انڈین میڈیا کے مطابق دلی میں انڈین حکام نے پاکستانی ہائی کمیشن کے ویزا سیکشن کے باہر موجود تجاوزات کو گِرایا گیا ہے۔ جبکہ اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے مطابق ڈپلومیٹک انکلیو کے اندر تجاوزات ہٹانے کی کارروائی کی گئی تھی جس دوران انڈین ہائی کمیشن کے باہر تجاوزات کو بھی ہٹایا گیا۔
نئی دہلی میں حکام نے پاکستانی ہائی کمیشن کے باہر ’تجاوزات‘ ہٹانے کا دعویٰ کیاانڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں واقع پاکستانی ہائی کمیشن کی عمارت کے باہر بنے کچھ عارضی ڈھانچوں کو تجاوزات قرار دے کر گِرا دیا گیا ہے۔
انڈیا کے دو خبر رساں اداروں ’پریس ٹرسٹ آف انڈیا‘ اور ’اے این آئی‘ کے مطابق متعلقہ انڈین حکام نے پاکستانی ہائی کمیشن کے ویزا سیکشن کے باہر موجود تجاوزات کو گِرایا گیا ہے۔
انڈین میڈیا نے حکومتی ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ ایسا اس لیے کیا گیا کیونکہ اسلام آباد میں بھی پاکستانی حکام نے انڈین ہائی کمیشن کے باہر سے تجاوزات ہٹائی تھیں۔
اُدھر پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے سینیئر اہلکاروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی اُردو کو تصدیق کی ہے کہ گذشتہ دنوں ڈپلومیٹک انکلیو میں تجاوزات ہٹانے کی کارروائی کی گئی تھی جس دوران انڈین ہائی کمیشن، مصری سفارتخانے اور اقوام متحدہ کے فوڈ آفس کے باہر سے تجاوزات کو ہٹا دیا گیا ہے۔
تاحال اس حوالے سے پاکستان اور انڈیا کی وزارت خارجہ کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔
دلی اور اسلام آباد میں ہائی کمیشنز کے باہر ’تجاوزات‘ کیوں ہٹائی گئیں؟
دلی میں پاکستانی ہائی کمیشن ڈپلومیٹک انکلیو میں ایک پرائم لوکیشن پر واقع ہےانڈین نیوز ایجنسی ’اے این آئی‘ کی رپورٹ کے مطابق دلی میں حکام نے ٹریفک بولارڈز اور دیگر ایسی رکاوٹیں ہٹائی ہیں جو پاکستان کے سفارتی کمپاؤنڈ کے باہر نصب تھیں۔
اسی طرح پاکستانی ہائی کمیشن آنے والے وزیٹرز کے لیے بنائے گئے ڈھانچے بھی ہٹائے گئے ہیں۔ تجاوزات کے خلاف ہونے والے اس آپریشن سے متعلق ’اے این آئی‘ نے کچھ ویڈیوز بھی جاری کی ہیں۔
جبکہ خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی نے حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ جو ڈھانچے گرائے گئے ہیں وہ پاکستانی ہائی کمیشن کو مختص کی گئی زمین کے باہر بنائے گئے تھے۔
ایجنسی نے ہائی کمیشن کے باہر کی ایک تصویر شائع کی ہے جس میں ٹِن کی چادریں، لوہے کی ریلنگ اور لکڑی کے کچھ ڈھانچے اور دیگر ملبے کو زمین پر پڑا دکھایا گیا ہے۔
پی ٹی آئی کے مطابق یہ کارروائی پاکستانی ہائی کمیشن کے ویزا سیکشن کے احاطے کی جانب کی گئی ہے۔
’اس طرف کئی کھڑکیاں بنی ہوئی ہیں۔ ان کھڑکیوں پر ویزا درخواستیں جمع کی جاتی تھیں۔ لوگوں کو قطار میں کھڑا کرنے کے لیے ریلنگ لگائی گئی تھی اور اوپر ٹِن کا شیڈ تھا۔ اب یہ سبھی گرا دی گئی ہیں۔ جب دونوں ملکوں کے تعلقات معمول پر تھے، ان دنوں یہاں ویزا لینے والوں کی بھیڑ جمع رہتی تھی۔‘
اے این آئی نے حکومتی ذرائع کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا ہے کہ انڈین حکام نے ایسا اسلام آباد میں انڈین ہائی کمیشن کے باہر موجود پارکنگ پول ہٹانے کے جواب میں کی ہے۔
جبکہ پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ دنوں اسلام آباد میں پاکستانی حکام کے ذریعے انڈین ہائی کمیشن کے سامنے سکیورٹی بیریکیڈ اور پارکنگ پولز ہٹائے جانے کے بعد دلی میں حکام نے یہ قدم اٹھایا ہے۔
اسلام آباد انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار نے بی بی سی اُردو کو بتایا کہ وفاقی ترقیاتی ادارے (سی ڈی اے) نے چند ماہ قبل ڈپلومیٹک انکلیو میں سڑکوں اور فٹ پاتھ کی کشادگی اور تزین و آرائش کا منصوبہ بنایا تھا اور اِسی منصوبے کے تحت لگ بھگ ایک ماہ قبل وزارت خارجہ میں تمام سفارتخانوں کے نمائندوں کو بُلا کر تفصیلی بریفننگ دی گئی تھی اور بتایا گیا تھا کہ سی ڈی اے وہاں کس نوعیت کا ترقیاتی کام کرنا چاہتا ہے۔
