راولپنڈی میں پولیس نے ٹک ٹاکر شمسو عرف عائشہ گلمنہ کے قتل کے مقدمے میں ٹک ٹاکر کے والد سمیت پانچ ملزمان گرفتارکر لیے گئے۔ ایس ایس پی آپریشن طارق محبوب نے راولپنڈی میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ گرفتار ملزمان میں مقتولہ کا والد، حقیقی بھائی، چچا زاد بھائی، والد کا چچا اور چچا ذاد بھائی کا بیٹا شامل ہیں۔
راولپنڈی میں پولیس نے ٹک ٹاکر شمسو عرف عائشہ گلمنہ کے قتل کے مقدمے میں ٹک ٹاکر کے والد سمیت پانچ ملزمان گرفتارکر لیے ہیں۔
ایس ایس پی آپریشن طارق محبوب نے راولپنڈی میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ گرفتار ملزمان میں مقتولہ کا والد، حقیقی بھائی، چچا زاد بھائی، والد کا چچا اور چچا زاد بھائی کا بیٹا شامل ہیں۔
یاد رہے کہ شمسو بی بی کو 14 اگست کو تھانہ ٹیکسلا کی حدود میں فائرنگ کر کے قتل کیا گیا تھا۔ ٹک ٹاکرعائشہ گلمنہ کے قتل کا مقدمہ ان کے والد فضل کی مدعیت میں ہی درج کیا گیا تھا جنھیں آج پولیس نے بطور ملزم دیگر ملزمان کے ساتھ گرفتار کیا ہے۔
اس واقعے سے متعلق درج ہونے والی ایف آئی آر میں ان کے والد کا کہنا تھا کہ ان کی بیٹی گذشتہ تین چار برس سے ٹک ٹاک پر موجود تھیں اور ان کے 13 لاکھ فالوورز بھی تھے۔
ایس ایس پی آپریشن طارق محبوب نے سنیچر کی شام پریس کانفرنس میں بتایا کہ سوشل میڈیا پرسنیلٹی شمسو بی بی عرف عائشہ گلمنہ کو مبینہ طور پر ’ان کے والد اور بھائی نے ساتھیوں کے ساتھ مل کر قتل کروایا۔‘
ایس ایس پی آپریشن طارق محبوب نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق مبینہ طور پر ’قتل غیرت کے نام پر کروایا گیا تاہم مزید تفتیش میں اہم انکشافات سامنے آ سکتے ہیں۔‘
انھوں نے بتایا کہ سی پی او حسن مشتاق سکھیرا کی ہدایات پر قتل کیس پر متعدد سپیشل ٹیمیں کام کر رہی تھیں جو سی پی او کو براہ راست لمحہ بہ لمحہ رپورٹ دیتی رہیں۔
ایس ایس پی آپریشن کے مطابق ’100 سے زائد سی سی ٹی وی کیمروں کو چیک کیا گیا، ہیومن انٹیلیجنس سمیت تمام ذرائع کو استعمال کیا گیا اور پھر حالات و واقعات کے پیش نظر مقتولہ کے والد اور بھائی کو شامل تفتیش کیا جہاں ملزمان نے ساتھیوں کے ساتھ مل کر سوشل میڈیا پرسنیلٹی عائشہ کو قتل کروانے کا انکشاف کیا۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’ملزمان نے قانون کو دھوکہ دینے کے لیے ڈھونگ رچانے کی کوشش کی تاہمپولیس نے شواہد اور تفتیش کی روشنی میں پانچوں ملزمان کو گرفتار کر لیا۔‘
ایف آئی آر میں کیا کہا گیا تھا؟
شمسو بی بی کے قتل کے بعد درج ہونے والی ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ 14 اگست کو انھیں ایک شخص کی فون کال آئی، جس میں انھوں نے مقتولہ کو گھر سے نکلنے کے لیے کہا۔
یہ مقدمہ مقتولہ کے والد فضل کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق مقتولہ اسی شخص کی فون کال سننے کے بعد اپنے بہن اور بھائی کو لے کر اپنے والد کے گھر جانے کے لیے اپنی گاڑی پر نکلیں اور اس کے بعد فیصل ٹاؤن کے قریب راستے پر موجود دو نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کردی۔
ایف آئی آر کے مطابق گولی شمسو بی بی کی گردن پر لگی جس سے وہ موقع پر ہی ہلاک ہو گئیں، جبکہ فائرنگ کے نتیجے میں گاڑی، جس کو مقتولہ کے بھائی چلا رہے تھے، بے قابو ہوکر مخالف سمت سے آنے والے ڈمپر سے ٹکرا گئی۔

اس حملے میں مقتولہ کے بھائی اور بہن بھی زخمی ہوئے تھے۔
ایف آئی آر میں مقتولہ کے والد نے مؤقف اپنایا تھا کہ ان کی بیٹی کو ’رقم کے لین دین‘ کے معاملے پر قتل کیا گیا ہے اور یہ کہ انھیں ان کی بیٹی نے بتایا تھا کہ دو ملزمان نے نہ صرف ان سے پیسے لیے ہوئے تھے بلکہ انھیں قتل کی دھمکیاں بھی دے رہے تھے۔
دوسری جانب مقتولہ کے بھائی رحمت اللہ نے بھی بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی بہن کو پیسے کے لین دین کے معاملے پر قتل کیا گیا ہے۔
انھوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ پولیس نے جس ملزم کو حراست میں لیا ہے، اسے ان کے خاندان نے نامزد ہی نہیں کیا تھا۔ تاہم اس مقدمے کے تفتیشی افسر کا کہنا ہے کہ ایف آئی آر کے اندراج کے لیے تحریر خود شمسو بی بی کے والد نے لکھی تھی۔
مقتولہ کے بھائی رحمت اللہکے مطابق وہ دس بہن بھائی ہیں، جن میں شمسو بی بی کا نمبر تیسرا تھا۔
رحمت اللہ کے مطابق مقتولہ کے تین بچے ہیں اور حملے کے روز وہ اپنے دیگر بہن بھائیوں سے ملنے اپنے والد کے گھر جا رہی تھیں، جو فیصل ٹاؤن میں واقع ہے۔
مقتولہ کے بھائی کا کہنا تھا کہ ان کی بہن اپنے والدین کے ساتھ نہیں بلکہاسلام آباد میں ایک کرائے کے گھر میں رہتیتھیں۔