’جسمانی کلاککی رفتار سست ہوتی ہے اور اس میں تبدیلی آنے میں وقت لگتا ہے۔ ابتدا میں سونے اور جاگنے کے وقت کو 30 منٹ پہلے کریں پھر ہر روز مزید 30 منٹ پہلے لے جائیں، یہاں تک کہ آپ اپنے مطلوبہ وقت تک پہنچ جائیں اور پھر کوشش کریں کہ اسی معمول کو برقرار رکھیں۔‘

اگر آپ صبح اٹھنے کے لیے الارم پر انحصار کرتے ہیں تو اس مسئلے میں آپ تنہا نہیں۔ تاہم ماہرینِ نیند کا کہنا ہے کہ مناسب معمول، بہتر نیند اور باڈی کلاک یا جسم کی گھڑی (جسم کی جاگنے سونے کی اپنی عادت ) کو درست رکھنے سے بہت سے لوگ بغیر الارم کے بھی قدرتی طور پر بیدار ہو سکتے ہیں۔
بی بی سی کی ایلی ہرشلاگ نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ آیا برسوں بعد دوبارہ بغیر الارم جاگنا سیکھا جا سکتا ہے یا نہیں اور انھوں نے جانا کہ اگر آپ نیند سے متعلق دیگر بنیادی تقاضوں کا خیال رکھیں تو قدرتی طور پر جاگنا حیرت انگیز حد تک آسان ہو سکتا ہے۔
ایلی کے تجربے کی کہانی انھی کی زبانی جانتے ہیں۔
میری زندگی میں الارم پر انحصار کی کیفیت بہت بدلتی رہی ہے۔ جب میں نوعمر تھی تو سکول کے دنوں میں عادتاً الارم بجنے سے پہلے ہی جاگ جاتی تھی۔
میں بستر سے فوراً اچھل کر نہیں اٹھتی تھی، لیکن مجھے اپنی باڈی کلاک پر اتنا بھروسہ تھا کہ مجھے کبھی دیر ہونے کی فکر نہیں ہوتی تھی۔ اس کی ایک وجہ میرا مستقل معمول بھی تھا، جو عموماً رات 11 بجے ختم ہوتا تھا جب میں فوراً سو جاتی تھی۔
پھر کالج میں کم منظم شیڈول کی وجہ سے میری نیند کا معمول متاثر ہوا اور میں اپنے الارم پر کہیں زیادہ انحصار کرنے لگی۔
بعد میں جب میں عملی زندگی میں داخل ہوئی تو میں دوبارہ نسبتاً مستقل نیند کے شیڈول پر آ گئی اور ایک بار پھر بغیر الارم کے آسانی سے جاگنے لگی۔
تاہم اپنی عمر کی 30 کی دہائی کے وسط میں مجھے محسوس ہوا کہ میں اپنے الارم پر زیادہ سے زیادہ انحصار کرنے لگی ہوں اور اب 40 برس کی عمر پار کرنے کے بعد رات کو نیند پہلے کی طرح آسانی سے نہیں آتی جبکہ سست اور بوجھل صبحیں مجھے باقاعدگی سے کیفین کا سہارا لینے پر مجبور کرتی ہیں۔
چنانچہ جب میرے ایڈیٹر نے تجویز دی کہ میں نیند کے محققین کے مشوروں کی بنیاد پر بغیر الارم جاگنا سیکھنے کا تجربہ کروں تو میں نے خوشی سے اس پیشکش کو قبول کر لیا۔
میری جسم کی اندرونی گھڑی کو ازسرِنو ترتیب دینے کی ضرورت تھی اور میں اسے بہتر بنانے کے لیے محنت کرنے کو تیار تھی۔
اپنے فطری معمولات اور عادات کو تلاش کرنا
ماہرین سے بات کرنے کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ اپنی باڈی کلاک کو دوبارہ ترتیب دینے کے لیے ایک ہفتے تک بغیر الارم کے جاگنے کا تجربہ کرنا مناسب رہے گا۔ تاہم اس کے لیے کچھ تیاری بھی درکار تھی۔
جن محققین سے میری بات ہوئی ان سب نے مشورہ دیا کہ شروع میں چند دن اپنی حقیقی نیند کے معمول کو سمجھنے میں صرف کیے جائیں۔
