بٹوارے کی 79 ویں سالگرہ کے موقع پر ایسا سوچنے کی بہت ضرورت ہے کہ یہ صرف دو خاندان نہیں ہیں، ان جیسے شاید ہزاروں، لاکھوں لوگ ایسا ہی سوچتے ہوں۔ بٹوارہ بہت سال پہلے ہو چکا، اب اسے تسلیم کرتے ہوئے ساتھ ساتھ رہنے کی ضرورت ہے۔
انڈیا اور پاکستان کے بٹوارے کی 60 ویں سالگرہ کے موقع پر میں نے بی بی سی ورلڈ سروس کے لیے ایک دستاویزی فلم بنائی تھی۔ نام تھا اس کا ’لیٹرز فرام پارٹیشن‘ یعنی بٹوارے کے خطوط۔
اس فلم کو بنے 19 سال ہو چکے ہیں اور ان برسوں میں بہت کچھ بدل چکا ہے لیکن کیا 1947 کی نسل میں تقسیم یا بٹوارے کے درد میں کمی آئی ہے۔
حال ہی میں بالی وڈ کے معروف ہدایت کار امتیاز علی کی فلم ’میں واپس آؤں گا‘ میں برصغیر کی تقسیم کے اسی درد، بچھڑنے کے دکھ اور اپنی مٹی سے محبت کی کہانی بیان کی گئی ہے۔ تو کیا 1947 کے خونریز بٹوارے کو یاد رکھنے والی یہ آخری نسل ہے۔ یہ شاید سچ بھی ہو لیکن میرا تجربہ اس سے مختلف ہے اور میں اسے ایسے ہی یاد رکھنا چاہتا ہوں۔
کہانی بتانے کے لیے ایک مرتبہ پھر ماضی میں جانا پڑے گا، ٹھیک بٹوارے کے دور میں جب لاکھوں افراد کی جانوں سے خون کی ہولی کھیلی گئی تھی۔ چلیئے لاہور چلتے ہیں، جہاں امرتسر سے اجڑ کر آئے میری امی کے خالو اور میرے رشتے کے نانا چوہدری محمد لطیف کو شہر کے ایک مڈل کلاس علاقے کرشن نگر میں ایک گھر الاٹ ہوا ’32 پانڈوسٹریٹ‘۔
ابھی انھیں وہاں آئے کچھ ہی دن ہوئے تھے کہ ان کے پتے پر ایک خط آیا۔ بھیجنے والے نے خط کے لفافے پہ ایڈریس لکھا تھا
To The Occupant
House No 32 Pandoo Street
Krishan Nagar, Lahore
یہ خط لکھا تھا ہرکشن داس بیدی نے جو تقسیم سے اس گھر میں رہتے تھے اور جسے انھوں نے بڑے پیار سے کچھ سال پہلے ہی تعمیر کرایا تھا۔ تقسیم کے وقت انھیں یہ گھر چھوڑ کر جانا پڑا لیکن اس امید سے شاید وہ واپس آئیں گے۔
اور جب انھیں پتہ چلا کہ اب واپسی کا کوئی راستہ نہیں۔ ہاں ایک راہ ہے کہ حکومتی سطح پر آپ کے لیے اس گھر کے دورے کا انتظام ہو سکتا ہے، اگر مکان کا موجودہ مالک آپ کو مل جائے اور وہ آپ کو آپ کی چیزیں دینے پر راضی ہو تو وہ آپ لے کر جا سکتے ہیں۔
ہرکشن داس بیدی نے لاہور کا سفر کیا لیکن بدقسمتی سے چوہدی لطیف گھر پر نہیں تھے اور اس طرح وہ اپنی کوئی بھی چیز اٹھا کر نہ لے جا سکے۔ انھوں نے واپس جا کر اپنا پہلا خط لکھا۔
ہرکشن داس بیدی کا پہلا خطچلیے ذرا اس خط کا کچھ حصہ پڑھتے ہیں۔
جالندھر شہر
30-12-1947
جناب مولوی صاحب
تسلیم۔ میں آپ کی خدمت میں یہ خط بطور ایک انسان کے لکھ رہا ہوں، امید ہے آپ یہ خیال نہ کریں گے کہ ایک ہندو آپ کو خط لکھ رہا ہے۔ ہم پہلے انسان ہیں اور ہندو اور مسلمان بعد میں۔ مجھے امیدِ واثق ہے کہ آپ بھی انسانی ناطے سے میرے اس خط کا جواب ضرور دے کر کرم فرمائیں گے۔
