والے مردوں سے کروانے کی کوشش کرتے ہیں، جیسے وانگ جو صوبہ ہیبئی سے تعلق رکھتے ہیں اور نسبتاً خوشحال ہیں لیکن ان کے گرد خواتین کی تعداد کم ہے۔
ایک ایجنسی کے نمائندے نے بتایا کہ ’ہمارے مؤکل اپنی پسند کے کسی بھی شخص کا انتخاب کرنے کے لیے آزاد ہیں۔ ہمارے کاروبار کا مقصد لوگوں کو ایسا شریکِ حیات تلاش کرنے میں مدد دینا ہے جس کے ساتھ وہ واقعی زندگی گزارنا چاہتے ہوں۔‘
ایک اشتہار میں ممکنہ گاہکوں کو یہ یقین دہانی بھی کروائی گئی کہ درست تعارف کے ساتھ تین دن میں ملنے والا رشتہ تین سال کی ڈیٹنگ سے زیادہ بہتر ہے۔
ایسے ہی ایک کمرے میں وانگ کی ملاقات ان کی اہلیہ سے کروائی گئی تھی۔وانگ اب اپنا زیادہ تر وقت اسی طرح کے دھوکوں کا شکار ہونے والے افراد کی مدد میں صرف کرتے ہیں۔
گوئیانگ میں ان کا کرائے کا فلیٹ اکثر ایسے مردوں سے بھرا ہوتا ہے جو یا تو ان ایجنسیوں کے مالکان کو تلاش کر رہے ہیں جنھوں نے انھیں دھوکہ دیا، یا پھر اپنی ان بیویوں سے رقم واپس لینے کی کوشش کر رہے ہیں جو شادی کے چند ہی ہفتوں بعد انھیں چھوڑ کر چلی گئیں۔
کھڑکی کے قریب رکھی ایک فولڈنگ چارپائی پر صوبہ جیانگشی سے تعلق رکھنے والے 59 سالہ شو رولِن ایک سرخ پلاسٹک کے شاپنگ بیگ سے احتیاط سے رکھے گئے ثبوت نکالتے ہیں۔
انھوں نے ایک 'فلیش میرج' ایجنسی کے ذریعے اپنے بیٹے کے لیے دلہن تلاش کرنے کی کوشش میں تقریباً پانچ لاکھ یوآن خرچ کیے۔
وہ اور ان کا بیٹا ایک ہزار کلومیٹر سے زیادہ سفر کر کے گوئیانگ پہنچے جہاں ان کے بیٹے نے 'بلائنڈ ڈیٹ' کے کمرے میں پہلی ملاقات کے صرف سات دن بعد شادی کر لی۔
شو کا کہنا ہے کہ شادی کے اندراج کے بعد دلہن نے مطالبہ کیا کہ انھیں ایک آئی فون خرید کر دیا جائے اور ان کے کاروبار میں مدد کے لیے تقریباً 20 ہزار یوآن منتقل کیے جائیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ خاتون نے شادی کا جوڑا اور زیورات خریدنے کے لیے مزید ایک لاکھ 20 ہزار یوآن بھی طلب کیے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’میری بس یہی خواہش تھی کہ وہ واقعی گھر بسا لے اور ہمارے خاندان کا حصہ بن جائے۔‘
’اس نے ایک گھر کا مطالبہ کیا اور میں نے گھر خریدنے پر بھی رضامندی ظاہر کر دی تھی۔ سب کچھ طے ہو چکا تھا۔‘
لیکن شو کا کہنا ہے کہ وہ خاتون ان کے ساتھ دو ہفتے سے بھی کم عرصہ رہنے کے بعد فرار ہو گئیں۔
خاتون کو بعد میں پولیس نے حراست میں لے لیا جبکہ دونوں میاں بیوی کی طلاق بھی ہو چکی ہے۔
شو کا کہنا ہے کہ رشتہ کروانے والی کمپنی کے مالکان کو بھی رواں سال جنوری میں گرفتار کر لیا گیا تھا، لیکن وہ اب بھی گوئیانگ میں موجود ہیں اور اپنی ضائع ہونے والی رقم کا کچھ حصہ واپس حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
شو کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے کی دلہن ان کے ساتھ دو ہفتے سے بھی کم عرصہ رہنے کے بعد فرار ہو گئی۔بی بی سی سے بات کرنے والے ایک رشتہ کروانے والی ایجنسی کے منیجر نے تسلیم کیا کہ ان کے ہاں گاہکوں کے پس منظر کی جانچ کا کوئی باضابطہ نظام موجود نہیں۔
انھوں نے کہا ’خواتین کا تعارف مقامی رشتہ کروانے والوں کے ذریعے ہوتا ہے جو انھیں پہلے سے اچھی طرح جانتے ہیں۔ چونکہ وہ اکثر ایک ہی گاؤں سے تعلق رکھتے ہیں، اس لیے انھیں ان کے خاندانی پس منظر کا بھی علم ہوتا ہے۔ اسی طرح مرد کی جانب سے رشتہ کروانے والا شخص بھی عموماً اس مرد کو اچھی طرح جانتا ہے۔‘
تاہم انھوں نے یہ بتانے سے انکار کر دیا کہ وہ اپنی خدمات کے عوض کتنی فیس وصول کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معلومات ’خفیہ‘ ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی بھی فریق کی جانب سے فراہم کی گئی معلومات غلط ثابت ہوں تو مخالف فریق اپنی ادا کی گئی رقم واپس لینے کا حق رکھتا ہے۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’میں کہوں گا کہ یہاں ہمارے گاہکوں کی فراہم کردہ 90 فیصد سے زیادہ معلومات درست ہوتی ہیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ چین میں ایک کہاوت ہے کہ ایک چوہے کی مینگنی پوری ہانڈی خراب کر دیتی ہے۔ یہ معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ ’ہم باقاعدگی سے مقامی پولیس کے ساتھ اجلاسوں میں شرکت کرتے ہیں۔ اگر کوئی رشتہ کروانے والی ایجنسی شادی کے نام پر دھوکے دہی میں ملوث پائی جائے تو اسے قانونی طور پر ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔‘
