جنگ طول پکڑتی گئی تو ایران کے لیے سب سے خطرناک محاذ کون سا ہو گا؟

تہران ممکنہ طور پر یہ دکھانا چاہتا ہے کہ جنگ کی رفتار اور سمت کا تعین صرف امریکہ نہیں کر سکتا۔ اس کے ساتھ ہی وہ شاید امریکہ کے فوجی، معاشی اور سیاسی اخراجات میں مزید اضافہ کرنا چاہتا ہے تاکہ واشنگٹن اس کے بعض مطالبات کو تسلیم کرنے کے لیے آمادہ ہو جائے۔
Iranians visit an exhibition showcasing missile and drone achievements in Tehran on 12 November 2025.
AFP via Getty Images

جنگ شروع ہوئے سات ماہ گزر جانے اور ملکی معیشت و بنیادی انفراسٹرکچر پر شدید دباؤ کے باوجود ایسا لگتا ہے کہ ایران کی قیادت اب بھی اس تنازع کو جلد ختم کرنے کے لیے بے تاب نہیں ہے۔

تہران ممکنہ طور پر یہ دکھانا چاہتا ہے کہ جنگ کی رفتار اور سمت کا تعین صرف امریکہ نہیں کر سکتا۔ اس کے ساتھ ہی وہ شاید امریکہ کے فوجی، معاشی اور سیاسی اخراجات میں مزید اضافہ کرنا چاہتا ہے تاکہ واشنگٹن اس کے بعض مطالبات کو تسلیم کرنے کے لیے آمادہ ہو جائے۔

لیکن بہت کچھ ایک نہایت اہم سوال کے جواب پر منحصر ہے: آخر ایران اس جنگ کو حقیقی طور پر کتنے عرصے تک جاری رکھ سکتا ہے؟

ایران کے پاس تنازع کو طول دینے کی کتنی صلاحیت ہے؟

Women walk past an Iranian security forces vehcile parked under a banner honouring Iran's former supreme leader Ayatollah Ali Khamenei in Tehran on 31 March 2026. Khamenei was killed in a missile strike at the start of war.
AFP via Getty Images

ایران کی دفاعی صنعت اور میزائلوں کی تنصیبات کے بعض حصوں کو نشانہ بنایا جا چکا ہے، تاہم نقصان کی حقیقی نوعیت اور حجم کے بارے میں کوئی آزاد اور قابلِ اعتماد اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔

چیتھم ہاؤس کے تازہ ترین جائزے کے مطابق ایران کے موجودہ میزائل ذخائر کے بارے میں کوئی قابلِ اعتماد تخمینہ موجود نہیں ہے۔

وقت گزرنے کے ساتھ ایران کی جانب سے بیلسٹک میزائلوں کے بڑے حملوں کی شدت اور حجم میں کمی دیکھی گئی ہے۔ تاہم جنگ جاری رکھنے کی صلاحیت کا اندازہ صرف میزائلوں کی تعداد سے نہیں لگایا جا سکتا۔

ڈرونز اور کروز میزائل نسبتاً آسانی اور کم وقت میں تیار کیے جا سکتے ہیں، جبکہ اب تک مارے جانے والے متعدد فوجی کمانڈروں کی جگہ نئے افراد تعینات کر دیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ایران کا فوجی کمانڈ اور کنٹرول کا انفراسٹرکچر بھی مجموعی طور پر برقرار دکھائی دیتا ہے۔

جارج واشنگٹن یونیورسٹی میں بین الاقوامی تعلقات کے لیکچرر محمد غائدی نے بی بی سی فارسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’ایران غالباً طویل عرصے تک میزائل حملے کرنے کی اپنی صلاحیت برقرار رکھ سکتا ہے، تاہم ان کی شدت پہلے کے مقابلے میں کم ہو سکتی ہے۔ اس کے باوجود وہ آبنائے ہرمز میں خلل ڈالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔‘

