میرے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔ میں ایک 40 سالہ شخص پر طنز کر رہا تھا جو 16 سال کی لڑکی سے شادی کرنا چاہتا تھا۔ میں کسی کو یہ مشورہ نہیں دے سکتا کہ وہ 4 سال کی بچی سے شادی کرے۔ یہ حرام ہے اور علما خود بھی واضح طور پر کہتے ہیں کہ ایسا کرنا درست نہیں۔ لیکن کچھ لبرل لوگ ہمیشہ مولویوں کو بدنام کرنے کے لیے ان کی باتوں کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں۔ دوسری طرف یہی لوگ فحش مواد کو عام کرتے ہیں، جس کے بارے میں میرا مؤقف ہے کہ اس سے معاشرے میں بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔
پاکستان کے معروف مذہبی اسکالر مفتی طارق مسعود ان دنوں اپنے ایک وائرل بیان کے باعث شدید تنقید کی زد میں ہیں۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو میں وہ ایک سے زیادہ شادیوں کے موضوع پر گفتگو کرتے دکھائی دیے، تاہم ان کے بیان میں کم عمر بچی سے شادی کے حوالے سے کی گئی بات نے صارفین کو سخت ردعمل دینے پر مجبور کردیا۔
ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر یہ تاثر پھیل گیا کہ مفتی طارق مسعود 4 سے 8 سال کی بچیوں سے شادی کی حمایت یا اس کا مشورہ دے رہے ہیں۔ معاملہ بڑھا تو مفتی طارق مسعود نے خود سامنے آکر اپنے بیان کی وضاحت پیش کردی۔
مفتی طارق مسعود کے مطابق ان کی گفتگو کو مکمل پس منظر کے بغیر شیئر کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایک ایسے 40 سالہ شخص پر طنز کر رہے تھے جو 16 سالہ لڑکی سے شادی کرنا چاہتا تھا، نہ کہ 4 سالہ بچی سے شادی کی ترغیب دے رہے تھے۔
انہوں نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ وہ کسی شخص کو اتنی کم عمر بچی سے شادی کا مشورہ نہیں دے سکتے اور ان کے مطابق ایسا کرنا حرام ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ علما خود اس معاملے کو حرام قرار دیتے ہیں۔
اپنی وضاحت میں مفتی طارق مسعود نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ بعض لبرل حلقے مذہبی علما کو بدنام کرنے کے لیے ان کے بیانات کو مخصوص انداز میں پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے فحش مواد کے پھیلاؤ کو بھی معاشرے میں بچوں کے ساتھ زیادتی کے بڑھتے واقعات سے جوڑا۔
تاہم ان کی وضاحت کے باوجود سوشل میڈیا پر بحث جاری ہے اور صارفین ان کے اصل بیان اور بعد میں دی گئی وضاحت، دونوں پر اپنی اپنی رائے کا اظہار کر رہے پیں۔