میں 17 ستمبر کو کرشن نگر، 32 پانڈو سٹریٹ میں اپنے گھر کو دیکھنے گیا تھا۔ وہاں جا کر مجھے معلوم ہوا کہ میرا گھر کسی اور کو الاٹ ہو چکا ہے، اس لیے میں اپنے مکان سے اپنی کوئی چیز نہیں لے سکا۔ میں بچوں کے کپڑوں کا ایک چھوٹا سا ٹرنک ساتھ لانا چاہتا تھا، مگر سپاہی نے لانے نہ دیا۔ خیر ان باتوں کو رہنے دیجیئے۔ اب میں اپنے مطلب پر آتا ہوں۔
میں سناتن دھرم ہائی سکول میں سینیئر ٹیچر آف انگلش اور حساب کام کرتا تھا۔ میرے شاگرد ہندو، مسلمان اور سکھ سب تھے اور میری آنکھوں میں کسی قسم کا فرق نہ تھا۔ آپ چوہدری سراج دین سے پوچھیے، میں نے اور دینا ناتھ ان کے مکان کی ہر طرح حفاظت کی تھی۔ وہ کرشن نگر میں نہ رہتا تھا، لیکن ہم نے اسے (مکان کو) کسی قسم کا نقصان نہ ہونے دیا تھا۔
سکول بند ہو گیا تھا۔ لاہور میں کافی گڑبڑ تھی۔ میں اپنے بچوں کو لے کر چھٹیاں گزارنے باہر گیا ہوا تھا اور میرا تمام سامان گھر میں تھا۔ میرا خیال تھا کہ گڑبڑ بند ہو جائے گی اور ہم ہر حالت میں پاکستان یا نہ پاکستان، لاہور میں رہیں گے۔ مگر قدرت کو یہ منظور نہ تھا، میں واپس لاہور ٹھیک وقت پر نہ جا سکا اور میرا تمام سامان وغیرہ جاتا رہا۔
جس دن میں اپنے گھر میں گیا تو میری کتابیں، فرنیچر اور میرا کچھ سامان موجود تھا مگر میں اسے نہ لا سکا اور نامراد ہی واپس آ گیا۔
خیر میں آپ کو ایک تکلیف دیتا ہوں۔ میری لوہے کی پیٹی میں کچھ بہت ضروری کاغذات، بینک کی پاس بک، ڈاک خانے کی پاس بک، انشورنس پالیسیاں، اور کچھ رائلٹی کے کاغذ اور کتابوں کے اگریمنٹس ہیں۔ اگر یہ چیزیں آپ کو میری پیٹی سے مل جاتی ہیں، تو آپ انہیں رجسٹری کرا کے ضرور بھیج دیں۔
لوہے کی پیٹی کی چابیاں شیشے والی الماری میں تھیں اور 17 ستمبر کو میں نے لوہے کی پیٹی کو کھلے ہوئے پایا تھا۔
آپ کی خدمت میں التماس ہے کہ آپ ڈاک خانہ کی پاس بکس، رائلٹی کے کاغذ اور کتابوں کے ایگریمنٹس ضرور رجسٹری کروا کر میرے پتے پر بھیج دیویں۔
ان کے ساتھ بیمہ کمپنی کی پالیسیاں ضرور بھیجیں، اوران کے ساتھ پیٹی میں میرے مکان کی رجسٹری اور دو رجسٹریاں دو ٹکڑہ جات زمین کی ہیں۔ میرے لیے یہ سب زیادہ قیمتی اشیا ہیں۔
مجھے امید ہے کہ آپ ان سب چیزیں کو بھیجنے کی تکلیف ضرور گوارہ کریں گے۔ آپ یہ جان سکتے ہیں کہ میرے لیے یہ کاغذات کتنے قیمتی ہیں۔ میں کیا لکھوں اس وقت بے گھر ہوں، جیب میں پیسے نہیں، اور نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھا ہوں، کچھ نہیں کر سکتا۔ مجھے نہیں معلوم کہ باقی زندگی کیسے گزرے گی۔
آپ کی مدد سے میری مشکلات کسی حد تک کم ہو سکتی ہیں۔ آپ کے لیے یہ محض کاغذات ہوں گے، لیکن میرے لیے یہی زندگی کا سہارا ہیں۔ اسی انسانی رشتے اور بھائی چارے کے نام پر میں آپ سے مدد کی درخواست کرتا ہوں۔