ایرانی فیصلہ سازوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ ایک طویل جنگ امریکہ کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔

ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے کے لیے امریکہ نے اپنے دفاعی ذخائر کا ایک حصہ استعمال کیا ہے اور بعض امریکی جائزوں میں خبردار کیا گیا ہے کہ ان ہتھیاروں کی تیزی سے دوبارہ فراہمی آسان نہیں ہو گی۔

محمد غائدی کے مطابق ’تیل کی قیمتوں پر جنگ کے اثرات اور امریکہ کی داخلی سیاسی صورتحال نے تہران میں یہ امید پیدا کی ہے کہ وہ واشنگٹن کو اپنے بعض مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔‘

امریکی داخلی سیاست کے تناظر میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اب بھی ریپبلکن ووٹروں کی نسبتاً مضبوط حمایت حاصل ہے، تاہم مختلف جائزوں اور عوامی سرویز سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ بہت سے امریکی شہری اس تنازع سے ناخوش ہیں اور انھیں یہ تشویش لاحق ہے کہ ٹرمپ اب تک اپنے جنگی اہداف حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔

اگر تہران کا یہ اندازہ درست ہے تو اس کا مقصد صرف امریکہ کو فوجی میدان میں شکست دینا نہیں ہے۔ اس کے برعکس ایک طویل اور زیادہ مہنگی جنگ خود امریکہ پر دباؤ ڈالنے کا ایک ذریعہ بن سکتی ہے۔

فی الحال ایسا کوئی واضح اشارہ نہیں ملتا کہ صرف فوجی صلاحیتوں میں کمی یا عسکری پیچیدگیاں ہی ایران کو جنگ روکنے پر مجبور کر دیں گی۔

ایران کی معیشت کب تک دباؤ برداشت کر سکتی ہے؟

An Iranian flag flutters in the wind as ships remain anchored in the Strait of Hormuz, near Larak Island, Iran on 16 May 2026.
Getty Images

جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی ایران کو شدید مہنگائی، سرمایہ کاری میں کمی، مقامی کرنسی کی قدر میں مسلسل کمی اور مختلف اقتصادی مسائل کا سامنا تھا۔

ورلڈ بینک کے ایک تخمینے کے مطابق مالی سال 2025-26 کے دوران ایران کی معیشت تقریباً 2.7 فیصد سکڑ گئی تھی۔

جنگ نے ان معاشی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ ایران کے شماریاتی مرکز کے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ 12مہینوں میں ملک میں مہنگائی 62 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ صرف ایران کے صوبے ہرمزگان میں مہنگائی کی شرح 101 فیصد سے تجاوز کر گئی ہے۔

روزگار کے شعبے میں بھی جنگ کے اثرات نمایاں رہے ہیں۔ ایران کے نائب وزیرِ محنت کے مطابق جنگ کے باعث دس لاکھ سے زائد ملازمتیں ختم ہو چکی ہیں، جبکہ تقریباً بیس لاکھ افراد براہِ راست یا بالواسطہ طور پر بے روزگاری کا شکار ہوئے ہیں۔

دوسری جانب بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (ٓآئی ایم ایف) کا اندازہ ہے کہ 2026 میں ایران کی معیشت تقریباً 5.4 فیصد مزید سکڑ سکتی ہے، جبکہ افراطِ زر کی شرح 69 فیصد کے قریب پہنچنے کا امکان ہے۔

جنگ کی مدت میں اضافے اور تجارت و تیل کی برآمدات میں آنے والی رکاوٹوں کی شدت اس بحران کے معاشی نتائج پر گہرا اثر ڈالیں گی۔

آبنائے ہرمز ایران کے لیے بیک وقت ایک دباؤ ڈالنے کا ذریعہ بھی ہے اور کمزوری کا نقطہ بھی۔ اس آبی راستے میں خلل ڈالنے سے امریکہ اور عالمی توانائی کی منڈی کے لیے جنگ کی قیمت بڑھ سکتی ہے، لیکن دوسری جانب امریکی بحری ناکہ بندی اور جہاز رانی پر عائد پابندیاں خود ایران کے لیے بھی تیل برآمد کرنا زیادہ مشکل بنا دیتی ہیں۔

