تین نوجوان پورٹر جو براڈ پیک حادثے کے بعد سہیل سخی کی لاش واپس لائے: ’برف پگھلی تو جوتا نظر آیا‘

براڈ پیک پر برفانی تودے کے نیچے دبے سہیل سخی کی لاش تین مقامی پورٹر محمد عابد، محمد بشیر اور ابوذر علی نے تلاش کی۔ محدود وسائل، نامناسب جوتوں اور خراب موسم کے باوجود تینوں لاش تک کیسے پہنچے؟

پاکستان کے زیرِ انتظام گلگت بلتستان کے ضلع شگر کے گاؤں تسر سے تعلق رکھنے والے محمد عابد 13 اگست کو اپنے ساتھیوں محمد بشیر اور ابوذر علی کے ہمراہ براڈ پیک بیس کیمپ پر موجود تھے۔

وہ ایک بین الاقوامی ٹیم کے ساتھ بطور پورٹر کام کر رہے تھے جبکہ ان کی بقیہ ٹیم کے ٹو بیس کیمپ کی جانب روانہ ہو چکی تھی۔

اس سے قبل دنیا کی 12ویں سب سے بلند چوٹی ’براڈ پیک‘ پر برفانی تودہ گرنے کا حادثہ پیش آیا تھا جس میں پاکستانی کوہ پیما سہیل سخی اور معروف نیپالی کوہ پیما نرمل پرجا سمیت 10 کوہ پیما ہلاک ہوئے تھے۔

اس حادثے کے بعد تین دن جاری رہنے والی کارروائی میں سات کوہ پیماؤں کی لاشیں اور ایک کی باقیات برآمد کر لی گئی تھیں۔ تاہم سہیل سخی اور ایک نیپالی کوہ پیما کی لاشیں واپس نہیں لائی جا سکی تھیں۔ سہیل سخی کے خاندان کی جانب سے دو اگست کو ان کی موت کا اعلان کر دیا گیا تھا۔

13 اگست کو محمد عابد نے حادثے کے مقام پر کچھ سامان دیکھا تو اپنے ساتھیوں محمد بشیر اور ابوذر علی سے کہا کہ برفانی تودے والی جگہ پر موجود سامان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ شاید وہاں کسی انسان کی لاش، یا ممکنہ طور پر سہیل سخی کی لاش موجود ہو۔

محمد عابد کی بات سن کر محمد بشیر اور ابوذر علی بھی ان کے ساتھ جانے پر آمادہ ہو گئے۔

ان تینوں نے کبھی کسی بلند چوٹی پر کوہ پیمائی نہیں کی تھی، نہ انھیں اس حوالے سے کوئی تربیت حاصل تھی اور نہ ان کے پاس ضروری ساز و سامان موجود تھا۔

وہ عموماً ٹریکنگ سیزن میں سکردو سے آنے والی ٹیموں کے ساتھ پورٹر کے طور پر کام کرتے تھے اور کبھی بیس کیمپ سے اوپر نہیں گئے تھے۔

اگلی صبح وہ براڈ پیک بیس کیمپ سے روانہ ہوئے۔ ان کے پاؤں میں عام جاگر اور پلاسٹک کے جوتے تھے، جو اس دشوار راستے کے لیے موزوں نہیں تھے۔ انھوں نے عام کپڑے اور سردی سے بچاؤ کے لیے عام جیکٹیں پہن رکھی تھیں۔

’گھنٹوں تک کھدائی کرتے رہے‘

محمد عابد کے مطابق تقریباً دو گھنٹے پیدل چلنے کے بعد وہ اس مقام پر پہنچے جہاں برفانی تودہ گرا تھا۔ وہاں کچھ سامان موجود تھا۔ مزید نشانات کی تلاش کے دوران انھیں برف سے باہر نکلا ہوا ایک جوتا نظر آیا جو کلائمبنگ شوز کہلاتا ہے۔