میں عموماً سات سے آٹھ گھنٹے سوتی ہوں، لیکن میرے سونے کا وقت رات 11 بجے سے لے کر 2 بجے تک کسی بھی وقت ہو سکتا ہے۔
کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے کہ ٹی وی دیکھتے ہوئے صوفے پر ہی نیند آ جاتی ہے اور پھر رات ڈھائی بجے آنکھ کھلتی ہے، جس کے بعد دوبارہ سونا واقعی ایک مشکل کام بن جاتا ہے۔
خوش قسمتی سے اتفاقاً میں ایک بحری سفر پر جا رہی تھی جہاں مجھے یہ دیکھنے کے لیے کافی وقت ملا کہ رات کو مجھے قدرتی طور پر کب نیند آتی ہے اور صبح کب جاگنے کا احساس ہوتا ہے۔
نتیجہ یہ نکلا کہ میرا فطری معمول تقریباً رات ساڑھے گیارہ بجے سونا اور صبح آٹھ بجے جاگنا تھا، یعنی ساڑھے آٹھ گھنٹے کی نیند۔
جسم اور دماغ کے درست طریقے سے کام کرنے کے لیے مناسب نیند نہایت اہم ہے اور بالغ افراد کے لیے عام طور پر سات سے نو گھنٹے کی نیند تجویز کی جاتی ہے۔
چھ گھنٹے سے کم نیند قبل از وقت موت کے خطرے میں 20 فیصد اضافہ کر سکتی ہے۔ تاہم ایسی کوئی ایک مخصوص مدت نہیں جو ہر شخص کے لیے موزوں ہو۔
یونیورسٹی آف ٹیکساس ایٹ ڈیلس کی سلیپ اِنووَیشن لیبز کی ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر ایتی بین سائمن کہتی ہیں کہ ’آٹھ گھنٹے درمیانی معیار ہے، لیکن بعض لوگ سات گھنٹے کی نیند سے بھی ٹھیک رہتے ہیں، جبکہ بعض کو نو گھنٹے درکار ہوتے ہیں۔‘
ان کے مطابق اس میں حیاتیاتی فرق پایا جاتا ہے، جس کا تعلق ہر فرد کے اپنے باڈی کلاک سے ہوتا ہے۔
لیکن سوال یہ تھا کہ کام کے دنوں میں، جب زیادہ بے چینی اور ہر رات آٹھ گھنٹے سونے کی فکر خود میری نیند کے معیار کو متاثر کرتی ہے، میں اس معمول کو کیسے برقرار رکھ سکتی تھی؟
جن ماہرین سے میری بات ہوئی ان کا کہنا تھا کہ اہم بات صرف اتنی نہیں کہ آپ ایک اچھی نیند لیں بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ آپ ایک مستقل معمول پر عمل کریں۔
امریکہ میں یونیورسٹی آف مشی گن کی سلیپ اینڈ سرکیڈین ریسرچ لیب کی شریک ڈائریکٹر ہیلن برجس کہتی ہیں کہ ’آپ کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ آپ تقریباً ہر روز ایک ہی وقت پر سونے جائیں، اور یہ وقت اتنا جلد ہو کہ آپ اپنی مطلوبہ آٹھ گھنٹے (اور میرے معاملے میں ساڑھے آٹھ گھنٹے) کی نیند پوری کر سکیں۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’یہ باقاعدہ معمول مثبت اثر ڈالتا ہے اور اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب ہم اس معمول کے عادی ہو جاتے ہیں تو ہمارا جسم خود بخود پرسکون ہونا شروع ہو جاتا ہے۔‘
یہ مشورہ میرے لیے خاصا تسلی بخش تھا کیونکہ میں پہلے ہی اس بات پر پریشان تھی کہ کہیں میں بہت جلد نہ جاگ جاؤں، جو عام طور پر اس وقت ہوتا ہے جب اگلے دن کوئی اہم کام یا تقریب درپیش ہو۔
روشنی اور سونے سے پہلے پُرسکون ہونا
