کیا افغانستان میں ہزارہ اور شیعہ حمایت رکھنے والا طالبان مخالف مسلح گروہ سر اٹھا رہا ہے؟

افغانستان ریپبلکن فرنٹ (اے آر ایف) 2021 میں طالبان کی واپسی کے بعد ابھرنے والا پہلا نمایاں مخالف مسلح گروہ بن کر سامنے آ رہا ہے، جس کی بنیاد زیادہ تر ہزارہ برادری پر مشتمل ہو سکتی ہے۔ گروہ نے اب تک طالبان کے خلاف 22 حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے، جن میں سے زیادہ تر وسطی افغانستان اور کابل کے ہزارہ اکثریتی علاقوں میں ہوئے۔

افغانستان ریپلکن فرنٹ (اے آر ایف) زیادہ معروف تو نہیں، تاہم ممکنہ طور پر وہ 2021 کے بعد پہلے طالبان مخالف نمایاں مسلح گروہ کے طور پر ابھر رہا ہے۔ اس کی بنیاد زیادہ تر ہزارہ برادری پر مشتمل ہو سکتی ہے، اگرچہ اس بات کو قطعی طور پر ثابت کرنے کے لیے ابھی کافی شواہد موجود نہیں ہیں۔

اس امکان کا اشارہ گروہ کی جانب سے حملوں کے دعوؤں کی جغرافیائی ترتیب سے بھی ملتا ہے، بامیان صوبے سے اس کے ممکنہ روابط سے بھی اور شیعہ مسائل پر اس کے مؤقف سے بھی۔

ہزارہ بنیادی طور پر افغانستان کے وسطی علاقوں میں آباد ہیں، جسے تاریخی طور پر ہزارہ جات کہا جاتا ہے، اور دارالحکومت کابل میں بھی ان کی بڑی تعداد موجود ہے۔ ہزارہ برادری کی اکثریت شیعہ ہے۔ افغانستان کی مجموعی آبادی میں ان کے تناسب کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ ملک میں کبھی کوئی قابلِ اعتماد قومی مردم شماری نہیں ہوئی۔

اے آر ایف نے نومبر 2025 میں اپنے قیام کے اعلان کے بعد سے طالبان اہداف کے خلاف 22 حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے، جیسا کہ اس کے فیس بک صفحے پر شائع ہونے والے بیانات کے جائزے سے ظاہر ہوتا ہے۔ ان میں سے پانچ حملوں کا دعویٰ بامیان صوبے میں کیا گیا، جبکہ دیگر پڑوسی صوبوں، جن میں پروان اور غور شامل ہیں، میں ہوئے۔ گروہ نے کابل میں بھی چھ حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے، جن میں زیادہ تر دارالحکومت کے مغربی علاقوں میں ہوئے جہاں آبادی کی اکثریت ہزارہ پر مشتمل ہے۔

گروہ نے جہاں جہاں حملوں کے دعوے کیے
BBC
اے آر ایف نے اپنے قیام کے اعلان کے بعد سے طالبان اہداف کے خلاف 22 حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے

یہ رجحان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ گروہ کی دعویٰ کردہ سرگرمیوں کا نمایاں حصہ وسطی افغانستان اور کابل کے ہزارہ اکثریتی علاقوں میں مرکوز ہے۔ یہ صورتِ حال اس لیے اہم ہے کہ طالبان حکومت میں ہزارہ نمائندگی محدود ہے اور طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد شیعہ مذہبی سرگرمیوں پر مختلف پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

طالبان نے ہزارہ اور شیعہ افراد کو کابینہ سے باہر رکھا ہے جبکہ انتظامیہ میں بھی ان کی نمائندگی نہایت محدود رہی ہے۔ طالبان شیعہ عائلی حیثیت سے متعلق قانون بھی ختم کر چکے ہیں اور فقہ جعفریہ کی تدریس کو محدود کر دیا گیا ہے، جب کہ متعدد صوبوں میں محرم اور عاشورہ سے متعلق زیادہ تر شیعہ رسومات اور تقریبات پر بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

2021 کے بعد سے خاص طور پر تاجک قیادت والے گروہوں، جیسے نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (این آر ایف) اور افغانستان فریڈم فرنٹ (اے ایف ایف)، کے مقابلے میں منظم ہزارہ مسلح مزاحمت مجموعی طور پر بہت محدود رہی ہے۔

