مقامی اور غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے نمائندے ہسپتال کے باہر منتظر تھے۔ رات گئے چند سرکاری گاڑیاں ہسپتال کے اندر داخل بھی ہوئیں۔ لیکن ہوا کیا؟
پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کو سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق علاج کی غرض سے اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کے ایک نجی ہسپتال شفا انٹرنیشنل دو روز کے اندر منتقل کیا جانا تھا۔ یہ مدت جمعرات کی شب ختم ہونا تھی۔
جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب سینکڑوں پولیس اہلکاروں کی تعیناتی کے ذریعے سیکیورٹی کے سخت انتظامات نجی ہسپتال کے باہر اور اندر نظر آنا شروع ہوئے۔ عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان بھی اسی ہسپتال کے راستے اور گرد و نواح میں موجود تھے۔
مقامی اور غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے نمائندے ہسپتال کے باہر منتظر تھے۔ رات گئے چند سرکاری گاڑیاں ہسپتال کے اندر داخل بھی ہوئیں۔ مقامی ذرائع ابلاغ پر یہ خبریں بھی سامنے آئیں کہ عمران خان کو نجی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
اس دوران حکومت کی طرف سے اس معاملے پر مکمل خاموشی رہی۔ ان کی جانب سے عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے حوالے سے تصدیق یا تردید نہیں کی گئی۔
تاہم مقامی ذرائع ابلاغ کی خبروں سے یہ تاثر سامنے آیا کہ حکومت نے سپریم کورٹ کے حکم کی تعمیل میں عمران خان کو نجی ہسپتال منتقل کر دیا ہے۔ سابق وزیراعظم عمران خان کی اپنی جماعت پی ٹی آئی اور ان کے خاندان کے افراد کی طرف سے بھی اس معاملے پر اس وقت تک خاموشی ہی اپنائی گئی۔ انہوں نے رات بھر متعدد بار کوشش کے باوجود اس حوالے سے سوالوں کے جوابات نہیں دیے۔
تاہم سابق وزیراعظم عمران خان وہاں گئے ہی نہیں۔ تو پھر نجی ہسپتال کے باہر سیکیورٹی کے اتنے سخت انتظامات اور سیکیورٹی کے حصار میں شفا انٹرنیشنل میں داخل ہونے والا قافلہ کس کے لیے تھا؟
نجی ہسپتال میں اس قافلے کی آمد کے چند گھنٹے بعد سوشل میڈیا پر یہ خبریں گردش کر رہی تھیں کہ عمران خان نجی ہسپتال شفا انٹرنیشنل گئے ہی نہیں۔
پی ٹی آئی سے جڑے چند سوشل میڈیا صارفین اور چند صحافیوں کی طرف سے یہ دعوے بھی سامنے آ رہے تھے کہ عمران خان کو اسلام آباد کے جی ایٹ سیکٹر میں واقع سرکاری ہسپتال پاکستان میڈیکل انسٹی ٹیوٹ آف سائنسز یعنی پمز منتقل کیا گیا۔

اور یہ بھی کہ پمز میں معائنے کے بعد عمران خان کو واپس اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔ اس بات کی تصدیق بعد میں وفاقی وزیر اطلاعات نے کی۔ لیکن ایسا ہوا کیوں؟
اسلام آباد پولیس کے ایک سینئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے شرط پر بی بی سی بتایا کہ عمران خان کو نجی ہسپتال شفا انٹرنیشنل کی طرف لے جایا ہی نہیں گیا۔ انھوں نے بتایا کہ شفا انٹرنیشنل کے باہر سیکیورٹی کے سخت انتظامات یہ تاثر دینے کے لیے تھے کہ عمران خان کو وہاں لایا جائے گا۔
جبکہ پمز کے باہر سیکیورٹی کے انتظامات اتنے واضح نظر نہیں آ رہے تھے۔ پولیس اہلکار کے مطابق عمران خان کو اڈیالہ جیل سے سیدھا پمز لایا گیا اور معائنے کے بعد واپس جیل منتقل کر دیا گیا۔
سرکاری ہسپتال، عدالتی حکم اور ’ڈراپ سین‘
اس معاملے کا ڈراپ سین اس وقت ہوا جب پاکستان کے وفاقی وزیر برائے اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے جمعے کی صبح سوشل میڈیا پر ایک بیان جاری کیا۔
ان کے بیان سے یہ بات واضح ہوئی کہ نجی ہسپتال کے باہر اور اندرسیکیورٹی کے انتظامات اور ہسپتال کے اندر جاتا قافلہ 'چکمہ' دینے کے لیے تھا۔
وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر اپنے پہلے بیان میں صرف اتنا بتایا کہ ’قیدی کو مناسب سیکیورٹی انتظامت میں 20 اور 21 اگست کی درمیانی شب ہسپتال لے جایا گیا۔‘ انھوں نے قیدی کا نام نہیں لکھا اور یہ بھی واضح نہیں کیا کہ انھیں کس ہسپتال لے جایا گیا۔