میرے نئے معمول میں قدرتی روشنی کو بھی شامل کرنا ضروری تھا تاکہ میری جسمانی گھڑی میرے سونے جاگنے کے شیڈول کے ساتھ ہم آہنگ ہو سکے۔
ایتی بین سائمن کے مطابق مثالی صورت یہ ہے کہ یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کریں تاکہ آپ ’رات کے وقت تھکاوٹ محسوس کریں اور دن میں بیدار اور چوکنا رہیں۔‘
اس ہم آہنگی میں روشنی اہم کردار ادا کرتی ہے کیونکہ یہ ان ہارمونز کو متحرک کرتی ہے جو ہمارے جسم کو سونے اور جاگنے کے اشارے دیتے ہیں۔
لندن کی ریجنٹس یونیورسٹی میں محقق، نیند کی ماہر اور ماہرِ نفسیات اینا جوائس کہتی ہیں کہ ’روشنی ہماری جسمانی گھڑی کو منظم کرنے والا سب سے اہم عنصر ہے۔‘
ان کے مطابق روشنی جسم کو یہ پیغام دیتی ہے کہ میلاٹونن کی پیداوار روک دی جائے اور اب بیدار رہنے کا وقت ہے۔
تحقیقی مطالعات سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ صبح کے وقت تیز قدرتی روشنی نہ صرف جسمانی گھڑی کو منظم کرنے میں مدد دیتی ہے بلکہ سیرٹونن (مزاج کو بہتر کرنے والے کیمیائی مادے)کی صحت مند مقدار فراہم کر کے ذہنی دباؤ اور افسردگی کی علامات میں کمی لانے میں بھی نمایاں کردار ادا کر سکتی ہے۔
اپنے جسم کے درجۂ حرارت پر توجہ کیوں ضروری
میں روشنی کے لیے خاصی حساس ہوں اس لیے جن محققین سے میری بات ہوئی انھوں نے مشورہ دیا کہ سوتے وقت دبیز اور روشنی روکنے والے پردے استعمال کیے جائیں جو میرے پاس پہلے سے موجود تھے۔
اضافی احتیاط کے طور پر میں نے سلیپ ماسک پہننے کا بھی فیصلہ کیا۔ پھر جاگنے کے فوراً بعد مجھے مشورہ دیا گیا کہ پردے کھول کر صبح کی روشنی اندر آنے دی جائے۔
یہ عمل کورٹیسول نامی ہارمون کے اخراج میں اضافہ کرتا ہے، جو ہمیں چوکنا اور سرگرمی کے لیے تیار رکھتا ہے۔
ایتی بین سائمن کہتی ہیں کہ ’یہ جسمانی گھڑی کو یہ اشارہ دینے میں مدد کرتا ہے کہ ٹھیک ہے، اب میرے دن کے آغاز کا وقت ہے۔‘
اینا جوائس نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جس وقت آپ سونا چاہتے ہیں، اس سے تقریباً دو گھنٹے پہلے ایک ’قابلِ پیش گوئی اور مستقل معمول‘ اختیار کرنا اہم ہے۔
یہ معمول ہر شخص کے لیے مختلف ہو سکتا ہے لیکن روشنی مدھم کرنا ایک اہم عنصر ہے کیونکہ اس سے جسم کو میلاٹونن پیدا کرنے کا اشارہ ملتا ہے جو نیند کے لیے جسم کو تیار کرتا ہے۔
میں نے منصوبہ بنایا کہ جیسے ہی مجھے نیند محسوس ہو میں سونے کا لباس پہن لوں، دانت صاف کر لوں اور اپنی جلد کی دیکھ بھال کا معمول مکمل کر لوں تاکہ مقررہ وقت پر سیدھا بستر پر جا سکوں۔
سائمن نے مجھے اپنے جسم کے درجۂ حرارت پر بھی توجہ دینے کا مشورہ دیا۔
رات کے وقت ہمارے جسم کا بنیادی درجۂ حرارت کم ہو جاتا ہے کیونکہ ہم کم توانائی استعمال کر رہے ہوتے ہیں، جبکہ جسم خون کی نالیوں کے پھیلاؤ (ویسو ڈائلیشن) کے ذریعے ہاتھوں اور پاؤں سے اضافی حرارت خارج کرتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ گرمی کے ماحول میں نیند آنا یا نیند برقرار رکھنا زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔
