انگلینڈ میں اپنی بیٹی کی گریجویشن تقریب کے لیے پنجاب حکومت کے طیارے کے استعمال پر ہونے والی تنقید کے بعدوزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اِس ضمن میں اٹھنے والے اخراجات کی مد میں لگ بھگ دو کروڑ 72 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروا دیے ہیں۔

انگلینڈ میں اپنی بیٹی کی گریجویشن تقریب کے لیے پنجاب حکومت کے طیارے کے استعمال پر ہونے والی تنقید کے بعدوزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اِس ضمن میں اٹھنے والے اخراجات کی مد میں لگ بھگ دو کروڑ 72 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروا دیے ہیں۔
پنجاب کی وزیرِ اطلاعات اعظمیٰ بخاری نے بی بی سی اُردو کو تصدیق کی ہے کہ اس حوالے سے دو کروڑ 71 لاکھ 97 ہزار روپے کی رقم جمع کروا دی گئی ہے۔ اس حوالے سے ہونے والے تنقید کے بعد اعظمیٰ بخاری نے کہا تھا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب اپنے دورہ لندن پر آنے والے جہاز کے تمام اخراجات اپنے پاس سے ادا کریں گی۔
پنجاب حکومت کی ترجمان نے اس ضمن میں اُس نوٹیفیکیشن کی بھی تصدیق کی جس میں بتایا گیا ہے کہ پانچ ستمبر سے نو ستمبر تک حکومت پنجاب کے طیارے پر کیے گئے نجی غیرملکی دورے پر آنے والے اخراجات کے رقم دو کروڑ 71 لاکھ 94 ہزار اور چار روپے ہے اور اس ضمن میں ’جیٹ سٹریم انٹرنیشنل‘ اور پاکستان سٹیٹ آئل (پی ایس او) کی جانب سے موصول ہونے والے بل بھی منسلک ہیں۔
اس نوٹیفیکیشن میں بتائی گئی رقم سرکاری خزانے میں جمع کروا کر اُس کی رسید پنجاب حکومت کے متعلقہ محکمے کو جمع کروانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اعظمیٰ بخاری کے مطابق اب یہ رقم جمع کروا دی گئی ہے۔
خیال رہے کہ مریم نواز رواں ماہ کے آغاز پر اپنی بیٹی ماہ نور صفدر کی گریجویشن تقریب میں شرکت کے لیے گذشتہ ہفتے لندن پہنچیں تھیں۔
مریم نواز نے اپنے تین روزہ دورے کو نجی دورہ قرار دیا تھا۔ تاہم اس وزٹ کے لیے انھوں نے پنجاب حکومت کا ملکیتی ’گلف سٹریم جی فائیو ہنڈرڈ‘ طیارہ استعمال کیا تھا۔
گذشتہ کئی روز سے اپوزیشن رہنما اور ناقدین یہ تنقید کر رہے تھے کہ ایک نجی دورے کے لیے پنجاب حکومت کے طیارے کا استعمال غریب عوام پر مزید بوجھ ڈالنے کے مترادف ہے۔
اس تنقید کے بعد اگرچہ اعظمیٰ بخاری متعدد مواقع پر یہ کہہ چکی ہیں کہ مریم نواز اس سفر پر اٹھنے والے اخراجات برداشت کریں گی مگر وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے ترجمان کوثر کاظمی نے اینکرپرسن منصور علی خان کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ وزیرِ اعظم یا وزیرِ اعلی کا کوئی بھی دورہ نجی نہیں ہوتا۔
رواں برس کے آغاز پر پنجاب حکومت کی جانب سے 11 ارب روپے مالیت کا یہ سرکاری طیارہ خریدنے پر بھی کافی تنقید ہوئی تھی۔
اُس وقت اعظمیٰ بخاری نے طیارے کی خریداری سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا تھا کہ یہ طیارہ پنجاب کی ایئر لائن ’ایئر پنجاب‘ کے لیے خریدا گیا ہے جس کے لیے مختلف فلیٹ بنائے جا رہے ہیں اور یہ طیارہ بھی اس کا حصہ ہو گا۔
انھوں نے اس موقع پر اعلان کیا تھا کہ ’ایئر پنجاب‘ کا آغاز اپریل 2026 سے ہو جائے گا، لیکن تاحال اس حوالے سے کوئی پیش رفت سامنے نہیں آ سکی ہے۔
بعد ازاں وزیرِ اعظم پاکستان کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا تھا کہ پنجاب حکومت کا طیارہ کسی کی ذاتی ملکیت نہیں ہے بلکہ پنجاب حکومت کا اثاثہ ہے۔
بی بی سی نے ایوی ایشن ماہرین سے بات کر کے یہ جاننے کی کوشش کی تھی کہ اس نوعیت کے طیارے پر لندن سفر پر کتنی لاگت آتی ہے؟
اگر آپ لگژری طیارے پر لندن کا سفر کریں تو کتنا خرچہ آئے گا؟
بی بی سی اُردو نے اس نوعیت کے طیارے کرائے پر دینے والی ایک کمپنی کے عہدیدار اور ایوی ایشن ماہر سے گفتگو کر کے یہ جاننے کی کوشش کی تھی کہ تین روز کے دورے پر ممکنہ طور پر کتنا خرچہ آ سکتا ہے۔
لاہور کی ایک ایوی ایشن کمپنی کے عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ نجی کمپنیاں گلف سٹریم طیارے کے لیے 12 سے 15 ہزار ڈالرز فی گھنٹہ وصول کرتی ہیں۔
