معروف قانون دان علی احمد کرد نے کہا ہے کہ وکلا نے ایوب خان سے لے کر ہر آمر کے خلاف جدوجہد کی ہے، ملک میں آئین ہوگا تو جمہوریت اور عدلیہ بھی ہوگی، تاہم موجودہ صورتحال میں نہ جمہوریت نظر آرہی ہے اور نہ آئین۔ وکلا عوام کو مایوس نہیں کریں گے اور آئین و قانون کی بالادستی کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
کراچی پریس کلب میں پیر کے روز میڈیا ٹاک کے دوران گفتگو کرتے ہوئے علی احمد کرد نے کہا کہ ملک میں آئین اور جمہوریت کی بالادستی کے بغیر ریاستی ادارے اپنا مؤثر کردار ادا نہیں کرسکتے۔ وکلا نے ماضی میں بھی آمریت کے خلاف جدوجہد کی اور آئندہ بھی عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔
انہوں نے عدلیہ کی کارکردگی پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جوڈیشری نے عوام اور وکلا کو مایوس کیا ہے۔ ججز مالی طور پر مضبوط ہیں اور انہیں انصاف کی فراہمی میں کسی قسم کی کسر نہیں چھوڑنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدلیہ کی بنیادی ذمہ داری شہریوں کو بروقت اور بلاامتیاز انصاف فراہم کرنا ہے۔
دریں اثنا کراچی پریس کلب میں میڈیا ٹاک کے دوران معروف قانون دان حامد خان نے کہا کہ اگر ملک میں آئین نہیں ہوگا تو وکلا کا کردار بھی مؤثر نہیں رہے گا اور عدلیہ نہیں ہوگی تو وکلا کا وجود اور پیشہ ورانہ کردار بھی متاثر ہوگا۔ موجودہ صورتحال وکلا کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے اور آئین و عدلیہ کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔
حامد خان نے نئے صوبوں کے قیام کے منصوبے پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وقت کی ضرورت ہے کہ نئے صوبے بنانے کے منصوبے کو روکا جائے۔ ان کے بقول ملک میں نئے صوبے بنانے کا منصوبہ پاکستان کو مزید انتشار اور تباہی کی طرف دھکیلنے کے مترادف ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں آئین کی بالادستی، جمہوری اداروں کے استحکام اور آزاد عدلیہ کے لیے وکلا کو اپنا مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔ موجودہ حالات میں وکلا کی ذمہ داری مزید بڑھ گئی ہے اور آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے متحد ہوکر جدوجہد کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