زیادہ گرمی یقینی طور پر میری نیند کو متاثر کرتی ہے، اس لیے میں نے اپنے گھر کے درجۂ حرارت کو معمول سے پہلے، یعنی رات 11 بجے کم ہونے کے لیے سیٹ کیا اور اپنے بستر پر درجۂ حرارت کو متوازن رکھنے والی کاٹن سے بنی چادریں استعمال کیں۔
نیند کی راہ میں رکاوٹیں
تاہم میری نیند کا سب سے بڑی دشمن میرا سمارٹ فون ہے۔ جن ماہرین سے میری بات ہوئی ان کے مطابق یہ ایک عام شکایت ہے۔
اس کی ایک وجہ فون اور دیگر ڈیجیٹل آلات سے خارج ہونے والی نیلی روشنی ہو سکتی ہے۔
اس کی روشنی کا عکس دن کی روشنی سے ملتا جلتا ہوتا ہے جس کے باعث رات کے وقت دماغ کو متضاد اشارے مل سکتے ہیں۔
تاہم سمارٹ فونز کا شاید اس سے بھی زیادہ اثر انداز ہونے والا پہلو ڈوپامین سکرولنگ ہے یعنی اچھی محسوس ہونے والی مختصر کیفیات کے حصول کے لیے عادتاً سوشل میڈیا فیڈز کو مسلسل دیکھتے رہنا۔
ان پلیٹ فارمز کے الگورتھمز صارفین کو زیادہ دیر تک مصروف رکھنے کے لیے بنائے جاتے ہیں۔ ایک حالیہ تجزیے میں ثابت ہوا کہ ضرورت سے زیادہ سکرولنگ نیند میں رکاوٹ بنتی ہے۔
اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے میں نے ایک فزیکل ایپ بلاکنگ ڈیوائس استعمال کی اور تجربے کے دوران ہر رات نو بجے سے دوپہر 12 بجے تک فون کے استعمال پر پابندی طے کی۔
میں نے اپنے فون کی ایک خاص سیٹنگ کی تاکہ تصاویر کم دلکش اور کم توجہ کھینچنے والی محسوس ہوں۔
میں نے خود کو صبح صرف ایک کپ کافی تک محدود رکھا کوشش کی کہ روزانہ کھانے ایک ہی وقت پر کھاؤں اور رات کا کھانا سونے سے کم از کم تین گھنٹے پہلے ختم کر لوں کیونکہ جسم کا میٹابولزم جسمانی گھڑی یا باڈی کلاک کو متاثر کرتا ہے۔
ہیلن برجس نے یہ بھی مشورہ دیا کہ میں ممکنہ حد تک الکوحل سے پرہیز کروں۔
وہ کہتی ہیں کہ ’یہ درحقیقت آپ کو نسبتاً جلد نیند آنے میں مدد دے سکتی ہے لیکن بعد میں آپ کی نیند کو متاثر کرتی ہے۔‘
تجربہ شروع کرنے سے پہلے میں نے ان ممکنہ مسائل پر بھی غور کیا جو اسے متاثر کر سکتے تھے۔ ہمارے گھر میں دو بلیاں ہیں جو صبح چھ بجے ناشتہ چاہتی ہیں۔ خوش قسمتی سے ان کی عادت زیادہ تر میرے شوہر کو جگانے کی ہے کیونکہ شام کے وقت انھیں کھانا میں دیتی ہوں۔
صبح سویرے ان کا نرم شور عموماً مجھے نہیں جگاتا، لیکن میرے شوہر نے پیشکش کی کہ جب انھیں غیر معمولی طور پر بہت جلد، مثلاً صبح پانچ بجے، اٹھنا ہو تو وہ صوفے پر سو جائیں گے۔
اور آخر میں جن تمام ماہرین سے میری بات ہوئی ان کی سفارش پر میں نے احتیاطاً ایک ہنگامی الارم بھی لگا دیا جو میری مطلوبہ قدرتی بیداری کے وقت یعنی صبح 8 بجے سے 20 منٹ بعد بجنے کے لیے مقرر تھا۔
سات دن کا تجربہ
پہلی رات میں آدھی رات تک سو چکی تھی جو میرے مقررہ ہدف یعنی رات ساڑھے گیارہ بجے کے مقابلے میں تقریباً آدھا گھنٹہ دیر سے تھا۔