میری لائبریری میں بہت سی کتابیں موجود ہیں۔ آپ انہیں کسی بوری میں ڈال کر سٹور میں محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ حالات بہتر ہوتے ہی میں آ کر انہیں لے جاؤں گا۔ جن اشیاء کی آپ کو ضرورت نہ ہو، انہیں بھی کسی بوری میں رکھ دیں۔ برتن اور فرنیچر آپ استعمال کر سکتے ہیں۔
میری لائبریری میں بہت پرانی اور نایاب کتابیں ہیں۔ براہِ کرم انہیں بھی کسی بوری میں محفوظ کر دیں۔ حالات بہتر ہوتے ہی میں انہیں واپس لے جاؤں گا۔
اگر آپ کو ہوشیار پور یا جالندھر سے کسی کام کی ضرورت ہو یا کوئی چیز منگوانی ہو تو مجھے ضرور لکھیں، مجھے آپ کے لیے یہ کام کر کے خوشی ہوگی۔
میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ حالات بہتر ہو جائیں اور ہم ہندو اور مسلمان بھارت اور پاکستان میں امن و سکون کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔
آپ کا خیر اندیش
ہرکشن داس بیدی، بے اے بی ٹی
معرفت پنجاب کتاب گھر، مائی ہیرا گیٹ
جالندھر شہر
اس خط کے جواب میں چوہدری لطیف نے انھیں بھی خط لکھا۔ میں وہ خط ڈھونڈنے انڈیا میں امرتسر، جالندھر اور دہلی گیا لیکن چوہدی لطیف کا کوئی خط نہ ڈھونڈ سکا۔ ان کی اولاد میں سے میں کسی کو بھی نہ ڈھونڈ سکا۔
میرے پاس صرف ایک سراغ تھا۔ جالندھر بک ڈپو، مائی ہیراں گیٹ، جالندھر۔ اس سے آگے میرے پاس کچھ نہ تھا۔ یہ بھی ڈر تھا کہ آدھی صدی گزرنے کے بعد وہ کتابوں کی دکان ہو گی بھی یا نہیں لیکن میرا ارادہ پختہ تھا۔
دکان تو خوش قسمتی سے مل گئی، یہ بھی پتہ چلا کہ ہرکشن داس بیدی اب دنیا میں نہیں ہیں، لیکن چوہدری لطیف کے خطوط کا سراغ نہ ملا۔ اس کی وجہ آگے چل کر آپ خود ہی سمجھ جائیں گے لیکن چوہدری لطیف کے خطوں کے جواب ضرور آئے۔

جالندھر شہر
9-1-1948
مکرمی مسٹر محمد لطیف صاحب
آداب عرض۔ آپ کا نوازش نامہ ملا۔ میں نے آپ کے خط کو دو تین دفعہ پڑھا۔ اور پڑھ کر یہ محسوس کیا کہ یہ خط مجھے ایک سچے رفیق کی طرف سے ملا ہے۔ میں نے آپ کے لکھے ہوئے خط کو کئی دوستوں کو پڑھ کر سنایا، سب نے یہ فتویٰ دیا کہ اگر سب ہندو اور مسلمانوں کے جذبات ایسے ہوتے جیسے آپ نے اپنے خط میں ظاہر کیے ہیں۔ تو ہندوستان میں یہ خون کی ہولی کبھی نہ ہوتی۔ اور ہم ہندوستان اور پاکستان میں رہتے ہوئے اپنے اپنے وطن کو ایک اونچے آسمان پر پہنچا دیتے۔ مگر پرماتما کو یہ منظور نہ تھا۔
جب مجھے ان حالات کا خیال تک آتا ہے جو کچھ ہندوؤں اور مسلمانوں نے اپنے ہم وطنوں سے کیا، تو میرا جسم لرزنے لگتا ہے۔ اور میں سچے دل سے چاہتا ہوں کہ کاش ان واقعات کے ہونے سے پہلے میں اپنی آنکھیں ہمیشہ کے لیے بند کر لیتا، تاکہ میں آنے والی نسلوں کو ان واقعات کا ذکر تک نہ کر سکتا۔