تاہم معاشی دباؤ لازماً پالیسی میں کسی تبدیلی کا باعث نہیں بنتا۔

محمد غائدی کا کہنا ہے کہ آمرانہ طرزِ حکومت رکھنے والی ریاستیں انتہائی دشوار معاشی حالات میں بھی برسوں تک قائم رہ سکتی ہیں۔

ان کے مطابق مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی ڈھانچے میں موجود عدم توازن عوامی بے چینی اور عدم اطمینان میں اضافہ تو کر سکتے ہیں، لیکن یہ عوامل لازماً تہران کی فوجی پالیسی تبدیل نہیں کرتے، جب تک کہ ان کے ساتھ وسیع پیمانے پر عوامی احتجاج یا حکومتی حلقوں کے اندر نمایاں اختلافات بھی پیدا نہ ہوں۔

جنگ کے دورانیے پر ایران میں اختلافات

A woman speaks on a mobile phone as emergency workers sift through rubble of a residential building that was hit in an airstrike in the early hours of 27 March 2026 in Tehran.
Getty Images

تہران کی قیادت اس بات پر متفق نہیں ہے کہ آگے بڑھنے کا بہترین راستہ کیا ہونا چاہیے۔

ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر اور مذاکراتی وفد کے سربراہ محمد باقر قالیباف اس سے قبل خبردار کر چکے ہیں کہ ایران کو ’طویل اور تھکا دینے والے تصادم‘ میں نہیں پھنسنا چاہیے۔ انھوں نے مذاکرات کی مخالفت کرنے والے حلقوں پر تنقید بھی کی تھی۔

اس کے برعکس تہران سے تعلق رکھنے والے سخت گیر رکنِ پارلیمان امیر حسین ثابتی کا مؤقف مختلف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ ایران کی تمام شرائط تسلیم کر لے اور معاہدے پر دستخط بھی کر دے، تب بھی جنگ جاری رہے گی۔

ان گروہوں کے درمیان اختلافات کو محض ’جنگ کی مخالفت‘ اور ’امن کی حمایت‘ کے تناظر میں نہیں دیکھا جا سکتا کیونکہ قالیباف بھی یہ کہتے ہیں کہ وہ ایسے کسی معاہدے کو قبول نہیں کریں گے جو ایران کے حقوق کو یقینی نہ بنائے۔

اصل اختلاف اس بات پر ہے کہ مسلسل دباؤ کے ذریعے تہران کب تک زیادہ سودے بازی کی طاقت حاصل کر سکتا ہے اور وہ کون سا مرحلہ ہوگا جب اس حکمتِ عملی کی قیمت اس کے ممکنہ فوائد سے زیادہ ہو جائے گی۔

جنگ جاری رکھنے کے بارے میں عوامی رائے جاننے کے لیے کوئی آزاد اور قابلِ اعتماد سروے دستیاب نہیں ہے، اور سوشل میڈیا کو بھی پورے معاشرے کی نمائندہ آواز نہیں سمجھا جا سکتا۔

تاہم، جرمن انسٹیٹیوٹ فار انٹرنیشنل سکیورٹی افیئرز (ایس ڈبلیو پی) سے وابستہ اور ایران کے امور کے ماہر حمید رضا عزیزی نے بی بی سی کو بتایا کہ ایران کے لیے سب سے خطرناک محاذ بالآخر اس کا اندرونی محاذ ثابت ہو سکتا ہے۔

ان کے مطابق اس کی بنیادی وجوہات شدید مہنگائی، معاشی مشکلات اور ملک کے بنیادی انفراسٹرکچر پر بڑھتا ہوا دباؤ ہیں۔