اگرچہ رات کے دوران میری آنکھ چند بار کھلی۔ اگلی صبح میری آنکھ صبح آٹھ بجے سے کچھ پہلے کھل گئی لیکن میں نے بستر میں پڑے پڑے آٹھ بج کر 15 منٹ تک وقت گزارا۔
دوسری رات بھی میں تقریباً اسی وقت سوئی لیکن اس کے لیے کچھ جتن کرنا پڑے۔
آخرکار فون کو الٹا رکھ کر ایک ویڈیو سننے سے مجھے نیند آ گئی۔ اس کے بعد میں صبح آٹھ بج کر 20 منٹ پر بجنے والے اپنے ہنگامی الارم تک سوتی رہی۔
تیسرے دن میں کافی مصروف تھی اس لیے رات تقریباً 11 بجے مجھے نیند آ گئی اور صبح سات بج کر 10 منٹ پر میری آنکھ خود بخود کھل گئی۔
چونکہ مجھے فوری طور پر اٹھنے کی ضرورت نہیں تھی، اس لیے میں کچھ دیر بستر میں ہی رہی لیکن دوبارہ نیند نہ آ سکی۔
نیند کے بارے میں اہم بات یہ ہے کہ یہ کوئی ایسا سوئچ نہیں جسے محض آن یا آف کر دیا جائے۔
اپنی کوششوں کے دوران زندگی میں رکاوٹوں کا سلسلہ بھی آڑے آتا رہا۔
چوتھی رات تک مجھے آدھی رات سے کچھ پہلے سونے میں کوئی دشواری پیش نہیں آئی۔ لیکن اگلی صبح صبح چھ بج کر 45 منٹ پر دروازے پر غیر معمولی طور پر بجنے والی گھنٹی نےمجھے جگا دیا۔ (اگرچہ اس کے بعد میں مزید تقریباً ایک گھنٹے کے لیے دوبارہ سو گئی۔)
پانچویں رات میں رات 11 بج کر 30 منٹ تک سو چکی تھی اور اگلی صبح آٹھ بج کر 12 منٹ پر میری آنکھ کھل گئی، حالانکہ صبح ساڑھے پانچ بجے بلی کے پنجے چہرے پر لگنے سے مختصر طور پر نیند میں خلل آیا تھا۔
چھٹی رات میری سالگرہ تھی اس لیے میں نے چند مشروبات پیے اور رات 12 بج کر 30 منٹ پر بستر پر چلی گئی۔ صبحچھ بجے سینے میں جلن کی وجہ سے میری آنکھ کھل گئی،جسے میں نے تجربے کے اصولوں سے ہٹنے کی ایک طرح کی قدرتی سزا سمجھا، لیکن اس کے بعد میں دوبارہ سوگئی اور بلآخر صبح نو بجے جاگی۔
اس تجربے سے مجھے کیا سیکھنے کو ملا؟
اس تجربے کے اختتام تک میری جسمانی گھڑی کسی جرمن ریلوے نظام کی طرح مکمل طور پر درست تو نہیں ہوئی تھی لیکن مجموعی طور پر یہ ایک کامیاب تجربہ محسوس ہوا۔
مجھے صبح تقریباً آٹھ بجے قدرتی طور پر جاگنے میں کم دشواری ہونے لگی اور چوتھے دن تک بیدار ہونے کے بعد کی سستی اور بوجھل پن میں بھی کمی محسوس ہوئی۔
میرے خیال میں جس چیز نے سب سے زیادہ مدد کی، وہ سونے کے لیے ایک باقاعدہ معمول اختیار کرنا اور سکرین کے سامنے گزارے جانے والے وقت کو محدود کرنا تھا۔
اب میرا ارادہ ہے کہ حتی الامکان اس معمول کو برقرار رکھوں، حتیٰ کہ ہفتہ وار تعطیلات میں بھی کیونکہ اس سے واقعی مجھے زیادہ تازگی اور توانائی محسوس ہوئی۔
بالآخر میں چاہوں گی کہ اپنے جاگنے کے وقت کو ایک گھنٹہ مزید پہلے لے آؤں تاہم ہیلن برجس کے مطابق یہ عمل یک دم نہیں بلکہ بتدریج ہوتا ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ ’جسمانی کلاک کی رفتار سست ہوتی ہے اور اس میں تبدیلی آنے میں وقت لگتا ہے۔ میری تجویز ہو گی کہ ابتدا میں سونے اور جاگنے کے وقت کو 30 منٹ پہلے کریں پھر ہر روز مزید 30 منٹ پہلے لے جائیں، یہاں تک کہ آپ اپنے مطلوبہ وقت تک پہنچ جائیں اور پھر کوشش کریں کہ اسی معمول کو برقرار رکھیں۔‘
