انڈیا اور پاکستان کے درمیان مئی 2025 میں ہونے والی عسکری جھڑپوں کو ایک سال اور تین ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے، تاہم اس چند روزہ تصادم کے نتائج اور اس دوران پیش آنے والے واقعات کے بارے میں دونوں ممالک آج بھی اپنا اپنا مختلف مؤقف رکھتے ہیں
انڈیا اور پاکستان کے درمیان مئی 2025 میں ہونے والی عسکری جھڑپوں کو ایک سال اور تین ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے، تاہم اس چند روزہ تصادم کے نتائج اور اس دوران پیش آنے والے واقعات کے بارے میں دونوں ممالک آج بھی اپنا اپنا مختلف مؤقف رکھتے ہیں۔ دونوں جانب سے کامیابی کے دعوے کیے گئے اور جنگ کے دوران ہونے والے فوجی نقصانات کے بارے میں متضاد بیانیے سامنے آئے۔
حال ہی میں انڈیا میں ریلیز کی جانے والی دستاویزی فلم ’ڈی کلاسیفائیڈ: آپریشن سندور‘ نے اس جھڑپ کو ایک بار پھر موضوع بحث بنا دیا ہے۔ اس فلم میں انڈیا کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول اور دیگر اعلیٰ فوجی حکام نے پاکستان کے خلاف کامیابیوں کے متعدد دعوے کیے ہیں۔ دوسری جانب پاکستان فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) نے ان دعووں کو ’حقائق کے منافی، متنازع اور پروپیگنڈا پر مبنی بیانیہ‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔
آخر دستاویزی فلم میں کیا دعوے کیے گئے ہیں، آئی ایس پی آر نے ان کی تردید میں کیا کہا ہے، اور مئی 2025 میں جنگ بندی کے وقت عوامی سطح پر کون سی معلومات اور بیانات سامنے آئے تھے؟ اس تحریر میں انہی سوالات کا جائزہ لیا گیا ہے۔
دستاویزی فلم میں کیا دعوے کیے گئے ہیں؟
واضح رہے کہ انڈیا نے چھ مئی 2025 کی شب پاکستان اور اس کے زیر انتظام کشمیر پر میزائل حملے کیے تھے اور انھیں اپنے زیر انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں سیاحوں کی ہلاکت کا ردعمل قرار دیا تھا، جبکہ پاکستان نے ہمیشہ پہلگام حملوں میں ملوث ہونے سے متعلق انڈین الزامات کو مسترد کیا ہے۔
انڈیا نے اپنی کارروائیوں کو ’آپریشن سندور‘ جبکہ پاکستان نے اپنی جوابی کارروائیوں کو 'آپریشن بُنیانٌ مّرصُوص' کا نام دیا تھا۔
دستاویزی فلم ’ڈی کلاسیفائیڈ: آپریشن سندور‘ کی تعارفی ویڈیو ڈسکوری چینل انڈیا اور ڈسکوری پلس انڈیا کے یوٹیوب چینلز پر اپ لوڈ کی گئی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ مکمل دستاویزی فلم انھی میڈیا پلیٹ فارمز کی ایپلی کیشن پر دیکھی جا سکتی ہے۔
تاہم، ایکس اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز استعمال کرنے والے کئی صارفین اپنے اپنے اکاؤنٹس پر یہ دستاویزی فلم اپ لوڈ کر چکے ہیں۔
دستاویزی فلم میں عسکری حکام کے انٹرویوز کے ذریعے آپریشن شروع کیے جانے سے لے کر جنگ بندی تک کے واقعات کو ترتیب سے بیان کیا گیا ہے۔
اس فلم میں انڈیا کے فوجی حکام یہ دعوے کرتے ہیں کہ ان کی جانب سے تو پاکستان کے عسکری اہداف، فضائی اڈوں اور کمانڈ سینٹرز پر حملے کر کے بھاری نقصان پہنچایا گیا جبکہ پاکستان کی جانب سے کیے گئے جوابی حملے یا تو ہدف کو نشانہ ہی نہ بنا سکے، یا پھر انھیں ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی روک کر تباہ کر دیا گیا۔
دستاویزی فلم میں انڈین حکام کی جانب سے یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ 10 مئی 2025 کی صبح تک پاکستان جنگ بندی چاہتا تھا اور اس کے لیے پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے رابطہ کیا اور مارکو روبیو نے انڈین وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر سے گفتگو کی۔
دعوے کے مطابق ’مارکو روبیو سے کہا گیا کہ آپ پاکستانی ڈائرکٹر جنرل ملٹری آپریشنز (ڈی جی ایم او) سے کہیں کہ وہ اپنے انڈین ہم منصب سے بات کریں، کیونکہ بات چیت کا درست ذریعہ وہی تھے۔‘
