منگل اور بدھ کی درمیانی شب یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے لیے قائم عسکری اتحاد نے دعویٰ کیا تھا کہ سعودی عرب کی فضائی دفاعی فوج نے حوثیوں کی جانب سے داغا گیا ڈرون مکہ کی فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے روک کر تباہ کر دیا تھا۔
منگل اور بدھ کی درمیانی شب یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے لیے قائم عسکری اتحاد نے دعویٰ کیا تھا کہ سعودی عرب کی فضائی دفاعی فوج نے حوثیوں کی جانب سے داغا گیا ڈرون مکہ کی فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے روک کر تباہ کر دیا تھا۔
یمن کے حوثیوں نے اس دعوے کی تردید کی ہے۔ تاہم یہ اطلاعات منظر عام پر آنے کے بعد سے ہی نہ صرف سعودی عرب کی دفاعی صلاحیتوں پر بات ہو رہی ہے، بلکہ یہ بھی پوچھا جا رہا ہے کہ ریاض فضائی خطرات سے بچاؤ کے لیے مکہ سمیت دیگر شہروں میں کون سا فضائی دفاعی نظام استعمال کر رہا ہے۔
سعودی عرب کی جانب سے یہ تو نہیں بتایا گیا کہ اس کی جانب سے اس مبینہ ڈرون کو تباہ کرنے کے لیے کس دفاعی نظام کا استعمال کیا گیا ہے، تاہم رواں برس مئی میں ملک کی وزارت دفاع نے ایک ویڈیو جاری کی تھی، جس میں کچھ میزائل لانچرز، ریڈارز اور اینٹی ایئر کرافٹ طرز کی بڑی گنز دیکھی جا سکتی ہیں۔
سعودی وزارت دفاع کے مطابق ان ہتھیاروں سے لیس ایئر ڈیفنس فورسز کو ’مقامات مقدسہ کے تحفظ اور فضائی خطرات سے بچاؤ‘ کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
بی بی سی اردو نے عسکری امور اور ہتھیاروں پر تحقیق کرنے والے محقق حماد ولید کو یہ ویڈیو دکھا کر یہ جاننے کی کوشش کی کہ سعودی عرب اپنے فضائی دفاع اور خصوصاً اسلام میں مقدس سمجھے جانے والے مقامات کے تحفظ کے لیے کون سے ہتھیاروں کا استعمال کر رہا ہے۔
سعودی عرب کے پاس کون سے فضائی دفاعی نظام موجود ہیں؟
ہتھیاروں پر تحقیق کرنے والے سٹریٹیجک ویژن انسٹی ٹیوٹ سے منسلک محقق حماد ولید نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ رواں برس مئی میں سعودی عرب کی جانب سے شیئر کی جانے والی ویڈیو میں امریکی ساختہ پیٹریاٹ بیٹریاں، میزائل لانچرز اور ریڈار دیکھے جا سکتے ہیں۔
سعودی بیان کے مطابق مقامات مقدسہ (یعنی مکہ اور مدینہ) کے تحفظ کے لیے ان شہروں میں پیٹریاٹ نظام نصب ہے۔
حماد ولید نے مزید کہا کہ ویڈیو میں نظر آنے والی اینٹی ایئر کرافٹ گن دراصل ’اورلیکن 35 ایم ایم‘ ہے، جو کہ سوئٹزلینڈ کی ایک کمپنی بناتی ہے۔
اس کے علاوہ گذشتہ برس مئی میں سعودی عرب نے فضائی دفاع کے لیے امریکی ٹرمینل ہائی ایلٹیٹیوڈ ایئر ڈیفینس (تھاڈ) بھی خریدا تھا۔
سعودی عرب کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق اس دفاعی نظام کی افتتاحی تقریب جدہ کے ایئر ڈیفینس فورسز انسٹی ٹیوٹ میں ہوئی تھی۔
پیٹریاٹ میزائل سسٹم کیا ہے؟
ایس وی آئی سے منسلک محقق حماد ولید کے مطابق سعودی عرب ڈرون، جہازوں، کروز میزائلوں اور بیلسٹک میزائلوں کو روکنے کے لیے پیٹریاٹ میزائل سسٹم کا استعمال کرتا ہے۔
یہ میزائل اور طیارہ شکن دفاعی نظام امریکی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن کا تیار کردہ ہے۔
