’نو ہینڈ شیک،‘ ترانے کے دوران جھکے سر اور سیاہ پٹیاں: اسرائیل اور آئر لینڈ کے فٹبال میچ میں کیا ہوا؟

میچ سے دو روز قبل آئرلینڈ کے گول کیپر گیون بازونو نے میچ کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا، تاہم دیگر کھلاڑیوں نے کہا تھا کہ وہ اس میچ کا بائیکاٹ نہیں کریں گے بلکہ وہ 'غزہ تنازع میں جان گنوانے والے تمام افراد کی یاد میں' سیاہ پٹیاں باندھیں گے۔
Ireland
Getty Images

ہنگری میں جاری یوئیفا نیشنز لیگ فٹبال ایونٹ میں آئر لینڈ اور اسرائیل کے کھلاڑیوں نے ایک دوسرے سے مصافحہ نہیں کیا جبکہ اسرائیل کے قومی ترانے کے دوران آئرش کھلاڑیوں نے سر جھکا لیے۔

آئر لینڈ کے ہیڈ کوچ ہیمیر ہالگریمسن کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ میچ سے قبل رسمی تقریبات میں حصہ نہ لینے کے فیصلے کے بعد ان کے کھلاڑیوں نے ’دنیا بھر میں آگاہی پیدا کی۔‘

خیال رہے کہ فروری میں ہونے والے ڈرا میں دونوں ٹیموں کے ایک ہی گروپ میں آنے کے بعد آئر لینڈ کی ٹیم پر یہ دباؤ بڑھ رہا تھا کہ وہ اس میچ کا بائیکاٹ کر دے۔

میچ سے دو روز قبل آئرلینڈ کے گول کیپر گیون بازونو نے میچ کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا، تاہم دیگر کھلاڑیوں نے کہا تھا کہ وہ اس میچ کا بائیکاٹ نہیں کریں گے بلکہ وہ ’غزہ تنازع میں جان گنوانے والے تمام افراد کی یاد میں‘ سیاہ پٹیاں باندھیں گے۔

اتوار کو کھیلے گئے میچ میں آئر لینڈ نے اسرائیل کو تین، صفر سے شکست دی۔

میچ کے آغاز پر آئرلینڈ کے کپتان دارا او'شی اور اسرائیل کے کپتان منور سولومن کے درمیان یادگاری جھنڈیوں کا تبادلہ بھی نہیں ہوا اور دونوں نے مصافحہ بھی نہیں کیا۔

آئرش کوچ نے میچ کے بعد نشریاتی ادارے ’آر ٹی ای‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’بہت سے کھلاڑیوں کے لیے یہ صورتحال انتہائی مشکل رہی ہے۔‘

Israel Ireland
Getty Images

’مجھے امید ہے کہ اگلے میچ میں ایسا نہیں ہوگا کیونکہ کھلاڑیوں نے احتجاج کی حمایت کا اظہار کر دیا ہے، اُنھوں نے نہ صرف آئرلینڈ بلکہ پوری دنیا میں اس معاملے پر آگاہی پیدا کی ہے اور عام طور پر احتجاج کا مقصد بھی کسی صورتحال کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا ہی ہوتا ہے۔‘

آئر لینڈ کے کھلاڑیوں نے سنیچر کے روز ڈیبریسن میں ٹیم کے ہوٹل میں ہونے والے ایک طویل اجلاس کے دوران یہ میچ کھیلنے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

بعد ازاں سنیچر کو ہی گول کیپر بازونو نے تصدیق کی تھی کہ وہ سکواڈ سے علیحدہ ہو گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے محسوس ہوتا ہے کہ اتوار کے میچ میں شرکت کرنا غلط ہو گا۔‘

آئرلینڈ کے کھلاڑیوں نے سیاہ آرم بینڈ پہن رکھے تھے، جن کے بارے میں فٹ بال ایسوسی ایشن آف آئرلینڈ (FAI) کے چیف ایگزیکٹو ڈیوڈ کوریل نے سنیچر کے روز کہا تھا کہ یہ ’[غزہ] تنازع میں جان سے جانے والے تمام افراد کی یاد میں اظہارِ یکجہتی ہے۔‘

آئرلینڈ کا تیسرا گول کرنے کے بعد جیک موئلان نے اپنا آرم بینڈ اتارا، اسے بوسہ دیا اور پھر اپنی ٹیم کے بیج کو بھی چوما۔

Israel
Getty Images

اس سے قبل اسرائیل اور آسٹریا کے درمیان میچ میں بھی تنازع ہوا تھا۔ اسرائیلی فٹبالر سید ابو فرچی کو آسٹریا کے خلاف میچ میں گول کا جشن مناتے ہوئے کارنر فلیگ اٹھانے پر میدان سے باہر بھیج دیا گیا تھا۔

جمہوریہ آئرلینڈ کے کھلاڑیوں سے یہ مطالبہ کیا جا رہا تھا کہ وہ اسرائیل کے خلاف میچ کا بائیکاٹ کریں۔ ’سٹاپ دی گیم‘ نے بھی فلسطین کے حق میں اس حوالے سے مہم چلائی تھی۔