اہلکار کے مطابق ڈپلومیٹک انکلیو میں کئی سفارتخانوں نے اپنی پلاٹ لائن سے باہر سکیورٹی کیبنز، گارڈ رومز، سکیورٹی باڑیں اور کنٹینرز وغیرہ رکھے ہوئے تھے اور وزارت خارجہ میں ہونے والی بریفنگ کے دوران سفارتخانوں کے نمائندوں کو درخواست کی گئی تھی کہ وہ جلد از جلد اِن تجاوزات کو خود سے ہٹا دیں۔
اہلکار کا کہنا ہے کہ متعدد سفارتخانوں نے ان ہدایات پر عمل کیا مگر انڈیا،مصر اور یو این فوڈ آفس کے احاطوں کے باہر یہ تجاوزات بدستور موجود تھیں۔ انھوں نے کہا کہ چونکہ اب ڈپلومیٹک انکلیو میں ترقیاتی کام کا باقاعدہ آغاز کیا جا چکا ہے اس لیے ان مقامات کے باہر جو بھی تجاوزات تھیں انھیں متعلقہ ادارے نے ہٹا دیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ انڈیا، مصر اور یو این فوڈ آفس کے باہر سے جو بھی اشیا ہٹائی گئی ہیں وہ تجاوزات کے زمرے میں تھیں اور پلاٹ لائن سے باہر رکھی گئی تھیں۔
اسلام آباد پولیس کے دو سینیئر اہلکاروں نے بھی بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس کی تصدیق کی۔
ایک اہلکار نے بتایا کہ کیپیٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی نے اس ضمن میں دو دن قبل ڈپلومیٹک انکلیو میں تجاوزات کے خلاف مہم شروع کی تھی۔
انھوں نے کہا کہ جن سفارتخانوں اور ہائی کمشنز کے باہر سکیورٹی گارڈ کے لیے عارضی کمرے، کیبن یا کنٹینرز رکھے گئے تھے، اُن کو ہٹا دیا گیا ہے۔
دونوں اہلکاروں نے تصدیق کی کہ اس کارروائی کے دوران اسلام آباد کے ڈپلومیٹک انکلیو میں انڈین ہائی کمیشن کے باہر بھی تجاوزات ہٹائی گئی ہیں۔
سینیئر پولیس اہلکار نے بھی تصدیق کی کہ سفارتخانوں کے حکام کو پہلے ہی بتا دیا گیا تھا کہ وہ اِن تجاوزات کو از خود ہی ہٹا لیں۔
اہلکار کے بقول ’کچھ سفارتخانوں کے حکام نے اس مہم پر ناراضی کا اظہار بھی کیا اور جو افراد تجاوزات کو ہٹانے میں حصہ لے رہے تھے، اُن کو تنبیہ کی گئی کہ وہ اپنے ممالک کے حکام کو لکھیں گے، کہ وہ بھی وہاں پر موجود پاکستانی سفارتخانوں کے ساتھ ایسا ہی سلوک کریں۔‘
اسلام آباد کے ڈپلومیٹک انکلیو میں واقع انڈین ہائی کمیشن کی ایک تصویرتاہم پولیس افسر کے مطابق انڈین ہائی کمیشن کے حکام نے تجاوزات کے خلاف کارروائی میں شامل اہلکاروں کو ایسی کوئی دھمکی نہیں دی تھی۔
دلی میں پاکستان ہائی کمیشن کے باہر اقدام پر سابق انڈین ایئر وائس مارشل پرشانت موہن (ریٹائرڈ) نے اے این آئی کو بتایا کہ ’ہمیں اس بحث میں بھی نہیں پڑنا چاہیے کہ پاکستان نے اسلام آباد میں ہمارے سفارتخانے کے سامنے کچھ کیا ہے۔ اگر ہم وہی کر رہے ہیں جو انھوں نے وہاں کیا، تو ہم ان کی سطح پر آ رہے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’کیا ہمیں ایسا کرنا چاہیے؟ ہم ایک بہت بڑا ملک ہیں، ہمیں ان کاموں میں نہیں پڑنا چاہیے۔‘
خیال رہے کہ پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں انڈین ہائی کمیشن ڈپلومیٹک انکلیو میں واقع ہے جہاں اس کے علاوہ دیگر ممالک کے سفارتخانے اور مشنز کی عمارتیں موجود ہیں۔
جبکہ دلی میں پاکستانی ہائی کمیشن ڈپلومیٹک انکلیو میں ایک پرائم لوکیشن پر واقع ہے۔ اِس کے ایک جانب آسٹریلیا اور برطانیہ کے ہائی کمیشن واقع ہیں۔ تو دوسری جانب سربیا کا سفارتخانہ ہے۔ سامنے کی طرف روس، فرانس اور امریکہ کے سفارتخانے ہیں۔ جس سڑک کے کنارے یہ سفارتخانے بنے ہوئے ہیں اسے 'شانتی پتھ' کہا جاتا ہے۔ عموماً یہ بہت بڑے بڑے کمپاؤنڈ میں تعمیر کیے گئے ہیں۔
انڈیا اور پاکستان کے رشتے ایک طویل عرصے سے شدید تلخیوں کا شکار ہیں جس کے سبب دلی اور اسلام آباد کے اِن ہائی کمیشنز میں زیادہ سرگرمیاں دکھائی نہیں دیتیں۔