”31 اگست کو میرے ایک ماہ کے بیٹے عظمت اللہ کی طبیعت خراب ہوئی تو میں اسے اورنگی ٹاؤن نمبر 4 کے ایک اسپتال لے کر گیا۔ وہاں ڈاکٹر یاسر انعام نے بچے کے ہاتھ پر کینولا لگوا کر بینڈج کروا دی۔ اسپتال کے تین اسٹاف ممبران نے یہ کام کیا اور اسی کینولا کے ذریعے بچے کو 6 سے 7 مرتبہ انجکشن بھی لگائے گئے۔ چار دن بعد جب بینڈج کھولی گئی تو میرے بیٹے کا ہاتھ سیاہ ہوچکا تھا۔ ڈاکٹر نے دوائیاں دیں اور کہا کہ انفیکشن ٹھیک ہوجائے گا، لیکن مجھے لگا کہ انفیکشن بڑھ رہا ہے، اس لیے میں بچے کو جناح اسپتال لے گیا۔ وہاں ڈاکٹرز نے بتایا کہ کینولا غلط طریقے سے لگنے کے باعث ہاتھ میں شدید انفیکشن ہوگیا ہے اور بچے کی جان بچانے کے لیے ہاتھ کاٹنا پڑے گا۔ آخرکار میرے ایک ماہ کے بچے کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔“
کراچی میں ایک ماہ کے بچے کے ساتھ پیش آنے والے اس افسوسناک واقعے نے والدین کی جانب سے طبی غفلت کے الزامات پر ایک بار پھر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ اورنگی ٹاؤن کے ایک نجی اسپتال میں زیرِ علاج ننھے عظمت اللہ کے والد کا الزام ہے کہ بچے کے ہاتھ پر کینولا لگانے کے بعد مبینہ طور پر مناسب دیکھ بھال نہیں کی گئی، جس کے نتیجے میں انفیکشن اتنا بڑھ گیا کہ معصوم بچے کا ہاتھ کاٹنا پڑا۔
والد کے مطابق 31 اگست کو بچے کی طبیعت خراب ہونے پر اسے اسپتال لایا گیا، جہاں ڈاکٹر کی ہدایت پر اس کے ہاتھ میں کینولا لگایا گیا اور بینڈج کردی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ کینولا کے ذریعے کئی مرتبہ انجکشن بھی دیے گئے، تاہم تقریباً چار دن تک ہاتھ اسی حالت میں بندھا رہا۔
جب بینڈج کھولی گئی تو بچے کا ہاتھ سیاہ پڑ چکا تھا۔ والد کا کہنا ہے کہ اس وقت بھی انہیں بتایا گیا کہ دواؤں سے انفیکشن ٹھیک ہوجائے گا، لیکن بچے کی حالت دیکھ کر انہیں تشویش ہوئی اور وہ اسے جناح اسپتال لے گئے۔
جناح اسپتال میں ڈاکٹرز نے مبینہ طور پر والد کو بتایا کہ بچے کے ہاتھ میں غلط طریقے سے کینولا لگنے کے باعث انفیکشن پیدا ہوا ہے اور یہ تیزی سے پھیل چکا ہے۔ صورتحال ایسی ہوگئی کہ بچے کی جان بچانے کے لیے اس کا ہاتھ کاٹنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا۔
واقعے کے بعد بچے کے والد نے پیر آباد تھانے میں ڈاکٹر اور متعلقہ عملے کے خلاف مقدمہ درج کرا دیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی حقیقت جاننے اور طبی غفلت کا تعین کرنے کے لیے ہیلتھ کیئر کمیشن سے بھی رائے طلب کی گئی ہے۔