ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما اور وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ نئے صوبوں کی مخالفت کرنے والوں میں کچھ ایسے لوگ ہیں جو پاکستان کو بھی نہیں مانتے جبکہ باقی اپنے مفادات کے لیے نئے صوبوں کی مخالفت کر رہے ہیں۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نئے صوبوں کا مطالبہ انتظامی بنیادوں پر ہے اور اس کا مقصد عوام تک اختیارات اور وسائل پہنچانا ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان گزشتہ کئی ہفتوں سے ملک میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام کا مطالبہ کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ کے عوام کے ذہن میں یہ بات بٹھائی جارہی ہے کہ نئے صوبے بننے سے قتل و غارت ہوگی، تاہم ان کے مطابق یہ مؤقف درست نہیں۔ مصطفیٰ کمال نے سندھ میں بنیادی سہولیات کی صورتحال پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو پانی، صحت اور دیگر بنیادی سہولیات کے مسائل کا سامنا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ اندرون سندھ کے عوام بھی مسائل کا شکار ہیں اور اغوا سمیت مختلف مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھی اور مہاجر کی بنیاد پر تعصب کو مزید نہیں چلنا چاہیے۔
مصطفیٰ کمال نے 18ویں ترمیم اور صوبائی اختیارات پر بھی تنقید کی اور کہا کہ ملک کو چھوٹے انتظامی یونٹس کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم پاکستان نئے صوبوں کے مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹی اور اس معاملے کو سیاسی و عوامی سطح پر آگے بڑھایا جائے گا۔
انہوں نے سعودی عرب کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے حرمین شریفین کے حوالے سے جاری صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور سعودی عرب کے خلاف کارروائیوں کی مذمت کی۔