پاک بھارت ٹاکرا ہوا تو سخت مقابلہ ہوگا، ہیڈ کوچ مائیک ہیسن

image

پاکستان کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے توقع ظاہر کی ہے کہ اگر پاکستان اور بھارت جاپان میں ہونے والے ایشین گیمز میں آمنے سامنے آئیں تو ایک اچھا مقابلہ دیکھنے کو ملے گا۔

بدھ کے روز کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ہیسن نے کہا کہ بھارت اس وقت وائٹ بال کرکٹ میں ایک معیار بن چکا ہے اور تمام ٹیمیں اسے ہرانے کی خواہش رکھتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا اگر ہمیں بھارت کے خلاف کھیلنے کا موقع ملا تو ہم یقینی طور پر انہیں دباؤ میں لا سکتے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے ہم ایشیا کپ کے فائنل میں کرنے میں کامیاب ہوئے تھے۔

انہوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ پاکستانی کرکٹ شائقین کے لیے بھارت کے خلاف کارکردگی ہی کھلاڑیوں کو جانچنے کا اصل پیمانہ ہوتی ہے تاہم انہوں نے کہا کہ ٹیم کی تشکیلِ نو میں وقت لگتا ہے۔

پاکستان اور ایشین گیمز میں صرف اسی صورت میں ایک دوسرے کے خلاف کھیل سکتے ہیں جب وہ فائنل کے لیے کوالیفائی کریں یا پھر کانسی کے تمغے کے میچ کے لیے آمنے سامنے آئیں کیونکہ دونوں ٹیمیں الگ الگ گروپس میں ہیں اور کوارٹر فائنل سے براہ راست آگے کھیلیں گی۔

ہیسن کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے ممکنہ میچ کے بارے میں بات کرنا قبل از وقت ہے کیونکہ فائنل تک پہنچنے سے پہلے دونوں ٹیموں کو بہت سی کرکٹ کھیلنی ہے۔

انہوں نے کہا بھارت نے ایشین گیمز کے لیے ایک مکمل مضبوط اسکواڈ اتارا ہے جو اس بات کا اشارہ ہے کہ وہ اپنے تمغوں اور ٹرافیز کے ذخیرے میں ایشین گیمز کا گولڈ میڈل بھی شامل کرنا چاہتا ہے۔

ہیسن نے اس تاثر کو بھی رد کیا کہ ایشین گیمز کے لیے صاحبزادہ فرحان کی بطور پاکستان کپتان تقرری سے لازمی طور پر یہ اشارہ ملتا ہے کہ وہ طویل مدتی قیادت کا کردار سنبھالیں گے۔انہوں نے کہا کہ یہ ٹورنامنٹ فرحان کے لیے تجربہ حاصل کرنے کا ایک اچھا موقع ہے لیکن وہ اس عہدے پر برقرار رہیں گے یا نہیں اس کا فیصلہ سلیکشن کمیٹی اور پاکستان کرکٹ بورڈ کریں گے۔

ہیسن نے کہا کہ ٹیم کو تمام فارمیٹس میں ایک ہی پیمانے پر جانچنا غیر منصفانہ ہے۔ہیسن کا کہنا تھا کہ اگرچہ پاکستان نے ٹیسٹ کرکٹ میں یقینی طور پر مشکلات کا سامنا کیا ہے لیکن ٹی ٹوئنٹی کے نقطہ نظر سے پچھلے 15 مہینوں میں کارکردگی بہتر ہوئی ہے

انہوں نے نشاندہی کی کہ جب سے انہوں نے چارج سنبھالا ہے پاکستان ٹی ٹوئنٹی رینکنگ میں آٹھویں سے پانچویں نمبر پر آ گیا ہے اور گزشتہ 15 مہینوں میں اس نے 30 رینکنگ پوائنٹس حاصل کیے ہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US