’نکاح سے قبل بھیجی گئی تصاویر اور اصل شکل میں فرق محسوس ہوا‘: سابق رکن سندھ اسمبلی اور سابقہ بیوی کے درمیان تنازع

سندھ کے سابق رکن صوبائی اسمبلی غلام رسول خان انڑ اور ان کی سابقہ بیوی رضیہ لاشاری کے درمیان نکاح، مالی معاملات، طلاق اور مبینہ دھمکیوں کا تنازع کراچی کی ایک عدالت پہنچ چکا ہے۔
غلام رسول خان انڑ نے کراچی کی عدالت میں ضابطۂ فوجداری کی دفعات 22-اے اور 22-بی کے تحت درخواست دائر کی ہے، جس میں انھوں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ مبینہ دھمکیوں اور دیگر الزامات پر پولیس رضیہ لاشاری کے خلاف مقدمہ درج کرے
Getty Images
غلام رسول خان انڑ کا مطالبہ ہے کہ پولیس ان کی سابقہ بیوی کے خلاف مقدمہ درج کرے

سندھ کے سابق رکن صوبائی اسمبلی غلام رسول خان انڑ اور ان کی سابقہ بیوی رضیہ لاشاری کے درمیان نکاح، مالی معاملات، طلاق اور مبینہ دھمکیوں کا تنازع کراچی کی ایک عدالت پہنچ چکا ہے۔

درخواست گزار غلام رسول انڑ نے الزام لگایا ہے کہ رضیہ لاشاری نے مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلی جنس یا اے آئی) سے تیار کردہ تصاویر کے ذریعے انھیں دھوکہ دیا۔ جبکہ رضیہ لاشاری نے ان پر ضعیف العمری اور ازدواجی ذمہ داریاں پوری نہ کرنے اور نکاح سے قبل کیے گئے مالی وعدوں سے انحراف کے الزامات عائد کیے ہیں۔

غلام رسول خان انڑ نے کراچی کی عدالت میں ضابطۂ فوجداری کی دفعات 22-اے اور 22-بی کے تحت درخواست دائر کی ہے، جس میں انھوں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ مبینہ دھمکیوں اور دیگر الزامات پر پولیس رضیہ لاشاری کے خلاف مقدمہ درج کرے۔

اس درخواست میں رضیہ لاشاری کو ’مجوزہ ملزمہ‘ قرار دیا گیا ہے۔ تاہم خاتون کی جانب سے عدالت میں جمع کرائے گئے اعتراضات میں ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ یہ کارروائی انھیں دباؤ میں رکھنے اور ان کے مالی دعوؤں سے دستبردار کرانے کی کوشش ہے۔

غلام رسول انڑ کے وکیل عامر وڑائچ نے عدالت سے مزید وقت مانگا ہے جس کے بعد مقدمے کی سماعت 29 اگست تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

سوشل میڈیا پر رابطہ اور ’ویڈیو کال پر‘ نکاح

عدالتی دستاویزات کے مطابق اس معاملے کی ابتدا فروری 2026 میں ہونے والے نکاح سے ہوئی۔

غلام رسول خان انڑ کی درخواست کے مطابق وہ اور رضیہ لاشاری فیس بک میسنجر، واٹس ایپ اور انسٹاگرام سمیت مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے رابطے میں آئے۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ خاتون نے ان سے شادی کی خواہش ظاہر کی، جس پر وہ رضا مند ہو گئے۔

درخواست کے مطابق 23 فروری 2026 کو دونوں کا نکاح ہوا۔ غلام رسول انڑ کا موقف ہے کہ نکاح ’ویڈیو کال کے ذریعے‘ ہوا تھا اور حق مہر کی رقم ایک لاکھ روپے مقرر کی گئی تھی، جو ادا کی جا چکی تھی۔

دوسری جانب رضیہ لاشاری کی جانب سے جمع کرائے گئے اعتراضات میں نکاح کی مختلف تفصیل بیان کی گئی ہے۔ ان کے مطابق 23 فروری کو نکاح وکلا اور امام کی موجودگی میں ہوا تھا۔

اعتراضات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ نکاح سے قبل نو فروری کو درخواست گزار نے گواہوں، خاندانی افراد اور دیگر افراد کی موجودگی میں ایک حلف نامے کے ذریعے بعض شرائط قبول کی تھیں۔

خاتون کے مؤقف کے مطابق ان شرائط میں ان کے نام پر ایک فلیٹ خریدنے، ماہانہ پانچ لاکھ روپے ادا کرنے اور 50 ایکڑ زمین ان کے نام منتقل کرنے کی یقین دہانی شامل تھی۔ انھوں نے اس دستاویز کی نقل بھی عدالت میں پیش کی۔

اعتراضات کے مطابق نکاح کے اگلے روز، یعنی 24 فروری کو، درخواست گزار کے دوست اور رکن قومی اسمبلی علی گوہر مہر کے گھر ایک ملاقات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

خاتون کے مطابق انھیں وہاں مدعو کیا گیا، جہاں ان کی آمد پر ایک لاکھ روپے نقد بطور تحفہ دیے گئے۔ دستاویز میں اس موقع کی تصاویر موجود ہونے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔ خاتون کے مطابق اس کے بعد رخصتی ہوئی۔

رضیہ لاشاری کے اعتراضات کے مطابق رخصتی کے بعد انھیں ماہانہ ایک لاکھ روپے بطور خرچ یا نان نفقہ دیے جانے لگے۔ ان کے مطابق یہ ادائیگیاں مئی 2026 تک جاری رہیں جس کے بعد یہ ادائیگیاں رُک گئیں۔