’نیند ایسا بٹن نہیں جسے بس آن یا آف کر دیا جائے‘
دروازے کی گھنٹیوں، سالگراہ کی تقریبات اور روزمرہ کے دباؤ سمیت زندگی میں پیش آنے والی بے شمار مصروفیات کے درمیان باقاعدہ اور حقیقی معنوں میں پُرسکون نیند حاصل کرنا اکثر ایک مشکل کام بن جاتا ہے۔
اس مضمون کے لیے سائنسی تحقیق کا جائزہ لیتے ہوئے جس بات نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا، وہ یہ تھی کہ آج کے دور میں نیند کے ساتھ ہمارا تعلق کس قدر پیچیدہ اور دباؤ کا شکار ہو چکا ہے۔
ٹیکنالوجی پر حد سے زیادہ انحصار نیند کے معیار کو متاثر کر رہا ہے خاص طور پر نوعمر بچوں میں،جن کے نشوونما پاتے دماغ اور جسم کو کسی بھی دوسرے عمر کے افراد کے مقابلے میں زیادہ نیند کی ضرورت ہوتی ہے۔
2025 میں ناروے کے 45 ہزار طلبہ پر کیے گئے ایک سروے کے تجزیے سے معلوم ہوا کہ سمارٹ فون کا ضرورت سے زیادہ استعمال براہِ راست ناقص نیند سے منسلک ہے۔
سائمن کہتے ہیں کہ ’ہم ذہنی صحت کے ان مسائل اور نوجوان بالغوں میں نیند میں خلل کے درمیان ایک مضبوط تعلق دیکھتے ہیں۔‘
ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ اگر کسی شخص میں ذہنی صحت کے مسائل پیدا ہونے کا رجحان یا خطرہ موجود ہو تو نیند کی کمی اسے مزید سنگین صورتِ حال کی طرف دھکیل سکتی ہے۔
’انھیں کم از کم نو گھنٹے نیند کی ضرورت ہوتی ہے لیکن تقریباً 70 فیصد افراد سات گھنٹے کی نیند بھی پوری نہیں کر پاتے۔‘
کئی نوعمر افراد یقیناً ایسی ایک ہفتے کی مشق سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں جس کا مقصد نیند کے معمول کو دوبارہ متوازن بنانا ہو۔
میرے لیے یہ تجربہ فائدہ مند ثابت ہوا، اگرچہ میں تسلیم کرتی ہوں کہ اس کے لیے وقت نکال پانا ایک ایسی سہولت ہے جو ہر کسی کو میسر نہیں ہوتی۔
اس کے باوجود اگر آپ ان میں سے چند عادات کو بھی اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنا لیں تو اس سے رات کو زیادہ پُرسکون نیند لینے اور صبح نسبتاً آسانی سے بیدار ہونے میں مدد مل سکتی ہے۔
اگر آپ کی نیند کا معمول بگڑا ہوا ہے اور آپ کے پاس اسے دوبارہ ترتیب دینے کے لیے کچھ وقت اور گنجائش موجود ہے تو اپنے ساتھ صبر سے پیش آئیں۔
اپنی جسمانی گھڑی کے منفرد انداز کو سمجھنے اور اس کے مطابق معمول بنانے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے اور اس دوران آزمائش اور تجربے کا مرحلہ بھی پیش آ سکتا ہے۔
ہیلن برجس کہتی ہیں کہ ’نیند کے بارے میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ کوئی ایسا بٹن نہیں جسے بس آن یا آف کر دیا جائے۔ یہ نظام اس طرح کام نہیں کرتا۔‘