جنگ سے باہر نکلنے کی حکمت عملی

An Iranian flag is planted in the rubble of a police station, damaged in airstrikes yesterday, on 3 March 2026 in Tehran
Getty Images

ایک طویل جنگ ایران کے لیے علاقائی سطح پر بھی بھاری قیمت کا سبب بن سکتی ہے۔

حالیہ برسوں میں تہران نے خلیجی عرب ممالک، خصوصاً سعودی عرب، کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کی ہے۔ اگر ان ممالک میں موجود فوجی اڈوں، بنیادی انفراسٹرکچر یا بحری تجارتی راستوں پر حملے جاری رہتے ہیں، یا ایران اور اس کے اتحادی گروہوں کی کارروائیاں بڑھتی ہیں، تو یہ تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔

اب تک خلیجی ممالک نے کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی بحالی کی حمایت کی ہے۔ تاہم اگر انھیں یہ محسوس ہونے لگے کہ وہ ایران یا اس سے وابستہ قوتوں کے حملوں کے زیادہ خطرے سے دوچار ہیں، تو ان کے امریکہ کے ساتھ دفاعی تعاون مزید مضبوط کرنے کے امکانات مزید بھی بڑھ سکتے ہیں اور ممکنہ طور پر یہ تعاون ایران کے خلاف دفاعی حکمتِ عملی کا حصہ بھی بن سکتا ہے۔

امریکہ پر ایک طویل جنگ کے نتیجے میں پڑنے والا کوئی بھی دباؤ تہران کے لیے اسی وقت سیاسی اہمیت اختیار کر سکتا ہے جب وہ اس دباؤ کو مذاکرات کی میز پر کسی رعایت یا مراعات میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہو جائے۔ تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں کہ وہ معاہدہ کیسا ہو گا جو ایران کے لیے جنگ کے قابلِ قبول خاتمے کا باعث بن سکے یا پھر اس قسم کے معاہدے تک پہنچنے کا راستہ کیا ہو سکتا ہے۔

حمید رضا عزیزی کہتے ہیں ’ایران کی حکمتِ عملی میں جو چیز نمایاں طور پر مفقود ہے، وہ یہ ہے کہ اس نے واضح نہیں کیا کہ جنگ کے دوران حاصل ہونے والی دباؤ ڈالنے کی صلاحیت کو ایک پائیدار سیاسی معاہدے میں کیسے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا ’تہران یہ دکھا چکا ہے کہ وہ عالمی توانائی کی سپلائی میں خلل ڈال سکتا ہے اور امریکہ و اس کے اتحادیوں کے لیے تنازع کی قیمت بڑھا سکتا ہے۔ لیکن اس حوالے سے غیر یقینی کی صورتحال برقرار ہے کہ وہ امریکہ اور خلیجی ریاستوں کے ساتھ مستقل محاذ آرائی کی کیفیت میں کس حد تک اور کتنے عرصے تک رہ سکتا ہے۔‘

اب تک فوجی، معاشی یا سیاسی سطح پر سامنے آنے والی کوئی ایک بھی رکاوٹ ایسی نہیں لگی جس نے ایران کو جنگ جاری رکھنے سے روکا ہو۔

تاہم جوں جوں یہ جنگ طول پکڑتی جائے گی، ملک کے اندر معاشی دباؤ میں اضافہ ہوگا، ایران کے علاقائی تعلقات مزید متاثر ہوں گے اور ایسا معاہدہ حاصل کرنا بھی زیادہ مشکل ہوتا جائے گا جو ان تمام نقصانات کا مناسب ازالہ کر سکے۔

دوسرے الفاظ میں ایران کے لیے اصل سوال یہ نہیں کہ آیا وہ جنگ جاری رکھ سکتا ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ اس جنگ کی بڑھتی ہوئی قیمت کب تک برداشت کر سکتا ہے اور آیا اسے اس کے بدلے میں کوئی ایسا سیاسی فائدہ حاصل ہوگا جو ان اخراجات کو جواز فراہم کر سکے۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US