اے آئی سے بنی تصاویر بھیجنے کا الزام

غلام رسول خان انڑ کی درخواست میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ رضیہ لاشاری نے سوشل میڈیا پر ایسی تصاویر بھیجیں جو ان کے مطابق مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کی گئی تھیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ تصاویر میں فلٹر استعمال کیے گئے تھے اور انھیں ایڈٹ کیا گیا تھا۔

درخواست گزار کا کہنا ہے کہ بعد میں جب انھوں نے خاتون کو حقیقی طور پر دیکھا تو انھیں ’تصاویر اور اصل شکل میں فرق محسوس ہوا۔‘

درخواست میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ اس کے بعد دونوں الگ ہو گئے تاہم نکاح برقرار رہا اور خاتون نے مبینہ طور پر بدسلوکی اور نازیبا زبان کا استعمال شروع کر دیا۔

دوسری جانب رضیہ لاشاری کے اعتراضات میں اس معاملے کی مختلف تصویر پیش کی گئی ہے۔ اعتراضات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ رخصتی کے بعد انھیں معلوم ہوا کہ درخواست گزار ’ازدواجی ذمہ داریاں پوری کرنے میں مشکلات کا شکار تھے۔‘

اعتراضات میں درخواست گزار کی ضعیف العمری اور جنسی صحت سے متعلق نجی نوعیت کے الزامات بھی شامل ہیں اور کہا گیا ہے کہ انھوں نے طبی مدد حاصل کرنے کی بھی کوشش کی تھی۔

خاتون کے اعتراضات کے مطابق درخواست گزار نے نکاح سے قبل بعض مالی اور جائیداد سے متعلق وعدے کیے تھے۔ بعد ازاں انھوں نے ’انہی وعدوں کی بنیاد پر اپنے مالی دعوے کیے۔‘

رضیہ لاشاری کے اعتراضات کے مطابق 29 جولائی 2026 کو غلام رسول انڑ نے ایف آئی اے کراچی میں ان کے خلاف ایک درخواست جمع کرائی، جس کے بعد این سی سی آئی اے نے انھیں 30 جولائی اور پھر 13 اگست کو طلب کیا۔

اسی دوران 30 جولائی کو رضیہ لاشاری نے حیدرآباد کی فیملی کورٹ نمبر چار میں غلام رسول انڑ کے خلاف رقم کی وصولی کا دعویٰ دائر کیا، جس کا نوٹس بھی جاری ہوا۔

یہ معاملہ صرف عدالت تک محدود نہیں رہا بلکہ میڈیا اور سوشل میڈیا پر بھی زیر بحث رہا ہے۔ غلام رسول انڑ کی درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ رضیہ لاشاری نے ان کی موت کی جھوٹی خبر سوشل میڈیا پر پوسٹ کی، ان کی تصاویر میں رد و بدل کیا اور ان کے جنازے کا منظر دکھایا۔

درخواست گزار کے مطابق اس پوسٹ کے بعد بیرون ملک اور آبائی علاقے میں موجود ان کے رشتہ دار پریشان ہو گئے اور انھیں فون کر کے اپنے زندہ ہونے کی تصدیق کرنا پڑی۔

دوسری جانب رضیہ لاشاری نے الزام لگایا ہے کہ غلام رسول انڑ میڈیا کے ذریعے انھیں بدنام کرنے اور دباؤ میں رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

طلاق کے بعد دھمکیاں دینے کا الزام

غلام رسول خان انڑ کی درخواست کے مطابق انھوں نے دو اگست 2026 کو رضیہ لاشاری کو طلاق دے دی۔ درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ اس کے بعد خاتون نے رقم کا مطالبہ کیا، دھمکیاں دیں اور ذاتی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کی دھمکی دی۔

درخواست گزار کے مطابق چار اگست کو شام تقریباً چھ بج کر 31 اور چھ بج کر 32 منٹ پر واٹس ایپ کے ذریعے مبینہ دھمکی آمیز وائس نوٹس موصول ہوئے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ وائس نوٹس میں انھیں ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنانے یا ذاتی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کی دھمکیاں دی گئیں، جبکہ بعد میں یہ وائس نوٹس حذف (ڈیلیٹ) کر دیے گئے۔

درخواست گزار کا کہنا ہے کہ انھوں نے پولیس حکام سے رجوع کیا لیکن ان کی شکایت پر کارروائی نہ ہوئی، جس کے بعد انھوں نے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا۔

درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ پولیس کو قانونی کارروائی کا حکم دیا جائے، ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 154 کے تحت ان کا بیان ریکارڈ کیا جائے، ایف آئی آر درج کی جائے اور انھیں تحفظ فراہم کیا جائے۔

17 اگست 2026 کو جمع کرائے گئے اعتراضات میں رضیہ لاشاری نے اس درخواست کو ’کاؤنٹر بلاسٹ‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کرنے کی استدعا کی۔ ان کا مؤقف ہے کہ درخواست گزار نے ایف آئی اے میں شکایت اور عدالتی کارروائی کے ذریعے انھیں دباؤ میں رکھنے کی کوشش کی۔

اعتراضات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ درخواست گزار نے اپنی درخواست میں اپنے سیاسی عہدوں اور پس منظر کا حوالہ دے کر اپنا اثر و رسوخ ظاہر کیا، جبکہ خاتون کے مطابق اصل تنازع ذاتی اور مالی نوعیت کا ہے۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق عمر کا معاملہ بھی اس تنازع کا حصہ بنا ہے۔ رضیہ لاشاری کے اعتراضات میں غلام رسول انڑ کے شناختی کارڈ کے حوالے سے ان کی پیدائش کا سال 1948 اور عمر 78 سال بتائی گئی ہے۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US