پاکستان کی انرجی سیکیورٹی کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں سندھ کے سکھ پور بلاک میں گیس کا نیا ذخیرہ دریافت کرکے اسے سوئی سدرن گیس کمپنی کے سپلائی نیٹ ورک سے منسلک کردیا گیا ہے۔
سکھ پور بلاک کے لنڈالی ون (Lundali-1) کنویں سے پہلی بار کامیاب گیس دریافت ہوئی ہے۔ ابتدائی پیداوار کے مطابق کنویں سے یومیہ تقریباً 10 ملین اسٹینڈرڈ کیوبک فٹ (10 ایم ایم ایس سی ایف ڈی) گیس حاصل کی جا رہی ہے جبکہ گیس کا دباؤ تقریباً 2,000 پی ایس آئی بتایا گیا ہے۔
اس منصوبے میں پاکستان کی او جی ڈی سی، ماری انرجیز، ٹرکش پیٹرولیم اور پرائم گلوبل مشترکہ طور پر شامل ہیں۔ کنویں میں او جی ڈی سی اور ماری انرجیز کے حصے 30،30 فیصد، پرائم گلوبل کا 25 فیصد جبکہ ٹرکش پیٹرولیم کا 15 فیصد حصہ ہے۔
گیس کو قومی سپلائی نظام سے منسلک کیے جانے کے بعد مقامی پیداوار میں اضافہ ہوگا جس سے ملک میں گیس کی طلب اور رسد کے درمیان موجود فرق کو کم کرنے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔
ماہرین کے مطابق سکھ پور بلاک میں اس دریافت کے بعد مزید گیس کے ذخائر تلاش کرنے کے امکانات بھی روشن ہوئے ہیں۔ پاکستان میں نئی مقامی گیس کی دریافتیں درآمدی توانائی پر انحصار کم کرنے اور ملکی توانائی سیکیورٹی بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔ حالیہ برسوں میں بھی سندھ سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں نئی گیس دریافتوں کو قومی گیس نیٹ ورک سے جوڑا گیا ہے۔