جمعیت علمائے اسلام (ف) سندھ کے رہنما علامہ رشید محمود سومرو نے سندھ میں طرزِ حکمرانی، مبینہ کرپشن اور عوامی مسائل پر پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے، تاہم انہوں نے فریال تالپور کو اپنے لیے قابلِ احترام شخصیت قرار دیا۔
رشید محمود سومرو نے کہا کہ فریال تالپور نے سوال اٹھایا تھا کہ اگر وہ صوبوں کی حمایت کریں گی تو عوام کا سامنا کیسے کریں گی۔ ان کے مطابق فریال تالپور نے پیپلز پارٹی کے ارکانِ اسمبلی سے کہا تھا کہ سندھ کی تقسیم کی بات پر انہیں بے نظیر بھٹو کو جواب دینا ہوگا۔
جے یو آئی رہنما نے سوال کیا کہ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کو سندھ کی تقسیم کے معاملے پر بے نظیر بھٹو کو جواب دینے کی فکر تو ہے، لیکن مبینہ کرپشن، نوکریوں کی فروخت اور ناقص طرزِ حکمرانی پر جواب دینے کی فکر کیوں نہیں؟
انہوں نے الزام عائد کیا کہ سندھ میں لاکھوں بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جبکہ اسپتالوں اور سرکاری ملازمتوں میں تعیناتیوں کے معاملات میں بھی مبینہ کرپشن کی شکایات موجود ہیں۔
رشید محمود سومرو نے سندھ میں نوجوانوں میں منشیات کے بڑھتے ہوئے استعمال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے الزام لگایا کہ صوبے کو منشیات کا مرکز بنا دیا گیا ہے۔
انہوں نے پیپلز پارٹی کی قیادت پر زور دیا کہ وہ بے نظیر بھٹو کے احترام اور ان کے سامنے جواب دہی کے احساس کی طرح خدا کا خوف بھی سامنے رکھے اور سندھ کے عوام کو درپیش بنیادی مسائل کے حل پر توجہ دے۔