ان کے مطابق واقعے کو کئی دن گزر چکے تھے اور اس دوران درجہ حرارت بڑھنے سے ممکنہ طور پر برف پگھلی ہو گی، جس کے باعث یہ جوتا نمایاں ہوا۔

وہ کہتے ہیں کہ اسی سے انھیں معلوم ہوا کہ یہ کوئی لاش ہے۔ تاہم صرف ایک جوتا باہر تھا جبکہ باقی جسم برف کے اندر دبا ہوا تھا۔ چونکہ ان کے پاس کھدائی کا کوئی سامان نہیں تھا، اس لیے انھوں نے ہاتھوں سے برف ہٹانا شروع کر دی۔

کچھ دیر بعد انھیں گلیشیئر میں استعمال ہونے والی ایک میخ ملی، جس کے ساتھ رسی باندھی جاتی ہے۔

پھر تینوں نے باری باری اسی کی مدد سے کھدائی جاری رکھی۔ محمد عابد کے مطابق یہ عمل کئی گھنٹوں تک جاری رہا۔ بالآخر جب لاش نکالی گئی تو انھوں نے فوراً پہچان لیا کہ یہ سہیل سخی ہیں۔

محمد عابد بتاتے ہیں کہ عموماً وہ لوگ سردیوں میں محنت مزدوری کی تلاش میں مختلف علاقوں میں جاتے ہیں۔ گذشتہ تین چار برس کے دوران ہنزہ میں سہیل سخی انھیں مختلف نوعیت کے کام دیتے رہے تھے۔

ان کے بقول، سہیل سخی کی سب سے نمایاں خوبی یہ تھی کہ وہ ہمیشہ پوری اجرت ادا کرتے تھے، کبھی کم نہیں دیتے تھے اور نہ ہی معاوضے پر بحث کرتے تھے، جبکہ اکثر مزدور چونکہ سردیوں میں اپنا علاقہ چھوڑ کر آئے ہوتے ہیں تو مجبوری کے عالم میں کم سے کم اجرت پر بھی کام کرنے کے لیے آمادہ ہو جاتے ہیں۔

محمد عابد کہتے ہیں کہ سہیل سخی ہمیشہ وقت پر ادائیگی کرتے تھے، ان کے ساتھ خوش گپیاں کرتے، اپنی مہمات کے تجربات سناتے اور ٹریکنگ کے دوران پیش آنے والے واقعات پر بات کرتے تھے۔

محمد عابد کے مطابق، جب انھوں نے سہیل سخی کی لاش دیکھی تو یہ تمام یادیں ذہن میں تازہ ہو گئیں، لیکن ان کے پاس وقت کم تھا کیونکہ لاش کو جلد از جلد ایک محفوظ مقام تک پہنچانا ضروری تھا۔

Broad peak
AFP via Getty Images
براڈ پیک دنیا کی 12ویں بلند ترین چوٹی ہے

’برفباری شروع ہو گئی تھی‘

محمد بشیر بتاتے ہیں کہ جب وہ کھدائی کر رہے تھے تو ہلکی برفباری شروع ہو گئی تھی اور اردگرد برف کے ٹکڑے بھی گر رہے تھے۔

ان کے مطابق یہ اس بات کی علامت تھی کہ برفباری تیز ہو سکتی ہے یا کسی نئے برفانی تودے کا خطرہ موجود ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ان کے پاس نہ مناسب جوتے تھے اور نہ ہی سردی سے بچاؤ کا خصوصی سامان، مگر وہ کام روکنا نہیں چاہتے تھے کیونکہ خدشہ تھا کہ برفباری کی صورت میں لاش کے آثار دوبارہ دب جائیں گے۔

لاش کی شناخت کے بعد انھیں احساس ہوا کہ اب مناسب ساز و سامان لا کر لاش کو محفوظ انداز میں نیچے منتقل کرنا ضروری ہے۔

