پاکستان کے سابق کپتان اور سینئر کھلاڑی محمد رضوان کو پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے آن لائن بیٹنگ اور جوئے سے متعلق نیشنل سائبر کرائمز انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی تحقیقات کے سلسلے میں پریس کانفرنس کرنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا ہے۔
ذرائع کے مطابق رضوان نے گزشتہ ہفتے دو مرتبہ میڈیا سے بات چیت کی اجازت کے لیے پی سی بی سے رابطہ کیا تھا، تاہم دونوں بار ان کی درخواست مسترد کردی گئی۔
انگلینڈ دورے کے درمیان سے سینئر ساتھی کھلاڑیوں امام الحق اور سلمان علی آغا کے ہمراہ وطن واپس بلائے جانے کے بعد سے رضوان خبروں کی سرخیوں میں ہیں، جہاں این سی سی آئی اے نے آن لائن بیٹنگ، جوئے اور مالیاتی لین دین کے معاملے پر ان سے پوچھ گچھ کی ہے۔ لارڈز میں کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ کے دوران رضوان اور امام کے فون ضبط کرلیے گئے تھے، جن کی اس وقت فارنزک جانچ کی جا رہی ہے۔
پی سی بی نے ابھی تک اس معاملے پر کوئی واضح بیان جاری نہیں کیا ہے، تاہم ذرائع کے مطابق رضوان بورڈ سے میڈیا کے سامنے اپنا موقف پیش کرنے اور صورتحال واضح کرنے کی اجازت چاہتے تھے، کیونکہ ان کے بقول اس معاملے کے بارے میں کافی الجھنیں اور قیاس آرائیاں پائی جاتی ہیں۔
پی سی بی کے سنٹرل کنٹریکٹ میں شامل کھلاڑی بورڈ کی منظوری کے بغیر میڈیا سے بات کر سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی عوامی بیان جاری کر سکتے ہیں۔
دوسری جانب ان کے ساتھی کھلاڑی امام الحق، جن پر لارڈز ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں بیٹنگ کے لیے نہ جانے اور چوٹ کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کے الزام میں تحقیقات کی جا رہی ہیں، نے مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور وہ منظر عام سے دور ہیں۔