اُن کے بقول پاکستان میں بڑے ادارے اور کچھ پراپرٹی ٹائیکون بھی یہ جہاز کرائے پر دیتے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ اس طیارے پر لندن تک کا سفر سات گھنٹے پر محیط ہوتا ہے اور اگر 12 ہزار ڈالرز فی گھنٹہ بھی ہو تو یکطرفہ سفر پر 84 ہزار ڈالر لاگت آ سکتی ہے۔ یعنی مجموعی طور پر آنے اور جانے کا کرایہ ایک لاکھ 60ہزار ڈالرز سے زیادہ ہو سکتا ہے۔
اُن کے بقول پائلٹ سمیت عملے کے دو سے تین ارکان کی رہائش اور کھانے کے اخراجات اس کے علاوہ ہوتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ لندن کے دو ہوائی اڈے ہیتھرو اور لیوٹن میں اس نوعیت کا طیارہ پارک کرنے اور ہینڈلنگ کی یومیہ فیس بھی ہزاروں ڈالرز میں ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ چاہے طیارہ خالی جائے یا اس میں مسافر ہوں، اس کا فی گھنٹہ کرایہ یہی ہے اور اس میں فیول کی لاگت شامل ہوتی ہے۔
حکومتی ترجمانوں کی وضاحتیں اور ’رسیدوں‘ کا مطالبہ
مریم نواز کی جانب سے مبینہ طور پر اس دورے کے لیے پنجاب حکومت کا طیارہ استعمال کرنے پر تنقید کرنے والوں میں سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری، مفتاح اسماعیل کے ساتھ ساتھ پاکستان پیپلز پارٹی کے ندیم افضل چن بھی شامل تھے۔
پاکستان تحریکِ انصاف بھی پنجاب حکومت سے مطالبہ کر رہی تھی کہ وہ اس سفر پر آنے والے اخراجات کی رسیدیں فراہم کرے۔
فواد چوہدری نے ایکس پر لکھا کہ ’مریم نواز کا لندن میں بیٹی کی گریجوایشن کا خرچ جو اس ’امیر‘ قوم نے ادا کیا۔ اس پر ردِعمل دیتے ہوئے پنجاب کی وزیرِ اطلاعات اعظمی بخاری نے لکھا تھا کہ یہ بالکل غلط ہے، مریم نواز نے اپنے دورے کے اخراجات خود برداشت کیے۔
ایسے میں ایک صارف نے سوال اُٹھایا کہ ’اگر تمام اخراجات واقعی اپنی جیب سے ادا کیے گئے ہیں تو اس کا واضح ثبوت بھی عوام کے سامنے آنا چاہیے۔ صرف بیان کافی نہیں، رسیدیں اور ادائیگی کی تفصیلات سامنے رکھیں تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے۔‘
پیپلز پارٹی کے رہنما ندیم افضل چن نے ایکس پر لکھا تھا ’کسی بھی صوبے کے وزیراعلئ کو سرکاری جہاز ملک سے باہر لے کر جانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔‘
سابق وفاقی وزیر مفتاح اسماعیل نے ایکس پر لکھا کہ جب شاہد خاقان عباسی وزیراعظم تھے، تو انھیں اپنی علیل بہن سے ملاقات کے لیے امریکہ جانا پڑا۔ اس دورے کے دوران امریکی نائب صدر مائیک پینس کے ساتھ بھی ان کی پہلے سے طے شدہ ملاقات تھی۔
مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ شاہد خاقان عباسی اس دورے کو سرکاری دورے کا درجہ دے سکتے تھے لیکن اُنھوں نے ایسا نہیں کیا۔ وہ ایک کمرشل ایئر لائن کے ذریعے امریکہ گئے اور نہ صرف اپنے ٹکٹ کی قیمت ادا کی بلکہ اپنے ساتھ سفر کرنے والے چیف سکیورٹی آفیسر کے ٹکٹ کے اخراجات بھی خود برداشت کیے۔
اس تنقید کا جواب دیتے ہوئے اعظمیٰ بخاری کا ایکس پر اپنے بیان میں کہنا تھا کہ وزیر اعلٰی مریم نواز شریف نے لندن روانگی سے قبل ہی واضح ہدایت کر دی تھی کہ اپنے اس دورے کے تمام اخراجات وہ خود برداشت کریں گی۔ لیکن لندن سے وطن واپس پہنچنے سے پہلے ہی تنقید کے شوقین طبقے نے بغیر حقائق جانے پروپیگنڈا شروع کر دیا۔
اعظمی بخاری کا کہنا تھا کہ ’وزٹ ختم ہوتا تو تخمینہ لگتا اور ادائیگی کی جاتی، سرکاری نظام میں ہر چیز ایک قانونی ضوابط اور طریقہ کار کے تحت چلتی ہے، تخمینہ لگایا جاتا ہے اور چالان کے ذریعے ادائیگی ہوتی ہے یہ کوئی ایزی پیسہ یا جاز کیش نہیں کہ سفر ختم ہونے سے پہلے ہی بٹن دبا کر حساب سامنے رکھ دیا جائے۔‘
پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے بھی اس معاملے پر ردِعمل دیتے ہوئے ایکس پر لکھا تھا کہ ’آج کل تکلیف جہاز اور مریم نواز کے بیان کی نہیں ہے تکلیف مریم نواز کی کارکردگی اور بڑھتی ہوئی مقبولیت سے ہے۔ واضح طور پہ بتا دیا گیا ہے کہ لندندورے کا خرچہ مریم نوازنے خود ادا کرنا ہے.‘