محمد بشیر کے مطابق تینوں پہلے بیس کیمپ واپس آئے اور ٹور کمپنی کے عملے کو اطلاع دی۔ اُس وقت براڈ پیک بیس کیمپ میں موجود ایک گائیڈ بھی ان کے ساتھ شامل ہو گئے۔ گائیڈ نے امکان ظاہر کیا کہ عارضی ہیلی پیڈ کے قریب ایسا سامان موجود ہو گا جس کی مدد سے لاش کو پیک کر کے نیچے منتقل کیا جا سکتا ہے۔

انھوں نے وہاں سے مطلوبہ سامان حاصل کیا اور تیزی سے دوبارہ حادثے کے مقام کی طرف روانہ ہوئے تاکہ اندھیرا ہونے سے پہلے واپس لوٹ سکیں۔

محمد بشیر کے مطابق بعد ازاں لاش کو ایک محفوظ مقام پر منتقل کر کے پیک کیا گیا اور بیس کیمپ پہنچ کر متعلقہ حکام کو اطلاع دی گئی۔ لاش کی تصاویر اور ویڈیوز بھی بھیجی گئیں تاکہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے اسے سکردو منتقل کیا جا سکے، کیونکہ زمینی راستے سے لاش نیچے لانا ممکن نہیں تھا۔

واضح رہے کہ سہیل سخی کی تدفین 16 اگست کو ہوئی، جبکہ بی بی سی سے محمد عابد اور محمد بشیر کی گفتگو ان کی براڈ پیک سے واپسی کے دوران ایک ایسے مقام پر ہوئی جہاں موبائل سگنل دستیاب تھے۔ اُس وقت وہ سکردو نہیں پہنچے تھے۔

’میں خود ایک کوہ پیما اور روپ فکسر بننا چاہتا ہوں‘

محمد عابد کہتے ہیں کہ ان علاقوں میں موبائل سگنل محدود مقامات پر ہی دستیاب ہوتے ہیں۔ ان کے بقول، ان تینوں نے یہ کام صرف انسانیت کی خاطر کیا۔

عابد کہتے ہیں: ’ہمارا دل نہیں مانتا تھا کہ جب لاش کی نشاندہی کر لی ہے تو پھر اپنے ہنزہ والے بھائی کو چھوڑ کر جائیں۔‘

محمد عابد کے مطابق ان کے گاؤں کی آبادی تقریباً 400 افراد پر مشتمل ہے اور زیادہ تر مرد پورٹر کے طور پر کام کرتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ان کے لوگ پہاڑی ماحول سے مانوس ہیں، جسمانی طور پر مضبوط ہیں اور 40 کلوگرام تک وزن اٹھا کر ٹریکنگ کے لیے آئے غیر ملکی سیاحوں کے ساتھ سات سے آٹھ روز تک چلتے ہیں۔

محمد عابد کے مطابق اگر سیاح ساتھ نہ ہوں تو وہ یہی سفر تین سے چار دن میں طے کر لیتے ہیں۔ ہر سال سیزن میں انھیں تین سے چار ٹریکنگ ٹور ملتے ہیں اور ایک ٹور کا معاوضہ 30 سے 35 ہزار روپے تک ہوتا ہے۔

محمد عابد بتاتے ہیں کہ ان کی عمر تقریباً 25 سال ہے اور وہ ایک بیٹی کے والد ہیں۔ محمد بشیر 27 سال کے ہیں اور ان کے تین بچے ہیں، جبکہ ابوذر علی 20 سال کے ہیں اور ابھی غیر شادی شدہ ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ان کے آباؤ اجداد سمیت علاقے کے نوجوان ہمیشہ یہ خواب دیکھتے آئے ہیں کہ انھیں بھی کوہ پیمائی کا موقع ملے، مگر نہ انھیں مناسب تربیت میسر آئی اور نہ مطلوبہ ساز و سامان۔

محمد عابد کے مطابق وہ صرف کوہ پیما ہی نہیں بلکہ ایک روپ فکسر بھی بننا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر انھیں مناسب تربیت مل جائے تو وہ ایک اچھے کوہ پیما اور روپ فکسر ثابت ہو سکتے ہیں، جبکہ ان کے علاقے تسر کے دیگر نوجوان بھی پاکستان کا نام روشن کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