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس رشتہ کروانے والے کا کہنا ہے کہ اس شعبے میں کام کرنے والے زیادہ تر لوگ دیانت داری سے اپنا کام کرتے ہیں۔یہ ساری باتیں اُن لوگوں کے لیے زیادہ تسلی بخش بات نہیں جنھوں نے اپنی جمع پونجی کا بڑا حصہ گنوا دیا ہے۔
وانگ کہتے ہیں کہ ’میں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ اتنی بھاری سروس فیس لینے والی ایجنسی، عورت کے آبائی علاقے میں اس کے پس منظر کی جانچ کرنے والے مقامی رشتہ کروانے والے، اور کمپنی کی جانب سے دی جانے والی اتنی ساری یقین دہانیوں کے باوجود، اس خاتون کے بارے میں فراہم کی گئی معلومات مکمل طور پر جھوٹی نکلیں گی۔‘
اب وہ اپنے مالی نقصان کو تقریباً قسمت کا لکھا مان چکے ہیں۔ تاہم وہ اس دھوکے کا شکار ہونے پر خود کو بھی قصوروار ٹھہراتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ صرف وہی خواتین ایسی فلیش شادیوں پر آمادہ ہوتی ہیں جنھیں کسی نہ کسی مسئلے کا سامنا ہو۔
اپنی رقم واپس لینے کی کوشش میں وہ گوئیانگ میں پولیس دفاتر کے باہر گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اہلکاروں سے مدد کی اپیل کر چکے ہیں۔ وہ اس نوعیت کے جرائم کے خلاف مزید مؤثر اقدامات کا مطالبہ کرنے کے لیے بیجنگ بھی گئے۔
بہت سے ایسے مقدمات کی پیروی کرنے والے وکیل فان بِنگھے کہتے ہیں کہ ان معاملات میں قانونی کارروائی کرنا آسان نہیں۔
ان کے مطابق اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ چینی قانون میں اس قسم کے ازدواجی فراڈ کے لیے کوئی مخصوص فوجداری جرم موجود نہیں۔ چنانچہ فوجداری مقدمہ قائم کرنے کے لیے متاثرہ شخص کو یہ ثابت کرنا پڑتا ہے کہ اس کے شریکِ حیات کا مقصد ابتدا ہی سے اس کی رقم ہتھیانا تھا۔
فان بِنگھے کہتے ہیں کہ انھوں نے جن مقدمات کی پیروی کی ہے، ان میں ملزمان اکثر یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ وہ واقعی شادی کرنا اور اچھا ازدواجی تعلق قائم کرنا چاہتے تھے، لیکن بعد میں انھیں احساس ہوا کہ دونوں ایک دوسرے سے مطابقت نہیں رکھتے، اختلافات پیدا ہو گئے اور انھوں نے رشتہ ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔
ان کے بقول ایسی صورت میں ازدواجی تعلقات سے متعلق مسائل کو غلط ثابت کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔
وانگ کا فلیٹ ایسے ہی دھوکوں شکار ہوئے افراد کے لیے پناہ گاہ بن چکا ہے۔جعلی رشتہ کروانے والی ایجنسیوں سے رقم واپس لینا اس سے بھی زیادہ مشکل ثابت ہوتا ہے کیونکہ ان میں سے بہت سی ایجنسیاں خاطر خواہ رقم سمیٹتے ہی اپنا دفتر بند کر کے غائب ہو جاتی ہیں۔
وانگ اپنی کچھ رقم تو واپس حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے لیکن مکمل رقم انھیں بھی نہیں مل سکی۔
وہ کہتے ہیں کہ ’اس سب سے گزرنے کے بعد مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ میں اب کبھی شادی کر سکوں گا یا نہیں۔‘
’میرے لیے پہلے ہی شریکِ حیات تلاش کرنا مشکل تھا، اور اب میں اتنی بڑی رقم بھی خرچ کر چکا ہوں۔ فی الحال میں اس بارے میں سوچ بھی نہیں رہا۔‘
وانگ اور ان کے فلیٹ میں موجود دیگر مردوں کی زندگیاں جیسے ایک غیر یقینی کیفیت میں معلق ہو کر رہ گئی ہیں۔
اپنے اردگرد رکھی قانونی دستاویزات کی فائلوں کے درمیان بیٹھے وہ کہتے ہیں ’تقریباً دو سال گزر چکے ہیں، اور آج بھی مجھے نہیں معلوم کہ میری طلاق کب ہو گی۔‘
’مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ یہ معاملہ کب حل ہو گا تاکہ میں اپنی معمول کی زندگی دوبارہ شروع کر سکوں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اس کا کوئی اختتام ہی نہیں۔‘