مادہ ساتھی کی تلاش میں جنگلی کتوں نے چار ہزار کلومیٹر کا سفر کیسے طے کیا؟

افریقی جنگلی کتوں کے ایک غول نے زیمبیا میں 2,485 میل (4,000 کلومیٹر) کا ریکارڈ ساز سفر مکمل کیا ہے۔
Close-up of an African wild dog looking into the distance, showing its large, rounded ears and speckled tan, black and white fur.
Getty Images
افریقی جنگلی کتوں طویل فاصلے تک سفر کرنے کے لیے مشہور ہیں۔

افریقی جنگلی کتوں کے ایک غول نے زیمبیا میں 2,485 میل (4,000 کلومیٹر) کا ریکارڈ ساز سفر مکمل کیا ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق یہ ساتھی کی تلاش میں خشکی پر رہنے والے کسی بھی افریقی ممالیہ جانور کا اب تک ریکارڈ کیا جانے والا سب سے طویل سفر ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس دریافت سے یہ امید پیدا ہوتی ہے کہ بڑھتے ہوئے انسانی دباؤ کے باوجود جنگلی حیات اب بھی بہت طویل فاصلے طے کر سکتی ہے۔

تین بھائیوں پر مشتمل اس غول نے زیمبیا بھر میں بل کھاتی ہوئی راہوں پر سفر کیا، ایک ایسے ماحول میں جہاں انسانی آبادی اور سرگرمیوں کے اثر میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس دوران انھوں نے بڑے شہروں سمیت متعدد رکاوٹوں سے بچتے ہوئے اپنا سفر جاری رکھا۔

تاہم تحقیق کے دوران جی پی ایس کالر سے ٹریک کیے جانے والے دیگر جنگلی کتوں میں سے بعض غیر قانونی پھندوں میں پھنس کر ہلاک ہو گئے، جو ان جانوروں کو درپیش خطرات کی شدت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔

Two African wild dogs lay in mud, both are pointing to the right. There coats are a mix of orange, brown and white
Education Images/Universal Images Group/Getty Images

تین مادہ بہنوں نے بھی تقریباً اتنا ہی غیر معمولی سفر مکمل کیا تھا، لیکن ان کا سفر اس وقت رک گیا جب ان میں سے ایک غیر قانونی شکاری پھندے میں پھنس گئی۔

افریقی جنگلی کتوں کا شمار افریقہ کے نایاب ترین شکاری جانوروں میں ہوتا ہے اور جنگل میں ان کی تعداد تقریباً چھ ہزار کے قریب رہ گئی ہے۔

یہ جانور سماجی غولوں کی شکل میں رہتے ہیں، مل کر شکار کرتے ہیں اور نئے علاقے اور افزائشِ نسل کے مواقع تلاش کرنے کے لیے طویل فاصلے طے کرنے کے لیے مشہور ہیں۔

یہ اپنے ہی غول کے اندر افزائشِ نسل نہیں کر سکتے، اس لیے ان کے سامنے عام طور پر دو راستے ہوتے ہیں: یا تو وہ انتظار کریں اور وقت کے ساتھ اپنے آبائی غول کی قیادت سنبھال لیں، یا پھر دو سے تین سال کی عمر میں ساتھی کی تلاش میں اپنا غول چھوڑ کر نکل پڑیں۔

اگر ان تین نر بھائیوں کے آٹھ ماہ پر مشتمل سفر کو ایک دوران سیدھی لکیر کھینچا جائے تو یہ تقریباً 260 میل (420 کلومیٹر) کا فاصلہ بنتا ہے۔ تاہم پیچیدہ زمینی راستوں سے گزرنے کے باعث ان کا مجموعی سفر تقریباً اس سے دس گنا زیادہ، یعنی 4,000 کلومیٹر تک جا پہنچا۔

اس طرح کا سفر جس میں جانور ساتھی کی تلاش میں ایک سمت میں ہجرت کرتے ہیں کو حیاتیات میں ’ڈسپرسل‘کہا جاتا ہے۔ یہ موسمی نقل مکانی سے مختلف ہے، جس میں جانور خوراک یا رہائش گاہ کی تلاش میں موسموں کے مطابق ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتے اور پھر واپس آتے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے کنونشن آن مائیگریٹری سپیشیز کے مطابق افریقہ کی طویل ترین موسمی نقل مکانی ولڈےبیسٹ کرتے ہیں، جو چراگاہوں اور پانی کی تلاش میں تنزانیہ اور کینیا کے درمیان 400 میل سے زیادہ کا سفر کرتے ہیں۔