خیر جو کچھ ہوا اس کے لیے ہم جیسے شریف ہندو اور مسلمان رتی بھر ذمہ دار نہیں۔ یہ ایک پاگلانہ جنون تھا، جس نے ہندو اور مسلمانوں دونوں کی آنکھیں بند کر دیں۔ اور سب سے بری بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ مذہب ایمان اور دھرم کے لیے ہوا۔ کوئی مذہب یا دھرم اس خون کی ہولی کی اجازت نہیں دیتا۔ شاید قدرت نے ہمارا امتحان کرنا تھا، مگر ہم اس امتحان میں بری طرح فیل ہوئے ہیں اور دنیا کے لوگوں کے سامنے منہ نہیں دکھا سکتے۔ خیر میری دعا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان میں امن و امان ہو۔ اور ہم پھر پہلے کی طرح آزادانہ طور پر ایک جگہ سے دوسری جگہ جا سکیں۔
یہ جو کچھ ہوا ’پاور پالیٹکس‘ کی وجہ سے ہوا ہے اور ایک سادھوان انسان کی اس میں قربانی دی گئی ہے۔ میں آپ کے جذبات اور خیالات کا سچے دل سے احترام کرتا ہوں اور شاید آئندہ زمانہ میں ہم ایک دوسرے کے سچے رفیقوں کی طرح معاون اور مددگار ثابت ہو سکیں۔ آپ کی ہمدردی اور غم غساری کا میں تہہ دل سے مشکور ہوں۔ اور آپ جیسے نیک انسان سے یہ امید تھی کہ آپ دوسرے کی ضرورت میں ہر ممکن مدد کرنے میں قلبی راحت محسوس کریں گے۔
مجھے افسوس ہے کہ آپ جیسے نیک انسان کو اس گڑبڑ میں تکلیف ہوئی اور باوجود مشرقی پنجاب میں خدمات ادا کرنے کے آپ کو پاکستان جانا پڑا۔ مگر ہمارے بھائیوں نے حالات ایسے پیدا کر دیے کہ ایک ہندو اور سکھ کا مغربی پنجاب اور ایک مسلمان کا مشرقی پنجاب میں رہنا محال ہو گیا۔ مگر شکر کا مقام یہ ہے کہ آپ مع عیال حفاظت سے لاہور پہنچ گئے۔ مگر جائیداد کے نقصان کا افسوس ضرور ہوا ہے۔ امید کامل ہے کہ دونوں سلطنتوں میں جائیداد کے متعلق جلد فیصلہ ہو گا اور شائید ہم جائیداد کے تبادلے کر سکیں۔ اور ہماری مصیبتوں میں کچھ کمی ہو جائے۔ فی الحال سوائے قسمت کو کوسنے کے اور کوئی چارہ نہیں۔۔۔۔
اب میں جالندھر میں ایک دوست کے ساتھ رہتا ہوں۔ میرے بچے ہوشیارپور کے ایک گاؤں میں ہیں۔ میرے پاس نہ اپنا گھر ہے اور نہ ہی کوئی ملازمت، اور میں انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزار رہا ہوں۔ حکومت نے اُن لوگوں کو ملازمتیں نہیں دیں جو پہلے نجی سکولوں میں کام کرتے تھے۔ مجھے اس بات کی بہت فکر اور پریشانی ہے کہ میں اپنے بچوں کا پیٹ کیسے پالوں گا۔
کتابیں میری زندگی بھر کی جمع پونجی تھیں، اور میں نے انہیں اس وقت دیکھا تھا جب میں ستمبر میں گھر میں داخل ہوا۔ مجھے پختہ یقین ہے کہ آپ ان کتابوں کی حفاظت کریں گے، اور جب حالات معمول پر آ جائیں گے تو میں انہیں واپس لے جاؤں گا۔ آپ میرے گھر میں رہیں اور اس کی دیکھ بھال کریں۔ موجودہ حالات میں میں اس سے زیادہ اور کیا لکھ سکتا ہوں؟