آئرلینڈ کے کھلاڑیوں کو میچ سے قبل وارم اپ کے لیے میدان میں آنے پر موجود اسرائیلی شائقین کی قلیل تعداد کی جانب سے ہوٹنگ کا سامنا کرنا پڑا۔

بعض کھلاڑی میچ نہ کھیلنے پر بضد

سنیچر کی شب بازونو نے سوشل میڈیا پر اپنی وضاحت جاری کی اور کہا کہ انھوں نے یہ فیصلہ ’آسانی سے نہیں کیا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’میں مضبوط ایمان رکھنے والا شخص ہوں اور اپنی پوری کوشش کرتا ہوں کہ کردار اور اصولوں کا حامل انسان بنوں، اس لیے مجھے محسوس ہوتا ہے کہ اسرائیل کے خلاف آنے والے میچوں میں شرکت کرنا غلط ہوگا۔

’میرا فیصلہ خالصتاً اس ذاتی یقین پر مبنی ہے کہ معصوم لوگوں کا قتل غلط ہے۔‘

’یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ میرا مؤقف اسرائیلی عوام یا یہودی برادری کے خلاف نہیں بلکہ خطے میں ہونے والے مظالم کے خلاف ہے۔

’زندگی میں بہت کم مواقع آتے ہیں جب آپ کسی بڑے مقصد کے لیے کھڑے ہو سکیں اور مجھے مضبوط یقین ہے کہ یہ ان میں سے ایک ہے۔‘

FAI CEO David Courell
Getty Images
کوریل نے تصدیق کی کہ ایک کھلاڑی احتجاجاً اسرائیل کے خلاف میچ کے باعث آئرلینڈ کے سکواڈ سے نکل گیا ہے

’یہ ایسی صورتحال ہے جس میں آپ جیت نہیں سکتے‘

آئرلینڈ کے سابق مینیجر برائن کیر اور سابق بین الاقوامی کھلاڑی جیمز میک کلین ان افراد میں شامل ہیں جنھوں نے ان مقابلوں کے بائیکاٹ کے مطالبات کی حمایت کی ہے۔

فلسطینی مسلح گروپ حماس نے 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حملہ کیا تھا، جس میں تقریباً 1,200 افراد ہلاک ہوئے تھے اور 251 افراد کو یرغمال بنا لیا گیا تھا۔ اس کے جواب میں اسرائیل نے غزہ میں وسیع فوجی کارروائی شروع کی، جس کے دوران حماس کے زیر انتظام وزارتِ صحت کے مطابق 73,000 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ ان اعداد و شمار کو قابلِ اعتماد سمجھتی ہے۔

ہالگریمسن نے کہا کہ کوئی بھی ’اس دباؤ‘کو نہیں سمجھ سکتا جس سے کھلاڑی گزر رہے ہیں۔

آئرش حکومت کے ایک ترجمان نے اصرار کیا کہ ان مقابلوں کے بارے میں کوئی بھی فیصلہ مکمل طور پر ایف اے آئی اور یوئیفا کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے۔

فٹبال جیت گیا: اسرائیل فٹبال ایسوسی ایشن

Israel FA's director of communications Shlomi Barzel
Getty Images
اسرائیل فٹبال ایسوسی ایشن کے ڈائریکٹر آف کمیونیکیشنز نے تصدیق کی کہ وہ آسٹریا کے خلاف میچ میں سید ابو فرچی کو دکھائے گئے ریڈ کارڈ کے خلاف اپیل کریں گے

اسرائیل فٹبال ایسوسی ایشن کے ترجمان شلومی بارزل نے آئرلینڈ کی ٹیم کے کھیلنے کے فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا تھا کہ ’فٹبال جیت گیا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’فٹبال اور سیاست کے درمیان علیحدگی برقرار رہنی چاہیے، کوئی اور طریقہ انتشار پیدا کرے گا۔‘ انھوں نے تصدیق کی کہ اسرائیلی کھلاڑی میچ سے پہلے مصافحہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

’آئرش فٹبال ایسوسی ایشن اور قومی ٹیم کے کھلاڑیوں نے اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے درست فیصلہ کیا، چاہے اس میں مناسب وقت سے کچھ زیادہ دیر لگی۔‘

دریں اثنا اسرائیل فٹبال ایسوسی ایشن کے ڈائریکٹر آف کمیونیکیشنز نے تصدیق کی کہ وہ آسٹریا کے خلاف میچ میں سید ابو فرچی کو دکھائے گئے ریڈ کارڈ کے خلاف اپیل کریں گے۔

بارزل کے مطابق ابو فرچی نے گول کے جشن میں بندوق چلانے کی نقل نہیں کی تھی بلکہ ’سنوکر کے کھلاڑی کی نقل کی تھی، جیسا کہ لیجنڈری کین ڈوہرٹی کرتے ہیں۔‘


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US