عالمی سطح پر زمینی جانوروں میں طویل ترین باقاعدہ نقل مکانی کیریبو کرتے ہیں جو کہ ایک طرح کے رین ڈیئر ہوتے ہیں۔ ان کا آنے جانے کا کل سفر 839 میل تک پہنچ سکتا ہے، جبکہ سرمئی بھیڑیوں (گرے وولوز) کے بارے میں ریکارڈ موجود ہے کہ وہ ایک سال کے دوران 4,350 میل سے زیادہ کا فاصلہ طے کر سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق فاصلے سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ جنگلی کتوں نے زیمبیا کے اندر کون سا راستہ اختیار کیا۔ انھوں نے جنگلی حیات کے اہم علاقوں کے درمیان نقل و حرکت کی اور انسانی آبادی والی بڑی رکاوٹوں، جن میں دارالحکومت لوساکا اور صنعتی ترقی یافتہ علاقے شامل ہیں، سے بچتے ہوئے سفر کیا۔

تحقیق کے نتائج سے اشارہ ملتا ہے کہ مشرقی اور جنوبی افریقہ میں افریقی جنگلی کتوں کی مختلف آبادیاں شاید ایک دوسرے سے پہلے کے اندازوں سے کہیں زیادہ جڑی ہوئی ہیں۔

اس تحقیقی مقالے کے مرکزی مصنف اور مونٹانا سٹیٹ یونیورسٹی کے پروفیسر سکاٹ کریل 1991 سے افریقی جنگلی کتوں پر تحقیق کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق کچھ امید پیدا کرتی ہے۔

ان کے مطابق ’یہ عین ممکن ہے کہ مشرقی اور جنوبی افریقہ میں افریقی جنگلی کتوں کی تقریباً تمام بڑی آبادیاں، سوائے ان کے جو باڑوں میں محدود ہیں، ممکنہ طور پر ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔‘

تاہم انھوں نے خبردار کیا کہ تحفظِ جنگلی حیات کے حوالے سے کتوں کے اس ریکارڈ سفر میں ’تصویر کے مثبت اور منفی دونوں پہلو موجود ہیں‘۔ انھوں نے غیر قانونی شکار کے لیے لگائے گئے پھندوں کو ان جانوروں کے لیے ایک سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔

تین نر افریقی جنگلی کتوں نے تو اپنا غیر معمولی سفر کامیابی سے مکمل کر لیا، تاہم تین مادہ بہنوں میں سے دو اپنے سفر کے دوران ہلاک ہو گئیں۔

محققین نے ایک دلچسپ طرزِ عمل بھی نوٹ کیا۔ انھوں نے دیکھا کہ غول کے زندہ بچ جانے والے ارکان بار بار ایک ہی مقام پر واپس لوٹ رہے تھے۔ ماہرین کے مطابق ایسا رویہ اکثر اس بات کی علامت ہوتا ہے کہ ان کا کوئی ساتھی وہاں ہلاک ہوا ہے۔

ایکولوجی نامی سائنسی جریدے میں شائع ہونے والی اس تحقیق نے ان مطالبات کو مزید تقویت دی ہے کہ محفوظ جنگلی علاقوں کے باہر بھی قدرتی راہداریاں قائم کی جائیں، تاکہ سڑکوں، قصبوں یا زرعی زمینوں کی وجہ سے ایک دوسرے سے کٹ جانے والے جنگلی حیات کے علاقوں کو آپس میں جوڑا جا سکے۔

اس تحقیقی مقالے کے شریک مصنف اور ماحولیاتی تنظیم دی نیچر کنزروینسی کے کافو کنزرویشن پروگرام کے ڈائریکٹر بروس ایلینڈر کا کہنا ہے کہ جنگلی کتے اور ہاتھی جیسے جانور، جو وسیع علاقوں میں نقل و حرکت کرتے ہیں، اپنی بقا کے لیے باہم منسلک رہائش گاہوں کے محتاج ہیں۔

ان کے بقول ’ہم محفوظ جنگلی علاقوں کو الگ تھلگ جزائر کی طرح سمجھ کر یہ توقع نہیں کر سکتے کہ وہ طویل مدت تک کام کرتے رہیں گے۔ ہمیں اس سے کہیں وسیع تناظر میں سوچنے کی ضرورت ہے۔‘


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US