میں یہاں بہت پریشان اور بے سہارا ہوں کیونکہ میرے پاس اپنا گھر نہیں ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آپ ہر ممکن طریقے سے میری مدد کرنے کی کوشش کریں گے۔
آپ کا خیر اندیش
ہرکشن داس بیدی، بے اے بی ٹی
معرفت پنجاب کتاب گھر، مائی ہیرا گیٹ
جالندھر شہر
اب ذرا اس خط کو غور سے پڑھیں اور یہ بھی یاد رکھیں کہ یہ ایک ہندو نے لکھا تھا جو کہ 1947 کے بٹوارے کے دوران اجڑ کر لاہور سے جالندھر گیا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب تقسیم کی وجہ سے پیدا ہونے والی نفرت کی آگ لاکھوں لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے چکی تھی۔
بیدی نے نہ صرف اسے ایک پاگلانہ جنون کہا بلکہ لکھا کہ جب مجھے ان حالات کا خیال تک آتا ہے جو کچھ ہندوؤں اور مسلمانوں نے اپنے ہم وطنوں سے کیا، تو میرا جسم لرزنے لگتا ہے۔ اور میں سچے دل سے چاہتا ہوں کہ کاش ان واقعات کے ہونے سے پہلے میں اپنی آنکھیں ہمیشہ کے لیے بند کر لیتا، تاکہ میں آنے والی نسلوں کو ان واقعات کا ذکر تک نہ کر سکتا۔
’یہ جو کچھ ہوا ’پاور پالیٹکس‘ کی وجہ سے ہوا ہے اور ایک سادھوان انسان کی اس میں قربانی دی گئی ہے۔‘
اوپر ان سب باتوں کا ذکر کرنے کی ایک وجہ ہے اور یہیں سے میری کہانی چوہدری محمد لطیف اور ہرکشن داس بیدی کی کہانی سے مل جاتی ہے۔
ہوا یوں کہ میرے نانا چوہدری لطیف کی وفات کے بعد جب ان کے کمرے کی صفائی کی جا رہی تھی تو وہاں سے چند خط ملے جن کا خاندان میں کسی کو علم نہیں تھا۔ یہ خط ہرکشن داس بیدی کے تھے۔ میں حیران تھا کہ وہ کون لوگ تھے جو اس جنونی پاگل پن میں اپنے حواس کو قائم رکھے ہوئے امن و امان کی باتیں کر رہے تھے۔ شاید لاکھوں اور بھی ان جیسوں ہوں۔ شاید کروڑوں اب بھی ایسے ہی سوچتے ہوں اور یہ سب ’پاور پالیٹکس‘ ہو۔ شاید ہم لڑنا چاہتے ہیں نہ ہوں۔ شاید ہمیں ہمیشہ کوئی لڑواتا رہا ہو۔ میں اس پر کام کرتا رہا۔
میرا ایمان اس پر اور بھی پختہ ہوا جب کچھ برس پہلے ایک نوجوان نے لنکڈ ان پر مجھے ایک پیغام بھیجا اور کہا کہ وہ مجھ سے بات کرنا چاہتا ہے۔ میں نے اسے اپنا نمبر دیا اور فوراً ہی اس کا فون آ گیا۔ اس نے اگلے چند جملوں میں جوکہا تو مجھے ایسا لگا کہ زندگی کی ساری صحافت کا نچوڑ شاید یہی ہے۔ وہ لڑکا ہرکشن داس بیدی کا گرینڈ چائلڈ تھا۔ اس نے مجھے بتایا کہ میری ماں ایک دن ہمارے خاندان کے ایک بچے کو حساب پڑھا رہی تھیں تو انھوں نے اس سے کہا کہ تمہارے گرینڈ فادر بہت بڑے ریاضی دان تھے اور انھوں نے ریاضی پر کتابیں بھی لکھی تھیں۔ بچے نے کہا کہ میں نے بھی دیکھنی ہیں اور وہ انٹرنیٹ پر سرچ کرنے لگ گئے۔ لیکن جیسے ہی وہ ہرکشن داس بیدی کا نام لکھتے تو میرا نام سامنے آ جاتا کیونکہ میں نے ان پر دستاویزی فلم بنائی تھی۔