ہزارہ اور شیعہ حمایت: اے آر ایف کی ممکنہ سماجی بنیاد

جن مقامات پر حملوں کی تشہیر کی گئی، اگر ان کی جغرافیائی ترتیب کو اس بات کی عکاسی بھی سمجھ لیا جائے کہ اے آر ایف کی بھرتیاں اور سرگرمیاں بھی یہاں سے ہوتی ہیں، تو یہ اس بات کا اشارہ ہو سکتا ہے کہ گروہ نے ایک قابلِ ذکر ہزارہ بنیاد قائم کر لی ہے۔

اس طرح اے آر ایف موجودہ غیر جہادی مسلح اپوزیشن گروہوں سے مختلف ہو گا۔ احمد مسعود کی قیادت میں این آر ایف اور سابق آرمی چیف یاسین ضیا کی قیادت میں اے ایف ایف کا تعلق بنیادی طور پر تاجک سیاسی اور سابق فوجی نیٹ ورکس سے جوڑا جاتا ہے۔

افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ (اے یو ایف)، جس نے یکم اگست 2026 کو عسکری کارروائیوں کا اعلان کیا، سابق افغان سپیشل فورسز کمانڈر سمیع سادات کی قیادت میں ہے، جو پشتون ہیں۔

اے آر ایف نے افغانستان کی شیعہ برادری کی حمایت کا اظہار بھی کیا ہے، جس میں افغانستان اور خطے کے دیگر حصوں میں شیعہ افراد پر حملوں کی مذمت شامل ہے۔ اگرچہ ایسے بیانات گروہ کی نسلی یا فرقہ وارانہ ساخت ثابت نہیں کرتے، تاہم یہ اس حلقے کی نشاندہی کر سکتے ہیں جس کی نمائندگی یا حمایت حاصل کرنے کی گروہ کوشش کر رہا ہے۔

سیاسی محرومی اور شیعہ مذہبی سرگرمیوں پر پابندیوں کا امتزاج ممکنہ طور پر ایسے ماحول کو جنم دے سکتا ہے جہاں کوئی گروہ خود کو ہزارہ اور شیعہ مفادات کے محافظ کے طور پر پیش کرے۔ تاہم یہ ایک اندازہ ہے، اے آر ایف کی حقیقی ساخت کا ثبوت نہیں۔

طاہر زوہیر سے ممکنہ تعلق

ہزارہ بنیاد کے امکان کو ان رپورٹس سے مزید تقویت ملتی ہے جن میں سابق گورنر بامیان طاہر زوہیر (یا طاہر ظہیر) کو اے آر ایف کا رہنما قرار دیا گیا ہے۔

مثال کے طور پر برطانیہ میں قائم افغانستان انٹرنیشنل نے اگست کے آخر میں اے آر ایف کو زوہیر کی قیادت میں کام کرنے والا گروہ قرار دیا۔

زوہیر ایک نمایاں ہزارہ سابق سرکاری عہدیدار ہیں، جو سابق جمہوری دور میں بامیان کے گورنر، رکنِ پارلیمان اور وزیر اطلاعات و ثقافت رہ چکے ہیں۔

بامیان میں سات مارچ 2024 کو لی گئی تصویر: ہزارہ افغان خواتین کے پس منظر میں وہ جگہ نظر آ رہی ہے جہاں 2001 میں طالبان نے بدھ کے مجسمے تباہ کیے
AFP via Getty Images
بامیان میں سات مارچ 2024 کو لی گئی تصویر: ہزارہ افغان خواتین کے پس منظر میں وہ جگہ نظر آ رہی ہے جہاں 2001 میں طالبان نے بدھ کے مجسمے تباہ کیے

ایک اور افغان میڈیا ادارے کابل ناؤ نے بھی زوہیر کو گروہ کا رہنما قرار دیا ہے، جس سے اس تجزیے کو تقویت ملتی ہے کہ وہ اے آر ایف کی قیادت کر رہے ہیں۔

تاہم خود اے آر ایف یا دیگر آزاد ذرائع کی جانب سے ایسی کوئی عوامی معلومات موجود نہیں ہیں جو گروہ کی کارروائیوں میں ان کے موجودہ کردار کی تفصیلات فراہم کریں۔

زوہیر ماضی میں طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت سے بھی وابستہ رہے ہیں۔ 2022 کے آغاز میں وہ مولوی مہدی مجاہد کے ساتھ شامل ہوئے تھے، جو طالبان سے الگ ہونے والے چند ہزارہ رہنماؤں میں سے تھے اور جنھوں نے سرپل صوبے کے بلخاب ضلع میں طالبان کے خلاف بغاوت شروع کی تھی۔