عطا اللہ تارڑ نے بتایا کہ مستند ڈاکٹروں کی ٹیم جس میں آنکھوں، دل اور دیگر امراض کے ماہر شامل تھے انھوں نے ہسپتال میں ان کا معائنہ کیا اور انھیں فٹ قرار دیا۔ ’اس دوران ان کی بہن ڈاکٹر عظمی خان بھی تمام مراحل میں وہاں موجود رہیں۔‘
وزیر اطلاعات کے مطابق معائنہ مکمل ہونے پر لگ بھگ صبح پانچ بجے انھیں واپس اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔
تاہم ان کے اس پہلے بیان کے بعد بھی بہت سے سوالات باقی رہے۔ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق عمران خان کو نجی ہسپتال شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جانا تھا، تو کیا انھیں اس ہسپتال منتقل کیا گیا؟
عدالت کے حکم کے مطابق عمران خان کو عدالت میں اس مقدمے کی آئندہ سماعت تک ہسپتال ہی میں زیر علاج رکھا جانا تھا۔ تو انھیں جیل واپس کیوں منتقل کیا گیا؟
پہلے بیان کے چند ہی منٹ بعد وفاقی وزیر برائے اطلاعت نے ایک اور وضاحتی بیان جاری کیا جس میں انھوں نے ان خبروں کی تصدیق کہ سابق وزیراعظم عمران خان کو شفا نہیں بلکہ پمز ہسپتال لے جایا گیا تھا۔
عطا اللہ تارڑ کے مطابق ’معائنہ پمز میں کروایا گیا جس میں الشفا ہسپتال کے ڈاکٹرز بھی موجود تھے۔‘
انھوں نے اس کی وضاحت پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ’پی ٹی آئی کے کارکنوں کی طرف سے جو سیکیورٹی کی صورتحال الشفا ہسپتال کے راستے میں اور باہر پیدا کی گئی اس کے پیش نظر ان کو پمز ہسپتال لے جایا گیا اور طبی معائنے کے بعد وہ صحت مند پائے گئے۔‘
’ان کو پہلے بھی طبی سہولیات فراہم کی جاتی رہی ہیں اور اب بھی جب ان کو ضرورت پڑے گی طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔‘
عمران خان کو پہلے بھی اسی طرح سرکاری ہسپتال میں طبی معائنے اور علاج کے لیے لایا جاتا رہا ہے۔ تاہم ان کی جماعت اور خاندان کے افراد کا یہ مطالبہ تھا کہ انھیں نجی ہسپتال سے علاج معالجے کا موقع دیا جائے۔
یہی استدعا لے کر وہ سپریم کورٹ گئے تھے اور سپریم کورٹ نے یہ حکم دیا تھا کہ انھیں دو روز میں نجی ہسپتال شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے جہاں وہ اگلی سماعت تک زیر علاج رہیں گے۔
حکومت نے انھیں ہسپتال منتقل کیا تاہم وہ نجی ہسپتال نہیں تھا اور عدالتی حکم کے برعکس انھیں ہسپتال میں رکھنے کے بجائے واپس جیل منتقل کر دیا گیا۔
اس حوالے سے پی ٹی آئی اور سابق وزیراعظم عمران خان کے خاندان کے افراد کی جانب سے سوالات اٹھائے ہیں کہ حکومت نے سپریم کورٹ کے حکم پر مکمل عملدرآمد نہیں کیا۔
پی ٹی آئی کی ابتدائی خاموشی اور ردعمل
ابتدائی طور پر سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کے خاندان کے افراد کی جانب سے اس معاملے پر مکمل خاموشی اختیار کی گئی۔ میڈیا کی جانب سے مسلسل سوالات پوچھنے پر بھی ان کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا۔
تاہم وفاقی وزیر عطا تارڑ کے بیان کے بعد پی ٹی آئی کے چند رہنماوں کی جانب سے رد عمل سامنے آنا شروع ہوا۔
شیخ وقاص اکرم نے سوشل میڈیا پر ردعمل میں لکھا کہ ’سپریم کورٹ نے واضح حکم دیا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے، مکمل طبی بورڈ بنایا جائے جس میں ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان بھی شامل ہوں، اور ان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان بھی موجود رہیں۔‘
ان کے مطابق ’چند گھنٹوں کی نمائشی کارروائی کے بعد عمران خان کو طبی طور پر صحت مند قرار دے کر فجر سے پہلے واپس اڈیالہ کی سیل میں بند کر دیا گیا۔ سالوں کی سولٹری کنفائنمنٹ، طبی سہولیات کی مسلسل محرومی، آنکھوں اور بلڈ پریشر کے مسائل کے بعد اچانک صحت مند قرار دے دینا کتنا قابلِ اعتبار ہے؟‘
انھوں نے سوال کیا کہ ’عدالتی حکم کی مکمل روح پر عمل ہوا یا صرف ظاہری کارروائی کر کے پروپیگنڈا؟‘