پمز آتشزدگی میں ڈاکٹر امجد علی کا حوصلہ، اپنی اہلیہ کے بعد نوزائیدہ بچوں کو بھی بچا لیا

image

اسلام آباد کے پمز اسپتال میں آتشزدگی کے دوران ڈاکٹر امجد علی نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر کئی مریضوں اور نوزائیدہ بچوں کو محفوظ مقام تک پہنچایا۔ ڈاکٹر امجد پمز کے اسکول آف ڈینٹسٹری میں آرتھوڈونٹسٹ ہیں اور واقعے کے وقت ان کی اہلیہ گائنی وارڈ میں زیرعلاج تھیں۔

ڈاکٹر امجد نے بتایا کہ منگل کو انہوں نے اپنی اہلیہ کو علاج کے لیے پمز کے گائنی وارڈ میں داخل کرایا تھا۔ اگلی صبح اچانک اہلیہ کی فون کال موصول ہوئی جس میں انہوں نے اسپتال میں آگ لگنے کی اطلاع دی۔ ڈاکٹر امجد اسپتال کے قریب ہی موجود تھے، اس لیے فوراً موقع پر پہنچ گئے۔

ان کے مطابق اسپتال پہنچنے پر صورتحال انتہائی خراب تھی۔ وارڈ دھوئیں سے بھرا ہوا تھا اور اندر داخل ہونا بھی مشکل دکھائی دے رہا تھا۔ ابتدائی طور پر ریسکیو اہلکار بھی وہاں موجود نہیں تھے، چنانچہ انہوں نے پہلے اپنی اہلیہ کو محفوظ جگہ منتقل کیا اور پھر دوبارہ وارڈ کی جانب چلے گئے۔

ڈاکٹر امجد کا کہنا تھا کہ انہوں نے نوزائیدہ بچوں کی ماؤں کو سہارا دے کر عمارت سے باہر نکالا۔ اس دوران دھواں اتنا زیادہ تھا کہ سانس لینا بھی دشوار ہورہا تھا، لیکن انہوں نے ہمت نہ ہاری۔ وہ دو نوزائیدہ بچوں کو اپنے سینے سے لگا کر پمز کی دوسری عمارت تک لے گئے، جہاں انہیں محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ زچگی وارڈ اور نرسری کی جانب جانے پر عملے کے چند افراد بھی آگ بجھانے کی کوشش کررہے تھے، تاہم فائر ایکسٹنگویشر بھڑکتی آگ اور شدید دھوئیں کے سامنے مؤثر ثابت نہیں ہوسکے۔ مرکزی راستہ بند ہونے کے باعث نرسری تک پہنچنا مزید مشکل ہوگیا تھا جبکہ ریسکیو اہلکاروں کو بھی اندر جانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

ڈاکٹر امجد نے ایک اور واقعہ بھی بیان کیا۔ ان کے ایک جاننے والے نے منگل کو اپنے بچے کو اسی وارڈ میں داخل کرانے کی کوشش کی تھی، تاہم جگہ نہ ملنے کے باعث بچہ داخل نہ ہوسکا۔ حادثے کے بعد اس شخص نے ڈاکٹر امجد کو فون کرکے کہا کہ اگر بچہ وہاں داخل ہوجاتا تو شاید آج وہ بھی اپنے بچے کے غم میں بیٹھا ہوتا۔

واضح رہے کہ پمز کے گائنی وارڈ کی نرسری میں بدھ کو لگنے والی آگ کے نتیجے میں 14 نوزائیدہ بچے دم گھٹنے سے جاں بحق ہوگئے تھے۔ واقعے کے بعد لواحقین نے اسپتال انتظامیہ کی غفلت پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ وفاقی حکومت نے سانحے کی وجوہات اور ذمہ داری کا تعین کرنے کے لیے اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US