لاک ہیڈ مارٹن کے مطابق سعودی عرب کے پاس اس کا بنایا گیا پیٹریاٹ ایڈوانسڈ کیپابلیٹی تھری (پی اے سی تھری) دفاعی نظام بھی موجود ہے، جو کہ بیلسٹک اور کروز میزائلوں اور لڑاکا طیاروں کو بھی روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ اپنے جدید ریڈار کے نظام کے لیے جانا جاتا ہے، جس میں یہ بیک وقت متعدد اہداف کو ٹریک کرنے اور ان کو تباہ کرنے کی صلاحیت شامل ہے۔ یہ میزائل سسٹم مختصر وقت میں آپریشنل ہونے کے ساتھ ساتھ الیکٹرانک جیمنگ کے خلاف مزاحمت کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
تاہم حماد ولید کہتے ہیں کہ پی اے سی ٹو اور پی اے سی تھری میں نصب کیے جانے والے میزائلوں کی قیمتیں لاکھوں ڈالرز تک ہے، اس لیے سعودی عرب اورلیکن اینٹی ایئر کرافٹ گنز استعمال کرتا ہے، جو کہ سعودی وزارت دفاع کی ویڈیو میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔
محقق کے مطابق ان اینٹی ایئر کرافٹ گنز میں استعمال ہونے والے 35 ایم ایم شیلز پیٹریاٹ سسٹم میں لگنے والے میزائلوں کے مقابلے میں سستے ہیں۔
’اس کا مطلب یہ ہوا کہ پیٹریاٹ دفاعی نظام میزائلوں یا بڑے ڈرونز جیسے بڑے خطرات سے نمٹنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ اورلیکن 35 ایم ایم اینٹی ایئر کرافٹ گنز چھوٹے ڈرونز کو مار گرانے کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔‘
حماد ولید نے مزید کہا کہ اورلیکن 35 ایم ایم اینٹی ایئر کرافٹ گنز پاکستان میں بھی استعمال کی جاتی ہیں اور گذشتہ برس مئی میں انڈیا کے ڈرونز کے خلاف اسے مؤثر طریقے سے استعمال کیا گیا تھا۔
تھاڈ فضائی دفاعی نظام
سعودی عرب نے رواں برس لاک ہیڈ مارٹن کا تیار کردہ جدید تھاڈ فضائی نظام بھی حاصل کیا تھا۔
رواں برس جولائی میں سعودی عرب کی سرکاری نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا تھا کہ ’تھاڈ دفاعی نظام کی پہلی بیٹری کی تعیناتی ایک وسیع تر دفاعی منصوبے کا حصہ ہے، جس کا مقصد مملکت کی فضائی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا اور اہم سٹریٹجک تنصیبات اور قومی مفادات کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔‘
امریکی کمپنی کے مطابق تھاڈ ’دنیا کا جدید ترین میزائل ڈیفینس سسٹم‘ ہے، جو کہ مختصر اور درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کو روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
لاک ہیڈ مارٹن کی جانب سے جاری کی گئی تفصیلات کے مطابق تھاڈ کو کسی بھی مقام پر برق رفتاری سے نصب کیا جا سکتا ہے اور اسے دیگر بیلسٹک میزائل ڈیفینس سسٹم، جیسے کہ پیٹریاٹ تھری دفاعی نظام، کے ساتھ بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
محقق حماد ولید کہتے ہیں کہ سعودی عرب نے اسی برس تھاڈ فضائی دفاعی نظام حاصل کیا ہے، جسے بیلسٹک میزائلوں کو روکنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
حوثیوں کے حملوں سے قبل ایران بھی سعودی عرب میں واقع امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کرتا رہا ہے۔
حماد ولید کے مطابق یہ فضائی دفاعی نظام ان بیلسٹک میزائلوں کو بھی روک سکتا ہے جو ایران استعمال کرتا ہے، یا وہ میزائل جو حوثی فائر کرتے ہیں۔
تاہم انھوں نے واضح کیا کہ تھاڈ کو ڈرونز کے خلاف نہیں استعمال کیا جاتا کیونکہ یہ ایک انتہائی مہنگا ایئر ڈیفینس سسٹم ہے۔