لاہور میں غیر ملکی خاتون نے مبینہ زیادتی کے معاملے پر جوڈیشل مجسٹریٹ کے روبرو دفعہ 164 کے تحت بیان قلمبند کرا دیا۔
خاتون کا بیان جوڈیشل مجسٹریٹ محمد صغیر کے سامنے ریکارڈ کیا گیا۔ غیر ملکی خاتون کو سخت سیکیورٹی میں عدالت پیش کیا گیا، جبکہ بیان کی ریکارڈنگ کے دوران تمام غیر متعلقہ افراد کو عدالت سے باہر نکال دیا گیا۔
پولیس کے مطابق واقعے میں نامزد ملزمان کے خلاف تھانہ ڈیفنس سی میں مقدمہ درج ہے، جبکہ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
قبل ازیں غیر ملکی خاتون سے مبینہ زیادتی کے واقعے کی ابتدائی میڈیکل رپورٹ سامنے آگئی، جس کے مطابق طبی معائنے میں جنسی زیادتی کے شواہد کی نشاندہی ہوئی ہے۔
پولیس کے مطابق واقعے میں مبینہ سہولت کاری کے الزام میں ایک خاتون سمیت تین افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، جن سے تفتیش جاری ہے۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاتون کی ٹریول ہسٹری اور ابتدائی بیانات کی بھی جانچ کی جارہی ہے، جبکہ تفتیش کے دوران مختلف پہلوؤں کو مشکوک قرار دے کر مزید شواہد اکٹھے کیے جارہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق متاثرہ خاتون کی جانب سے کپڑوں کا کاروبار کرنے کے دعوے کی بھی تحقیقات کی گئیں، تاہم اس حوالے سے تاحال قابلِ تصدیق شواہد سامنے نہیں آسکے۔