دستاویزی فلم کے لیے دیے گئے اپنے انٹرویو میں انڈیا کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز لیفٹیننٹ جنرل راجیو گھائی دعویٰ کرتے ہیں کہ پاکستانی ڈی جی ایم او نے ان سے رابطہ کیا اور جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا: ’آپ نے ہم پر اتنے براہموس میزائل داغے ہیں، اب تو آپ کو سکون مل جانا چاہیے۔ اور کیوں نہ ہم اسے (جنگ کو) روک دیں۔‘
آگے انڈیا کے مشیر برائے قومی سلامتی اجیت ڈوول کے انٹرویو کا حصہ شامل کیا گیا ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ پاکستان نے ’ہم سے بار بار درخواست کی۔ کہا بہت ہو گیا، آپ بہت نقصان پہنچا چکے، اب سیز فائر کر لیجیے۔ اور ہم نے یہ بات مان لی۔‘
دستاویزی فلم کے آخر میں دی گئی معلومات کے مطابق اسے سپارکل ورکس فلمز نے وارنر بروس ڈسکوری کے لیے پروڈیوس کیا ہے۔
پاکستان فوج کا کیا مؤقف ہے؟
پاکستان فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے دستاویزی فلم میں کیے گئے دعووں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ایک ناکام مہم میں شکست تسلیم کرنے کے بجائے، انڈیا نے تاریخ کو اپنی پسند کے رنگوں میں رنگنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا: ’تاریخ کو مسخ کرنے کے لیے انڈین تخلیق کاروں نے نام نہاد انتہائی ڈرامائی، جانب دارانہ اور حقائق کے منافی بیانیہ تیار کیا، جسے ایک دستاویزی فلم کی صورت میں پیش کیا گیا ہے۔‘
آئی ایس پی آر کے مطابق دستاویزی فلم میں بتائے گئے بیانات میں تضادات موجود ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ واقعات کا ایک ایسا رخ پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو انڈیا کے اندر ’قابل قبول‘ ہو۔
پاکستان فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کا کہنا ہے کہ پہلے انڈیا نے دعویٰ کیا کہ پہلگام حملے کے تین مبینہ ذمہ داروں کی شناخت کر لی گئی تھی اور انھیں 28 جولائی 2025 کو، نام نہاد آپریشن سندور کے 82 دن بعد، ہلاک کر دیا گیا تھا۔ اس کے باوجود دستاویزی فلم میں دعویٰ کیا گیا ہے پہلگام واقعے کی ’سزا کے طور پر‘ آپریشن شروع کیا گیا۔
ایکس پر پوسٹ میں آئی ایس پی آر نے سوال کیا ہے کہ اگر پہلگام حملے کے ’مبینہ ذمہ دار 28 جولائی کو ہلاک کر دیے گئے تھے تو انڈیا کو یہ وضاحت کرنا ہو گی کہ سات مئی 2025 کو اس کے دعوے کے مطابق کس کو سزا دی گئی تھی۔‘
10 مئی 2025 کی تصویر: انڈیا اور پاکستان میں جنگ بندی کے بعد پاکستان کے شہر حیدرآباد میں جشن منایا جا رہا ہےآئی ایس پی آر نے اس مشن میں ’100 فیصد کامیابی‘ کے انڈیا کے دعوے کو بھی مسترد کیا ہے اور کہا ہے کہ ’پاکستان کی مسلح افواج نے انڈیا کی جارحیت کو کامیابی سے ناکام بنایا اور آٹھ فوجی طیارے مار گرائے۔‘
آئی ایس پی آر کے دعوے کے مطابق پاکستان فوج کی جوابی کارروائیوں میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے اور ہدف کو درستی سے نشانہ بنانے والے ہتھیاروں کے ذریعے انڈیا میں ’26 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جن میں وہ تنصیبات بھی شامل تھیں جہاں سے پاکستانی شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔‘
آئی ایس پی آر کے مطابق اس دستاویزی فلم کے ذریعے انڈیا نے ’ایک عسکری غلطی کو کامیابی کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔‘
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ اسے پاکستان فوج کی انڈیا کے خلاف کارروائی کے بارے میں ’کوئی بیانیہ گھڑنے کی ضرورت نہیں‘ اور ’پاکستان کی مسلح افواج ملک کی خود مختاری، علاقائی سالمیت اور قومی مفادات کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار بھی ہیں اور اس کی صلاحیت بھی رکھتی ہیں۔‘