اس نوجوان نے کہا کہ اس کا سارا خاندان ہی مجھ سے مل کر میرا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہے کہ میں نے ان کے بزرگ پر لکھا۔ ہرکشن داس بیدی انڈیا میں بھی تعلیم و تدریس سے وابستہ رہے۔ حسب ذیل خط سے پتہ چلتا ہے کہ ہرکشن داس بیدی لکھنے پڑھنے کے دلدادہ تھے۔

معرفت پنجاب کتاب گھر
گیٹ مائی ہیراں، جالندھر شہر
مورخہ 22 جنوری 1948
میرے شفیق اور محسن محمد لطیف صاحب
تسلیم۔ خیریت موجود خیریت مطلوب۔ احوال یہ کہ آپ کی ارسال کردہ رجسٹری ملی۔ جس میں میرے مکان کی رجسٹری، دو پلاٹ کی رجسٹری، بیمہ کمپنی کی پالیسی اور ڈاک خانہ اور بینک کی پاس بکس ملیں۔ میں آپ جیسے نیک سیرت انسان کا جس قدر شکریہ ادا کروں کم ہے۔ آپ کے احسان کے نیچے میں کس قدر دب گیا ہوں یہ میرا دل ہی جانتا ہے۔
مجھے آپ سے ایک شکایت ضرور ہے۔ آپ نے ڈاک خانہ کے تبدیلی فارم کے ساتھ ایک روپے کا نوٹ ارسال کیا ہے۔ جس سے میرے دل کو صدمہ ضرور گزرا ہے۔ کیا آپ مجھے اتنا گیا گزرا انسان سمجھتے ہیں کہ میں اپنی گرہ سے ایک روپیہ آپ کے لیے نہ خرچ سکتا تھا۔ میں نے اس بات کو محسوس ضرور کیا ہے۔ آئندہ آپ میرے ساتھ اس قدر زبردستی نہ کیجیے۔
جب آپ میرے لیے اس قدر کر رہے ہیں تو مجھے بھی آپ کے لیے کچھ کرنے کا آپ کو موقع ضرور دینا چاہیے۔ آپ نے میرے اس قدر ضرور کاغذات ارسال کیے اور ان کی رجسٹری کا خرچ برداشت کیا۔ کیا میری گردن جھکانے کے لیے یہ کافی نہیں تھا۔ میری درخواست نہایت مودبانہ ہے کہ آئندہ آپ مجھے ایک خادم سمجھ کر اس قدر زبردستی نہ کریں اور مجھے بھی خدمت کا موقع دیویں۔
میں ایک دو دن سے بیمار ہوں۔ اور چار پانچ دن سے میں نے کچھ نہیں کھایا۔ جونہی میری طبیعت ٹھیک ہوتی ہے میں امرتسر جا کر آپ کا کام کروں گا، ورنہ میں آپ کا رجسٹرڈ لیٹر پڑھنے پر امرتسر چلا جاتا۔ خیر اس تاخیر کے لیے معاف کریں۔۔۔۔
مجھے یہ بات لکھتے ہوئے فخر محسوس ہوتا ہے کہ میرا مکان ایک ایسے مربی کو الاٹ ہوا ہے جو صحیح معنوں میں ایک مکمل انسان ہے۔ خیر میں آپ کی خوشامد نہیں کرتا۔ میرا دل اس بات کی گواہی دیتا ہے۔
آئندہ زمانہ ہمارے اس رشتہ کو کس قدر گہرا کرے گا یہ خداوند کریم ہی جانتا ہے۔
بیٹھک کی انگیٹھی کے نیچے ایک ہارمونیم پڑا تھا۔ اس ہارمونیم کے اوپر کچھ کتابیں تھیں اور ان میں ایک فائل تھی، جس میں میری امریکہ اور انگلستان خط و کتابت کا ریکارڈ تھا۔ اور کچھ گورنمنٹ آف انڈیا سے ملے ہوئے لائسنس تھے۔ اور دو بل، ایک پنسلوں اور ایک فارن ٹوتھ پیسٹ کا تھا۔ آپ اس فائل کو سنبھال کر رکھیں۔ میرے خیال میں کتابیں تو آپ نے ضرور بوری میں ڈال کر رکھ چھوڑی ہوں گی۔ میرے چھوٹے کمرے میں ولایتی کاغذ 20 ریم اور ایک ریم دیسی کاغذ پڑا تھا۔ کیا یہ کاغذ پڑا ہے یا گورنمنٹ اٹھا کر لے گئی ہے۔ آپ ضرور لکھیں۔۔۔۔
