ایک صدی بعد زندہ امریکی صدر کی تصویر کرنسی پر: ڈونلڈ ٹرمپ کے چہرے والا ایک ڈالر کا سکّہ جاری

ڈونلڈ ٹرمپ کی تصویر اب ایک امریکی سکّے پر دکھائی دے گی جو امریکی اداروں پر اپنی ذاتی چھاپ چھوڑنے کی امریکی صدر کی جانب سے کی گئی تازہ ترین کوشش ہے۔
US President Donald Trump's portrait on $1 coins, in honor of the nation's 250th anniversary of independence, on the day the coin is released for sale.
Reuters

ڈونلڈ ٹرمپ کی تصویر اب ایک امریکی سکے پر دکھائی دے گی جو امریکی اداروں پر اپنی ذاتی چھاپ چھوڑنے کی امریکی صدر کی جانب سے کی گئی تازہ ترین کوشش ہے۔

بدھ کے روز امریکی ٹکسال (یو ایس منٹ) نے امریکہ کی 250ویں سالگرہ کی تقریبات کے سلسلے میں ایک ڈالر کا سکہ جاری کیا، جس پر ٹرمپ کی تصویر کے ساتھ’لبرٹی‘ اور ’ٹرسٹ اِن گاڈ‘ کے الفاظ درج ہیں۔

یو ایس منٹ نے کہا کہ ان سکوں کو یادگاری اشیا کے طور پر فروخت کیا جا رہا ہے اور انھیں روزمرہ استعمال کے لیے عام گردش میں شامل نہیں کیا جا رہا۔

امریکی قانون زندہ صدور کی تصاویر کو امریکی کرنسی پر شائع کرنے سے روکتا ہے، تاہم سالگرہ سے متعلق قانون میں موجود ایک ڈیزائن شق کو استعمال کرتے ہوئے اس رکاوٹ کو دور کیا گیا۔

Three vending machines selling $1 coins featuring President Donald Trump's image at the US Mint Coin Store in Washington DC. On each machine there is a sign saying
Reuters
واشنگٹن ڈی سی میں واقع یو ایس منٹ کے سٹور پر نصب وینڈنگ مشینوں کے ذریعے ٹرمپ کی تصویر والے ایک ڈالر کے سکے فروخت کیے جا رہے ہیں

25 سکوں کے ایک رول کی قیمت 61 ڈالر اور 100 سکوں کے ایک تھیلے کی قیمت 154.50 ڈالر رکھی گئی تھی۔ فروخت کے چند گھنٹوں کے اندر ہی یو ایس منٹ کی ویب سائٹ پر ان سکوں کو ’فی الحال دستیاب نہیں‘ قرار دے دیا گیا، تاہم ادارے نے کہا کہ مزید سکے تیار کیے جا رہے ہیں۔

یہ سکے واشنگٹن ڈی سی میں واقع یو ایس منٹ کے اسٹور پر نصب وینڈنگ مشینوں کے ذریعے بھی فروخت کیے جا رہے تھے۔

مزید تفصیلات کے لیے بی بی سی نے یو ایس منٹ، امریکی محکمہ خزانہ اور وائٹ ہاؤس سے رابطہ کیا ہے۔

یو ایس منٹ کے مطابق یہ سکہ ’اس تاریخی قومی سنگِ میل کی یاد منانے‘ کے لیے تیار کیا گیا ہے، جبکہ اس کا ’یادگاری ڈیزائن‘ جدید سکّوں کے مجموعوں میں ایک نمایاں اضافہ بننے کے لیے بنایا گیا ہے۔

یہ سکے سنہری رنگ کے ہیں لیکن ان میں حقیقی سونا شامل نہیں ہے۔ یو ایس منٹ کے مطابق یہ 88.5 فیصد تانبے سے بنے ہیں، جبکہ باقی حصہ زنک، نکل اور مینگنیز براس کی بیرونی تہہ پر مشتمل ہے۔

اگرچہ یہ سکے عام گردش میں شامل نہیں ہیں، تاہم انہیں قرضوں اور ٹیکسوں کی ادائیگی کے لیے قانونی کرنسی کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے، البتہ وفاقی قانون کے مطابق کاروباری اداروں کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ انہیں قبول کریں یا نہ کریں۔

مئی میں امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا تھا کہ ان کا محکمہ صدر ٹرمپ کی تصویر والا 250 ڈالر کا نیا نوٹ جاری کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

اس وقت بیسنٹ نے اس بات پر بھی زور دیا تھا کہ اس سے قبل بھی ایک زندہ امریکی صدر ملک کی کرنسی پر ظاہر ہو چکا ہے۔

1926 میں امریکہ کی 150ویں سالگرہ کی یاد میں جاری کیے گئے نصف ڈالر کے سکے پر اُس وقت کے صدر کیلون کولیج کی تصویر شامل تھی۔

ٹرمپ انتظامیہ نے ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں منظور ہونے والے 2020 کے’سرکولیٹنگ کلیکٹبل کوائن ری ڈیزائن ایکٹ‘ کا حوالہ بھی دیا ہے۔

اگرچہ یہ قانون سکوں کے پچھلے حصے (ٹیلز سائیڈ) پر زندہ افراد کی تصاویر شامل کرنے سے روکتا ہے، لیکن یہ سکوں کے اگلے حصے (ہیڈز سائیڈ) کے بارے میں واضح طور پر کوئی پابندی عائد نہیں کرتا، جہاں نئے ایک ڈالر کے سکوں پر ٹرمپ کی تصویر موجود ہے۔

مارچ میں امریکی محکمہ خزانہ نے اعلان کیا تھا کہ جلد ہی امریکی کاغذی کرنسی پر ٹرمپ کے دستخط بھی موجود ہوں گے، جو کسی موجودہ امریکی صدر کے لیے ایک اور پہلی مثال ہوگی۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US