خاقان شاہنواَز کا گھریلو تشدد پر حیران کن انکشاف

image

"کچھ دن پہلے میں اپنی بالکونی میں کھڑا تھا۔ ہمارے گھر کے سامنے ایک پارک ہے اور اس کا وہ حصہ جو میرے گھر سے متصل ہے، بالکل ویران رہتا ہے، وہاں نہ کوئی آتا ہے اور نہ ہی صفائی یا دیکھ بھال ہوتی ہے۔ میں نے دیکھا کہ درخت کے نیچے دو لوگ موجود ہیں۔ مجھے کچھ مشکوک لگا تو میں نے فون نکال کر کیمرے سے زوم کیا۔

میں نے دیکھا کہ ایک شخص اپنی بیوی کو ڈنڈوں سے مار رہا تھا۔ میں نے ثبوت کے لیے اس کی ویڈیو بنانا شروع کردی۔ پھر میں نے کیمرہ بند کیا اور 15 پر اطلاع دی۔ میں نے انہیں اپنی لوکیشن بتائی اور پولیس اسٹیشن کی معلومات بھی دیں، لیکن پولیس نہیں آئی۔

میں اپنی آنکھوں کے سامنے یہ سب ہوتا دیکھ رہا تھا۔ وہ شخص اپنی بیوی کو مارتا، پھر کچھ دیر بعد دونوں ایک دوسرے کو گلے لگاتے اور ساتھ کھانا کھانے لگتے۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے وہاں پکنک چل رہی ہو۔ ان کا بچہ بھی وہیں کھیل رہا تھا۔ میں تقریباً 50 منٹ تک مختلف مواقع پر ہونے والے واقعات کی ویڈیوز بناتا رہا۔

مجھے 15 کی جانب سے فوراً کوئی ردعمل نہیں ملا، پھر بعد میں فون آیا کہ پولیس موقع پر پہنچ گئی ہے۔ میں پولیس اہلکاروں کو اس جوڑے کے پاس لے گیا۔ لیکن حیرت کی بات یہ تھی کہ بیوی نے شوہر کی شکایت کرنے پر مجھے ہی برا بھلا کہنا شروع کردیا۔ وہ کہنے لگی کہ میں نے اس کے شوہر کی شکایت کیوں کی اور میں ان دونوں کو الگ کرنا چاہتا ہوں۔

میں یہ سب دیکھ کر بہت حیران ہوا۔ میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ اگر پولیس آجاتی اور یہ خاتون اپنے شوہر کے خلاف ہونے والے تشدد سے ہی انکار کردیتی تو کیا ہوتا؟ اگر پولیس اس کے شوہر کو جھوٹے الزامات پر گرفتار کرلیتی تو؟ یہ صورتحال میرے لیے انتہائی پریشان کن تھی اور آج تک میرے اعصاب پر سوار ہے۔"

پاکستانی اداکار خاقان شاہنواَز نے گھریلو تشدد کے ایک ایسے واقعے کا ذکر کیا ہے جس نے انہیں بھی حیران کر دیا۔ اداکار نے عائشہ عمر کے ساتھ ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے ایک شخص کو اپنی بیوی پر تشدد کرتے دیکھا اور اس کی اطلاع پولیس کو بھی دی۔

ان کے مطابق سب سے زیادہ حیران کن بات یہ تھی کہ تشدد کا سامنا کرنے والی خاتون نے پولیس کے سامنے اپنے شوہر کے خلاف کارروائی کی مخالفت کردی اور شکایت کرنے والے کھقان شحنواز ہی کو برا بھلا کہنا شروع کردیا۔

یہ واقعہ اس تلخ حقیقت کی طرف بھی توجہ دلاتا ہے کہ گھریلو تشدد صرف غریب یا کم تعلیم یافتہ خاندانوں تک محدود نہیں۔ معاشرے کے مختلف طبقات میں خواتین کو گھریلو تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تاہم متاثرہ خواتین کے لیے ایسے حالات سے نکلنا ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔

حال ہی میں حنا جاوید کے شوہر کے ہاتھوں ان کی ہلاکت کے واقعے نے بھی ملک بھر میں گھریلو تشدد کے مسئلے پر بحث چھیڑ دی تھی۔ اس کے بعد سوشل میڈیا پر بھی گھریلو تشدد کے خلاف آگاہی اور متاثرہ خواتین کی مدد کے حوالے سے آوازیں بلند ہورہی ہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US