یہ بغاوت کوئلے کی کانوں کی آمدنی اور مقامی حقوق سمیت مختلف شکایات کے باعث شروع ہوئی تھی۔ اطلاعات کے مطابق زوہیر نے اس مختصر مدت کی بغاوت میں مشیر کا کردار ادا کیا تھا، جسے بعد ازاں طالبان نے کچل دیا۔ بعد میں انھوں نے ہتھیار ڈال دیے اور افغانستان چھوڑ دیا۔

اگر واقعی زوہیر اے آر ایف کی قیادت کر رہے ہیں تو ان کا پس منظر گروہ کی وسطی افغانستان میں موجودہ سرگرمیوں اور طالبان کے خلاف ہزارہ مزاحمت کو منظم کرنے کی سابقہ کوششوں کے درمیان ایک قابلِ فہم ربط فراہم کرتا ہے۔

کم نمایاں گروہ جس کے دعوے غیر مصدقہ ہیں

اے آر ایف نومبر 2025 میں منظر عام پر آیا اور اس نے کہا کہ وہ افغانستان میں جمہوری نظام اور سابق اسلامی جمہوریہ کے آئین کی بحالی چاہتا ہے۔ یہ خود کو قومی اتحاد، سیاسی حقوق اور انتخابات کے لیے کام کرنے والی تحریک کے طور پر پیش کرتا ہے۔ اس کا لوگو سابق جمہوریہ سے منسلک سیاہ، سرخ اور سبز رنگوں پر مشتمل ہے۔

میڈیا میں گروہ کی نمائندگی نسبتاً کم ہے اور اس کی کارروائیوں کے دعوے زیادہ تر ایک فیس بک صفحے کے ذریعے سامنے آئے ہیں۔

اس کے دعویٰ کردہ حملوں میں عموماً چھوٹے دستوں کی کارروائیاں، گھات لگا کر حملے، راکٹ سے چلنے والے گرینیڈ حملے اور طالبان کی چوکیوں یا پوزیشنوں کو نشانہ بنانا شامل رہا ہے۔

تاہم اس کے بعض دعوؤں کی ساکھ کے بارے میں اہم سوالات موجود ہیں۔ ان حملوں کی عمومی طور پر کسی آزاد ذریعے سے تصدیق نہیں ہوئی جبکہ بعض سوشل میڈیا صارفین نے گروہ کی جانب سے جاری کردہ ویڈیوز کی اصلیت پر بھی سوالات اٹھائے ہیں، جن میں کابل میں طالبان کے ایک انٹیلی جنس اہلکار کی ہلاکت دکھانے والی مبینہ فوٹیج بھی شامل ہے۔

اگست میں غور صوبے میں طالبان پولیس ہیڈکوارٹر پر ایک اور حملے کی ذمہ داری افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ نے بھی قبول کی تھی، جس سے بعض واقعات کو کسی ایک اپوزیشن گروہ سے منسلک کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

ممکنہ اہمیت

اے آر ایف کی محدود عوامی موجودگی کی وجہ سے اس کی رکنیت، تنظیمی ڈھانچے یا حقیقی عسکری قوت کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ چنانچہ اس کے دعویٰ کردہ 22 حملے بذاتِ خود کسی بڑے ہزارہ مسلح تحریک کے وجود کو ثابت نہیں کرتے۔

اس کے باوجود یہ گروہ جس علاقے میں سرگرم ہے، اس کی جانب سے وسطی افغانستان میں حملوں کے دعوے، کابل کے ہزارہ آبادی والے علاقوں میں سرگرمیاں، شیعہ مسائل سے متعلق بیانات اور طاہر زوہیر سے منسوب تعلقات کا مجموعہ اس امکان کو جنم دیتا ہے کہ ہزارہ برادری سے منسلک ایک الگ مسلح اپوزیشن گروہ ابھر رہا ہے۔

اگر زوہیر کی قیادت سے متعلق رپورٹس درست ثابت ہوتی ہیں، اور اگر جغرافیائی ترتیب واقعی گروہ کے بھرتی نیٹ ورکس اور عملی سرگرمیوں کی عکاسی کرتا ہے، تو اے آر ایف 2021 کے بعد طالبان مخالف پہلے نمایاں مسلح گروہ کے طور پر سامنے آ سکتا ہے جس کی بنیاد زیادہ تر ہزارہ برادری پر مشتمل ہو۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US