میرے چھوٹے کمرے میں ایک کتاب ’ہائی سکول جیومیٹری‘ میز پر پڑی تھی۔ اس کتاب کو میں نے آدھا ریوائز کیا تھا۔ اگر ہو سکے تو آپ اس کتاب کو علیحدہ رجسٹری کروا کر بھیج دیویں یا اس کو اپنے پاس محفوظ رکھ چھوڑیں۔ میں بعد میں اسے منگوا لوں گا۔ یہ میری اپنی لکھی ہوئی کتاب ہے جس کو میں نے آدھا درست کیا تھا۔ اور باقی آدھا ابھی تک درست کرنا تھا، تب یہ کتاب دوبارہ چھپنی تھی۔۔۔
آپ کا خیر اندیش
ہرکشن داس بیدی
چار سال پہلے میں کینیڈا ایک دوست کی بیٹی کی شادی میں شرکت کے لیے گیا۔ اسی دوران میں نے فیس بک پر اپنا سٹیٹس اپ ڈیٹ کیا تو فوراً ہی فیس بک پر مجھے ایک پیغام آیا: ’مسٹر عارف کیا آپ کینیڈا میں ہیں۔ میں سونیا بیدی ہوں ہرکشن داس بیدی کی پوتی۔‘
میں نے انھیں بتایا کہ جی میں یہاں آیا ہوں تو وہ کہنے لگیں کہ میرے والد بیدی صاحب کے بیٹے مجھ سے ملنا چاہتے ہیں۔ ہم نے ایک کافی شاپ پر ملنے کا وعدہ کیا۔ اتفاق کی بات ہے کہ کینیڈا میں ہی چوہدری لطیف کی پوتی اور میری کزن رہتی ہیں۔ میں انھیں بھی اپنے ساتھ لے گیا۔ لمبی ملاقات ہوئی جس میں بیدی صاحب کے بیٹے نے مجھے کئی مرتبہ گلے لگایا اور شکریہ ادا کیا۔ آخر میں ہم اس بات پر بھی بحٽ کرتے رہے کہ کافی کے پیسے کون دے گا۔ بالکل اسی طرح جس طرح ہرکشن داس بیدی گلہ کرتے تھے کہ چوہدری لطیف ان کی رجسٹریوں کے پیسے تو خود دے دیتے ہیں لیکن ان کے پیسے نہیں لگواتے۔
حال ہی میں بیدی صاحب کے دوسرے بیٹے کا فون بھی انڈیا سے آیا۔ انھوں نے مجھ سے وعدہ کیا کہ اگرچہ یہ مشکل ہے لیکن وہ کوشش کریں گے کہ چوہدری لطیف کے خط ڈھونڈیں جو انہوں نے ان کے والد کو لکھے تھے۔ وہ بھی ملنے پر اصرار کرتے رہے اور ان کے والد پر لکھنے کا شکریہ بھی۔
میں جب بھی قسمت کے لکھے اس کھیل کے بارے میں سوچتا ہوں تو اس بات پر میرا ایمان پختہ ہوجاتا ہے کہ بنیادی طور پر ہم سب ایک جیسے ہیں، ایک ہی خطے کے ہیں، ہزاروں سال سے ساتھ رہے ہیں اور ایک ایسا رشتہ بنا چکے ہیں جسے کوئی تقسیم ختم نہیں کر سکتی اور نہ کوئی ریڈکلف اس میں لکیر لگا سکتا ہے۔
سونیا اور میری کزن طیبہ اب بھی جب کبھی وقت ملے کینیڈا کی کسی کافی شاپ میں مل لیتی ہیں۔ نہ تو پارٹیشن ہرکشن داس بیدی کا رشتہ کرشن نگر اور وہاں رہنے والے چوہدری لطیف سے توڑ سکا اور نہ ہی ان کے خاندانوں کے آپس میں ملنے سے روک سکا۔
بٹوارے کی 79 ویں سالگرہ کے موقع پر ایسا سوچنے کی بہت ضرورت ہے کہ یہ صرف دو خاندان نہیں ہیں، ان جیسے شاید ہزاروں، لاکھوں لوگ ایسا ہی سوچتے ہوں۔ بٹوارہ بہت سال پہلے ہو چکا، اب اسے تسلیم کرتے ہوئے ساتھ ساتھ رہنے کی ضرورت ہے۔
پاکستان اور انڈیا کو آزادی مبارک۔