وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ نئے صوبوں کے قیام سے متعلق بحث اکنامک فورم یا سیمینارز میں نتیجہ خیز نہیں ہوگی، اس معاملے پر مؤثر بحث اور فیصلہ پارلیمنٹ میں ہی ہوسکتا ہے۔
پریس کانفرنس میں رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اگر عوام نئے صوبے چاہتے ہیں تو انہیں کوئی نہیں روک سکتا، تاہم عوام کی خواہش کا معاملہ بھی پارلیمنٹ میں طے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں کے قیام سے متعلق ابھی تک کابینہ یا پارلیمنٹ میں کوئی باضابطہ تجویز زیرِ بحث نہیں آئی۔
ان کا کہنا تھا کہ کسی وزیر کے بیان کی بنیاد پر ریفرنڈم نہیں ہوسکتا، پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے منظوری کے بعد ہی ریفرنڈم کا راستہ اختیار کیا جاسکتا ہے۔ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ جب نئے صوبوں کا معاملہ پارلیمنٹ میں آئے گا تو تمام سیاسی جماعتیں اپنا مؤقف پیش کریں گی جبکہ مسلم لیگ ن بھی مشاورت کے بعد اپنا پالیسی مؤقف دے گی۔
جماعت اسلامی کے لانگ مارچ سے متعلق رانا ثنا اللہ نے کہا کہ حکومت نے جماعت اسلامی سے احتجاج ایک، دو ہفتے مؤخر کرنے کی درخواست کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہونا حکومت اور جماعت اسلامی دونوں کی خواہش ہے، تاہم دوسری جماعت کا لانگ مارچ پرامن نہیں ہوگا۔