پاکستان فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کے مطابق: ’مستقبل میں کسی بھی فوجی مہم جوئی کا جواب مضبوط، فیصلہ کن اور غیر متناسب انداز میں دیا جائے گا، جس کے بعد سنیما طرز کی کوئی بھی جھوٹی گواہی انڈیا کے لیے عزتِ نفس بچانے کا ذریعہ نہیں بن سکے گی۔‘
مئی 2025 کی انڈیا پاکستان جھڑپوں کے دوران سامنے آنے والی معلومات کیا تھیں؟
انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے علاقے پامپور میں گر کر تباہ ہونے والے ایک طیارے کا ملبہدستاویزی فلم ’ڈی کلاسیفائیڈ: آپریشن سندور‘ میں انڈین حکام بتاتے ہیں کہ جب چھ اور سات مئی کی شب پاکستان اور اس کے زیر انتظام کشمیر میں میزائل حملے کیے گئے تو ابتدا میں پاکستان نے لائن آف کنٹرول (کشمیر کے دو حصوں کو انڈیا اور پاکستان میں تقسیم کرنے والی لکیر) پر جوابی فائرنگ کی۔
فلم میں انڈین فضائیہ کے سابق نائب سربراہ نرمدیشور تیواری بتاتے ہیں: ’اگلے 15 سے 20 منٹ کے اندر، دونوں طرف سے 40 سے 50 ایئرکرافٹ ہوا میں تھے۔‘
جنوب مغربی فضائی کمان کے کمانڈر اِن چیف ائیرماشل ناگیش کپور کہتے ہیں: ’ہم فضا میں نگرانی کر رہے تھے تاکہ ان کا کوئی ائیرکرافٹ (سرحد کے) اس طرف نہ آ سکے اور نہ ہی اپنی فضائی حدود میں رہتے ہوئے ہماری طرف بم گرا سکے۔‘
اگلا جملہ پھر نرمدیشور تیواری کا ہے ’ہم نے زمین سے فضا کی طرف مار کرنے والے کئی میزائل داغے تھے، جنھوں نے دشمن کو یقیناً کچھ نقصان پہنچایا تھا۔‘
نرمدیشور تیواری کے مطابق ’لگ بھگ دو گھنٹے بعد انھوں (پاکستانی طیاروں) نے واپس جانے کا فیصلہ کر لیا۔‘
واضح رہے کہ دستاویزی فلم میں نرمدیشور اور ناگیش کپور نے اُس رات انڈین طیاروں کے نقصانات پر کوئی بات نہیں کی ہے جبکہ پاکستان نے سات مئی کو دعویٰ کیا تھا کہ اس نے انڈیا کے چھ لڑاکا طیارے مار گرائے ہیں۔
جون 2025 میں انڈین مسلح افواج کے چیف آف ڈیفنس سٹاف انیل چوہان نے ایک انٹرویو میں بلومبرگ ٹی وی کو بتایا تھا کہ ’اہم بات یہ نہیں کہ جیٹ طیارے گرے یا نہیں بلکہ (اہم یہ ہے کہ) وہ کیوں گرائے گئے۔‘
بی بی سی ویریفائی نے مئی 2025 میں تین ایسی ویڈیوز کی تصدیق کی تھی جن کے بارے میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ان میں نظر آنے والا ملبہ ایک جنگی طیارے کا ہے جو انڈیا کی فضائیہ کے زیر استعمال ہیں۔
یہ دعویٰ دستاویزی فلم میں بھی کیا گیا ہے اور جنگ بندی کے بعد انڈین حکومت نے بھی کیا تھا کہ نو مئی کو امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے وزیر اعظم نریندر مودی کو فون کیا اور انھیں بتایا کہ پاکستان اگلے چند گھنٹوں میں بڑا حملہ کر سکتا ہے۔ دعوے کے مطابق ’وزیر اعظم مودی نے اپنے جواب میں واضح کیا کہ اگر ایسا کوئی حملہ ہوا تو ہماری طرف سے مناسب جواب دیا جائے گا۔'
تاہم بعد میں امریکی صدر ٹرمپ کا یہ دعویٰ سامنے آیا کہ انڈیا اور پاکستان میں جنگ انھوں نے رکوائی ہے۔
اس پر انڈیا کی اپوزیشن جماعتوں نے سوال اٹھایا تھا کہ جنگ بندی کس کے کہنے پر کی گئی؟
کانگریس رہنما گورو گوگوئی نے پارلیمان کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا: ’اگر پاکستان واقعی گھٹنے ٹیکنے کو تیار تھا تو آپ کیوں رُکے، آپ کیوں جُھکے۔ آپ نے کس کے سامنے ہتھیار ڈالے؟‘
انڈیا نے پاکستان کے خلاف اپنی کارروائی میں ’100 سے زیادہ دہشت گردوں‘ کو ہلاک کرنے اور شدت پسندوں کے کیمپوں، پاکستانی فضائی اڈوں اور فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنانے کے دعوے کیے تھے۔
انڈیا نے پاکستان کے پانچ لڑاکا طیارے اور ایک بڑا طیارہ مار گرانے کا بھی دعویٰ کیا تھا تاہم پاکستانی وزیر دفاع نے اس کی تردید میں کہا تھا کہ ’ایک بھی پاکستانی طیارے کو نشانہ نہیں بنایا گیا اور نہ ہی کوئی تباہ ہوا ہے۔‘