الپائن کلب آف پاکستان کے سیکرٹری ایاز شگری کے مطابق ان تینوں نے ایک غیر معمولی کارنامہ انجام دیا ہے اور ان کی حوصلہ افزائی کے لیے مختلف تجاویز زیرِ غور ہیں، جن میں ممکنہ طور پر ان کی تربیت اور دیگر اقدامات شامل ہو سکتے ہیں۔

فزکس میں ماسٹرز سے کے ٹو تک کا سفر: سہیل سخی کون تھے؟

سہیل سخی کا تعلق ہنزہ سے تھا اور ان کا شمار ملک کے تجربہ کار ہائی آلٹیٹیوڈ کوہ پیماؤں میں ہوتا تھا۔

سہیل سخی کے ٹو، نانگا پربت، گیشربرم ون اور گیشربرم ٹو سمیت دنیا کی کئی بلند چوٹیاں سر کر چکے تھے۔ ان میں سے کئی چوٹیاں انھوں نے اضافی آکسیجن کے بغیر سر کیں۔

مئی 2026 میں سہیل سخی نے 8,586 میٹر بلند دنیا کی تیسری بلند ترین چوٹی کنچن جنگا بھی سر کی تھی۔ وہ اس مہم میں روٹ فکسنگ ٹیم کا حصہ تھے اور 20 مئی کو چوٹی پر پہنچے تھے۔

سہیل سخی کے چچا زاد بھائی عبید سلیمان بتاتے ہیں کہ سہیل نے اسلام آباد کی کامسیٹس یونیورسٹی سے فزکس میں ماسٹرز کیا تھا تاہم پہاڑوں اور کوہ پیمائی سے ان کی دلچسپی نے انھیں اس شعبے میں اپنا کریئر بنانے کی طرف راغب کیا۔

ان کے مطابق سہیل سخی کوہ پیما ہونے کے ساتھ ساتھ ہائی آلٹیٹیوڈ فوٹوگرافر بھی تھے۔ وہ پاکستان کے پہاڑی علاقوں، گلیشیئرز اور بلند چوٹیوں کو اپنی تصاویر کے ذریعے دستاویزی شکل دیتے رہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ ان کے کزن پاکستان میں مقامی نوجوانوں کو کوہ پیمائی اور پہاڑی سرگرمیوں کی تربیت دینے کے حوالے سے بھی کام کرتے تھے اور انھوں نے مختلف بین الاقوامی مہمات میں پاکستانی کوہ پیماؤں اور گائیڈز کی نمائندگی کی۔

عبید سلیمان کا کہنا ہے کہ سہیل سخی کی عمر صرف 17، 18 سال تھی جب ان کے والد وفات پا گئے۔ وہ علاقے کے مشہور ٹور گائیڈ تھے۔ اُس وقت سہیل سخی تعلیم حاصل کر رہے تھے۔

اپنے شوہر کی وفات کے بعد سہیل کی والدہ نے گزر بسر کے لیے ہنزہ پبلک سکول میں ملازمت کر لی جبکہ ان کے گھر میں لڑکیوں کا ایک ہاسٹل پہلے سے چل رہا تھا۔

سہیل سخی کے ایک بھائی ہیں جو ان سے چھوٹے ہیں۔

تعلیم مکمل کرنے کے بعد سہیل سخی بھی سیاحت کی صنعت سے وابستہ ہو گئے اور انھوں نے ایک ٹور کمپنی کے ساتھ علی آباد میں ایک ہوٹل شروع کیا جبکہ ساتھ ساتھ بطور گائیڈ بھی کام کرنے لگے۔

عبید سلیمان کا کہنا تھا کہ اسی دوران انھوں نے کوہ پیمائی بھی شروع کر دی اور وہ اکثر اس میں مصروف رہتے۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US